• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناول کے صفحات پہ اُبھری کس کی دُنیا، کون ہے یہ!

Updated: October 10, 2026, 5:12 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

آپ نے آر کے نارائن کا نام سنا ہوگا۔ انگریزی میں کئی ناولوں اور افسانوی مجموعوں کے خالق تھے۔ خود نوشت سوانح بھی لکھی۔ اپنے چھوٹے بھائی آر کے لکشمن کی طرح وہ بھی عام آدمی کی کہانی لکھتے تھے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

آج ۱۰؍ اکتوبر ہے جو مشہور انگریزی افسانہ و ناول نگار آر کے نارائن  کا یوم ولادت ہے۔ اتفاق سے اسی مہینے میں اُن کے چھوٹے بھائی اور مشہور کارٹونسٹ آر کے لکشمن کا بھی یوم ولادت (۲۴؍ اکتوبر) ہے۔ دونوں بھائیوں کی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے عام آدمی کو اپنے فن کے مرکز میں رکھا۔ آر کے لکشمن کا ’’کامن مین‘‘ بہت مشہور ہوا۔ آر کے نارائن بھی اپنے افسانوں اور ناولوں کے کرداروں کے طور پر عام آدمی ہی کا انتخاب کرتے تھے۔ عجیب بات ہے کہ فنکاروں کی دلچسپی ہمیشہ عام آدمی میں رہی مگر خود عام آدمی میں اپنے بارے میں دلچسپی کا فقدان رہا۔ وجہ یہ ہے کہ وہ عام نہیں رہنا چاہتا، خاص بننا چاہتا ہے۔ کچے مکان کو پسند نہیں کرتا، اُسے پکا بنانا چاہتا ہے۔ محدود وسائل پر گزارا نہیں کرنا چاہتا، وسیع تر وسائل کا آرزو مند رہتا ہے۔ قصبے میں نہیں رہنا چاہتا، شہروں کا رُخ کرنا چاہتا ہے کیونکہ اُس کے خیال میں شہروں میں ترقی ہے، پیسہ ہے، خوشحالی ہے اور وہ سب کچھ ہے جس کے ذریعہ کامیاب زندگی گزاری جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر، احتجاج اور پریشانیاں

یہ الگ بات ہے کہ جب وہ شہر کو قریب سے دیکھتا ہے تب اُس پر کھلتا ہے کہ عام آدمی تو یہاں بھی ہے۔ کچے مکانات تو یہاں بھی ہیں۔ اچھی ملازمت کی تلاش تو یہاں بھی ہے اور بہتر تنخواہ نیز وسیع تر وسائل کی آرزومندی تو یہاں بھی پائی جاتی ہے۔ اس کے باوجود وہ شہر چھوڑ کر نہیں جاتا۔ اُس کا قصبہ اُسے یاد کرتا رہتا ہے۔ کبھی بھول بھی  جاتا ہے مگر وہ بھولنے نہ پائے اس لئے عام آدمی گاہے بہ گاہے  وہاں پہنچ جاتا ہے تاکہ اپنا دیدار کروا دے۔ قصبہ اُسے دیکھ کر کیا محسوس کرتا ہے یہ جاننا اُس کیلئے ضروری نہیں ہوتا ہے البتہ اپنے قصبے کو یہ بتانا اُس کی ترجیحات میں شامل رہتا ہے کہ اب اُس کی آمدنی بڑھ گئی ہے، وہ وَن روم کی کھولی سے نکل کر ون روم کچن کے فلیٹ میں آگیا ہے، اُس کے بچے انگریزی میڈیم کے اسکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور آٹو رکشا سے آتے جاتے ہیں، وہ ’نیم برانڈیڈ شرٹ‘ پہننے لگا ہے اور فوراً نہ سہی تاخیر ہی سے سہی فریج اور اے سی جیسا سامانِ تعیش خریدنے کے قابل ہوگیا ہے جو اُس کے خیال میں بہت ضروری ہے۔ خود کو ترقی یافتہ باور کرانے کا مقصد اپنے قصبے کو یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ اُس کا ہجرت کرنا نقصان کا سودا نہیں تھا مگر جب وہ اپنے قصبے کو یہ احساس دلا رہا ہوتا ہے تب خود اس احساس کے تلے دبا رہتا ہے کہ شہری زندگی کی چمک دمک کے آگے اب بھی اُس کی حیثیت بجھی بجھی سی اور پھیکی پھیکی سی ہے۔ 

عام آدمی ہی کی صف سے الگ الگ کردار منتخب کرنے کیلئے آر کے نارائن نے ایک ایسا قصبہ خلق کیا تھا جو محض کاغذ پر یعنی اُس کے افسانوں اور ناولوں ہی میں تھا، حقیقی زندگی میں یا ہندوستان کے نقشے پر نہیں تھا۔ اس کے باوجود نارائن کے ادب میں اس قصبے کے بار بار ذکر سے ایسا لگتا ہے جیسے یہ کوئی حقیقی قصبہ رہا ہوگا۔ اس کا نام تھا مالگوڈی۔ مفروضہ سرجو ندی کے کنارے، پہاڑوں سے گھرا ہوا یہ مفروضہ قصبہ روایتی قصبے کے خول سے نکل کرجدید طر زندگی اپنانے کیلئے کوشاں ہے۔ فی الحال اس کی حیثیت روایتی ہے مگر محسوس ہوتا ہے کہ وہ پر پُرزے پھیلا رہا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ نارائن کے ناولوں میں یہ قصبہ بتدریج بدلتا ہے۔ اُن کے اولین ناول ’’سوامی اینڈ فرینڈس‘‘ میں یہ ایک روایتی قصبہ ہے مگر بعد کے ناولوں میں جدت کو اپنانے والے قصبے کے طور پر اپنا تعارف کراتا ہے۔ نارائن کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اس قصبے کی سادگی اور گہرائی کا جشن مناتے ہوئے اپنے تخلیقی سفر میں آگے بڑھتے ہیں۔ انگریزی ادب کے جانکار بتاتے ہیں کہ ایک قصبہ کو اپنے فن میں اُبھارنے کا خیال ولیم فاکنر اور تھامس ہارڈی جیسے ناول نگاروں سے مستعار ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا ہے تب بھی نارائن کی اس خوبی کو کم اہم نہیں سمجھا جاسکتا کہ ایک مفروضہ اور خیالی قصبے کو اُن کے قاری حقیقی قصبہ سمجھنے لگیں۔ اس قصبے کی زیادہ شہرت تب ہوئی جب اس پر ’’مالگوڈی ڈیز‘‘ کے نام سے ٹی وی سیریل بنایا گیا اور ۱۹۸۶ء ۱۹۸۷ء اور ۱۹۸۸ء میں دکھایا گیا۔ تینوں سال اس کے۱۳۔۱۳؍ ایپی سوڈ پیش کئے گئے تھے جبکہ ۲۰۰۶ء میں اسے دوبارہ جاری کیا گیا تب ۱۵؍ ایپی سوڈ منظر عام پر آئے تھے۔ اُس دور کے ٹی وی ناظرین مالگوڈی کے نام سے تو واقف ہیں مگر ممکن ہے اُس وقت انہوں نے مالگوڈی کو اتنی گہرائی سے محسوس نہ کیا ہو۔ نارائن کی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے ایک خیالی قصبے کو محض قصبہ نہیں رہنے دیا جس کی پہچان تنگ گلیوں اور سو‘نے سو‘نے راستوں، جا بجا دکانوں اور  روایتی مکانات سے تھی۔ اُنہوں نے اس قصبے میں زندگی دوڑا دی۔ 

یہ بھی پڑھئے: آج بھی گرم ہے بازار جفا کاروں کا

ایسے افسانہ نگار اور ناول نگار، تقریباً ہر زبان میں ملیں گے جنہوں نے قصباتی زندگی کو یا تو پس منظر میں پیش کیا یا موضوع بنایا مگر نارائن کی بات الگ تھی۔ کیا اس کی وجہ یہ رہی ہوگی کہ اُنہیں اپنے قصبے سے شدید محبت تھی؟ اس کا جواب دینا مشکل ہے۔ اگر انہیں گاؤں یا قصبہ سے پیار تھا یا وہاں کی زندگی عزیزتھی تب بھی ایسا کیوں ہوا کہ ہر جگہ مالگوڈی ہی آیا کوئی دوسرا گاؤں یا قصبہ نہیں آیا؟ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے جنوبی ہند کی قصباتی زندگی کیلئے مالگوڈی کو کافی سمجھا، اسی کو ہر گاؤں اور قصبہ کا استعارہ بنا دیا، اس کے کرداروں پر محنت کی اور اتنی چابکدستی کے ساتھ اُنہیں پیش کیا کہ مثال کے طور پر ’’سوامی اینڈ فرینڈس‘‘ کا سوامی جیتا جاگتا انسان  محسوس ہوتا ہے، یا بینک کا وہ کارکن جو گاؤں کے لوگوں کے بینک کے کام کرتا تھا اور جسے نارائن نے ’’دی فنانشیل ایکسپرٹ‘‘ میں ’’مرگیا‘‘ کا نام دیا، ایسا لگتا ہے کہ کبھی اس قصبہ سے قاری کا گزر ہوا تو وہ ’’مرگیا‘‘ کو درخت کے نیچے  بیٹھا ہوا پائے گا۔ انگریزی کو بطور مادری زبان نہ بولنے والے افراد جب اپنی مادری زبان کو چھوڑ انگریزی میں لکھتے ہیں تو بعض اوقات جملوں کے الفاظ بدل کر مفہوم بیان کرنے کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے کبھی کبھار اصل خیال یا مفہوم کی گہرائی اور اثر کم ہو جاتا ہے۔ لیکن نارائن اپنی غیر معمولی صلاحیت کے بل بوتے پر اس خیال کو انگریزی میں ایسے فطری انداز میں پیش کرتے ہیں کہ اس کے اصل مفہوم پر آنچ نہیں آتی۔ اس عمل کا مشاہدہ کرنا انتہائی خوشگوار تجربہ ہے۔ وہ کبھی کوئی پیغام دینے یا فلسفہ بیان کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اُن کے ادب میں کیا پیغام ہے اور کون سا فلسفہ سانس لے رہا ہے اس کا فیصلہ قاری کو کرنا ہوتا ہے البتہ اس کوشش میں وہ نہ تو اپنے قاری کا ہاتھ چھوڑتے ہیں نہ ہی عام آدمی کو فراموش کرتے ہیں۔اسی لئے ’’آر کے‘‘ زندہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK