Inquilab Logo Happiest Places to Work

خواتین ریزرویشن بل ،کچھ سمجھنے کی باتیں

Updated: April 23, 2026, 11:22 AM IST | KBS Sidhu | Mumbai

پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل کی پیشی اوراس کی نا منظوری کا منظرنامہ جتنا ہنگامہ خیز رہا ، اس کے بعد ملک کے سیاسی وآئینی حالات اس سے زیادہ ہنگامہ خیز ہو نے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

Protest.Photo:INN
احتجاج۔ تصویر:آئی این این
۱۳۱؍ ویں آئینی ترمیمی بل۲۰۲۶ء (خواتین ریزرویشن بل) کا ایوان میںدوتہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہنا ،اس کے علاوہ حد بندی بل اورمرکز کے زیر انتظام خطوں کے قوانین ( ٹیریٹر یز  لاز (ترمیمی بل ) کے واپس لئے جانے کا کئی حلقوں میں جشن منایاجارہا ہے اور اسے وفاقی نظام کی فتح کے طورپر دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔پارلیمنٹ میںمذکورہ بلوںکی پیشی اوران کی نا منظوری کا منظرنامہ جتنا ہنگامہ خیز رہا ، اس کے بعد ملک کے سیاسی وآئینی حالات اس سے زیادہ ہنگامہ خیز  ہو سکتے ہیں۔ 
کچھ آئینی ریکارڈ کا تذکرہ یہاںضروری ہے۔موجودہ لوک سبھا میںتمل ناڈو کی ۳۹؍،کیرالا کی ۲۰؍،کرناٹک کی ۲۸؍،آندھرا پردیش کی ۲۵؍ ، راجستھان کی ۲۵؍اوراتر پردیش کی ۸۰؍ سیٹیں ہیں ۔ یہ تقسیم۱۹۷۱ء کی مردم شماری کی بنیاد پر کی گئی ہے۔۴۲؍ ویں آئینی ترمیمی قانون ۱۹۷۶ء کے تحت لوک سبھا میں سیٹوںکی تقسیم ۱۹۷۱ء کی آبادی کی بنیاد پر متعین کی گئی تھی اور اسے منجمد (فریز) کر دیا گیا تھا ۔۸۴؍ ویں آئینی ترمیمی قانون ۲۰۰۱ء کے تحت۱۹۷۱ء میں ہر ریاست کی آبادی کے تناسب کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس میں توسیع کی گئی تھی اوراس میںاب اس وقت تک کوئی تبدیلی یا ترمیم وغیرہ نہیںکی جاسکتی جب تک کہ ۲۰۲۶ء کے بعد ہونے والی مردم شماری کے اعدادوشمارسامنے نہیںآجاتے ۔ ۲۰۰۲ء میںتشکیل دئیے گئے کلدیپ سنگھ حد بندی کمیشن نے انہی طے کردہ حدود میںرہتے ہوئےپورا کام کیا ہے۔اس کمیشن نے ۲۰۰۱ءکی مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پرلوک سبھا اور اسمبلی حلقوںکی نئےسرے سے سرحدیں کھینچی تھیںمگراسے کسی ریاست کی سیٹیںکم یا زیادہ کرنے کی اجازت نہیںتھی ۔ ان حدود میںتبدیلی یا ترمیم نہ کرنے کی پابندی یا انجماد کی مدت اب آئینی طورپر ختم ہونے کو آرہی ہے۔۲۰۲۶ء کے بعد ہونے والی مردم شماری کے اعداد و شمار کی اشاعت کے بعدیہ پابندی خود بخود ختم ہوجائے گی ۔ابھی شروع ہوئی مردم شماری کے اعداد و شمار کی اشاعت ۲۰۲۹ء سے۲۰۳۱ء کے درمیان متوقع ہے ، اس کے بعدآئین کے آرٹیکل ۸۲؍ کے تحت یہ انجماد خود اپنی شرائط کے ساتھ ختم ہوجائےگا ۔ اس کے بعداس وقت یعنی ۲۰۰۲ء میں جو کمیشن تشکیل دیاگیاتھا، وہ غیر ترمیم شدہ آرٹیکل ۸۱(۲)(اے) کے تحت آبادی کے تناسب پرکام کرے گا۔ 
۱۹۷۱ء سے موجودہ دورتک، شمالی اور جنوبی ہند کے درمیان آبادیاتی فرق بہت گہرا ہوا ہے ۔ ان برسوں میں جن ریاستوں نے خاندانی منصوبہ بندی اور انسانی ترقی میں سرمایہ کاری کی ہے ان میں تمل ناڈو، کیرالا، کرناٹک، آندھرا پردیش اور تلنگانہ جیسی ریاستیں شامل ہیں جنہوں نے آبادی پر قابو پایا ہے۔جن ریاستوں نے ایسا نہیں کیا ہے ان میں یوپی، بہار، مدھیہ پردیش اور راجستھان جیسی ریاستیں شامل ہیںاور ان کی آبادی تیزی سے بڑھی ہے۔ اس کا نتیجہ جو ہوا ہے اسے اس طرح سمجھا جاسکتا ہےکہ شمالی ہندکی نمائندگی کی طرف اب جو سیاسی جھکاؤہورہا ہے یا اس خطے کی جو سیاسی اہمیت بڑھی ہے،اسے کسی سیاسی احتجاج کے ذریعے نہیں روکا جاسکتابلکہ اس کیلئے آئینی ترمیم ہی ایک راستہ ہے۔ مثال کے طور پر، موجودہ آبادی کے تخمینے پر، یوپی میں لوک سبھا کی ایک نشست تقریباً۳۰؍ لاکھ افراد کی نمائندگی کرتی ہے۔ تمل ناڈو میں ایک سیٹ تقریباً۲۰؍ سے ۲۱؍ لاکھ، کیرالا میں تقریباً ۱۹؍ لاکھ۔ ۲۰۲۶ء کے بعدآبادی کے جو اعداد و شمار سامنےآئیں گے، اس میںنمائندگی کا یہ فرق بڑی حدتک کم ہوسکتا ہےاوراس طرح جنوبی ہندکو یقیناً فائدہ ملنے کی امید پیدا ہوگی ۔
اب غور کریں کہ اگر۱۳۱؍ ویں ترمیمی بل منظور ہوجاتاتو کیا ہوتا۔ اس کا تعلق ۲۰۱۱ء کی مردم شماری سے ہے ۔ ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کی بنیادپرتمل ناڈوکے حصہ میں ۵۷؍ لوک سبھا سیٹیں آتیںاوراس کی موجودہ ۳۹؍میں ۱۸؍ کا اضافہ ہوتا ۔کیرالا کی ۲۰؍سے بڑھ کر۲۹؍ سیٹیں ہوجاتیں اور کرناٹک کی ۲۸؍ سے بڑھ کر ۴۱؍ہوجاتیں۔اگر ایسا ہوتا تو کسی بھی جنوبی ریاست کو ایک سیٹ کا بھی نقصان نہیں ہوتا ۔ایوان میں توسیع کی مناسبت سے ان ریاستوںکی نمائندگی حدود اربعہ کے لحاظ سے کم تو نظر آتی جس سے کچھ خاص فرق نہیںپڑتا مگر ان کی سیٹوںکی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا۔مزید یہ کہ ہر ریاست کے لئے کم از کم اور زیادہ سے زیادہ سیٹوں کی حد مقرر کرنے والی آئینی شق سے جنوبی ریاستوں کویقیناً زیادہ سیٹوں کی ضمانت ملتی اورمستقبل میں ان کا تناسب محفوظ ہوتا جو اب محفوظ نہیںرہ گیا ہے۔ بلوں کو مسترد کرکے واپس لے لیا گیا۔ جب مردم شماری کے نئے اعداد و شمار شائع ہوں گے اور آرٹیکل ۸۲؍ اس فریز کو خود بخود ختم کر دے گا۔۱۳۱؍ واں ترمیمی بل ۲۰۲۶ء پیش کرنے کا حکومت کا طریق کار غلط تھا، آرٹیکل ۸۲؍ پر بحث کی گنجائش تھی ،اس پر بحث کی جاسکتی تھی کہ کسی سیاسی مشاورت کے بغیر یہ بل کیوں لایا گیالیکن اب سب مواقع ختم ہوچکے ہیں۔ 
۱۶؍ اپریل کی شام کو وزارت قانون اور انصاف کی طرف سے جاری کردہ آئینی آرڈر۱۹۲۲(ای) میںایک عجیب تضاد ہے۔ ۱۰۶؍ ویں آئینی ترمیم ایکٹ ۲۰۲۳ء کے تحت مذکورہ بلوں کو نوٹیفائی کیا گیا تھا ۔ اس نوٹیفکیشن میں لکھا ہےکہ ۱۶؍ اپریل ۲۰۲۶ء کے بعد کی جانے والی پہلی مردم شماری کی بنیاد پر ہونے والی حد بندی کے بعد خواتین ریزرویشن کا نفاذ کیا جائے(جبکہ جو بل پیش کیا گیا تھا وہ ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کو بنیاد بناتا ہے)۔جب یہ مردم شماری (۲۰۲۷ء) پوری ہوجائے گی اور آرٹیکل۸۲؍ کے تحت مذکورہ انجماد ختم ہوجائے گا، پھرسیٹوں کی دوبارہ تقسیم اور خواتین ریزرویشن پر نئے اعدادوشمار کے تحت کام ہوگا ۔ اب بھی ایک راستہ باقی ہے۔ ایک نظرثانی شدہ آئینی ترمیم جس میں ہر ریاست کے لیے کم از کم سیٹ کی ضمانتیں شامل ہیں اور۲۰۲۶ء کے بعد کی مردم شماری کے اعداد و شمار شائع ہونے سے پہلے اسے دوبارہ متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ یہ واحدراستہ ہے جس میں جنوبی ریاستیں فریز ختم ہونے اورمردم شماری کے خام اعدادوشمار شائع ہونے کے بعد اپنا آئینی تحفظ یقینی بناسکتی ہیں۔ یہ راستہ ابھی کھلا ہے مگراتنی غیر معینہ مدت تک نہیں کھلا رہے گا۔ اپوزیشن قیادت کے لئے سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس راستے کودانشمندی سے استعمال کرے گی یا اسے ایک ایسی فتح کا جشن منانے میں کھودے گی جس کے نتائج پہلے ہی آئین میں لکھے ہوئے ہیں۔
(مضمون نگا ر سابق آئی اے ایس افسر ہیں۔)

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK