Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیدی ملزم رمیش مہاترے کو کلیان کورٹ میں پیش کیا گیا

Updated: July 11, 2026, 2:07 PM IST | Ejaz Abduilghani | Kalyan

ڈومبیولی کے شاستری نگر سرکاری اسپتال میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے ساتھ مبینہ مارپیٹ اور بدسلوکی کے معاملے میں ملوث شندے سینا کے بااثر کارپوریٹر رمیش مہاترے کو شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد وشنو نگر پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔

Ramesh Mahatre.Photo:INN
رمیش مہاترے۔ تصویر:آئی این این
ڈومبیولی کے شاستری نگر سرکاری اسپتال میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے ساتھ مبینہ مارپیٹ اور بدسلوکی کے معاملے میں ملوث شندے سینا کے بااثر کارپوریٹر رمیش مہاترے کو شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد وشنو نگر پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔ اس معاملے کی سماعت کے دوران کلیان عدالت نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے رمیش مہاترے سمیت چاروں ملزمین کو ۱۳؍ جولائی تک پولیس تحویل میں بھیجنے کا حکم صادر کیا۔
 
 
سماعت سے قبل پولیس نے ملزم کی ناساز طبیعت کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ عدالت میں پیش کرنے کی درخواست کی تھی تاہم جج نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزم کی جسمانی حاضری کو ضروری قرار دیا۔ واضح رہے کہ شاستری نگر اسپتال میں خاتون ڈاکٹر، نرسوں اور دیگر طبی عملے کے ساتھ پیش آئے اس تشدد آمیز واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پورے مہاراشٹر میں شدید غم و غصہ پھیل گیا تھا۔ ڈاکٹروں کی مختلف تنظیموں، اپوزیشن پارٹیوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے سخت ردِعمل اور فوری کارروائی کے مطالبہ کے بعد پولیس نے یہ کارروائی انجام دی۔ 
تفصیلات کے مطابق رمیش مہاترے کو گرفتاری کے بعد طبیعت ناساز ہونے پر تھانے کے سول اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ جمعہ کی صبح اسپتال سے ڈسچارج کئے جانے کے بعد پولیس نے انہیں باضابطہ طور پر اپنی تحویل میں لےکر کلیان کورٹ میں پیش کیا۔ ان کے ساتھ گرفتار دیگر ۳؍ ملزمین کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے چاروں ملزمین کو پیر تک پولیس تحویل میں بھیجنے کا حکم صادر کیا۔سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہر ملزم کے کردار کا تعین کرنے، سی سی ٹی وی فوٹیج کا تفصیلی جائزہ لینے، ملزمین کے موبائل فون ضبط کرنے اور واقعہ سے متعلق مزید شواہد اکٹھا کرنے کے لئے پولیس تحویل میں تفتیش ناگزیر ہے۔ عدالت نے ان دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے پولیس ریمانڈ منظور کر لیا۔
 
 
واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب ایک حاملہ خاتون کے علاج میں مبینہ تاخیر پر مشتعل افراد نے کے ڈی ایم سی کے شاستری نگر سرکاری اسپتال میں گھس کر ۲؍ ڈاکٹروں اور نرسنگ عملہ کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ اور ہنگامہ آرائی کی تھی۔ اس واقعہ کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ریاست بھر کے ڈاکٹروں اور طبی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا اور ملزمین کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔دریں اثنا، رمیش مہاترے کو عدالت میں پیش کئے جانے کے دوران وکلاء کے ایک گروپ نے پولیس پر ملزم کو وی آئی پی پروٹوکول فراہم کرنے کا الزام عائد کیا۔ وکلاء کے مطابق ملزم کو عدالت میں لاتے وقت کمرۂ عدالت کے باہر کا علاقہ خالی کرا دیا گیا اور دیگر وکلاء کو اندر جانے سے روک دیا گیا۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK