Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہم طے نہیں کرپارہے ہیں کہ ہماری فارین پالیسی کیسی ہو!

Updated: May 24, 2026, 1:58 PM IST | Aakar Patel | mumbai

اسی لئے جب غیرملک میں کوئی خاتون صحافی سوال کر بیٹھتی ہے تو ہم پریشان ہوجاتے ہیں، ہماری وزارت خارجہ بوکھلا جاتی ہے اور ہمارا ترجمان طویل جواب میں پناہ تلاش کرنے لگتا ہے

INN
آئی این این
اس پس منظر میں ، ایک غیر ملکی خاتون رپورٹر کے چند الفاظ پر ہماری طاقتور وزارت خارجہ کو دھیان ہی نہیں  دینا چاہئے تھا اور ہندوستان کی عظمت پر لیکچر دینے کی ضرورت پیش نہیں  آنی چاہئے تھی۔آزادی کے بارے میں  پوچھے گئے سوال کے جواب میں  ہمیں  اپنی وراثت، کلچر اور قدیم روایات کا حوالہ دینے کی بھی ضرورت نہیں  تھی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے اُس رپورٹر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ہندوستان کی آئینی اقدار اور بنیادی حقوق کا بھی حوالہ دیا اور یہ بھی بتایا گیا کہ ہماری سپریم کورٹ کا طرز فکر و عمل کیا ہے۔ اس رپورٹر نے ابتداء میں  جو کہا تھا اُس کے بعد ایک سوال کیا جو اس قابل نہیں  تھا کہ ہندوستانیوں  کی اکثریت اس کے بارے میں  سوچ بھی پائے۔ اس کا سوال تھا کہ آخر کیوں  ہندوستانی شہریوں  کو اپنے بنیادی حقوق کیلئے سپریم کورٹ کادروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔اس سوال کا کوئی بھی معقول جواب دیا جاسکتا تھا مگر ہماری وزارت خارجہ کے ترجمان نے عجیب بات کہی۔ وہ یہ کہ پریس کانفرنس انہوں  نے منعقد کی ہے اس لئے اُسے اپنی زبان بند رکھنی چاہئے۔
یہ معاملہ غیر ملکی سرزمین پر ہوا مگر ہماری سرزمین پر ہمارا میڈیا طیش میں  آگیا۔ تب بھی اس نے اپنی ہی برادری کی ایک خاتون (رپورٹر) کی بات کو آگے نہیں  بڑھایا۔ اس نے حکومت کا دامن تھاما اور رپورٹر کو ہدف بنایا کہ اس نے کیوں  سوال کرنے کی جرأت کی ۔ اس پورے تنازع میں  جس نکتے پر غور کیا جانا چاہئے تھا وہ کسی کے پیش نظر نہیں  رہا۔اسی لئے آئیے اس سے بحث کریں :
اگر ہم اپنی اقدار پر قائم ہیں ، ہمیں  اپنا طرز عمل بالکل ٹھیک لگتا ہے اور ہم سچائی کے تقاضوں  کو پورا کررہے ہیں  تو ان موضوعات پر کئے گئے سوالوں  پر ہمیں  غصہ کیوں  آتا ہے اور ہم اتنی جلدی پریشان کیوں  ہوجاتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم حقائق کے معاملے میں  کمزور رہنے لگے ہیں ۔ اس کے بعد، اس سوال پر بھی غور کیا جانا چاہئے کہ کیا حقائق کے معاملے میں  کمزور ہونے کے سبب خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں ؟ اور کیا ہم اس لئے خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں کہ جن باتوں  کو ہم حقائق کا درجہ دیتے ہیں  وہ حقائق نہیں  ہیں ؟ یعنی ہم جو دعویٰ کرتے ہیں  وہ مبنی پر حقیقت نہیں  ہوتا؟
اگر فرض کرلیں  کہ ہندوستان اور اس کی حکومت سچائی پر ہونے، جمہوری ملک ہونے اور شہریوں  کو آزادی اور حقوق حاصل ہونے کے باوجود خود کو عدم محفوظ سمجھتے ہیں تو اس کا یہی حل ہوسکتا ہے کہ ہم غیر ملکی صحافیوں  اور رپورٹروں  سے ہم کہہ دیں  کہ وہ ہم سے سنبھل کر اور ہماری جذباتیت کا خیال رکھتے ہوئے سوال کیا کریں ۔ یہی نہیں  ہمیں  شاباشی دیا کریں ، ہم اچھے لڑکے یا لڑکیاں  ہیں ، ہمیں  لالی پاپ دیا کریں ۔ اگر یہ نہیں  ہوا اور ہم سے سخت سوالات کئے گئے تو ہم چڑچڑے پن کا مظاہرہ کریں  گے اس لئے بہتر ہے کہ ایسی نوبت نہ آئے۔ سچ پوچھئے تو بیرونی ملکوں  نے ہمارے ساتھ کچھ ایسا ہی طرز عمل اختیار کربھی لیا ہے۔ اگر وہ ہم سے کچھ چاہتے ہیں  تو ہمیں  لالی پاپ دیتے ہیں ، آپ چاہیں  تو لالی پاپ کو میڈل پڑھ سکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی وہ ہمیں  جگہ عنایت کرتے ہیں  جہاں  سے ہم مدعو سامعین کو خطاب کرسکیں ، اس کے بعد وہ جو کچھ بھی چاہتے ہیں  ہم سے لے لیتے ہیں ۔یا د کیجئے کہ جب دُنیا نے اسرائیل سے کہا کہ وہ خطہ میں  غلط رویہ اختیار کررہا ہے اور اس کی احمقانہ جنگ سے پوری دُنیا متاثر ہورہی ہے تو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کیا کیا؟ انہوں  نے اپنے دفاع میں  ’’مادرِ جمہوریت‘‘ کی پناہ گاہ ڈھونڈ لی۔ اس طرح اس نے میڈل کی قیمت وصول کرلی۔
اب دوسرے متبادل پر آئیے کہ ہم اس لئے خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں  کہ ہمارا دعویٰ مبنی بر حقیقت نہیں  ہوتا۔ یعنی ہم دعویٰ تو جمہوری اور حقوق کی پاسداری کرنے والے ملک کا کرتے ہیں  مگر جب کوئی اس جانب ہماری توجہ مبذول کراتا ہے تو ہمیں  غصہ آجاتا ہے۔ اگر یہ متبادل صحیح ہے تو اس کا بھی حل ہے۔ انہیں  سمجھانا چاہئے کہ یہ اُن کا معاملہ نہیں  بلکہ ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے اور اُنہیں  اپنا طرز عمل اس معاملے کی بنیاد پر طے نہیں  کرنا چاہئے۔
پچھلے بارہ سال سے ہندوستانی سفارتکار ’’نہرو کے خول‘‘ میں  سفارتکاری کررہے ہیں ۔ ہم بیرونی ملکوں  سے کہہ رہے ہیں  کہ ہم سیکولر ہیں ، کثیر جہتی ہیں  اور لبرل ہیں ۔ ہم کہہ رہے ہیں  کہ ہم حقوق انسانی اور شہری آزادی کی فکر کرتے ہیں ۔ یہ  درست نہیں  ہے۔ جب غیر ملکی میڈیا ہمیں  اپنے دعوؤں  پر پرکھتا ہے تو بھید کھل جاتا ہے۔  اسی لئے ہم نے ’’کھانے کے دانت الگ رکھ لئے اور دکھانے کے دانت الگ‘‘۔اسی لئے ہم وہاں  بلڈوزر، ہجومی تشدد، ضمانت کا نہ ملنا، ووٹروں  کا نام حذف ہونا وغیرہ کی بات نہیں  کرتے بلکہ نہرو کی زبان میں  سب کو ساتھ لے کر چلنے اور سب کی فکر کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ مشہور ہے کہ سفارتکار دیگر ملکوں  میں  جھوٹ بولنے کے لئے بھیجے جاتے ہیں ۔ اگر ایسا ہے تو ہمارا جھوٹ بولنے سے کیا فائدہ  جب بھید کھل جاتا ہو اور ہمیں  اس پر بہت غصہ آتا ہو! 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK