Inquilab Logo Happiest Places to Work

بے حسی کا عروج اورہمارا تماشائی معاشرہ

Updated: April 14, 2026, 10:41 AM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | Mumbai

سماجی نفسیات میں ایک اصطلاح’’بائی اسٹینڈر ایفیکٹ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے، جس کے مطابق جب کسی واقعہ کے گواہ زیادہ ہوں تو ہر فرد یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اور مدد کرے گا، نتیجتاً کوئی بھی آگے نہیں بڑھتا۔ ارریہ کا واقعہ اسی نظریے کی عملی مثال معلوم ہوتا ہے۔

The Rise Of Apathy .Photo: INN
بے حسی کا عروج- تصویر:آئی این این
 حال ہی میں بہار کے ضلع ارریہ میں پیش آنے والا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ جس میں ایک شخص نے دوسرے شخص کی گردن تن سے جدا کر دی اور آس پاس موجود لوگ تماشائی بنے رہے،ہمارے معاشرے کے لئے ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ یہ محض ایک مجرمانہ واردات نہیں بلکہ انسانی اقدار، اجتماعی شعور اور ریاستی نظامِ انصاف کی ناکامی کا مظہر بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسے سماج میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں ظلم کو دیکھنا تو ممکن ہے مگر اس کے خلاف آواز اٹھانا یا مداخلت کرنا ناممکن ہو گیا ہے؟ کیا ریاستی ادارے صرف رسمی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں؟واضح ہو کہ ریاست بہار کے ضلع ارریہ کے فاربس گنج میں ایک ڈرائیور اور ایک ٹھیلے والے کے درمیان معمولی کہاسنی ہوئی اور پھر اس کے بعد اس ٹھیلے والے نے اس ٹیکسی ڈرائیور پر تیز ہتھیار سے وار کردیا اور اس کے سر کو تن سے جدا کردیا ۔ اس واقعے کو اس چوک پر آتے جاتے لوگ دیکھتے رہے اور ویڈیو بناتے رہے لیکن کسی نے ان دونوں کے درمیان ہو رہے جھگڑے کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی۔یہ اور بات ہے کہ ایک شخص کے قتل کے بعد پولیس کی موجودگی میں دوسرے شخص کو بھی ہجوم نے اس قدر زدوکوب کیا کہ اس کی بھی موقع واردات پر ہی موت ہوگئی اور پولیس بھی اس بھیڑ کی طرح تماشائی بن کر رہ گئی ۔
غرض کہ ہمارا انسانی معاشرہ بنیادی طور پر باہمی ہمدردی، تعاون اور انصاف پر قائم ہونا چاہئے مگر جب ایسے لرزہ خیز واقعات کے دوران لوگ محض تماشائی بن جائیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے اندر کا انسان کمزور پڑ چکا ہے۔ یہ بے حسی اچانک پیدا نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک طویل سماجی، نفسیاتی اور اخلاقی انحطاط کا نتیجہ ہوتی ہے۔ میڈیا میں تشدد کی بھرمار، سوشل میڈیا پر سنسنی خیزی اور روزمرہ زندگی میں بڑھتی ہوئی خود غرضی نے انسان کو دوسرے انسان کے درد سے دور کر دیا ہے۔بالخصوص حالیہ سیاست نے جس طرح مذہبی منافرت کا ماحول پیدا کیاہے اور ایک طبقے کو دوسرے طبقے کے خلاف مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے اس کا نتیجہ ہے کہ ہمارے انسانی معاشرے میں نہ صرف مذہب کے نام پر بلکہ معمولی معمولی تنازعوں پر بھی اسی طرح کے سنگین واقعات رونما ہونے لگے ہیں۔
سماجی نفسیات میں ایک اصطلاح’’بائی اسٹینڈر ایفیکٹ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے، جس کے مطابق جب کسی واقعہ کے گواہ زیادہ ہوں تو ہر فرد یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اور مدد کرے گا، نتیجتاً کوئی بھی آگے نہیں بڑھتا۔ ارریہ کا واقعہ اسی نظریے کی عملی مثال معلوم ہوتا ہے۔ اگر ایک شخص کھلے عام اتنا بھیانک جرم کر سکتا ہے اور لوگ اسے ہوتے ہوئے دیکھتے رہیں تو یہ قانون کی عملداری پر ایک بڑا سوال ہے۔ کیا پولیس کی موجودگی کا خوف ختم ہو چکا ہے؟ کیا مجرموں کو یقین ہو گیا ہے کہ وہ بچ نکلیں گے؟ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد حکومت کی جانب سے فوری بیانات، تحقیقات کے اعلانات اور چند گرفتاریاں عمل میں آتی ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ سب کچھ ماند پڑ جاتا ہے۔یہ’’خانہ پُری ‘‘ کا کلچر دراصل انصاف کے نظام کو کمزور کرتا ہے۔
 
 
میڈیا کا کردار اس طرح کے واقعات میں نہایت اہم ہوتا ہے۔ اگر میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو وہ عوام میں شعور بیدار کر سکتا ہے، مگر اگر وہ صرف سنسنی خیزی کو فروغ دے تو یہ معاشرتی بے حسی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ ارریہ جیسے واقعات کو محض’’بریکنگ  نیوز‘‘  بنا کر پیش کرنا اور بار بار ویڈیوز دکھانا انسانی درد کو ایک تماشہ بنا دیتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا ایسے واقعات کے پس منظر، اسباب اور حل پر بھی روشنی ڈالے، نہ کہ صرف خوف اور تجسس کو ہوا دے۔ہمارے تعلیمی نظام میں اخلاقی تعلیم کو وہ مقام حاصل نہیں جو ہونا چاہئے۔ بچوں کو صرف کتابی علم دیا جاتا ہے مگر انہیں یہ نہیں سکھایا جاتا کہ ایک ذمہ دار شہری کیسے بننا ہے۔ اگر بچپن سے ہی ہمدردی، جرات اور انصاف کی قدروں کو فروغ دیا جائے تو شاید ایسے مواقع پر لوگ خاموش تماشائی نہ بنیں۔گھر، اسکول اور سماج تینوں کو مل کر ایک ایسی فضا قائم کرنی ہوگی جہاں ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ایک فطری عمل بن جائے، نہ کہ ایک غیر معمولی جرأت۔  یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص جسمانی طور پر مداخلت کرے، مگر کم از کم پولیس کو اطلاع دینا، ویڈیو ریکارڈ کر کے ثبوت فراہم کرنا، یا مجرم کو روکنے کی اجتماعی کوشش کرنا ایک شہری فرض ہے۔ ہمارا معاشرہ مذہبی اور ثقافتی اقدار سے مالا مال رہا ہے، جہاں انسانیت، ہمدردی اور انصاف کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ مگر آج ان اقدار کا اثر کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ مذہب صرف عبادات تک محدود ہو گیا ہے جبکہ اس کے اخلاقی پہلو کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی مذہبی اور ثقافتی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنا ہوگا، جہاں ایک انسان کی جان کی حرمت سب سے مقدم ہو۔اس سنگین مسئلے کا حل صرف ایک پہلو سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے ہمہ جہت کوششوں کی ضرورت ہے ۔قانون کی سختی اور فوری انصاف، مجرموں کو فوری اور سخت سزا دی جائے تاکہ دوسروںکیلئے عبرت بنے،عوامی شعور کی بیداری،میڈیا، تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں مل کر عوام میں ذمہ داری  کا احساس پیدا کریں،پولیس اصلاحات پولیس کو جدید وسائل سے لیس کیا جائے اور اس کی تربیت کو بہتر بنایا جائے،اخلاقی تعلیم کا فروغ،اسکولوں اور کالجوں میں اخلاقی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے، سماجی نگرانی کا نظام،محلوں اور کمیونٹیز میں نگرانی کے مؤثر نظام قائم کئے جائیں۔
 
 
مختصر یہ کہ ارریہ کا واقعہ ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنے معاشرے کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ایک ایسا چہرہ جو بے حسی، خوف اور کمزوری سے بھرپور ہے مگر یہ تصویر حتمی نہیں ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اسے بدل سکتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کو سمجھیں، ظلم کے خلاف کھڑے ہوں، اور ریاست سے اس کی ذمہ داری کا مطالبہ کریں۔یہ سوال کہ ’’کیا اس طرح کے واقعات کو انسانی معاشرہ دیکھتا رہے گا؟‘‘ دراصل ہم سب کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے ہے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو تاریخ ہمیں ایک ایسے معاشرے کے طور پر یاد رکھے گی جو ظلم کو دیکھتا رہا مگر اس کیخلاف کچھ نہ کر سکا۔یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے جس پر تمام تر مفادات سے اوپر اٹھ کر اور سیاست کی شطرنجی چال سے باہر نکل کر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ جب انسان ہی نہیں بچے گا تو پھر سیاست کی کیا اہمیت ہوگی اور انسانی معاشرے کی تصویر کیسے بدلے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK