Inquilab Logo

کیا اپوزیشن مضبوط ہونے سے میڈیا بدلے گا؟

Updated: June 26, 2024, 2:13 PM IST | Aakar Patel | Mumbai

ملک میں عوام کا بڑا طبقہ میڈیا سے ناراض رہتا ہے۔ اس کے کئی شواہد منظر عام پر آچکے ہیں اس کے باوجود حکومت کے ہمنوا میڈیا کے طور طریقہ میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اس مضمون میں جانئے اس کے اسباب:

Photo: INN
تصویر:آئی این این

پارلیمانی انتخابات ۲۰۱۴ء کے بعد ’’گودی میڈیا‘‘ کی اصطلاح کو کافی شہرت ملی۔ یہ اصطلاح میگسیسے ایوارڈ یافتہ صحافی رویش کمار کی اختراع ہے جو اُنہوں  نے ذرائع ابلاغ کے اُن حلقوں  کیلئے استعمال کی جس کے صحافی، وزیر اعظم کی گود میں  بیٹھے ہیں ۔ اس میں  یہ لفظ ’’گودی‘‘ اس لئے بھی معنی خیزہے کہ یہ ’’مودی‘‘ کا ہم قافیہ ہے۔
 چند دہائی قبل امریکی دانشور نوام چامسکی نے اپنی ایک کتاب میں  لکھا تھا کہ جمہوری ملکوں  میں  ذرائع ابلاغ کو جتنا آزاد ہونا چاہئے، وہ نہیں  ہیں ۔ یہ عوام کو باخبر رکھنے کی اپنی ذمہ داری کو پورا نہیں  کرتے۔ حکومتی تجاوزات کے بارے میں  تو بالکل نہیں  بتاتے۔ اس کے برخلاف وہ، حکومت اور بڑے تجارت پیشہ اداروں  اور افراد کے مفادات کے پیش نظر عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ چامسکی کا کہنا تھا کہ وہ ادارے جو ماس میڈیا کا حصہ ہیں ، وہ نظریاتی اداروں  میں  تبدیل ہوکر تجارتی مفادات کو یقینی بناتے ہوئے پروپیگنڈہ چلاتے ہیں  اور یہ سب ایک خاص انداز میں  ہوتا ہے۔
 اس کے باوجود آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ملک کی سب سے بڑی میڈیا کمپنیوں  کی آمدنی میں  گزشتہ ایک دہائی میں  کوئی بڑا فرق نہیں  آیا ہے۔ اگر سب سے بڑی چھ میڈیا کمپنیوں  کے گوشوارۂ آمدنی (رِوینیو) کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اشتہارات کے ذریعہ ان کمپنیوں  کی سالانہ آمدنی اگر ۲۰۱۴ء میں  ۶۳۲۵؍ کروڑ تھی تو ۲۰۲۳ء میں  ۶۶۹۱؍ کروڑ ہوئی یعنی معمولی بڑھی۔ اگر ۲۰۱۴ء میں  مجموعی منافع ۷۶۱؍ کروڑ روپے تھا تو ۲۰۲۳ء میں  ۲۵۴؍ کروڑ ہوا۔ اس میں  اضافہ تو دور کی بات ہے، واقعتاً کمی آئی۔ 
 اگر مہنگائی کو دھیان میں  رکھ کر ان اعداددوشمار کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کمپنیوں ، جن میں  بڑے نیوز چینل شامل ہیں ، کا منافع ۲۰۱۴ کے مقابلے میں  غیر معمولی طور پر کم ہوا۔  اس تناظر میں  سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر گودی میڈیا اپنے ہی مفادات کے خلاف کیوں  کام کررہا ہے؟ اس سے وابستہ صحافتی اداروں  کی آمدنی بھی’’ کم‘‘ ہوئی اور منافع بھی، اگر آمدنی اور منافع قابل ذکر حد تک بڑھتا تو سمجھ میں  آتا کہ یہ گودی میں  بیٹھنے کا فائدہ ہے مگر وہ فائدہ اعدادوشمار میں  تو دکھائی نہیں  دیتا!  اس لئے یہ سوال اہم ہے کہ میڈیا اپنے ہی مفادات کے خلاف کیوں  کام کررہا ہے؟ 
 اس سوال کے کئی جوابات ہیں  مثلاً: گزشتہ ۲۰؍ سال میں  میڈیا کے حالات غیر معمولی طور پر بدلے۔ آن لائن ایڈرورٹائزنگ نے اب کافی جگہ بنالی ہے اور یہ پیسہ زیادہ تر دو اداروں  کو ملا ہے، گوگل اور فیس بک۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ معیشت کی صحت اچھی نہیں  ہے اور اس کا اثر اشیاء کی خرید پر پڑا ہے۔ ان دونوں  وجوہات سے انکار نہیں  کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود یہ سمجھنے کیلئے کہ ٹی وی چینلوں  میں  کیا چل رہا ہے او راُن کے پیش نظر کیا ہے، مَیں  نے ان چینلوں  سے وابستہ افراد سے بات چیت کی۔ میں  نے اُن سے چار سوال کئے: (۱) چینلوں  کو حکومت کی ہمنوائی اور اپوزیشن پر حملوں  سے کیا ملتا ہے؟ (۲) چینلوں  کا حکومت سے ملنے والے اشتہارات (اور دیگر مفادات) پر کتنا انحصار ہے؟ (۳) کیا فرقہ وارانہ یگانگت اور اتحاد کے خلاف کام کرنا ناظرین کا تقاضا ہے (کیا وہ ایسے پروگراموں  کو زیادہ دیکھتے ہیں )؟ اور (۴) کیا حکومت کی ہمنوائی اور اس کی کارکردگی کے دفاع کو ناظرین پسند کرتے ہیں ؟
 ان سوالوں  کے جو جوابات مجھے ملے وہ کافی دلچسپ ہیں ۔ پہلے دو سوالوں  کا یہ جواب ملا کہ اگر آمدنی کے اور بھی ذرائع ہوتے تو ممکن تھا کہ صحافت جیسی صحافت جاری رہتی اور حکومت سے سوالات پوچھے جاتے۔ سیاسی دباؤ واحد وجہ نہیں  ہے بلکہ اصل وجہ آمدنی کا مستحکم ذریعہ نہ ہونا ہے۔ انہی سوالوں  کا ایک جواب یہ بھی ملا کہ حکومت سے ہونے والی آمدنی، آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اس پر بڑی حد تک انحصار کیا جارہا ہے۔ ایک اور جواب یہ ملا کہ اب میڈیا کے بڑے حصے پر بہت بڑے تجارتی اداروں ، جن سے عوام بھی واقف ہیں ، کا قبضہ ہے اور یہ اُن کا ذیلی کاروبار بن گیا ہے اور اُن کے مفادات کی حفاظت کررہا ہے۔ 
 دوسرے دو سوالوں  کے جواب میں  چینلوں  سے وابستہ افراد نے بتایا کہ کسی ایسے رجحان کی نشاندہی نہیں  کی جاسکتی جس سے یہ ظاہر ہو کہ فرقہ وارانہ موضوعات پر مبنی بحثوں  یا سرخیوں  یا خبروں  کے انداز ِ پیشکش سے کوئی فائدہ ہوتا ہے لیکن یہ بھی کہنا غلط نہ ہوگا کہ جب اس قسم کا مواد پیش کیا گیا تو اُس پر ناظرین کی ناراضگی کا کوئی اشارہ نہیں  ملا یعنی پولرائز کرنے والا جو مواد چینلوں  پر پیش کیا گیا اُسے ناظرین نے قبول کرلیا، اس پر منہ نہیں  بنایا۔بعض اوقات کسی خبر کی وجہ سے چینل زیادہ دیکھا گیا، مثال کے طور پر کورونا کی وباء کے دور میں  جب وباء کے پھیلاؤ کیلئے مسلمانوں  کو ذمہ دار قرار دیا گیا تب اس سلسلے کی خبرو ں  کو ’’پِک اَپ‘‘ ملا۔ چینلوں  کے بعض افراد کا یہ بھی کہنا تھا کہ مودی کے دور میں  اکثریت نوازی اتنی بڑھی کہ وہ عصبیت جو پہلے سے موجود تھی اُسے پھلنے پھولنے اور زیادہ بلند آواز سے پھیلنے کا موقع ملا جیسا کہ نیوز چینلوں  کے کوریج میں  دیکھا جاسکتا ہے لیکن ایسا کوئی ثبوت نہیں  ہے جس کی بناء پر کہا جاسکے کہ حکومت کی حمایت اور اپوزیشن کی مخالفت کرکے نیوز چینل دیکھنے والوں  کی تعداد بڑھی ہے۔اگر یہ سلسلہ جاری رہا ہے تو اس کی کوئی اور وجہ ہے۔ 
 یہ باتیں  میرے اُس بنیادی سوال کے جواب میں  معلوم ہوئیں  کہ گودی میڈیا جو کچھ کرنے لگا ہے اس کا سبب کیا ہے؟ 
 مگر، اس ماہ کے اوائل میں  جو انتخابی نتائج منظر عام پر آئے   اُن کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ صورت حال کافی بدل چکی ہے اور اب حالات کے بدلنے میں  بھی دیر نہیں  لگے گی کیونکہ اب اپوزیشن کو نظر انداز نہیں  کیا جاسکتا اور نہ ہی اس پر بے محابا حملے کئے جاسکتے ہیں  جیسا کہ ماضی میں  ہوتے رہے چنانچہ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت کے طرز عمل میں  جو تبدیلی آئے گی وہ کتنی اور کیسی ہوگی۔ ہمیں  اُمید کرنی چاہئے کہ حالات میں  مثبت تبدیلی آئے گی کیونکہ یہ دَور ہندوستانی صحافت کا بدترین دور تھا۔ اب اس دَور کو پس پشت چلا جانا چاہئے تاکہ ہماری جمہوریت، ہماری سیاست اور ہمارا سماج بہتری کی راہ پر گامزن ہو، یگانگت اور یک جہتی میں  اضافہ ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK