اُردو مشاعرہ ہماری ادبی تاریخ کا روشن باب اور تہذیبی شناخت کا اہم ستون ہے۔ دورِ حاضر میں یہ روایت زوال کا شکار ہے، مگر اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہیں کہ خلوصاور فکری شعور کے ساتھ اسے دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔
اُردو ادب کی تاریخ میں اگر کسی روایت نے زبان،ادب، بالخصوص شاعری اور سماجی زندگی کو ایک ساتھ جوڑے رکھا ہے تو وہ مشاعرہ ہے۔ مشاعرہ محض شعراء کا اجتماع نہیں اوراشعار سنانے کی محفل نہیں بلکہ تہذیب، شائستگی، زبان کے ذوق، اجتماعی شعور اور ادبی روایت کا ایسا حسین امتزاج ہے جس نے صدیوں سے اردو زبان کو زندہ، متحرک اور عوام سے مربوط رکھا۔ مشاعرہ شاعر اور سامع کے درمیان ایک زندہ مکالمہ ہے، جہاں لفظ سانس لیتے ہیں اور شعر محض تحریر نہیں بلکہ آواز، تاثر اور کیفیت بن جاتا ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ یہی تاریخی ، ادبی ، تہذیبی شاندار روایت عصرِ حاضر میں اپنے وقار، سنجیدگی اور ادبی معیار کے حوالے سے زوال پذیر ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔اردو مشاعرہ کی روایت کا آغاز دکن میں ہوا۔ دکن کے قطب شاہی اور عادل شاہی ادوار میں فارسی کے ساتھ ساتھ مقامی زبانوں میں شعری محفلیں منعقد ہونے لگیں ۔ محمد قلی قطب شاہ کے عہد میں اردو شاعری اور مشاعروں کو شاہی سرپرستی حاصل ہوئی۔شمالی ہند میں اردو مشاعرہ کی باقاعدہ روایت دہلی میں فروغ پائی۔ ولی دکنی کی آمد (۱۷۰۰ء کے آس پاس) نے دہلی کے شعری ذوق کو اردو کی طرف متوجہ کیا۔ اس کے بعد دہلی میں مشاعرے ایک مستقل ادبی روایت بن گئے۔ شاہ حاتمؔ، میر تقی میرؔ، خواجہ میر دردؔ اور سودا ؔ، ذوقؔ، غالبؔ، مومنؔ جیسے عظیم المرتبت شعرا مشاعروں کی جان ہوا کرتے تھے۔
دہلی، لکھنؤ ، عظیم آباد، رام پوراور دکن کے مشاعروں میں تہذیبی فرق نمایاں تھا۔دہلی میں سادگی، درد مندی اور فکری گہرائی تولکھنؤمیں زبان کی نزاکت، محاورے کی نفاست اور رنگینی۔ان دونوں مراکز نے اردو مشاعرہ کو تہذیبی تنوع عطا کیا۔ لکھنؤکے مشاعروں میں نشست و برخاست، لباس، آدابِ محفل اور زبان کی شائستگی خاص اہمیت رکھتی تھی۔عظیم آباد میں موضوعی انفراد اور طرزِ اظہار کو خاص مقام حاصل تھا۔ عظیم آباد کا ایک تاریخی مشاعرہ جو مسلسل سات دنوں تک چلتا رہا ، مشاعرے کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔یعنی اردو مشاعرہ برصغیر کی گنگا جمنی تہذیب کا مظہر ہے۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی شعرا ایک ہی اسٹیج پر بیٹھ کر ایک دوسرے کے کلام سے محظوظ ہوتے رہے۔ مشاعرہ نے مذہبی، لسانی اور سماجی تفریق کو مٹایا اور انسان کو انسان سے جوڑنے کا کام کیا۔احترامِ بزرگ،اختلاف میں شائستگی،زبان کی لطافت،مزاج کی شرافت جیسے عناصر نمایاں ہوتے تھے، جو مجموعی تہذیب کی عکاسی کرتے تھے۔
آزادی کی تحریک میں جوش، حریت اور قومی شعور کو ابھارنے میں مشاعرے نے اہم کردار ادا کیا۔ جوشؔ ملیح آبادی، حسرت ؔموہانی ، مجازؔ،مخدوم ؔمحی الدین، سردار جعفری، مجروح سلطانپوری ، جمیل مظہری،اجتبیٰ رضوی، پرویز شاہدی جیسے شعراء کی نظمیں عوام میں ولولہ پیدا کرتی تھیں ۔آزادی کے بعد اردو مشاعرہ ہندوستان اور پاکستان دونوں میں زندہ روایت کے طور پر جاری رہا۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات نے مشاعرے کو نئی وسعت دی۔ آل انڈیا مشاعرے، بین الاقوامی مشاعرے اور بیرونِ ملک اردو مشاعرے اسی دور کی پیداوار ہیں ۔
مگر افسوس ہے کہ آج کا اردو مشاعرہ بظاہر تو زندہ ہے، مگر باطن میں کئی بحرانوں سے دوچار ہے۔ادبی معیار میں گراوٹ،سطحی اور بازاری اشعار،لطیفہ نما شاعری،غیر ضروری لفاظی اور چیخ و پکار داد حاصل کرنے کیلئے شعر کی فنی گہرائی کے بجائے آواز، انداز اور جگت بازی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔واہ جیسی لسانی تہذیب کے الفاظ معدوم ہوتے جا رہے ہیں اور تالیاں بجائی جا رہی ہیں ۔ مشاعرہ میں پستی کے اسباب پر غور کیجئے تو یہ حقیقت سامنے آ تی ہے کہ:
۱۔تجارتی ذہنیت:۔مشاعرہ اب ایک ثقافتی تقریب کے بجائے تجارتی شو بن گیا ہے۔ منتظمین مشاعرے کو کامیاب بنانے کے لیے سنجیدہ شعراء کے بجائے’’داد لوٹنے والے‘‘شعرءکو ترجیح دیتے ہیں ۔بلکہ عصرِ حاضر کے مشاعروں میں متشاعروں اور چمک دمک لباس کے ساتھ غیر مہذبانہ رویوں سے لیس شاعر وشاعرات کی پوچھ بڑھتی جا رہی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ تجارتی ذہن کے افراد اس حقیقت سے نا آشنا ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں مشاعرے کی تہذیب یا اردو زبان وادب کی تاریخی روایت کی پاسداری سے کیا لینا دینا ہے۔
۲۔سامعین کے ذوق میں تبدیلی:۔عوامی ذوق بھی سطحی ہو گیا ہے۔ سنجیدہ فکر، رمزیت اور علامت کے بجائے فوری قہقہہ اور آسان بات کو پسند کیا جاتا ہے۔
۳۔اساتذہ کی کمی:۔ روایتی استاد شاگرد نظام کا خاتمہ ہو چکاہے، اصلاح کا سلسلہ تقریباً ماضی کا قصہ بن چکا ہے، جس کا نتیجہ فنی بے راہ روی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
۴۔میڈیا کا منفی کردار:۔سوشل میڈیا، واٹس ایپ اور ویڈیو کلپس نے مشاعرے کو مختصر، سطحی اور نمائشی بنا دیا ہے۔ شعر کو پورے سیاق کے بجائے محض ایک مصرع میں پیش کیا جا رہا ہے۔نئی نسل کا مشاعرہ سے رشتہ کمزور پڑ رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں ادبی محفلوں کی کمی اور زبان سے دوری نے اس روایت کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔اگر اردو مشاعرے کی تہذیب اور اردو ادب کی تاریخی شناخت کو بچانا ہے تو چند عملی اقدامات ضروری ہیں ۔تعلیمی اداروں میں سنجیدہ مشاعروں کا انعقادلازم ہے اور ایسے شعرا ءکو ترجیح دی جائے جو فطری شاعر ہیں اور آواز سے زیادہ ان کی شاعری میں دم ہے ۔فنی معیار پر سمجھوتہ نہ کیا جائے،نوجوان شعرا کی تربیت میڈیا میں ذمہ دارانہ پیش کش اورادب کو تفریح کے بجائے تہذیبی ورثہ سمجھا جائے۔اب مصنوعی ذہانت کے ڈاٹا بیس سے بھی الٹی سیدھی شاعری کو مشاعرے میں پڑھا جا رہاہے اور اس پر چیخ وپکار کے ساتھ تالیاں بجائی جا رہی ہیں ۔ افسوسناک صورتحال تو یہ ہے کہ مشاعرہ کے اسی اسٹیج پر چند جینون شاعر بھی موجود ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی خاموشی کو ہی اپنے مستقبل کیلئے مفید سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے زبان وبیان اور بحر واوزان کی پکڑ کی تو آئندہ انہیں اس اسٹیج پر جگہ نہیں مل سکتی۔راقم الحروف چشم دید شاہد ہے کہ کئی شعرا دیوناگری رسم الخط میں تحریر شدہ کلام پڑھتے ہیں ۔
مختصر یہ کہ اردو مشاعرہ ہماری ادبی تاریخ کا روشن باب اور تہذیبی شناخت کا اہم ستون ہے۔ دورِ حاضر میں یہ روایت زوال کا شکار ہے، مگر اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہیں کہ خلوصاور فکری شعور کے ساتھ اسے دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ مشاعرہ تب ہی زندہ رہے گا جب شعر میں سچائی، زبان میں شائستگی اور محفل میں تہذیب باقی رہے گی۔n