Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُردو ہم ہندوستانیوں کی ہے، ہم اُردو کے ہیں

Updated: May 08, 2026, 1:59 PM IST | shamim Tariq | mumbai

یہ بات کہتے سنتے ہوئے ہمیں اچھا لگتا ہے مگر ہم اسے آج تک دل سے قبول نہیں کرسکے ہیں اسی لئے اُردو ہمارے ملک میں زبوں حالی کا شکار ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر بیرونی ملکوں کے طلبہ اُردو میں ریسرچ کو ترجیح نہیں دیتے۔

INN
آئی این این
تعلیمی اداروں  کی انتظامیہ یا تدریسی عملہ کو کوئی برا کہتا ہےتو مجھے اچھا نہیں  معلوم ہوتا کیونکہ میں  فروغ ِ تعلیم کے لئے کام کرنے والوں  کی تکریم کا قائل ہوں  البتہ جن لوگو ں کو تعلیم و تدریس سے فطری مناسبت نہیں  ہے مگر وہ اسکول چلا رہے ہیں  یا تدریس میں  لگے ہوئے ہیں  ان سے کسی قسم کی مروت کا بھی قائل نہیں  ہوں ۔ یہ صحیح ہے کہ حکومت و انتظامیہ نے کئی اچھے قوانین بنائے اور نافذ کئے ہیں  اس کے باوجود یہ بھی صحیح ہے کہ دن بہ دن تعلیم مہنگی اور معیار کے اعتبار سے کم تر ہوتی جارہی ہے۔ عام لوگوں  کو شکایت ہے کہ ابتدائی درجات کے لئے :  (۱) کارڈ کے بناء کتابیں  نہیں  ملتیں   (۲)  چھوٹے اسکول بھی فیس میں  مسلسل اضافہ کررہے ہیں  ، اور  (۳) ہر اسکول نے  اپنی دکانیں  فکس کررکھی ہیں  جہاں  سے طلبہ کو کتابیں  اور یونیفارم خریدنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
اور دوسری طرف تدریسی عملہ کو شکایت ہے کہ ان سے غیرتدریسی کام لئے جاتے ہیں ۔ وہ بچوں  کو پڑھائیں  کب ؟ یہ شکایت تو بہت عام ہے کہ تعلیمی ادارے ڈگری اور سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کے اڈے بنتے جارہے ہیں ۔ ایسے میں  یہ خبر بہت اہم ہے کہ پی ایچ ڈی کرنے کے لئے ممبئی یونیورسٹی میں  ۴۸؍ ملکوں  کے ۲۴۶؍ طلبہ نے درخواستیں  دی ہیں ۔ ان  میں  ایشیاء، افریقہ اور یورپ کے کئی ملکوں  کے طلبہ ہیں ۔ بعض لوگوں  کا خیال ہے کہ ۴۸؍ ملکوں  کے جن ۲۴۶؍ طلبہ نے درخواستیں  دی ہیں  وہ اس لئے نہیں  کہ ممبئی یونیورسٹی کوئی مثالی ادارہ ہے بلکہ اس لئے کہ یہاں  پی ایچ ڈی کی ڈگری پانا نسبتاً آسان ہے۔ جن ملکوں  کے طلبہ نے یہ درخواستیں  دی ہیں  ان میں  بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا جیسے پڑوسی ممالک تو ہیں  ہی ، مصر، حبشہ، نائیجیریا، ویتنام، کینیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک بھی ہیں  جو ہندوستان کے پڑوسی ملک تو بہرحال نہیں  ہیں ۔ جو مضامین طلبہ کو مطلوب ہیں  ان میں  اکاؤنٹس، مینجمنٹ اور  انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے۔ موسیقی بھی ان طلبہ کا محبوب مضمون ہے جو پی ایچ ڈی کرنا چاہتے ہیں ۔ اس میں  کوئی حیرت کی بات نہیں  کہ ہندوستان زمانۂ قدیم سے موسیقی کا گہوارہ رہا ہے، یہاں  مذہبی اور سماجی تقریبات میں  موسیقی کا استعمال مختلف صورتوں  میں  کیا جاتا رہا ہے۔ حیرت تو اس پر ہے کہ انگریزی زبان و ادب میں  پی ایچ ڈی کرنے کے لئے بھی ۱۲؍ درخواستیں  دی گئی ہیں  لیکن ایک طالب نے بھی اردو میں  پی ایچ ڈی کرنے میں  رغبت نہیں  دکھائی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ہندوستان میں  انگریزی بہت عام ہے۔ انگریزوں  نے کم و بیش ۲۰۰؍ سال ہندوستان پر راج کیا ہے۔ آزاد ہندوستان یا نئی تعلیمی پالیسی کا تصور بھی انگریزی کے بغیر مکمل نہیں  ہوتا اس کے باوجود اس حقیقت کو نظرانداز نہیں  کیا جاسکتا کہ انگریزی ہندوستان یا ہندوستانیوں  کی زبان نہیں  جبکہ اُردو ہندوستان میں  پیدا ہوئی اور یہاں  کے لوگوں  کی گھٹی میں  پلی ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ پنجاب میں  جب ہندی اور پنجابی کا جھگڑا شروع ہوا تو ہمارے پہلے وزیراعظم پنڈت نہرو نے کہا تھا کہ ’’پنجابی اور ہندی کی لڑائی اُردو میں  لڑی جارہی ہے۔ کتنی عجیب ہے یہ بات کہ پاکستان کو تو ہم اپنا کہتے ہیں  مگر جو اس نے زبان چرالی ہے اور جو حقیقت میں  ہندوستانی زبان ہے اور جس زبان کے ادب میں  ہندوستان، اس کی تہذیب اور ہندوستانیت کی جھلک سب سے زیادہ ہے اس کو اپنانے کے لئے تیار نہیں  ہیں ۔‘‘ آریوں  کے بارے میں  تو یہ بحث ہوسکتی ہے کہ وہ یہیں  کے تھے یا باہر سے آئے، مسلمانوں  کے بارے میں  بھی یہ بحث چھڑ سکتی ہے کہ کتنے ہندوستانی مسلمان یہیں  کے ہیں  اور کتنے باہر سے آنے والوں  کی اولاد ہیں  مگر جس زبان نے ’’سارے جہاں  سے اچھا ہندوستاں  ہمارا‘‘  کا نعرہ دیا اس کے بارے میں  کیسے کہا جاسکتا ہے کہ وہ ’’پڑوسی ملک‘‘ یا کسی اور ملک کی زبان ہے۔ گیان چند جین اور گوپی چند نارنگ نے تو کئی بار شواہد اور دلائل کے ساتھ بتایا بھی ہے کہ اردو میں  سب سے زیادہ الفاظ دیسی ہیں  اور پھر اس زبان کا ادب تو تمام کا تمام ہندوستانیت کی ترجمانی کرتا ہے۔ میرؔ تقی میر کا ایک شعر ہے کہ :
دلِ پُر خوں  کی اک گلابی سے = عمر بھر رہے ہم شرابی سے
یہاں  گلابی کا معنی سفید یا کالا جیسا رنگ نہیں ، شراب کی ایک شیشی ہے جو امراء استعمال کرتے تھے۔ میرؔ نے  بتایا ہے کہ شراب کا نشہ تو چند گھنٹوں  میں  اتر جاتا ہے مگر ہمدردی و غم گساری کی کیفیت کبھی نہیں  بدلتی۔ یہ تصور عالمی تصور ہونے کے ساتھ خالص ہندوستانی تہذیب کی دین ہے۔ اقبالؔ کی نظم  ’’ہمالہ‘‘ کا مصرع ہے:
چھیڑتی جا اس عراق دل نشیں  کے ساز کو
 
 
یہاں  عراق سے مراد عربی بولنے والے ملک سے نہیں ۔ یہ ایک خاص راگ ہے جو خاص وقت میں  گایا جاتا ہے۔ مثالیں  اور بھی ہیں  جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اردو ادب ہندوستانیت کی تصویر ہے۔ لال  قلعہ کے مکین جو پانی پیتے تھے اس کو آب ِ حیات کہتے تھے اور جو گنگا سے لایا جاتا تھا ۔ گنگا سے ملنے والا پانی تو گنگا جل ہوگامگر ہندوستان سے ان کی محبت انہیں  گنگاجل کو آب ِ حیات کہنے پر آمادہ کرتی تھی۔
اردو کو پاکستان نے اپنی قومی زبان ہونے کا اعلان کردیا اور ہم ہندوستانیوں  نے بھی الٹے سیدھے بیانات دیئے اور ہندوستانی زبان پاکستانی کہی جانے لگی۔ اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم ہوئے سرکاری اور غیرسرکاری اداروں  کی عدم کارکردگی یا ناقص کارکردگی نے بھی اردو کو نقصان پہنچایا ۔ اس کے باوجود یہ احساس ہم میں  باقی ہے کہ ’’اردو ہم ہندوستانیوں  کی ہے اور ہم اردو کے ہیں ‘‘ اسی لئے خلاباز راکیش شرما خلاء سے  آواز لگاتے  ہیں  کہ ’’سارے جہاں  سے اچھا ہندوستاں  ہمارا۔‘‘ لتا منگیشکر یہی ترانہ پارلیمنٹ میں  گاتی ہیں  اور بنارس ہندو یونیورسٹی کے وائس چانسلر شعبۂ اردو کے سربراہ پروفیسر آفتاب احمد آفاقی کے  بارے میں  کہتے ہیں  کہ شعبے کو کیسے چلایا جائے یہ آفاقی صاحب سے سیکھنا چاہئے، مگر اردو کے بیشتر اساتذہ اور چاہنے والوں  کا حال برا ہے۔ اب تو یہ کہنے والے بھی بہ مشکل ملتے ہیں  کہ اردو ہم ہندوستانیوں  کی اور ہم اردو کے ہیں ۔ اردو میں  ریسرچ کی طرف لوگ کیسے راغب ہوں  گے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK