Inquilab Logo Happiest Places to Work

انتہائی دائیں بازو کی امریکی کارکن لارا لومر نے دورۂ ہند سے قبل تمام ’اینٹی انڈیا‘ پوسٹس حذف کردیئے

Updated: March 14, 2026, 2:04 PM IST | Washington

سوشل میڈیا پر ۲۰۲۴ء اور ۲۰۲۵ء میں پوسٹ کئے گئے لومر کے نسل پرستانہ بیانات کی تصاویر گردش کررہی ہیں جن میں انہوں نے مبینہ طور پر ہندوستانی تارکینِ وطن کو ”تیسری دنیا کے حملہ آور“ قرار دیا تھا، بالی ووڈ کا مذاق اڑایا تھا اور ہندوستان میں خوراک و صفائی کے حوالے سے متنازع تبصرے کئے تھے۔

Laura Loomer and Her Controversial Comments. Photo: X
لارا لومر اور ان کے متنازع تبصرے۔ تصویر: ایکس

انتہائی دائیں بازو کی امریکی کارکن لارا لومر اپنے طے شدہ دورۂ ہند سے قبل سخت تنقید کی زد میں آگئی ہے۔ نئی دہلی میں منعقدہ ’انڈیا ٹوڈے کنکلیو ۲۰۲۶ء‘ میں شرکت کیلئے مدعو لومر پر سوشل میڈیا صارفین نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے اپنے دورے کے اعلان سے کچھ عرصہ قبل ہندوستانیوں اور ہندوستانی تارکینِ وطن کو نشانہ بنانے والی اپنی کئی پرانی پوسٹس ڈیلیٹ کر دیئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی نمایاں حامی، لارا لومر تاج پیلس ہوٹل میں منعقد ہونے والے دو روزہ سمٹ سے خطاب کرنے والی ہیں۔ تاہم، ان کو مدعو کئے جانے کی خبر نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے کیونکہ ان کے ماضی کے تبصروں کو بڑے پیمانے پر نسل پرستانہ اور ہندوستانیوں کے لئے توہین آمیز سمجھا جاتا ہے۔ برطانوی امریکی صحافی مہدی حسن نے انہیں مدعو کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا: ”ہندوستانی اس پر کیسے راضی ہیں؟“

سوشل میڈیا پر ۲۰۲۴ء اور ۲۰۲۵ء میں پوسٹ کئے گئے لومر کے نسل پرستانہ بیانات کی تصاویر گردش کررہی ہیں جن میں انہوں نے مبینہ طور پر ہندوستانی تارکینِ وطن کو ”تیسری دنیا کے حملہ آور“ قرار دیا تھا، بالی ووڈ کا مذاق اڑایا تھا اور ہندوستان میں خوراک و صفائی کے حوالے سے متنازع تبصرے کئے تھے۔ اب انہوں نے اپنے ہندوستان دورے سے قبل ان سبھی پوسٹس کو حذف کردیا ہے۔

اس سے پہلے لومر نے امریکی صدارتی مہم کے دوران اس وقت کی نائب صدر کملا ہیرس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہیرس صدر بن گئیں تو وہائٹ ہاؤس سے ”کڑھی (curry) کی بو آئے گی۔“ اس تبصرے کے بعد انہیں شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان کی اپنی ساتھی قدامت پسند سیاست دان مارجوری ٹیلر گرین نے بھی اس تبصرے کو "انتہائی نسل پرستانہ“ قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ پر عالمی تنقید تیز، یورپ اور ہندوستان میں شدید ردعمل

لومر امریکہ کے ’ایچ ون۔بی ویزا پروگرام‘ کی بھی سخت مخالفت کرتی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ پروگرام ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ہنر مند پیشہ ور افراد کو امریکہ میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ لومر اکثر یہ دلیل دیتی رہی ہیں کہ یہ پروگرام امریکی کارکنوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ناقدین نے مزید نوٹ کیا کہ لومر نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کیلئے فنڈز جمع کرنے کیلئے ’Buy Me a Coffee‘ کا استعمال کیا جو ہندوستانی کاروباری افراد کا قائم کردہ پلیٹ فارم ہے۔

اس شدید تنقید کے باوجود، لومر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں اپنے ہندوستان دورے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا: ”جلد ملیں گے، انڈیا! اس ہفتے انڈیا ٹوڈے کنکلیو ۲۰۲۶ء میں خطاب کرنے کی منتظر ہوں۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK