انڈین ریلوے ہائیڈروجن انقلاب کا آغاز کرنے جا رہا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کو ہریانہ کے جیند میں ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 6:02 PM IST | New Delhi
انڈین ریلوے ہائیڈروجن انقلاب کا آغاز کرنے جا رہا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کو ہریانہ کے جیند میں ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔
انڈین ریلوے ہائیڈروجن انقلاب کا آغاز کرنے جا رہا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کو ہریانہ کے جیند میں ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔ تقریباً ۱۱۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار کے ساتھ تیار کی گئی یہ ٹرین جیند سونی پت سیکشن کے ۸۹؍کلومیٹر کے راستے پر ۷۵؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑے گی۔ اس ٹرین کے شروع ہونے کے ساتھ ہی ہندوستان کا نام دنیا کی سب سے بڑی ہائیڈروجن ٹرین کو چلانے والے ملک کے طور پر تاریخ کے صفحات میں درج ہو جائے گا۔ ریلوے کے مطابق موجودہ وقت میں عالمی سطح پر چلنے والی زیادہ تر ہائیڈروجن مسافر ٹرینوں میں صرف دو یا تین کوچ ہوتے ہیں اور یہ بنیادی طور پر چھوٹے علاقائی راستوں پر ہی چلائی جاتی ہیں۔ وہیں، بھارتیہ ریلوے (انڈین ریلویز)کی یہ ٹرین ۱۰؍ کوچیز والی ہے اور اس میں تقریباً ۲۶۰۰؍ مسافر سفر کر سکیں گے۔
ہائیڈروجن ٹرین روایتی ایندھن جیسے ڈیزل اور بجلی سے چلنے والی ٹرینوں سے کافی مختلف ہوگی۔ اس ٹرین میں توانائی حاصل کرنے کا طریقہ بالکل مختلف ہے۔ ہائیڈروجن ٹرین اپنے ساتھ ایک چھوٹا پاور پلانٹ لے کر چلتی ہے، جو پروٹان ایکسچینج ممبرین (پی ای ایم) فیول سیل کی شکل میں ہوتا ہے۔ ٹرین کے سلنڈروں میں جمع ہائیڈروجن، فیول سیل کے اندر آس پاس کی ہوا سے آکسیجن لے کر بجلی پیدا کرتی ہے، جس سے ٹریکشن موٹریں چلتی ہیں اور پہیے گھومتے ہیں۔ اس الیکٹرو کیمیکل عمل کے براہِ راست بائی پروڈکٹس صرف پانی کے بخارات (واٹر ویپر) اور حرارت ہیں۔ اس میں کوئی جلنے کا عمل، دھواں یا ٹیل پائپ سے کاربن کا اخراج نہیں ہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں کہیں تو یہ عمل کسی جادو جیسا لگ سکتا ہے، جس میں ہائیڈروجن کو براہِ راست ٹرین کے اندر بجلی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
اس پورے عمل میں صرف پانی کے بخارات ہی براہِ راست بائی پروڈکٹ کے طور پر نکلتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی انڈین ریلوے کو زیادہ ماحول دوست اورگرین بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ریلوے کے مطابق اس ٹرین میں دو ہائیڈروجن ڈرائیونگ پاور کار (ڈی پی سی) اور آٹھ ٹریلر کوچ (ٹی سی) شامل ہیں۔ ہر ڈرائیونگ پاور کار میں فیول سیل، لیتھیم آئرن فاسفیٹ (ایل ایف پی) بیٹری اور ہائیڈروجن اسٹوریج سلنڈر لگے ہوتے ہیں جو مختلف آپریشنل حالات میں قابلِ اعتماد آپریشن کو یقینی بناتے ہوئے ٹریکشن پاور فراہم کرنے کے لیے ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔
افتتاح والے دن یہ ٹرین جیند سٹی، پانڈو پنڈارا جنکشن، للت کھیڑا ہالٹ، بھمبھیوا، عیسی پور کھیڑی ہالٹ، بوٹانے ہالٹ، کھنڈرائی ہالٹ، رابڑا ہالٹ، لاٹھ ہالٹ، موہنا، برواسنی ہالٹ اور سونی پت نیو سمیت درمیانی اسٹیشنوں اور مجوزہ اسٹاپس پر بھی رکے گی۔ ریلوے نے بتایا ہے کہ جس طرح گاڑیوں میں پیٹرول یا سی این جی بھرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لیے جگہ جگہ پمپ قائم کیے گئے ہیں، بالکل اسی طرح ہائیڈروجن ٹرین میں بھی ایندھن بھرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی مقصد کے لیے ہندوستانی ریلوے نے ہریانہ کے جیند میں ملک کا سب سے بڑا گرین ہائیڈروجن پروڈکشن اور ری فیولنگ سینٹر قائم کیا ہے۔ یہ مرکز تین مرحلوں میں کام کرتا ہے۔ سب سے پہلے گرین ہائیڈروجن پلانٹ میں الیکٹرولیسس کے ذریعے ہائیڈروجن تیار کی جاتی ہے، جس میں بجلی کا استعمال کر کے پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کیا جاتا ہے، اور پھر اسے خصوصی اسٹوریج ٹینکوں میں محفوظ طریقے سے جمع کیا جاتا ہے۔ دوسرے، ہائیڈروجن کو ۵۰۰؍ بار تک کمپریس (دبایا) کیا جاتا ہے، جس سے کم جگہ میں زیادہ مقدار میں ہائیڈروجن جمع کی جا سکتی ہے۔ آخر میں، اسے دو آزاد ہائیڈروجن ڈسپنسر کے ذریعے ۳۵۰؍ بار کے کنٹرول شدہ دباؤ پر تقسیم کیا جاتا ہے، جس سے دونوں ہائیڈروجن ڈرائیونگ پاور کاروں میں ایک ساتھ ایندھن بھرا جا سکتا ہے اور ٹرن اراؤنڈ وقت کم ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رابرٹ پیٹنسن کی’’دی بیٹ مین ۲‘‘ایک بار پھر مؤخر، ریلیز کی نئی تاریخ کا اعلان
ریلوے کے مطابق یہ مرکز ایک وقت میں تقریباً ۳۰۰۰؍ کلوگرام ہائیڈروجن کا ذخیرہ کرتا ہے، جو ٹرین سیٹ کے باقاعدہ آپریشن کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہے۔ اس کے اسٹوریج اور سپلائی سسٹم کو پٹرولیم اور دھماکہ خیز مواد کی حفاظت کی تنظیم (پی ای ایس او) نے منظوری دی ہے۔