نریندر مودی سرکار میں نافذ ہونے والا یہ چھٹا آزاد تجارتی معاہدہ ہے، ۹۹؍ فیصد ہندوستانی برآمدات کو برٹش مارکٹ میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی۔
EPAPER
Updated: July 15, 2026, 11:45 AM IST | New Delhi
نریندر مودی سرکار میں نافذ ہونے والا یہ چھٹا آزاد تجارتی معاہدہ ہے، ۹۹؍ فیصد ہندوستانی برآمدات کو برٹش مارکٹ میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی۔
ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ جس پرکئی دور کی بات چیت کے بعد ۲۵؍ جولائی۲۰۲۵ء کو دستخط ہوئے تھے،بدھ (۱۵؍ جولائی ۲۶ء)سے نافذ العمل ہوگا۔یہ نریندر مودی حکومت کے دور میں نافذ ہونے والا چھٹا آزاد تجارتی معاہدہ( ایف ٹی اے) ہے۔ اس سے قبل ہندوستان ماریشس، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، یورپی فری ٹریڈ اسوسی ایشن اور عمان کے ساتھ ایسے معاہدے نافذ کر چکا ہے۔گزشتہ چند برسوں میں نئی دہلی کے لیے یہ سب سے اہم تجارتی معاہدوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس کے تحت بھارتی برآمدات کے تقریباً۹۹؍ فیصد حصے کو برطانیہ میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی۔
برطانویہ میں تیار ٹرکوں پر ڈیوٹی میں کمی
معاہدے کے پہلے۱۵؍ برسوں میں ہندوستان برطانیہ سے روایتی انجن والی۳ء۷۸؍ لاکھ مسافر گاڑیاں رعایتی کسٹم ڈیوٹی پر درآمد کرنے کی اجازت دے گا۔برطانیہ میں پوری طرح تیار ٹرکوں پر موجودہ۴۴؍ فیصد ڈیوٹی بھی معاہدہ کے نفاذ کے بعد پانچویں سال تک کم ہو کر۸ء۸ءفیصد رہ جائے گی۔ درآمدی کوٹہ پہلے سال۲؍ہزار ۵۰۰؍ ٹرککا ہوگا جو پانچویں سال سے بڑھ کر۳؍ہزار ۵۰۰؍ٹرک ہو جائے گا۔ کوٹے سے باہر درآمد ہونے والے ٹرکوں پر بھی ڈیوٹی مرحلہ وار کم ہو کر دسویں سال میں۲۲؍ فیصد رہ جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال: نوجوان کی خودسوزی کے بعد بالین شاہ حکومت کیخلاف مظاہرے، استعفیٰ کا مطالبہ
برطانیہ نے بھی ہندوستانی الیکٹرک، ہائبرڈ اور ہائیڈروجن گاڑیوں کو رعایت دی ہے۔ برطانیہ میں ان گاڑیوں پر عام طور پر۱۰؍ فیصد ڈیوٹی عائد ہوتی ہے، لیکن آزادانہ تجارتی معاہدہ کے تحت مقررہ سالانہ کوٹے کے اندر برآمد ہونے والی ہندوستانی گاڑیاں مکمل طور پر ڈیوٹی فری ہوں گی۔
برطانوی شرابوں پر بھی چھوٹ
اس معاہدے کے تحت برطانیہ کی اعلیٰ معیار کی شراب کی متعدد اقسام پر درآمدی ڈیوٹی کم کی جائے گی۔ان میں سائڈر، میڈ، ساکے، برانڈی، بوربن، رم، جین، ووڈکا، لیکر اور ٹکیلا شامل ہیں۔ اس زمرہ میں معاہدہ کے تحت آنے والی مصنوعات پر موجودہ۱۵۰؍ فیصد ڈیوٹی پہلے سال میں کم ہو کر ۱۱۰؍ فیصد اور دسویں سال تک۷۵؍ فیصد رہ جائے گی۔ یہ رعایت صرف کم از کم درآمدی قیمت(ایم آئی پی) کی شرط پوری کرنے والی مصنوعات پر لاگو ہوگی، جو عموماً ۵؍ ڈالر فی لیٹر یا بعض مصنوعات کیلئے ۷۵۰؍ ملی لیٹر کی بوتل پر ۶؍ڈالر مقرر کی گئی ہے۔اسکاچ وہسکی پر ہندوستان کی درآمدی ڈیوٹی۱۵۰؍ فیصد سے کم ہو کر ابتدا میں۷۵؍ فیصد اور دسویں سال تک۴۰؍ فیصد رہ جائے گی۔
وہ اشیاء جن پر رعایت نہیں ملے گی
ہندوستان تازہ سیب، اخروٹ، چھاچھ اور موڈیفائیڈ چھاچھ، بلیو - وینڈ چیز، چند بعض اناج، سونے کی سلاخوں اور اسمارٹ فونس پر ڈیوٹی میں کسی قسم کی رعایت نہیں دے گا۔ برطانیہ نے بھی گوشت کی مختلف مصنوعات، انڈوں سے بنی اشیا، نیم پالش یا مکمل پالش شدہ چاول اور گنے یا چقندر کی ٹھوس چینی کو رعایت سے خارج رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ میں لائبریری، جوان بیٹا کھودیا، محمد سعد نے سڑک کنارے لائبریری بناڈالی
بھارت نے پہلی بار برطانوی کمپنیوں کو مرکزی وزارتوں اور محکموں کے تقریباً۴۰؍ ہزار بڑے سرکاری ٹھیکوں میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔ یہ مواقع ٹرانسپورٹ، گرین انرجی اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں دستیاب ہوں گے۔
معاہدہ سے ہندوستان کو کیا فائدہ ہوگا
گارمنٹس، ٹیکسٹائل، جوتے، قالین، پروسیسڈ فوڈ، اناج، سبزیاں، پھل، مصالحے، مچھلی، گوشت وغیرہ کی برآمدات پربرطانیہ میں صفر کسٹم ڈیوٹی لگے گی جو ابھی ۴؍ سے ۱۶؍ فیصد ہے۔آٹوموبائل، موٹر سائیکل اور ان کے پرزے، مشینری، الیکٹرانکس، دھاتی اشیاء، سیرامکس، شیشہ، پتھر اور سیمنٹ کی مصنوعات کے شعبے بھی اس معاہدے سے فائدہ اٹھائیں گے۔
برطانیہ کو معاہدہ سے کیا فائدہ ہوگا
برطانیہ سے درآمد ہونے والی اشیا جیسے سالمون مچھلی، بھیڑ کاگوشت، مشینری، الیکٹرانکس، چاکلیٹ، سافٹ ڈرنکس، کاسمیٹکس، صابن، عطر، شیونگ کریم اور نیل پالش پر ڈیوٹی میں کمی سے ہندوستانی بازار میں ان کی قیمتیں کم ہونے کی امید ہے۔ ہندوستان برطانیہ سے درآمد ہونے والی چاندی پر عائد کسٹم ڈیوٹی کو آئندہ ۱۰؍برسوں میں مرحلہ وار صفر کر دے گا۔
یہ بھی پڑھئے: یورپ میں جون کے آخر میں پڑنے والی شدید گرمی سے ۱۰؍ ہزار سے زائد اموات!
پہلی بارگاڑیوں اور ٹرکوں پر ڈیوٹی میں کمی
کسی بھی آزاد تجارتی معاہدے میں پہلی بار ہندوستان نے برطانیہ میں تیار مکمل گاڑیوں اور ٹرکوں پر درآمدی ڈیوٹی میں نمایاں کمی پر اتفاق کیا ہے۔ یہ ڈیوٹی۱۱۰؍ فیصد سے مرحلہ وار کم ہو کر۱۰؍فیصد تک پہنچ جائے گی۔پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کو یہ رعایت معاہدے کے آغاز سے ہی مل جائے گی جبکہ الیکٹرک، ہائبرڈ اور ہائیڈروجن سے چلنے والی مسافر گاڑیوں کو چھٹے سال سے ترجیحی رسائی دی جائے گی۔