پورے ملک میں ہلچل مچا دینے والےنیٹ پیپر لیک معاملےکے تار اب ناگپور تک جا پہنچے ہیں۔ جانچ کے دوران ناگپور سے تعلق رکھنے والے آلوک نام کا ایک نوجوان سی بی آئی کے ریڈار پر ہے۔
سی بی آئی۔ تصویر:آئی این این
پورے ملک میں ہلچل مچا دینے والےنیٹ پیپر لیک معاملےکے تار اب ناگپور تک جا پہنچے ہیں۔ جانچ کے دوران ناگپور سے تعلق رکھنے والے آلوک نام کا ایک نوجوان سی بی آئی کے ریڈار پر ہے۔ پر شبہ ہے کہ اس نے کم از کم ایک ہزار طلبہ کو نیٹ کے پرچے فروخت کئے ہیں ۔ یہ طلبہ صرف مہاراشٹر نہیں بلکہ ملک بھر میں ہیں۔امتحان شروع ہونے سے پہلے آلوک نے کئی طلبہ اور والدین کو پونے بلایا تھا۔
اہم بات یہ ہے طلبہ کو پونہ میں ایک خفیہ مقام پر رکھا گیا تھا جہاں انہیں صحیح جواب یاد کروائے گئے۔ تاہم سی بی آئی اس معاملے میں رازداری برت رہی ہے کہ ناگپور کا آلوک کسی بڑے ریکیٹ کا حصہ ہے یا وہ خود ماسٹر مائنڈ ہے ۔ معلوم ہو کہ سی بی آئی کے ممبئی انسپکٹر جنرل ہرش وردھن کی رہنمائی میں پونے سی بی آئی کے تفتیشی سربراہ ونود چودھری نے حال ہی میں ناندیڑ میں ایک ہوٹل مالک ’’کدم‘‘ کے گھر چھاپہ مارا تھا۔ اشونی کدم نامی خاتون سے پوچھ تاچھ کے دوران الوک کا نام سامنے آیا۔ جانچ ایجنسیوں کے سامنے اشونی کدم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اُس نے اپنی بیٹی کیلئے ۵؍لاکھ روپے میں نیٹ کا پیپر خریدا تھا۔ اس کیلئے ۲۵؍ہزار روپے آن لائن ٹوکن دیے گئے۔ اس کے بعد آلوک نے لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو ۱۵؍ دن تک پونے میں ایک خفیہ مقام پر رکھا اور وہیں اسے نیٹ کا پیپر دیا گیا۔ فی الحال آلوک فرارہے۔ سی بی آئی اس کی تلاش کر رہی ہے۔
۳؍ طلبہ سے پوچھ تاچھ
اس کے علاوہ سی بی آئی نے ناگپور میں دو طلبہ اورچندر پور ضلع کے برہما پوری تعلقہ میں ایک طالب علم کے گھروں کی بھی تلاشی لی۔ تحقیقات کے دوران، سی بی آئی کو مبینہ طور پر ناگپور سے کچھ طلبہ کے ہال ٹکٹ نمبر ملے تھے۔ان اطلاعات کی بنیاد پر، نئی دہلی کی ٹیموں نے، مقامی حکام کی مدد سے، ناگپور اور چندر پور ضلع کے برہمپوری تعلقہ میں تلاشی لی۔ ایجنسی نے طلبہ کی رہائش گاہوں سے دستاویزات اور نوٹس ضبط کئےہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ سی بی آئی کو شبہ ہے کہ ان تین طلبہ نے جو لیک ہونے والا جو پرچہ حاصل کیا تھا اِسے دوسروں تک پہنچایا ہے ۔ تاہم، حکام نے واضح کیا کہ یہ تلاشیاں متعدد مقامات پر کی جا رہی ہیں جو قومی سطح پر جاری تحقیقات کا حصہ ہیں۔