ممتا بنرجی بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی حملوں کو ناکام بنادیتیں لیکن انہیں قدم قدم پر الیکشن کمیشن کے نئے نئے معتصبانہ اقدام کا اور ای ڈی اور سی بی آئی جیسی مرکزی جانچ ایجنسیوں کے چھاپوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ الیکشن سر پرہے اور ممتا کے قریبی رفقاء یہاں تک کہ ترنمول کے امیدواروں تک کو چن چن کر نشانہ بنایاجارہا ہے۔
ممتا بنرجی اور دیگر۔ تصویر:آئی این این
مغربی بنگال میں جہاں جمعرات سے اسمبلی انتخابات شروع ہو رہے ہیں اس وقت موسم اورسیاست دونوں کا پارہ کافی چڑھا ہوا ہے۔ ۲۳؍ اور۲۹؍ اپریل کو دومرحلوں میں ہونے والا اسمبلی الیکشن کوئی عام الیکشن نہیں ہے۔ اس الیکشن میں ترنمول کانگریس، بی جے پی، بایاں محاذ اور کانگریس کی سیاسی تقدیر ہی نہیں، صوبے کی شناخت، مذہبی اور لسانی ہم آہنگی، تہذیبی اور ثقافتی تنوع اورمعاشرتی امن و سکون بھی داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔ اس بار ووٹروں کوسوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ اس باران کا ووٹ صرف بنگال کی نئی حکومت کا ہی انتخاب نہیں کرے گا بلکہ وہ صوبے کے مستقبل کا تعین بھی کرے گا۔
۲۰۱۱ء بنگال کی سیاست میں ایک سنگ میل سال تھا کیونکہ اس سال ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس نے اسمبلی الیکشن میں بایاں محاذ کو شکست دے کر اس کی ۳۴؍ سالہ حکومت کو اکھاڑ پھینکا تھا۔ یقینا ًوہ ممتا بنرجی کے لئے ایک مشکل الیکشن رہا ہوگا لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ ۲۰۲۶ء کا الیکشن ان کی زندگی کا مشکل ترین الیکشن ہے۔ ۲۰۱۱ء میں نندی گرام اور سینگور میں غریب کسانوں کی تحریکوں کی کامیاب قیادت کی وجہ سے ممتا بنرجی عوامی مقبولیت کے عروج پر تھیں اور وزیر اعلیٰ بدھادیب بھٹاچاریہ کی بایاں محاذ حکومت آئی سی یو میں زندگی کی آخری سانسیں گن رہی تھی۔دیہی بنگال نے کمیونسٹوں سے منہ موڑلیا اور ترنمول کے پیچھے چل پڑا تھا۔کلکتہ کی سول سوسائٹی جوپہلے سی پی آئی (ایم) کی حمایتی ہوا کرتی تھی اب وہ ممتا کی دیوانی ہوگئی تھی۔ مہاشویتا دیوی اور اپرنا سین جیسے دانشور وں اور فنکار وں نے ممتا بنرجی کی سرپرستی کا اعلان کردیا تھا۔ترنمول کانگریس نے آسانی سے بایاں محاذ کو ہرادیا اور ممتا بنگال کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئیں۔اس کے بعد ہوئے تین تین اسمبلی انتخابات میں ممتاکی پارٹی پہلے سے بڑی اکثریت کے ساتھ جیتی اور دیدی آرام سے پندرہ برسوں تک حکومت کرتی رہیں۔لیکن پچھلے سات آٹھ برسوں میں بایاں محاذ اور کانگریس کا صفایا کرکے بی جے پی نے اپوزیشن کی پوزیشن حاصل کرلی اور اس بار وہ ترنمول کانگریس کو کانٹے کی ٹکر دے رہی ہے۔
اگر کوئی پارٹی پندرہ سالوں تک اقتدار میں رہے تو اس کے شانوں کا anti-incumbencyکے بوجھ تلے جھک جانا فطری بات ہے۔ ترنمول کانگریس کو بھی اس بوجھ کا سامنا ہے لیکن ممتا کی سیاسی بصیرت اور قائدانہ صلاحیتوں سے اس کا ازالہ ہوسکتا تھا۔ ممتا کی پریشانی اس لئے بڑھ گئی ہے کیونکہ اس بار انہیں صرف ایک سیاسی پارٹی سے مقابلہ آرائی نہیں بلکہ پورے سسٹم سے محاذ آرائی کرنی پڑ رہی ہے۔ ممتا کے مصائب کی فہرست میں سب سے اول ووٹر لسٹ سے تقریباًاکیاونِ لاکھ ووٹروں کے ناموں کی گمشدگی ہے۔ ممتا بنرجی بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی حملوں کو ناکام بنادیتیں لیکن انہیں قدم قدم پر الیکشن کمیشن کے نئے نئے معتصبانہ اقدام کا اور ای ڈی اور سی بی آئی جیسی مرکزی جانچ ایجنسیوں کے چھاپوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔الیکشن سر پرہے اور ممتا کے وفاداروں جن میں بزنس مین بھی ہیں اور پولیس کمشنر بھی، الیکشن میں رہنمائی کرنے والی آئی پیک بھی ہے اورانتخابی امیدوار بھی سبھوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن بنگال میں صرف پہلے مرحلے کے الیکشن کے دوران ایک لاکھ ستر ہزار سے زیادہ سپاہیوں پر مشتمل سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز(CAPF) کی ۲۴۰۰؍کمپنیاں تعینات کررہا ہے۔ بنگال میں جمہوریت کاجشن ہورہاہے یا جمہوریت کی جنگ؟
بی جے پی نے بنگال کا قلع فتح کرنے کیلئے اس بار نہ صرف اپنے سارے وسائل اس الیکشن میں جھونک دیئے ہیں بلکہ وہ سیاسی مفاد کی تکمیل کیلئے آئینی اداروں کو بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کر رہی ہے۔
وزیر اعظم مودی ایک ایک دن میں چار چار انتخابی ریلیوں سے خطاب کررہے ہیں۔ امیت شاہ نے اعلان کردیا ہے کہ وہ صوبے میں ڈیرہ ڈالے بیٹھے رہیں گے۔ ممتا کو ہر قیمت پر اقتدار سے بے دخل کرنے کی خاطر نرملا سیتارمن، راجناتھ سنگھ، یوگی آدتیہ ناتھ، ہیمنت بسوا سرما، دیویندر فرنانویس اور کنگنا رناؤت سمیت درجنوں بی جے پی لیڈران بنگال کے کونے کونے کی خاک چھان رہے ہیں۔جیسے جیسے ان کی ریلیوں میں لوگوں کی بھیڑ میں اضافہ ہورہا ہے ویسے ویسے بی جے پی لیڈران کے تیور پہلے سے زیادہ جارحانہ ہوتے جارہے ہیں اور ان کی تقریریں پہلے سے زیادہ زہریلی۔
ممتا نے آخری وقت تک ایس آئی آر کی مخالفت کی اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے ۹۱؍ لاکھ ووٹروں کے ناموں کو ہٹاکر ہی دم لیا۔ سپریم کورٹ سے بھی مظلوموں کو انصاف نہیں ملا۔ستم بالائے ستم یہ کہ نریندر مودی اور امیت شاہ بار بار یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ممتا بنرجی گھس پیٹھیوں، بنگلہ دیشیوں اور روہنگیاؤں کو بچانے کی خاطر ایس آئی آر کی مخالفت کررہی ہیں۔ دراصل یہ الزام لگاکر دونوں اس خطرناک بیانیہ کو فروغ دے رہے ہیں کہ ممتا کو بنگال کے نہیں بنگلہ دیش کے لوگ بار بار الیکشن جتواتے رہتے ہیں۔۹۱؍ لاکھ نام حذف کئے جانے کے ساتھ ساتھ بی جے پی اچھے بھلے ہندوستانیوں کو غیر ملکی دراندازکہہ کر ان کے زخموں پر نمک پاشی کرنے لگی ہے۔ممتا بنرجی نے ساحلی شہر دیگہا میں ۲۵۰؍کروڑ کی لاگت کاجگن ناتھ دھام مندر تعمیر کرواکے اور سلی گوڑی میں عالیشان مہاکال مہاتیرتھ مندر کا سنگ بنیاد رکھ کر سوچا ہوگا کہ وہ ’’ہندو مخالف‘‘کالیبل اپنی پیشانی سے نوچ پھینکیں گی۔ وہ یہ سمجھ نہیں پائیں کہ سیکولرزم اور مذہبی رواداری کے اصولوں پر چلنااور تمام مذاہب کے باشندوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کرنا جو کبھی دیدی کا اثاثہ تھا آج ان کے گلے کا طوق بن گیا ہے۔ صرف اس لئے کہ وہ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری نہیں سمجھتی ہیں کالی کی پجارن برہمن زادی وزیر اعلیٰ کو ہندو مخالف بنادیا گیا۔
ممتا بنرجی نے بی جے پی کے گھس پیٹھیا بیانیہ کے جواب میں بھگوا پارٹی پر بوہیراگوتو(باہری لوگوں) کی پارٹی کا ٹھپہ لگا دیا ہے۔ ممتا کے بیانیہ کے مطابق بی جے پی والوں کو بنگال کی زبان و ادب، تہذیب و ثقافت اور غذائی ترجیحات کی واقفیت نہیں ہے۔جو بی جے پی لیڈران بنگال کی عظیم شخصیات کے نام کا صحیح تلفظ تک ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں وہ بنگال کو عظیم بنانے کا وعدہ کررہے ہیں۔ترنمول کانگریس کی ایک اشتہاری مہم ’’جودی اورآشے‘‘(اگر وہ آگئے) میں بنگال کے عوام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ بی جے پی والے تنگ نظر اور متعصب لوگ ہیں جو بنگال کے ترقی پسند معاشرے کو برباد کر دیں گے۔ یہ لوگ گوشت اور مچھلی کھانے پر پابندی لگادیں گے اور پیار کرنے تک کی ممانعت کردیں گے۔ بی جے پی کے دقیانوسی نظریاتی جبر سے بنگال کی حفاظت اگر کوئی کرسکتا ہے تو وہ ہیں دیدی۔ ہم یہ چار مئی کو ہی یہ جان سکیں گے کہ بنگال کے عوام نے مودی پراعتماد جیتایا دیدی پر۔