Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نواز ملکوں کے عوام فلسطین کی حمایت چاہتے ہیں!

Updated: May 20, 2026, 12:03 PM IST | Ramzi Barud | Jerusalem

یہ الگ بات ہے کہ وہاں کی حکومتیں اپنا موقف بدلنے کو تیار نہیں جو مصلحت اور منافقت پر قائم ہیں مگر عوام کے دباؤ کو خارج نہیں کیا جاسکتا جو آج نہیں تو کل اپنا اثر دکھائے گا۔

Palestinian Land.Photo:INN
ارض فلسطین۔ تصویر:آئی این این
۲۱؍ اپریل کو ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ایک اخباری اعلامیہ جاری کیا تھاجس میں کہا گیا کہ یورپی یونین (ای یو) ’’بزدلوں کی سردار‘‘ ہے۔ یہ مذمتی بیان اس لئے جاری کیا گیا تھا تاکہ فارین افیئرس کونسل کی میٹنگ منعقدہ لگژمبرگ میں یورپی بلاک اسرائیل سے تعلقات قطع کرلینے کافیصلہ کرنے میں ناکام ہوا تھا۔
کئی ماہ کے قانونی انتباہ کے باوجود یورپی یونین (ای یو)  ایک بار پھر انسانی زندگی کی حفاظت کے حق میں ہموار نہیں ہوسکی تھی۔ یونین پر اسپین، آئرلینڈ اور سلووینیا نے کافی دباؤ ڈالا تھا کہ  اسرائیل سے تعلقات منقطع کرلے۔ بعد میں اس اتحاد میں بلجیم بھی شامل ہوا مگر مقصد میں کامیابی نہیں مل سکی جبکہ کوشش یہ تھی کہ ای یو اخلاقی موقف اختیار کرے۔ مگر اس نے ہٹ دھرمی جاری رکھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کے اور اسرائیل کے درمیان باہمی تجارتی تعلقا ت سے متعلق جو معاہدہ (ای یو اسرائیل اسوسی ایشن ایگریمنٹ) اور جو ایک قسم کا قانونی لائحہ عمل ہے، اس میں ’’حقوق انسانی کے احترام‘‘ کی شق موجود ہے۔ مگر اس موقف کا معنی یہ تھا کہ ای یو، مقبوضہ فلسطین میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کو دیکھنے کے باوجود اپنے ہی بنیادی معاہدوں کو بے معنی بنا رہی ہے۔ اگر ای یو میں اتفاق رائے ہوجاتا تو تاخیر سے ہی سہی، مقبوضہ فلسطین کا کچھ بھلا ہوجاتا۔اس سے ای یو کی ساکھ بھی کسی حد تک بحال ہوسکتی تھی جو کافی مجروح ہوچکی ہے۔ یہی نہیں اس سے بین الاقوامی قوانین پر مباحثہ میں بھی جان پڑ جاتی اور اسرائیل کو کئی باتوں پر گھیرا جاتا اور جوابدہ بنایا جاسکتا تھا۔ اس کا ایک فائدہ اور تھا۔ اہل فلسطین کو اُمید کی کرن دکھائی دیتی۔ 
لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ کیوں نہیںہوا؟ اس کی وجہ ہے جرمنی اور اٹلی کا دباؤ اور ان کی لابئنگ۔ ان ملکوں نے سفارتی دیوار کی طرح خود کو پیش کیا تاکہ اسرائیل کو ناخوشگوار نتائج سے محفوظ رکھا جائے۔  غزہ میں نسل کشی جاری رہی اور جرمنی نے اسرائیل کے دفاع کا اپنا موقف ترک نہیں کیا۔ دُنیا کی سب سے بڑی نسل کشی کے گواہ جرمنی سے یہ اُمید بے جا نہیں تھی کہ وہ غزہ میں جاری نسل کشی کے کھیل کے خلاف خاموش نہیں بیٹھے گا مگر اس نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں بھی اور دیگر اداروں میں بھی اسرائیل کی حمایت اور دفاع کا سلسلہ جاری رکھا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آنے دی۔ حد اس وقت ہوئی جب جرمنی نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں۔ جب اسپین نے جنوبی افریقہ کا ساتھ دیتے ہوئے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں مقدمہ دائر کیا تب بھی جرمنی ٹس سے مس نہیں ہوا جبکہ دُنیا محسوس کررہی تھی کہ یورپ کے قانونی اور اخلاقی اتفاق رائے میں دراڑ پڑ چکی ہے۔ 
لکژمبرگ کی میٹنگ میں جب یہ تجویز رکھی گئی کہ اسرائیل کے ساتھ تجارت موقوف کردی جائے تب جرمنی نے اسے ’’نادرست‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ای یو کو تل ابیب کے ساتھ ’’تعمیری مذاکرات‘‘ پر قائم رہنا چاہئے۔ یہ جملہ برلن اور تل ابیب کی  ساز باز کا عکاس تھا۔ اٹلی کی کیفیت سے آپ واقف ہوں گے۔ وہاں کی دائیں بازو کی حکومت کی سربراہ جارجیا میلونی اسرائیل نوازوں میں شمار کی جاتی ہیں مگر غزہ کے حالات کے خلاف یورپ میں سب سے زیادہ عوامی ناراضگی اٹلی ہی میں پائی گئی۔
اس دوران روم اور میلان، جو اٹلی ہی کے شہر ہیں، زبردست عوامی مظاہروں کے گواہ بنے۔ اسپین میں بھی یہی عالم تھا۔ اس کے باوجود میلونی کا موقف نہیں بدلا۔ انہوں نے اپنے عوام کے جذبات اور احساسات کی بالکل پروا نہیں کی۔ ان کے وزراء  نے، جو لکژمبرگ کی میٹنگ میں موجود تھے، صاف لفظوں میں کہا کہ اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے کی تجویز بالائے طاق رکھ دی گئی ہے۔ 
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو تجویز کے مسترد ہونے سے کافی راحت ملی۔ وہ اپنی معیشت سے پریشان ہیں جو مسلسل جنگ کی وجہ سے کافی دباؤ میں ہے۔ بجٹ بڑھ رہا ہے کیونکہ دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہنا چاہئے کہ ای یو، اسرائیل کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ ای یو اور اسرائیل کی باہمی تجارت ۴۲؍ ارب پاؤنڈ کے برابر ہے۔ جو بھی ہو، یہ طے سمجھئے کہ اسرائیل کو جو راحت ملی وہ وقتی ثابت ہوگی۔ جرمنی اور اٹلی کی حکومتیں چاہے جو موقف اختیار کریں، ان کے عوام غزہ کی نسل کشی کو نسل کشی مانتے ہیں اور اُس کے خلاف کھڑا ہونے میں کوئی تردد محسوس نہیں کرتے۔ صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ جرمنی جیسے ممالک بھلے ہی اسرائیل نوازی کی مثال قائم کریں مگر ان کے عوام کا سیاسی جھکاؤ فلسطین کی جانب بڑھ رہا ہے۔
 
 
یہی دیکھئے کہ ۱۴؍ اپریل کو ایک ملین یورپی شہریوں نے برسیلز پر دباؤ ڈالنے کیلئے دستخطی مہم چلائی اور مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ جرمنی میں ایک حالیہ سروے میں صرف ۱۷؍ فیصد لوگوں نے اسرائیل کو قابل اعتبار دوست تسلیم کیا۔ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی حکومتوں اور یورپی عوام میں خلیج بڑھ رہی ہے۔ عوامی جذبات و احساسات ہی کے پیش نظر اسپین کے طریق کار میں تبدیلی آئی ہے مگر جرمنی اب بھی اڑیل رویہ پر قائم ہے۔
 
 
غزہ سے ہٹ کر ایران کی طرف دیکھیں تو یورپی ملکوں میں، اس معاملے میں بھی اختلاف سامنے آتا ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ء میں ہوئے ایک سروے سے یہ نتیجہ اخذ کیاگیا کہ ۵۶؍ فیصد اسپینی اور اطالوی شہری ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف ہیں۔ یورپی ملکوں کے لوگ، اپنی اپنی حکومتوں کی مصلحت اور منافقت سے قطع نظر بہت صحیح سمت میں سوچ رہے ہیں۔ وہ غزہ اور ایران کو الگ الگ عینک سے نہیں دیکھتے بلکہ ان کے خیال میں دونوں جنگوں کا مقصد ایک ہے۔ یہ ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ 
جنگ مخالف ردعمل اسرائیل کی ملٹری پالیسی سے بیزارگی ہے۔ اس کی وجہ سے اسرائیل اور اس کے اتحادی، حلیف اور حامی الگ تھلگ پڑ رہے ہیں۔ اسے ایک خو شگوار موڑ کہا جاسکتا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK