• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس آئی آر، احتجاج اور پریشانیاں

Updated: October 09, 2026, 3:07 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

یہ عمل (ایس آئی آر) کتنا قانونی ہے اور کتنا غیر قانونی اس کا فیصلہ ہوتا رہے گا۔ اِس سے پہلے یہ فیصلہ ضروری ہے کہ عوام کی پریشانی کیسے کم ہو۔ الیکشن کمیشن اعلان کچھ کرتا ہے، یہاں ہوتا کچھ ہے۔ خود الیکشن کمیشن بھی اپنے فیصلوں میں ترمیم کرتا رہتا ہے۔ یہ صورت ِ حال عوام کی آزمائش بن گئی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ دیں یا نہ دیں اسی طرح ان کی گرفتاری عمل میں آئے یا نہ آئے مگر ان کے نام کو بٹہ تو لگ گیا ہے۔ وہ نیک نامی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسی کوشش میں انہوں نے ۲۶؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو اعلان کیا کہ جن کے نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کئے گئے ہیں وہ ای آر او کے پاس درخواست دے سکتے ہیں۔ اب نوٹس پانے والوں کو سینٹرز پر جا کر دھکے کھانے کی بھی ضرورت نہیں، بی ایل اوز نوٹس پانے والوں کے پاس خود آئیں گے۔ ای سی آئی این ای ٹی پر تفصیلات اَپ لوڈ کرنا بھی انہیں کا کام ہے۔ اس سے تین چار دن پہلے انہوں نے کچھ اور بیان دیا تھا اس لئے جب انہوں نے ۲۶؍ ستمبر کی پریس کانفرنس میں کچھ باتیں کہیں اور اقدامات کئے تو کافی لوگوں نے کہا کہ اصل میں انہوں نے ’اقبال جرم‘ کیا ہے۔ راقم الحروف کسی کے حق میں ہے نہ مخالفت میں، اس کا کہنا صرف یہ ہے کہ ایس آئی آر سے شروع ہونے والی بحث اب اس مرحلے میں پہنچ چکی ہے کہ ووٹر لسٹ ہی مشکوک نہیں ہوئی ہے بلکہ الیکشن کمیشن کا وقار بھی داؤ پر لگ چکا ہے اور یہ سب انڈین ایکسپریس میں ایک تحقیقی رپورٹ چھپنے کے بعد ہوا ہے۔ دوسرے یہ کہ جمہوریت میں الیکشن ہوتے رہتے ہیں، لیڈر، پارٹیاں، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں ادلا بدلی ہوتی رہتی ہے مگر الیکشن کمیشن نہ صرف برقرار رہتا ہے بلکہ اپنا کام آزادانہ طور پر کرتا بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:آج بھی گرم ہے بازار جفا کاروں کا

کسی جمہوری ادارے کے سربراہوں میں اختلاف ہونا اس کے کمزور ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ اختلاف نہ ہونا البتہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر عہدیدار کو آزادانہ طور پر کام کرنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن کے دو ذمہ داروں نے کسی مسئلہ میں اختلاف کیا تو عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے اعتراضات پر کیا کارروائی ہوئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ الیکشن کمیشن کا کام صرف انتخاب کرانا نہیں بلکہ جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنا بھی ہے۔ ایس آئی آر کا تعلق عوام کے سیاسی حق سے ہے اس لئے الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ خود پر لگائے جا رہے ہر الزام کا جواب ڈیٹا اور دستاویزات کی صورت میں دے۔ آج جو تنازعات ہیں انہیں ان اسمبلی انتخابات سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا جو ۲۰۲۷ء میں ہونے والے ہیں۔ یوپی، اتراکھنڈ، پنجاب کے انتخابات میں زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔ حزب اختلاف کی پارٹیاں اس کو انتخابی انصاف پسندی سے جوڑ رہی ہیں جبکہ حزب اقتدار کی پارٹیاں اس کو حزب اختلاف کی شکست کے احساس کا نمونہ قرار دے رہی ہیں۔ اگر ووٹ دینے والے کے دل میں شکوک و شبہات ہیں تو کیا اس کے ووٹ کو محفوظ قرار دیا جاسکتا ہے؟ جیتنے والے کا انتخابی عمل پر جتنا اعتماد ہو ہارنے والے کا بھی اتنا ہی اعتماد ہو اس کے لئے الیکشن کمیشن نے کیا اقدامات کئے ہیں؟ اگر ایس آئی آر میں کسی بھی وجہ سے ایک ووٹ بھی کاٹا جاتا ہے تو اس کو صحیح نہیں کہا جاسکتا۔ ووٹر کو اپنے اس بنیادی سیاسی حق کے لئے پریشان نہ ہونا پڑے یہ طے کرنا بھی یا اس کی ضمانت دینا بھی الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

یہ بھی پڑھئے: طلبہ کے مسائل اور طلبہ کی تحریکیں

تسلیم کہ الیکشن کمیشن نے ریاستی سطح پر کافی آسانیاں فراہم کی ہیں مثلاً مہاراشٹر میں وہ ڈیڑھ کروڑ ووٹر جنہوں نے جائے قیام بدل دیا ہے یا جن کے نام ووٹر لسٹ میں نہیں ہیں ان کے وہاٹس ایپ پر دستاویزات بھیجنے کی بات کہی گئی ہے مگر اب بھی دشواریاں بہت ہیں۔ بی ایل او کہاں ہیں اور کتنے بجے سے کتنے بجے تک بیٹھیں گے؟ اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ بی ایل اوز نے ووٹرس سے رابطہ بھی نہیں کیا ہے۔ آن لائن تصدیق کا مرحلہ اس لئے مشکل ہے کہ بشمول راقم الحروف کافی لوگوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی صلاحیت نہیں ہے۔ بے شک فرضی ووٹرز کے نام کاٹے جانے چاہئیں مگر جنہوں نے گھر بدلا ہے نہ جن کی موت ہوئی ہے انہیں ووٹر لسٹ سے کیوں باہر رکھا گیا ہے؟ یہ خبر اچھی ہے کہ جب تصدیق (ویری فکیشن) کی ضرورت ہوگی تبھی بی ایل او ووٹر کے پاس جائے گا۔ ہمیں یہ مان لینا چاہئے کہ جب بی ایل او ہمارے دروازے پر نہیں آیا ہے تو سب کچھ ٹھیک ہے۔ مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جن کے نام پرانی ووٹر لسٹ میں تھے ان سے یہ توقع کیوں کی جا رہی ہے کہ وہ نئے سرے سے ووٹر بننے کے لئے فارم پُر کریں گے؟

سوالات بھی بہت ہیں اور پریشانیاں بھی بہت، اور ان پریشانیوں میں اضافہ کر رہے ہیں وہ لوگ جو ہٹو بچو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر پولیس کا اختیار دے دیا جائے تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ ہٹو بچو کرنے والوں کو بلایا کس نے ہے؟ بی ایل اوز اور دیگر افسران سے ان کا تعلق کیا ہے۔ مزاحمت، مظاہرے اور عدالتوں میں دائر کئے گئے مقدمات سے عوام کو جو فائدہ پہنچنا چاہئے تھا وہ نہیں پہنچا ہے تو اس کی بڑی وجہ یہی لوگ ہیں ۔ بی ایل اوز یہ کیوں کہتے ہیں کہ آپ کا فارم فلاں شخص کو دیدیا گیا ہے یا اطلاع فلاں شخص کے ذریعہ عام کی جائے گی۔ یہ فلاح شخص ہے کون؟

یہ بھی پڑھئے:وقت کروٹ بدل رہا ہے اور یہ خوش آئند ہے!

نوی ممبئی سے ایک خبر آئی تھی کہ ایک سیاسی جماعت کے کارکن کے یہاں سے ایس آئی آر فارم ضبط کئے گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو پریشانیاں ہم جھیلتے رہے ہیں ان میں ان کا بھی ہاتھ ہے جو پریشانیاں کم کرنے کے مقصد سے خود کو ملوث کرنے کے مدعی ہیں۔ ہم کسی بھی افسر کی پریشانی بڑھانے کے حق میں نہیں ہیں مگر افسروں اور بی ایل اوز کو بھی تو دیکھنا چاہئے کہ عوام کی پریشانیاں کیسے کم ہوں؟ اچھا افسر وہی ہے جس کو اپنی نہیں عوام کی فکر ہو اور جو مسائل ہی نہیں مسائل کا حل بھی بتائے۔ ایسے افسروں کی ہی وجہ سے ممبئی ہائی کورٹ کی گوا بینچ نے الیکشن کمیشن کی سرزنش کی اور کہا ہے کہ ’’سافٹ ویئر پر نہیں، قانون پر عمل کریں۔‘‘ معاملہ یہ تھا کہ ایک اسمبلی حلقے کے ایک ہی خاندان کے ۶؍ افراد کے نام ایس آئی آر کے دوران حذف کر دیئے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن تک اس کی اطلاع پہنچ چکی ہوگی کیا فیصلے کو دوہرانا یا دوبارہ نقل کرنا ضروری ہے۔

فرضی ووٹر ہونا اور کوئی تکنیکی غلطی کرنا یا بروقت دستاویزات نہ پیش کرسکنا الگ الگ باتیں ہیں۔ افسروں اور بی ایل اوز نے اگر اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھا تو وہ عوام کی پریشانیوں میں بھی اضافہ کریں گے اور اپنی پریشانیوں میں بھی کیونکہ عوام خاموش تو بیٹھیں گے نہیں۔ یہاں یہ یاد دلانا شاید بے موقع نہ ہو کہ ایمرجنسی کے بعد جو الیکشن ہوا تھا اس میں اندرا گاندھی کی پارٹی کا جنوب کی ریاستوں میں وہ حال نہیں ہوا تھا جو شمال کی ریاستوں میں ہوا تھا اور ایسا اس لئے ہوا تھا کہ جنوب کے افسروں نے وہ مظالم نہیں ڈھائے تھے جو شمال کے افسروں نے ڈھائے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK