Inquilab Logo Happiest Places to Work

سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کا ۱۹ واں دن: دہلی ہائی کورٹ نے ان کے روزانہ طبی معائنے کا حکم دیا

Updated: July 16, 2026, 4:06 PM IST | New Delhi

سماعت کے دوران، مرکز نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ سرکاری ڈاکٹر پہلے ہی وانگچک کی صحت کی نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ سننے کے بعد، عدالت نے درخواست کو بند کر دیا، لیکن حکم دیا کہ روزانہ کی نگرانی جاری رہنی چاہئے اور ضرورت پڑنے پر طبی امداد فراہم کی جانی چاہئے۔

Sonam Wangchuk. Photo: INN
سونم وانگچک۔ تصویر: آئی این این

دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو مرکزی حکومت اور دہلی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ سماجی کارکن سونم وانگچک کی صحت کا روزانہ معائنہ کریں۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر وانگچک کی صحت کو بہتر بنانے کیلئے کسی طبی علاج کی ضرورت ہو، تو حکومت کو وہ فراہم کرنا چاہئے۔ ججوں نے تبصرہ کیا کہ ہر شہری کی زندگی قیمتی ہے، سرکاری حکام کو اس کے تحفظ کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔ واضح رہے کہ وانگچک ۲۸ جون سے دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ آج ان کی ہڑتال کا ۱۹ واں دن ہے۔ 

عدالت کا یہ حکم، وکیل اور سماجی کارکن راکیش کمار سینی کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کے دوران سامنے آیا۔ سینی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور وانگچک کی بھوک ہڑتال کو ختم کروائے۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ وانگچک کی صحت تیزی سے گر رہی ہے اور احتجاج کے دوران ان کا وزن ۵ء۸ کلوگرام کم ہوچکا ہے۔ اس میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر ہڑتال جاری رہی تو دو دن کے اندر وانگچک کی موت ہو سکتی ہے۔ سینی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ حکومت کو ہدایت دے کہ وانگچک کو اسپتال منتقل کیا جائے اور انہیں زبردستی کھانا کھلایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وانگچک کی موت ملک کی بدنامی کا باعث بنے گی۔

یہ بھی پڑھئے: سونم کی بھوک ہڑتال کا ۱۹؍ واں دن، حکومت تماشائی مگر عوامی حمایت میں اضافہ

سماعت کے دوران، مرکز اور دہلی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری ڈاکٹروں کی ٹیم پہلے ہی وانگچک کی صحت کی نگرانی کر رہی ہے۔ یہ سننے کے بعد، عدالت نے درخواست کو بند کر دیا، لیکن حکم دیا کہ روزانہ کی نگرانی جاری رہنی چاہئے اور ضرورت پڑنے پر طبی امداد فراہم کی جانی چاہئے۔

دوسری طرف، وانگچک کے ذاتی معالج ڈاکٹر ستیش لامبا نے جمعرات کو بتایا کہ ہڑتال شروع کرنے کے بعد سے اب تک سماجی کارکن کے وزن میں ۹ کلو کی کمی آئی ہے۔ وانگچک کا وزن اب ۹ء۵۶ کلوگرام رہ گیا ہے، تاہم ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وہ ذہنی طور پر بالکل بیدار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: گجرات: داڑھی رکھنا، برقع پہننا، بول چال میں عربی الفاظ اور اعتکاف ’بنیاد پرستی‘

اس ہفتے کے شروع میں، اداکار نصیر الدین شاہ اور رتنا پاٹھک شاہ، مصنفہ اروندھتی رائے، سماجی کارکن للیتا رام داس اور کویتا شریواستو سمیت سول سوسائٹی کے ۱۸۰۰ سے زائد افراد نے ایک خط لکھ کر وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ”حکومت دل یا ضمیر سے عاری ہے۔“

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے بتایا کہ ۱۷ دن کی بھوک ہڑتال کے بعد وانگچک کے پٹھے کم ہونا شروع ہوگئے ہیں اور وہ شدید درد میں مبتلا ہیں۔ دیپکے نے کہا کہ انہوں نے وانگچک سے ہڑتال ختم کرنے کی التجا کی تھی، لیکن وانگچک نے سوال کیا کہ حکومت مظاہرین سے بات چیت کرنے سے کیوں انکار کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK