’ کاکروچ فار پبلک ایجوکیشن‘ عنوان پر احتجاج میں ’انقلاب زندہ باد ، طلبہ کا اتحاد زندہ باد‘ کے نعرے لگائے گئے۔ پولیس نے مظاہرین کو تحویل میں لیا۔
احتجاج۔ تصویر:آئی این این
طلبہ کی حمایت، پیپر لیک ، نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ، ۲۲؍طلبہ کی موت اور جنترمنتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے جاری احتجاج اور بھوک ہڑتال کی حمایت میں ’کاکروچ فار پبلک ایجوکیشن‘ کے عنوان پر یونیورسٹی کے کالینہ کیمپس کے گیٹ پر جمعہ کی دوپہر کو احتجاج کیا گیا۔ طلبہ کی مختلف تنظیموں کے عہدیداران اور کارکنان نے الگ الگ نعرے والے پلے کارڈز اور بینر اٹھاکر حکومت مخالف نعرے بلند کئے اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے ’انقلاب زندہ باد، طلبہ کا اتحاد زندہ باد‘ کے نعرے لگائے۔
جمعہ کے دن حسب اعلان ابھی احتجاج شروع ہوا ہی تھا کہ پولیس حرکت میں آگئی اور مظاہرین کو تحویل میں لے لیا۔ ان سب کو وین میں بھر کر بی کے سی پولیس اسٹیشن لایا گیا۔ مظاہرین کو دو تا ڈھائی گھنٹے پولیس اسٹیشن میں بٹھاکر رکھا گیا ۔ اسی اثناء میں سی پی آئی اور سی پی ایم کے عہدیداران بھی پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔ اس کے بعد تمام مظاہرین کے نام ،پتے اور موبائل فون نمبر لکھ کر انتباہ دے کر چھوڑ دیا گیا۔
یہ احتجاج ’ممبئی اگینسٹ سپریشن آف اسٹوڈنٹس(ماس) ‘کے ذریعے کیا گیا۔
احتجاج کی سربراہی طلبہ لیڈر کامریڈ عامر قاضی کررہے تھے۔ بی کے سی پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر سنجے شپنے نے۹؍ جولائی کو ان کو ۱۶۸؍ کے تحت نوٹس جاری کیا تھا اور احتجاج کرنے سے منع کیا تھا۔
اس نوٹس جس کی ایک کاپی انقلاب کے پاس ہے، میں لکھا گیا ہے کہ ممبئی پولیس کمشنر کے خصوصی اختیارات کے تحت۷؍ تا۲۱؍ جولائی تک ممبئی میں حکم امتناعی نافذ کیا گیا ہے۔ اس کی رو سے پانچ سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس دوران احتجاج، مظاہرہ، دھرنا، آندولن، مورچہ یا ایسی اور کوئی سرگرمی کیلئے آزاد میدان میں جگہ مختص کی گئی ہے۔
’’پولیس کے ذریعے آواز نہیں دبائی جاسکتی‘‘
عامر قاضی نے پولیس کے ذریعے احتجاج روکنے اور تحویل میں لینے کے تعلق سے کہا کہ ’’پولیس کا نوٹس یا گرفتاری سے طلبہ اور نوجوانوں کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم قانون کا احترام کرتے ہیںلیکن یہ بھی واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے آئین نے ہر شہری کو پرامن اور جمہوری احتجاج کا حق دیا ہے جسے محض نوٹس کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ طلبہ کی تنظیموں کا یہ احتجاج جنتر منتر پر جاری طلبہ کی بھوک ہڑتال سے یکجہتی کے اظہار، نیٹ امتحان کے بحران کے باعث جان گنوانے والے ۲۲؍ طلبہ کو انصاف دلانے، این ٹی اے اوراین ای پی ۲۰۲۰ء کو ختم کرنے اور عوامی و مساوی تعلیم کے تحفظ کے مطالبات کے لئے کیا گیا ہے۔ ہم ممبئی کے تمام طلبہ، نوجوانوں، والدین اور انصاف پسند شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کے مظاہروں کا حصہ بنیں اور آئندہ بھی شریک ہوکر طلبہ اور نوجوانوں کی آواز کو تقویت پہنچائیں۔‘‘
’’الگ الگ علاقوں میں احتجاج کیا جائے گا‘‘
عامر قاضی کے مطابق جلد ہی اس طرح کا احتجاج شہر اور مضافات کے الگ الگ علاقوں میں بھی کیا جائے گا۔ پولیس کے ذریعے تحویل میں لینے سے نہ تو ہمارے حوصلے پست ہوئے ہیں اور نہ ہی ہم خوفزدہ ہوئے ہیں۔ ہم سب طلبہ اور نوجوانوں کا نقصان کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ آخر۲۲؍ قیمتی جانوں کے اتلاف کا ذمہ دار کون ہے؟
کن کن تنظیموں کے طلبہ کو تحویل میں لیا گیا؟
بی کے سی پولیس کے ذریعے جن الگ الگ طلبہ تنظیموں کے مظاہرین کو تحویل میں لیا گیا، ان میں ’ماس‘ کے صدر اور اے آئی ایس ایف کے عہدیدار کامریڈ عامر قاضی، سواستک چوان، گورو کھیرے، تیجس (اے پی اے ایل)، لتا، دھننجے (دشا)، نیورتی (اے آئی ایس ایف)،رخشندہ، سواہم، راہل، تبریز(ڈی وائی ایف آئی) اور سدھارتھ (ستیہ شودھک ودیارتھی سنگھٹنا) شامل تھے۔