Inquilab Logo Happiest Places to Work

تکارام منڈے نے کھانوں کو موضوع بنایا لیکن بی جے پی کی طرح نہیں

Updated: August 26, 2026, 9:47 PM IST | Veer Singhvi | Mumbai

زعفرانی پارٹی ویج اور نان ویج کا موضوع چھیڑ کر ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتی تھی لیکن نہیں کرپائی، اب ممبئی کے فوڈ کمشنر نے بتایا کہ ملک کے شہری آخر کیا چاہتے ہیں۔

FDA Commissioner Takaram Munde is being seen as a hero in Maharashtra these days. Photo: INN
ان دنوں مہاراشٹر میں ایف ڈی اے کمشنر تکا رام منڈے کو ایک ہیرو کے طور پر دیکھاجارہا ہے۔ تصویر: آئی این این

ممبئی کے متوسط طبقے کے ایک ہیرو کے طور پر تکارام منڈے کے ابھرنے نے مجھے فوڈ پالیسی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا۔ ایک دہائی قبل، جب ایک پارلیمانی انتخابات اور کئی اسمبلی انتخابات نے ہندوستان کو قرون وسطیٰ میں دھکیل دیا تھا، ہم میں سے بہت سے لوگ کھانے کے ایک نئے’ سیاسی جنون ‘سے گھبرا گئے تھے۔ مہم بنیادی طور پر بیف پر مرکوز تھا۔ 
بیف بیچنے والوں پر نہ صرف سخت سزائیں عائد کی گئیں (کئی ریاستوں میں پانچ سال تک قید) بلکہ اس مہم کا اصل مقصد اُس وقت سامنے آیا جب لوگوں کو بیف رکھنے یا لے جانے کے جرم میں ماردیا گیا۔ اس سیاسی جنون کا تعلق مقدس گائے کی حفاظت سے کم اور غریب مسلمانوں کو ہراساں کرنے سے زیادہ ہے، جن میں سے کچھ لوگ بیف کھاتے ہیں ( بیف کی قیمت بکرے کے گوشت سے ایک تہائی تک کم ہوتی ہے)۔ بعد میں، بیف کا یہ جنون تمام غیر سبزی خور کھانوں تک پھیل گیا، جس سے یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ ہندو مذہب میں سبزی خوری اس کے مقدس اصولوں میں سے ایک ہے۔ اگر کوئی ہاؤسنگ سوسائٹی یا مالک مکان کسی مسلمان کو مکان کرایہ پر نہیں دینا چاہتا تھا، تو اس کے پاس ایک عذر تیار تھا کہ اسے گوشت خور نہیں چاہئے۔ یہ مہم اتنی شدید تھی کہ دہلی پولیس نے دارالحکومت میں کیرالا بھون کی کینٹین پر بھی چھاپہ مارا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا بیف پیش کیا جا رہا ہے؟ ( حالانکہ ایسا نہیں تھا)۔ گھٹیا نیوز چینلوں نے ہوٹلوں میں اسٹنگ آپریشن تک بھی کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ وہاں بیف پیش کیا جاتا ہے۔ 
اب اس مہم کو تھوڑا کم کر دیا گیا ہے، اگرچہ یہ قانون اپنی جگہ پر موجود ہے، لیکن ’انڈیا سبزی خور ہے‘ کا نعرہ اب بھی سرکاری حکومت کا موقف ہے۔ ہم ایک ایسا ملک ہیں جہاں دو طاقتور ترین سیاستدان اور دو امیر ترین آدمی گجراتی سبزی خور ہیں (ان میں سے تین بنیا ہیں )۔ جیسا کہ اب عام بات ہے، ایجنڈا امیروں اور طاقتوروں کے ذریعے طے کیا جاتا ہے۔ اس مہم کو کیوں پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے؟ اس کی تین وجوہات ہیں۔ 
پہلا: اس نے بی جے پی کو بنیا پارٹی کی طرح دیکھا لیکن اب اسے دیگر نان ویجیٹیرین ذاتوں تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔ 
دوسرا: مہم بہت متضاد ہو گئی۔ بی جے پی شمالی ہندوستان میں بیف بیچنے والوں کو جیل میں ڈالنا چاہتی ہے لیکن گوا اور شمال مشرق میں اس کا موقف ہے کہ بیف کھانا ٹھیک ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جب Logo صرف ’لوگو‘ نہ رہے، کہانیوں کیلئے بدلے، کہانیاں سنائے

تیسرا: کھانے کی ایسی پابندیوں کی حقیقت میں کوئی پروا نہیں کرتا۔ بیف مخالف مہم نے بی جے پی کے حامیوں میں ہندوتوا کے جنونیوں کو خوش کیا اور مسلمانوں کو مارنے کے بہانے تلاش کرنے والے نام نہاد گئو محافظوں کو فائدہ پہنچایا، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس سے عام ووٹر پر کوئی فرق پڑا ہے۔ 
آخر کار، بی جے پی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کھانا کوئی مسئلہ نہیں تھا اور دوسرے مسائل کی طرف چل پڑا، لیکن یقیناً بی جے پی بالکل غلط تھی۔ خوراک ایک اہم مسئلہ ہے۔ بی جے پی نے یہ سوچ کر غلطی کی کہ لوگوں کو اس بات کی فکر ہے کہ ان کے پڑوسی کیا کھا رہے ہیں ؟ یہ سچ نہیں ہے، لیکن لوگ یقینی طور پر اس بات سے پریشان ہیں کہ وہ خود کیا کھا رہے ہیں، اور بی جے پی کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ خوراک ایک مسئلہ ہے۔ 
یہ ہمیں تکارام منڈے کی طرف واپس لاتا ہے جو اس وقت ایک ہیرو ہیں۔ وہ مہاراشٹر حکومت کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں میں، انہوں نے پورے مہاراشٹر میں ریستوراں، گوداموں اور کھانے پینے کی دکانوں پر کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔ ممبئی میں، منڈے کے محکمے نے کچن اور دوسری جگہوں پر جہاں کھانا ذخیرہ کیا جاتا ہے یا تیار کیا جاتا ہے، چوہے، کاکروچ اور تمام قسم کے کیڑے پائے ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ کسی کے عہدے یا نام سے متاثر نہیں ہیں۔ انہوں نے ممبئی کے سب سے باوقار کلب ولنگڈن، بلنکیٹ کے گوداموں اور یہاں تک کہ کورٹ کینٹینوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ سیاستدانوں اور ججوں نے ہر قدم پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے لیکن شہریوں نے ان کا ساتھ دیا ہے۔ لوگ اسے ایک نادر مثال سمجھتے ہیں : ایک ایسا افسر جو بغیر کسی تعصب اور خوف کے قوانین کو نافذ کرتا ہے۔ 
لوگ ملاوٹ شدہ اور غیر محفوظ کھانا کھا کھا کر تھک چکے ہیں۔ ہندوستان میں حقیقت یہ ہے کہ تقریباً کسی بھی کھانے کی اشیاء میں ملاوٹ ہوتی ہے۔ جعلی پنیر نے تقریباً پوری مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کھانا پکانے کا تیل اکثر ملاوٹ شدہ اور خطرناک ہوتا ہے۔ جب لوگ کھانے کیلئے باہر جاتے ہیں (یا کسی ریستوراں میں کھاتے ہیں )، تو انہیں یقین نہیں ہوتا کہ کھانا محفوظ ہے۔ کیا کچن کاکروچ سے متاثر ہیں ؟ ہم نہیں جانتے۔ اور گھروں تک کھانا پہنچانے کیلئے بنائے گئے کلاؤڈ کچن کے بارے میں کیا خیال ہے؟ زیادہ تر لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کہاں ہیں، وہ کتنے صاف ستھرے ہیں، یا وہاں کے کارکنوں کیلئے حفظان صحت کے کیا اصول درکار ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی سپر پاور ہے، کیا یہ سچ ہے کہ ہم اپنی خوراک کی حفاظت پر بھی یقین نہیں رکھ سکتے؟ ہندوستان کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ امیر ترین لوگ بھی بڑے مہنگے ریستورانوں میں نقلی پنیر کھانے پر مجبور ہیں جہاں چوہے اور کاکروچ کچن میں گھومتے ہیں ؟
اب سوچیں کہ اگر حکومت ایک دہائی قبل غیر محفوظ خوراک اور ملاوٹ پر توجہ دیتی تو لوگوں کا کیا ردعمل ہوتا؟ منڈے کو فی الحال جو حمایت مل رہی ہے اس کے پیش نظر، یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اگریہی قدم مودی حکومت نے اٹھایا ہوتا تو اسے بھی یہی مقبولیت ملتی، بجائے بیف کے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK