Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ نے ضمانت کیلئے’صفائی‘ کرنے کی شرط کو کالعدم قرار دیا، ذات پات کے تعصب پر تشویش کا اظہار

Updated: May 04, 2026, 6:03 PM IST | New Delhi

چیف جسٹس کانت اور جسٹس باگچی کی بنچ نے زور دیا کہ عدلیہ کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ریاست کی طاقت انفرادی وقار کو مجروح نہ کرے۔ عدالت نے اعادہ کیا کہ ضمانت کی شرائط قانونی، معقول اور ہر قسم کے امتیاز سے پاک ہونی چاہئیں۔

Supreme Court. Photo: X
سپریم کورٹ۔ تصویر: ایکس

سپریم کورٹ نے ادیشہ کی عدالتوں کے ذریعے ضمانت کیلئے ملزمین پر پولیس تھانوں اور دیگر عوامی مقامات کی صفائی کرنے کی شرائط رکھے جانے کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے ایسی شرائط کو ”کالعدم اور باطل“ قرار دیا ہے۔ پیر کو چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے ان شرائط کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں ”انسانی وقار اور آئینی اصولوں کی خلاف ورزی“ قرار دیا۔

بنچ نے مزید کہا کہ ”ہم ایسی شرائط اور ریاستی عدلیہ کی جانب سے عائد کردہ اسی طرح کی دیگر شرائط کو کالعدم اور باطل قرار دیتے ہیں۔“ عدالت نے متاثرہ افراد کو ہدایت دی کہ وہ ایسی شرائط کے فوری خاتمے کیلئے ادیشہ ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔ سپریم کورٹ نے زور دیا کہ ان شرائط کو اسی طرح کی دیگر ضروریات سے تبدیل نہیں کیا جانا چاہئے۔ عدالت عظمیٰ نے مزید حکم دیا کہ اس فیصلے کو ملک بھر کے عدالتی افسران تک پہنچایا جائے۔ کورٹ نے ضمانت کی ایسی شرائط عائد کرنے کے خلاف متنبہ کیا جن سے ”ذات پات کا رنگ“ جھلکتا ہو یا جن سے سماجی تصادم پیدا ہونے کا خطرہ ہو۔

یہ بھی پڑھئے: مفرور ملزمین کے رشتہ داروں کو ہراساں کرنا غیر آئینی ہے: الہ آباد ہائی کورٹ

جسٹس کانت اور جسٹس باگچی کی بنچ نے ان شرائط پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادیشہ کی عدلیہ نے ”رجعت پسندانہ ذہنیت“ کا مظاہرہ کیا ہے جو ”بادی النظر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی“ ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات مساوات اور ذات پات سے پاک معاشرے کے آئینی وژن کو کمزور کرتے ہیں۔ ججوں نے نوٹ کیا کہ یہ شرائط امتیازی نوعیت کی لگتی ہیں اور خاص طور پر پسماندہ طبقات کے خلاف ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ”ان شرائط کی نوعیت ظالمانہ اور گھناؤنی ہے۔“ یہ عدلیہ کو ذات پات کے حوالے سے متعصب کردار میں پیش کرسکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، ادیشہ کی عدالتوں کی جانب سے ایسے کئی احکامات جاری کئے گئے تھے جن میں ملزمین کو ضمانت کیلئے تھانوں، مندروں، اسپتالوں اور عوامی مقامات کی صفائی کی ہدایات دی گئی تھیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان شرائط کا سامنا کرنے والے بیشتر کا تعلق دلت اور آدی واسی برادریوں سے تھا۔

یہ بھی پڑھئے: بیف لے جانے کا ثبوت نہ ہونے پر گاڑی ضبط کرنا غیر قانونی ہے: ہائی کورٹ

بنچ نے زور دیا کہ عدلیہ کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ریاست کی طاقت انفرادی وقار کو مجروح نہ کرے۔ عدالت نے اعادہ کیا کہ ضمانت کی شرائط قانونی، معقول اور ہر قسم کے امتیاز سے پاک ہونی چاہئیں۔ اس فیصلے کے ذریعے سپریم کورٹ نے ملک بھر میں اس طرح کے اقدامات کے استعمال کو مؤثر طریقے سے روک دیا ہے اور اس بات کو تقویت دی ہے کہ ضمانت کی شرائط تعزیری یا آئینی اقدار کے منافی نہیں ہو سکتیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK