• Mon, 12 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار کی اُردو تحریک اور شاہد محمود پوری

Updated: October 12, 2026, 4:31 PM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | Mumbai

شاہد محمود پوری نے اُردو کی ترویج و اشاعت کے کام کو اپنے دن رات کا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ بہار میں جب اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کی تحریک شروع ہوئی تو اس میں بھی وہ ایک سرخیل کی حیثیت سے ویشالی ضلع میں نمایاں رہے۔ نئی نسل کو ان کی خدمات کا جائزہ لینا چاہئے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

راقم الحروف نے گزشتہ ہفتے اپنے کالم میں بہار کی اُردو تحریک کے فعال و متحرک رکن شاہد محمود پوری مرحوم کی تعلیمی اور بالخصوص اُردو زبان کے آئینی حقوق کے تحفظ کیلئے عملی طور پر سرگرم رہنے پر روشنی ڈالی تھی۔ لیکن طوالت کے خوف سے اس کی تفصیل پیش نہیں کی تھی۔ جبکہ ان کی خدمات کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اُردو زبان کی ترقی، تعلیم اور اس کے سرکاری حقوق کیلئے جس جنون کے ساتھ عمر بھر فعال رہے اس پر بھی روشنی ڈالی جائے تاکہ ان کی خدمات کا اعتراف ہوسکے اور اُردو کیلئے عملی طور پر کام کرنے والوں کیلئے مشعلِ راہ ثابت ہوسکے۔ واضح ہو کہ شاہد محمود پوری عملی جد و جہد کے پیکر تھے، انہوں نے تقریباً پچاس برسوں تک اُردو زبان کی ترقی کیلئے خود کو وقف کر رکھا۔

ریاست بہار میں پہلی بار ۱۹۶۷ء کے اسمبلی انتخاب میں پروفیسر عبدالمغنی اور غلام سرور کی قیادت میں یہ نعرہ دیا گیا تھا کہ جو سیاسی جماعت اُردو کیلئے کام نہیں کرتی ہے اس کے خلاف اُردو آبادی ووٹ کرے۔ یہ پہلا موقع تھا جب ریاستی سطح پر اُردو زبان کے تحفظ کیلئے ایک نئی صف بندی کا آغاز ہوا۔ واضح ہو کہ اس وقت کے غیر منقسم بہاراور موجودہ جھارکھنڈ میں اُردو کی تحریک زمینی سطح پر اتری۔ بہار کے ترہت کمشنری میں پروفیسر قمر اعظم ہاشمی اور شاہد محمود پوری جیسے اُردو کے دیوانوں نے اس تحریک کو جلا بخشی۔ اس کے بعد شاہد محمود پوری نے اُردو کی ترویج و اشاعت کے کام کو اپنے دن رات کا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ بہار میں جب اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کی تحریک شروع ہوئی تو اس میں بھی وہ ایک سرخیل کی حیثیت سے ویشالی ضلع میں نمایاں رہے۔ بہار کے اسکولوں میں اُردو اساتذہ کے پوسٹ کی منظوری کیلئے انجمن ترقی اُردو بہار نے جو تحریک شروع کی اس میں بھی وہ پیش پیش رہے۔ بالخصوص ویشالی ضلع کے تمام پرائمری تا ثانوی اسکولوں میں اُردو اساتذہ کی پوسٹنگ کی لازمیت کیلئے وہ مسلسل سرگرم رہے۔ جب حکومت بہار نے یہ شرط رکھی کہ جس اسکول میں اُردو پڑھنے والے کم سے کم دس طلبا و طالبات داخلہ لیں گے اسی اسکول میں  اردو اساتذہ کی تقری ہوگی تو  اُردو آبادی میں گھر گھر جا کر گردونواح کے پرائمری، مڈل اور ثانوی اسکولوں میں طلبا کے داخلے کی مہم میں شاہدمحمود پوری پیش پیش رہے اور ان کی کوششوں سے کئی ایسے اسکولوں میں جہاں اُردو کے استاد نہیں تھے، طلبا کے داخلے کے بعد اُردو اساتذہ کی پوسٹنگ ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے: ناول کے صفحات پہ اُبھری کس کی دُنیا، کون ہے یہ!

ان کی کتاب ’’ویشالی میں اُردو‘‘ کے مطالعے سے واضح ہو جاتا ہے کہ وہ کس قدر اپنی زبان اور تہذیب کی پاسداری کے لئے فکر مند تھے۔ انہوں نے ایسے طلبا جو اُردو رسم الخط میں اُردو زبان کے علاوہ دیگر موضوعات کی کتابیں پڑھنا چاہتے تھے اس کے لئے بہار ٹکسٹ بک کارپوریشن (پٹنہ) سے کتابوں کی اشاعت کے لئے جد وجہد کی۔ واضح ہو کہ بہار ٹکسٹ بک کارپوریشن اول تا ثانوی درجے کی کتابیں شائع کرتی تھی۔ اب وہ کارپوریشن بھی دم توڑ چکی ہے لیکن جب تک وہاں سے کتابیں شائع ہوتی رہیں شاہد محمود پوری مرحوم ٹکسٹ بک کے افسران کے سر پر سوار رہتے تھے کہ وہ ان کتابوں کو اسکولوں تک بھیجیں کیونکہ کارپوریشن کتاب تو شائع کرتی تھی لیکن وقت پر طلبا کو بھیجتی نہیں تھی۔ شاہد محمود پوری مرحوم اور ان کے رفقا کی بدولت نہ صرف ویشالی بلکہ پوری ریاست میں تحریک شروع ہوئی کہ کتابیں شائع ہوتے ہی اسکولوں کو دستیاب کرائی جائیں تاکہ بروقت طلبا اس سے استفادہ کرسکیں۔

ریاست بہار میں ۱۹۸۰ء میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ تو ملا لیکن سرکاری دفاتر میں اس کے استعمال پر سرد مہری تھی۔ اس کے لئے عبدالمغنی اور پروفیسر غلام سرور جیسے رہنماؤں کی قیادت میں یہ تحریک شروع ہوئی کہ سرکاری دفاتر میں اُردو رسم الخط میں افسران کے نام کی تختیاں آویزاں کی جائیں۔ اس تحریک میں شاہد محمود پوری مرحوم کا کردار مثالی رہا۔ انہوں نے ویشالی ضلع کے تمام محکموں میں اُردو رسم الخط کے چلن کو عام کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ حکومت بہار کے ذریعہ جب بلاک دفتر سے لے کر کمشنری تک اُردو مترجم و نائب مترجم کی تقرری ہوئی تو پھر ایک نئی تحریک شروع ہوئی کہ اُردو والے سرکاری امور کیلئے دی جانے والی درخواستیں اُردو میں دیں۔ اس تحریک کو کامیاب بنانے میں جن شخصیات نے اپنی دیوانگی دکھائی اس میں مرحوم شامل تھے۔ وہ ایک اسکول میں استاد تھے، اپنے فرائض کی انجام دہی کے بعد صرف اور صرف اُردو زبان کے تحفظ کے لئے فعال و متحرک رہے۔ یہ جنون  سبکدوشی کے بعد بھی قائم رہا  بلکہ اب  وہ کل وقتی رضا کار بن گئے تھے۔ ویشالی ضلع کے اسکولوں، کالجوں اور دفاتر میں اُردو رسم الخط کے فروغ کیلئے ان کی جو خدمات ہیں وہ بہار میں اُردو تحریک کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر، احتجاج اور پریشانیاں

مختصر یہ کہ شاہد محمود پوری مرحوم نے اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے عملی طور پر جو کارنامے انجام دئیے ہیں وہ نہ صرف ان کی لسانی محبت کا ثبوت ہیں بلکہ یہ سبق بھی ہے کہ اگر ایک شخص صدق دل سے اپنی زبان کی ترقی اور اس کی تعلیم کو یقینی بنانے کیلئے سرگرم رہے تو اسے کامیابی ضرور ملتی ہے اور اس کی زندہ مثال شاہد محمود پوری ہیں کہ انہوں نے ویشالی کے حلقے میں اُردو زبان کی تعلیم کو عام کرنے کے ساتھ ساتھ اُردو کے آئینی سرکاری حقوق کی بازیابی کیلئے بھی تاریخی کارنامے انجام دئیے اور تمام عمر شہرت و صلے کی پروا کئے بغیر اپنی عملی زندگی کا بیشتر وقت اپنی زبان کیلئے وقف کیا۔

افسوس کہ اب وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کے کارنامے ہمیشہ یاد رکھے جائینگے۔ آج عالم یہ ہے کہ  بہار میں اُردو زبان کی تعلیم کے راستے میں نئے نئے مسائل کھڑے ہو رہے ہیں۔ ایسے وقت میں اُردو کیلئے عملی طور پر فعال نئی نسل کو شاہد محمود پوری کی خدمات کا جائزہ لینا چاہئے اور اپنے لئے آگے کا راستہ ہموار کرنا چاہئے۔ واضح ہو کہ حال ہی میں جب بہار کے ۲۱۱؍ نئے ڈگری کالجوں میں اُردو زبان کی پوسٹنگ منظور نہیں کی گئی تو اس کے لئے بھی شاہد محمود پوری ریاست میں دوسری سرکاری زبان ہونے کے دستاویز کے ساتھ ساتھ آئینی حقوق کی روشنی میں ٹھوس اقدام اٹھانے کی حکمت عملی طے کر رہے تھے۔ انہوں نے کبھی بھی اپنے کاموں کی تشہیر نہیں کی۔ وہ  خاموشی سے قانونی چارہ جوئی کے سہارے اُردو کی بقا کی جنگ لڑتے رہے۔ اس میں وہ کامیاب بھی رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK