Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُدیشہ کے عیسائی قبائلی عوام کی تشویشناک داستان الم

Updated: May 10, 2026, 1:30 PM IST | Aakar Patel | mumbai

مضمون نگار نے پیوپلز ٹریبونل کے رکن کی حیثیت سے اس ریاست کے قبائلی علاقوں میں عیسائیوں سے اُن پر مظالم کی داستان سنی۔ یہاں ہندوتوا عناصر کافی سرگرم ہیں۔

INN
آئی این این
اس مہینے میں  مَیں  پیوپلز ٹریبونل کے ایک حصے کے طور پر اُدیشہ کے دورہ پر تھا۔ اس دورہ کا مقصد عیسائیوں  بالخصوص ادیباسیوں  پر ہونے والے مظالم کا جائزہ لینا تھا۔ ٹریبونل کے دیگر اراکین نے اور مَیں  نے نورنگ پور، جے پور، بالاسور اور باری پاڑہ میں  ’’کاروانِ محبت‘‘ نامی تنظیم میں  شمولیت اختیار کی اور کم و بیش ۳۰۰؍ افراد سے اُن کی داستانِ الم سنی جن میں  اکثریت ادیباسیوں  کی تھی۔ 
ہم نے وہاں  جو کچھ بھی سنا اور دیکھا اس سے واضح ہوگیا کہ گزشتہ دو سال میں  ادیشہ کی حکومت نے لوگوں  کے بنیادی اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہونے دی جس کا نتیجہ تھا کہ عیسائیوں  کے خلاف منظم تشدد ہوتا رہا۔ اس دوران اگر حکومت نے مداخلت کی بھی تو محض اس لئے کہ متاثرین کو انصاف نہ مل سکے۔ ٹریبونل کے اراکین نے محسوس کیا کہ یہاں  تشدد ایک منظم رجحان کے طور پر ہے۔ کوئی چھوٹا موٹا واقعہ رونما ہوتا ہے جو ایک خاص طریقے سے بڑے تنازع میں  تبدیل کردیا جاتا ہے۔ عوام اس کے خلاف کچھ کہتے سنتے ہیں  تو بیف کے نام پر یا لوَجہاد کے نام پر یا بل ڈوزر کے ذریعہ تشدد کے واقعات رونما ہونے لگتے ہیں ۔ اس کے علاوہ جو بات ہمارے علم میں  لائی گئی وہ یہ تھی کہ تشدد کے واقعات کی رفتار بڑھ رہی ہے کیونکہ ایک جگہ جو ہوا اور جس طریقے سے ہوا وہی واقعہ دوسری جگہ بھی ہوتا ہے اور اسی طریقے سے ہوتا ہے۔ 
دورۂ اُدیشہ کے دوران عیسائی متاثرین کی روداد سنتے ہوئے ہم نے چار طریقوں  کے مظالم کی تفصیل سنی۔پہلا یہ کہ ادیباسی عیسائیوں  میں  کسی کی موت ہوجائے تو اس کی تدفین کو طاقت کے ذریعہ روکا جاتا ہے۔ متوفین کی نعش کو گاؤں  کے قبرستان میں ، جہاں  دیگر ادیباسیوں  متوفین کی تدفین ہوتی ہے، دفن کی اجازت نہیں  دی جاتی۔ اگر وہ چاہیں  کہ خود کی زمین پر تدفین کا فریضہ انجام دے لیں  تو اس سے بھی روکا جاتا ہے۔ اُس جگہ پر، جہاں  تدفین اور عیسائی انداز کی دُعا ہونے والی ہوتی ہے ہجوم جمع ہوجاتا ہے۔ اِس عالم میں  متعلقہ ادیباسی عیسائی خاندان ہجوم کی قیادت کرنے والوں  سے بات چیت کرتا ہے یا سمجھاتا بجھاتا ہے اور جب تک کوئی فیصلہ نہیں  ہوجاتا تب تک اُن کے متوفین کا جسد خاکی رکھا رہتا ہے، بعض اوقات برف میں  اور بعض اوقات نعش کی خرابی کیلئے۔ پولیس کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ ہمیں  کوئی تنازع نہیں  چاہئے۔ اس طرح وہ عملاً اُن لوگوں  کے ساتھ ہوجاتی ہے جو تدفین کو روک کر تنازع پیدا کرتے ہیں ۔ 
ظلم کا دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ عیسائیوں  کا سماجی اور معاشی بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔اگر کسی نے عیسائیوں  کو کچھ سامان فروخت کیا یا اُن سے کسی بھی طرح کا رابطہ رکھا تو اُن پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس کی وجہ سے کئی خاندانوں  نے اپنے بیٹوں  یا بیٹیوں  کو گھر سے ہٹا دیا۔ کئی خاندان ایسے ہیں  جن کا کچھ ذریعۂ معاش نہیں  رہ گیا ہے۔ وہ جنگلوں  میں  قیام کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ ہمارے سامنے زیادہ تر ایسے ہی واقعات آئے جو گزشتہ ایک سال بالخصوص گزشتہ دو ماہ میں  رونما ہوئے ہیں ۔
ظلم کا تیسرا طریقہ عیسائی عبادت گاہوں  پر حملے سے متعلق ہے۔ گھر میں  بنایا گیا گوشۂ عبادت بھی شر پسندوں  سے محفوظ نہیں ۔ کئی مقامات پر مذہبی اجتماعات یا اجتماعی دُعا روکی گئی اور بند کروائی گئی۔ جب پولیس آتی ہے تو وہ بھی متاثرین ہی کو دوش دیتی ہے اور اُن پر غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب کا الزام عائد کرتی ہے۔ متاثرین کو جیل میں  بند کردیا جاتا ہے تب تک ہجوم کو کھلی چھوٹ ملی رہتی ہے۔
ظلم کا چوتھا طریقہ سیدھے سیدھے تشدد سے متعلق ہے۔ ایسے کئی واقعات ہمارے علم میں  لائے گئے جن میں ، ان عیسائی قبائلی افراد کو مارا پیٹا گیا، ان کے ہاتھ پاؤں  باندھ دیئے گئے اور بعض اوقات ان کو بے لباس کیا گیا محض اُن کے مذہبی عقیدہ کی وجہ سے۔ کئی لوگوں  پر جنسی حملےہوئے اور کسی کو زندہ جلانے کی کوشش کی گئی۔ 
اس پس منظر میں  یہ سوال فطری ہے کہ جب ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں  تو حکومت یعنی پولیس کیا کرتی ہے؟ ہمارے علم میں  ایسے کئی واقعات لائے گئے جن میں  اُنہی لوگوں  کے خلاف کیس بنایا گیا جن پر حملہ ہوا۔ کیس بننے کے بعد اُن کو پولیس اسٹیشن میں  رکھا گیا یا پھر جیل بھیج دیا گیا۔ بعض واقعات ایسے بھی بتائے گئے جن میں  مبینہ طور پر پولیس نے خود بھی ڈرایا دھمکایا، یا، تشدد سے کام لیا۔
جو کچھ ہم نے دیکھا اور سنا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہ ہوگا کہ اُدیشہ کے ان قبائلی علاقوں  میں  جہاں  عیسائی فرقے کے لوگ رہتے ہیں ، قانون کی بالادستی باقی نہیں  رہ گئی ہے اور سرکاری عملہ آئینی ذمہ داری نہیں  نبھا رہا ہے۔یہاں  کے لوگوں  نے تو یہ تک کہا کہ پولیس نے ہندوتوا تنظیموں  کے لوگوں  کا ساتھ دیا جو زبردستی ’’مفاہمتی‘‘  کاغذات پر دستخط کروانا چاہتے تھے جس میں  درج تھا کہ عیسائی عقیدہ ترک کردیں  گے اور اجتماعی عبادت میں  شامل نہیں  ہوں  گے۔
 
 
سرکاری عملہ بھگوا رنگ میں  رنگا ہوا دکھائی دیتا ہے بالخصوص اِس وقت جبکہ اُدیشہ میں  بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار قائم ہوچکی ہے۔ سماج اقلیت مخالف عناصر کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔اُدیشہ کے دورہ کے بعد پیوپلز ٹریبونل نے ریاستی چیف سکریٹری کو اس اُمید میں  مکتوب روانہ کیا کہ حکومت مسئلہ کی سنگینی کو سمجھے گی جس کے تعلق سے اس کی قانونی ذمہ داری ہے۔ہمیں  اپنی اُمید پوری ہونے کی اُمید کم ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ ہم نے شواہد پیش کئے ہیں ۔
اِس ضمن میں  جو آخری بات مجھے کہنی ہے وہ یہ ہے کہ ٹریبونل کے سامنے پیش ہونے والے ادیباسی افراد نے خود کو پورے وقار کے ساتھ پیش کیا اور جو کچھ بھی اُن کے ساتھ ہوا وہ کھل کر بتایا۔ جب وہ اپنے خلاف ہونے والے جرائم کی تفصیل بیان کررہے تھے تب اُن کا تحمل محسوس کیا جاسکتا تھا۔ وہ کسی بھی زاویہ سے مشتعل نہیں  تھے۔ ان میں  ایک ایسی خاتون بھی ٹریبونل کے سامنے آئی جس نے اپنے پر ہوئے جنسی حملے کی بابت بتایا۔ وہ ایک لمحہ کیلئے رُکی، آنسو پونچھے اور پھر ماجرا بیان کیا۔ ایک نوجوان اپنے ساتھ ہوئے ظلم کی روداد سناتے ہوئے دُعائیہ کلمات ادا کرنے لگا جن کا مفہوم تھا: خدا میرا نگہبان ہے، وہی مجھے صداقت کی راہ پر لاتا ہے، اگر موت کی وادی سے بھی گزرنا پڑے تو میں  نہیں  ڈروں  گا۔ 
odisha Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK