Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کے جوہری پروگرام پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ، روس اور چین کے درمیان تصادم

Updated: March 13, 2026, 7:32 PM IST | New York

اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ تہران کا جوہری پروگرام پرامن اور شہری مقاصد کیلئے ہے۔ انہوں نے اسلامی ملک پر پابندیوں کی دوبارہ بحالی کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا۔

UN Security Council. Photo: X
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل۔ تصویر: ایکس

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی، ایران کے جوہری پروگرام اور تہران پر بین الاقوامی پابندیوں کے مستقبل کے معاملے پر روس اور چین کے ساتھ الجھ پڑے اور ان کے درمیان شدید جملوں کا تبادلہ ہوا۔ یہ تصادم سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران سامنے آیا جس کی صدارت اس وقت واشنگٹن کر رہا ہے۔ اجلاس میں اراکین نے ایران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والی اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی کمیٹی کے طریقہ کار پر بحث کی۔

ایران پر پابندیوں کی کمیٹی پر ووٹنگ

سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس اور چین نے ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے نفاذ کی ذمہ دار کمیٹی، جسے ’۱۷۳۷ کمیٹی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، پر بحث روکنے کی کوشش کی۔ تاہم، ۱۵ رکنی کونسل کے ۱۱ ممبران نے بحث جاری رکھنے کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد ان کی یہ کوشش ناکام ہوگئی۔

یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ : سلامتی کونسل میں خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملوں پر مذمتی قرارداد منظور

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں امریکی مندوب مائیک والٹز نے ماسکو اور بیجنگ پر تہران کو بین الاقوامی دباؤ سے بچانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ والٹز نے کونسل کو بتایا کہ اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک کو ایران کے خلاف اسلحے کی پابندی پر عمل کرنا چاہئے، میزائیل ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تجارت پر پابندی لگانی چاہئے اور متعلقہ مالیاتی اثاثے منجمد کرنے چاہئیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے پابندیوں کی بحالی ضروری ہے۔

روس اور چین کا سخت ردِعمل

روس اور چین نے امریکی موقف کو سختی سے مسترد کر دیا اور واشنگٹن پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگایا۔ روسی سفیر واسیلی نیبنزیا نے کہا کہ یہ الزامات مبالغہ آمیز ہیں اور ان کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر فوجی کارروائی کو جواز فراہم کرنا ہے۔ نیبنزیا نے مزید کہا کہ ”یہ سب تہران کے خلاف ایک اور فوجی مہم جوئی کرنے اور مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے کشیدگی کو مزید پھیلانے کیلئے کیا گیا ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: دشمن پر دبائو ڈالنے کیلئے آبنائے ہرمز بطور ہتھیار استعمال ہو: مجتبیٰ خامنہ ای

اقوامِ متحدہ میں چین کے مندوب فو کانگ نے بھی واشنگٹن پر تنقید کرتے ہوئے امریکہ کو موجودہ بحران کو ”بھڑکانے والا“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی کارروائی نے تہران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کو نقصان پہنچایا ہے۔

ایران نے جوہری ہتھیاروں کے الزامات کو مسترد کر دیا

اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ تہران کا جوہری پروگرام پرامن اور شہری مقاصد کیلئے ہے۔ انہوں نے اسلامی ملک پر پابندیوں کی دوبارہ بحالی کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا۔

یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کی جوہری تنصیبات پر حالیہ فوجی حملوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں نے تہران کو تیزی سے جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روک دیا ہے۔ دریں اثنا، برطانیہ اور فرانس نے سلامتی کونسل میں واشنگٹن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اپنی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے بین الاقوامی خدشات دور کرنے میں ایران کی ناکامی کے باعث نئی پابندیاں جائز ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK