Inquilab Logo Happiest Places to Work

اوی مکتیشورانند پر الزامات تو ہیں مگر دل نہیں مانتا

Updated: March 13, 2026, 1:44 PM IST | shamim Tariq | mumbai

اوی مکتیشورانند سرسوتی الزامات کے گھیرے میں ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ شنکر آچاریہ نہیں ہیں مگر خود کو شنکر آچاریہ بتاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان پر الزام دھرا جا رہا ہے۔

INN
آئی این این
ایک کالم نگار کی حیثیت سے راقم الحروف کسی کا طرفدار ہے نہ مخالف۔ اس کا کام جھوٹ اور سچ کو الگ کرنا نیز خبروں  کا تجزیہ کرنا ہے۔ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ اوی مکتیشورانند سرسوتی الزامات کے گھیرے میں  ہیں ۔ کچھ لوگوں  کا کہنا ہے کہ وہ شنکر آچاریہ نہیں  ہیں  مگر خود کو شنکر آچاریہ بتاتے ہیں ۔ دوسرا الزام یہ ہے کہ انہوں  نے نوعمر لڑکوں  کے ساتھ بدفعلی کی اور تیسرا الزام یہ ہے کہ ان کے آشرم میں  نہانے کا حوض اور شیش محل ہے۔ جہاں  تک پہلے الزام کا تعلق ہے تو یہ فیصلہ تو تینوں  پیٹھ کے شنکرآچاریہ، دھرم آچاریہ اور ان کے مذہب کے ذمہ دار لوگ ہی کرسکتے ہیں ۔ ہاں ، یہ بات ذہن میں  ہونا ضروری ہے کہ ان کو شنکرآچاریہ تسلیم کرنے والوں  میں  دھرما چاریوں  کی بڑی تعداد کے ساتھ ملک کے وزیراعظم اور یوپی کے دو ڈپٹی وزیراعلیٰ بھی ہیں ۔ انہوں  نے نابالغ لڑکوں  کیساتھ بدفعلی کی یا نہیں ؟ اس کا فیصلہ عدالت کرے گی کہ اب معاملہ عدالت میں  ہے۔ جہاں  تک تیسرے الزام یعنی آشرم میں  نہانے کا حوض یا شیش محل ہونے کا الزام ہے تو یہ محض جھوٹ ہے۔ میری ابتدائی عمر بنارس میں  گزری ہے اور ۲۰۰۴ء میں  والدہ کی وفات ہونے تک میں  بہت کم وقفے سے بنارس جاتا رہا ہوں ، والدہ کی وفات کے بعد بھی بار بار بنارس گیا ہوں  البتہ میرا قیام بنارس ہندو یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس یا کسی ہوٹل میں  رہا ہے اور میں  نے اس آشرم کو بار بار دیکھا ہے اس لئے کہہ سکتا ہوں  کہ جب مَیں  نے بنارس چھوڑا تھا تو یہ آشرم موجودہ شکل میں  تھا بھی نہیں ۔ اس کی تعمیر ۱۹۹۵ء کے قریب ہوئی۔ یہ گراؤنڈ+ ۲؍ منزل کی عمارت ہے، اس میں  بیسمنٹ کو بھی شامل کرلیں  تو یہ زیادہ سے زیادہ تین منزلہ عمارت ہے اور یہاں  تقریباً ڈیڑھ دو سو افراد قیام کرتے ہیں ۔ یہ تعداد ہی اس الزام کو جھوٹ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ آشرم میں  کسی کے ساتھ کوئی گناہ کیا جاسکتا ہے۔
سوئمنگ پول یا نہانے کے حوض کے بارے میں  خود اوی مکتیشورانند یہ وضاحت کرچکے ہیں  اور اس وضاحت کو مسترد کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں  کہ ان کے گرو شری سروپانند کے آخری دنوں  میں  ڈاکٹر کے کہنے پر ایک عارضی حوض ضرور بنایا گیا تھا جو اب نہیں  ہے۔ شیش محل کے بارے میں  بھی یہ بتانا ضروری ہے کہ ایک دو آئینہ ہونے سے کوئی گھر یا کمرہ شیش محل نہیں  ہوجاتا۔ البتہ جن لڑکوں  یا نابالغوں  نے الزام لگایا ہے ان سے پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ ڈائریکٹ پولیس اسٹیشن یا عدالت کیوں  نہیں  گئے؟ جس کے توسط سے وہ پولیس اور پھر عدالت میں  گئے وہ جیسا بھی ہو مگر وہ ان لڑکوں  کو پولیس سے رجوع کرنے کا مشورہ دے سکتا تھا۔ ان لڑکوں  کا پولیس، عدالت یا وکیل سے ڈائریکٹ رجوع نہ کرنا بہت سے سوال کھڑے کرتا ہے وہ دو لڑکے جن کے سبب اوی مکتیشورانند پر ’پاکسو‘ کی دفعہ لگائی گئی وہ ان کے آشرم کے طالبعلم ہیں  نہ وہاں  رہے ہیں ۔ وہ لڑکے بھی مبینہ طور پر کہہ رہے ہیں  کہ ان کے ساتھ بدفعلی اس وقت کی گئی جب وہ الٰہ آباد (اب پریاگ راج) میں  ان کے یعنی اوی مکتیشورانند کے شِوِر میں  گئے تھے۔ شِوِر میں  وہ گئے کیوں  تھے؟ اگر وہاں  ان کے ساتھ ناجائز حرکت کی گئی تو انہوں  نے اپنے والد، سرپرست یا استاذ کے ذریعہ فوری میڈیکل کیوں  نہیں  کرایا، پولیس یا عدالت میں  کیوں  نہیں  گئے؟ اس معاملے میں  سوامی اوی مکتیشور انند جی کو نشانہ تو وہ شخص بنا رہا ہے جس کو اوی مکتیشورانند جی پہلے ہی نشانہ بنا چکے تھے۔ حتیٰ کہ وہی شخص پولیس کے بجائے مقدمہ اور میڈیکل رپورٹ کی اطلاع بھی دے رہا تھا۔ عدالت عالیہ نے سب کی بات سنی اور فیصلہ تو نہیں  سنایا البتہ گرفتاری پر روک لگا دی۔ ایک بات یقیناً سب سے اچھی ہوئی کہ ’ہر سطح پر قانونی عمل‘ کے سب سے اوپر اور برتر ہونے کا احساس دلایا گیا۔ ایک عورت نے جو آشرم میں  رہی ہے اس نے بھی کئی باتیں  کہیں  مگر ان باتوں  میں  قطعیت نہیں  تھی۔ ان الزامات سے اوی مکتیشورانند کے خلاف کئی باتیں  مثلاً اس مسئلہ میں  سب سے زیادہ سرگرم رہنے والے شخص کے ہسٹری شیٹر ہونے یا شاستروں  کے اعتبار سے نابینا ہونے کے سبب رام بھدراچاریہ کے جگت گرو نہ ہوسکنے وغیرہ بھی غلط ثابت نہیں  ہوئیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اوی مکتیشورانند کے خلاف جو بھی کارروائی کی گئی ہے انتقاماً کی گئی ہے۔ یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ اوی مکتیشورانند کے خلاف جو الزامات اب لگائے جا رہے ہیں  کیا وہ الزامات پریاگ راج میں  ماگھ میلہ سے پہلے بھی لگائے گئے تھے؟ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ٹھیک ہے ان لڑکیوں  کا میڈیکل ہوا اور میڈیکل میں  جنسی فعل کئے جانے کی تصدیق بھی ہوئی مگر جنسی فعل کئے جانے اور میڈیکل کئے جانے میں  کتنے دنوں  کا فرق ہے؟ ممکن ہے بدفعلی کسی اور نے کی ہو اور الزام مکتیشورانند پر دھرا جا رہا ہو۔ بہرحال دل نہیں  مانتا کہ اوی مکتیشورانند قصور وار ہیں ۔ کچھ سمجھ میں  تب آتا جب اوی مکتیشورانند کا بھی میڈیکل کرایا جاتا اور وہ بھی وقت پر۔
 
عدالت میں  اوی مکتیشورانند کے وکلاء کی پوری فوج پیش ہوئی۔ حکومت اور الزام لگانے والے کی خاتون وکیل بھی آن لائن حاضر ہوئیں  مگر عدالت نے سماعت کے بعد جو کہا اس پر کسی شبہ کا اظہار نہیں  کیا جاسکتا۔ سرکاری وکیل نے یہ نہیں  کہا کہ اتنے گھناؤنے مقدمے میں  اوی مکتیشورانند کو ضمانت پانے کا حق ہی نہیں  ہے۔ انہوں  نے صرف یہ کہا کہ اس مقدمے میں  اوی مکتیشورانند کا ڈائریکٹ ہائی کورٹ آنا ایک غلط نظیر قائم کرتا ہے ان کو پہلے سیشن عدالت میں  جانا چاہئے تھا۔ اس کا جواب اوی مکتیشورانند کے وکیلوں  نے دیا۔ شکایت کرنے والے کی وکیل نے آن لائن پیش ہو کر درخواست ضمانت کی مخالفت کی مگر عدالت نے سب کی سننے کے بعد جو فیصلہ سنایا اس پر کسی طرف سے کوئی واویلا نہیں  ہوا۔ آئندہ بھی عدالت جو فیصلہ سنائے گی وہ بشمول کالم نگار سب کے لئے قابل ِ قبول ہونا چاہئے۔ سردست تو یہی کہنا کافی ہے کہ اوی مکتیشورانند کے خلاف الزامات تو ہیں  مگر دل نہیں  مانتا ان الزامات کو۔ اس کی معقول وجہ بھی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK