’قاری نامہ‘ کے تحت انقلاب کو بہت ساری رائے موصول ہوئیں۔ ان میں سے وقت پر پہنچنے والی منتخب آرا کو شامل اشاعت کیا جارہا ہے۔
EPAPER
Updated: April 16, 2025, 11:22 AM IST | Mumbai
’قاری نامہ‘ کے تحت انقلاب کو بہت ساری رائے موصول ہوئیں۔ ان میں سے وقت پر پہنچنے والی منتخب آرا کو شامل اشاعت کیا جارہا ہے۔
مڈل کلاس کو بہت کچھ سہنا پڑرہا ہے
ویسے تو ہمارے ملک کے حالات ہر اعتبار سے پریشان کن ہیں لیکن اقتصادی اعتبار سے تو بہت ہی بدتر حالات ہیں۔ ہمارے ملک کے وزیراعظم اور اُن کے رفقا ئےکار ملک کی اقتصادی حالت کے تعلق سے بہت ہی بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن وہ بذات خود اِس حقیقت کو اچھی طرح محسوس کرتے ہیں کہ ملک کے اقتصادی حالات بہت زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ اقتصادی اعتبار سے ہمارے ملک کے عوام کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اپر کلاس، مڈل کلاس اور لور مڈل کلاس۔ جہاں تک اپر کلاس کا تعلق ہے وہ بے پناہ عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔ لور مڈل کلاس جس ڈھنگ سے زندگی گزار رہے ہیں وہ اس میں خوش ہیں۔ سب سے زیادہ ضرب متوسط طبقے پر پڑتی ہے۔ الغرض حکومت کی اقتصادی پالیسی سے سب سے زیادہ پریشان متوسط طبقہ ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق انکم ٹیکس کے اعداد و شمار کے مطابق مڈل کلاس کی آمدنی ساڑھے۱۰ ؍لاکھ روپے سالانہ کے آس پاس ہےاور یہ کیفیت گزشتہ ۱۰سالوں سے چلی آرہی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے ملک میں مڈل کلاس سکڑ رہا ہے تو اسے مبالغہ نہیں سمجھنا چاہئے۔ آج کے دور میں مڈل کلاس کا نوجوان طبقہ عیش و آرام کی زندگی گزارنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ان نوجوان کی اس سوچ پر ہم ان کی تائید نہیں کر سکتے لیکن ہمیں مذمت کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں ( ۱۰؍ہزار ڈالرماہانہ کم و بیش۸۵ ؍ہزار روپے) خرچ کرنے والے خاندانوں کی تعداد گزشتہ ۲۵؍سال میں ۲۰؍گنابڑھی ہے تو اس حساب سے مہنگائی بھی بڑھی ہے۔ خواہشات کی فہرست اور ٹیکسوں کی شرح میں بھی اسی حساب سے اضافہ ہوا ہے۔ اِس لئے مڈل کلاس کو اِن وجوہات کی بناء پر بہت کچھ سہنا پڑ رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے اور موجودہ برسرِاقتدارحکو مت کو بھی اِس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہئے۔
پرنسپل(ڈاکٹر) محمد سہیل لوکھنڈوالا(سابق ایم -ایل- اے)
متوسط طبقہ سخت حالات کا سامنا کر رہا ہے
جی ہاں، متوسط طبقے کی آمدنی گھٹ رہی ہے اور اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔ آج متوسط طبقہ سب سے زیادہ دشواریوں اور سخت حالات سے جوجھ رہا ہے۔ والدین بچوں کی تعلیم پر آج لاکھوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد بھی ملازمت آسانی سے ملتی نہیں ہے اور اگر ملتی ہے تو عمومی طور پر۲۰-۱۸؍ ہزار یا۲۵؍ ہزار روپے ماہانہ کی ملازمت ملتی ہے۔ وہ بھی اگر دوسرے شہر میں ہو تو اور بھی اخراجات بڑھ جاتےہیں۔ اس طرح ۲۵-۲۰؍ ہزار کوئی بڑی رقم نہیں ہے۔ چونکہ متوسط طبقے کو اپنے رہن سہن کے معیار کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ آج شادی بیاہ کے اخراجات اورمکانوں کے کرائے آسمان چھو رہے ہیں ۔ اسی طرح آج ہر گھر میں بیماریوں کے علاج پر بھی اچھی خاصی رقم خرچ ہو رہی ہے۔
ابو حنظلہ (پونے)
مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط طبقے پر پڑا ہے
سماج کے متوسط طبقے میں جن کا شمار ہوتا ہے ان میں ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، ٹیچر، کلرک اور چھوٹے کاروباری وغیرہ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں ۔ ملک کے۴۰؍فیصد افراد کا تعلق مڈل کلاس سے ہے۔ یعنی ملک کا ہر تیسرا فرد متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ جن کی آمدنی۵؍ لاکھ سے۳۰؍ لاکھ روپے سالانہ ہے، ان کا شمار مڈل کلاس میں ہوتا ہے۔ جن کا تناسب ملک میں تقریباً۴۳؍فیصد ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے۱۰؍ برس سے مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ اور دباؤ متوسط طبقے پر پڑا ہے۔ بنیادی ضروریات اور اشیا ئے خورد و نوش کے بڑھتے داموں سے سماج کا ادنیٰ، کمزور اور غریب طبقہ تو بہت ہی متاثر ہوا ہے، اس کا زندگی گزارنا محال اور کافی دشوار ہوگیا مگر متوسط اور درمیانہ طبقہ بھی اس سے محفوظ نہیں رہا۔ حالانکہ۲۶-۲۰۲۵ء کے مالی اور عام بجٹ میں مالیات کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے انکم ٹیکس میں کافی رعایت دی۔ ۱۲؍ لاکھ سالانہ آمدنی والوں کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا مگر اہم لازمی اخراجات جس میں مکان کا کرایہ، مہنگی تعلیم، مہنگے علاج و معالجہ کے علاوہ اشیائے خرد و نوش کے بڑھتے داموں نے درمیانہ طبقے کے معیار زندگی کو کافی متاثر کیا ہے۔ شادی بیاہ، تہوار اور دیگر غیر متوقع اخراجات نے اس کی کمر توڑ دی ہے۔ علاوہ ازیں اس نے اپنے آپ کو خواہشات کا غلام بنا لیا ہے۔ محدود آمدنی اور لا محدود اخراجات کے سبب کفایت شعاری، قناعت پسندی اور صبر شکر جیسے خوبصورت اور اہم الفاظ اس کی ڈکشنری اور لغت سے خارج ہوتے جا رہے ہیں ۔
انصاری محمد صادق(حسنہ عبدالملک مدعو وومینس ڈگری کالج کلیان)
آج آمدنی گھٹ چکی ہے
آج کل سب سے زیادہ متوسط طبقہ کی حالت باعث تشویش ہے۔ پہلے تو تنخواہیں کم ہوا کرتی تھیں مگر آج تنخواہوں میں اضافہ ہوگیا۔ اس کے باوجود لوگ پریشان ہیں، متوسط طبقے پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔ نوجوان بے روز گار ہیں ۔
نورجہاں (ممبئی )
ساد ہ زندگی گزارنے کو ترجیح دیں
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ متوسط طبقے کی آمدنی گھٹ رہی ہے اور یہ طبقہ مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے لور مڈل کلاس سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ہمارے شہر میں کئی ایسے معاملات سامنے آئے ہیں کہ آمدنی کم ہونے کی وجہ سے گھر کا ذمہ دار قرض کے بوجھ تلے دبتا جاتا ہے اور قرض کی ادائیگی کا کوئی راستہ نہ ملنے پر وہ خودکشی پر مجبور ہوجاتا ہے۔ آج بھی ملک میں ایسے کسانوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو کم آمدنی کی وجہ سے بینک اور ساہوں کاروں سے لئے گئے قرض کو ادا نہیں کرسکے اور موت کو گلے لگالیا۔ خاکسار کی نظر میں اس کا ایک حل اس طرح ہے کہ غیر ضروری اخراجات پر قدغن لگایا جائے۔ خواہشات کو اپنے قابو میں رکھیں اور ساد ہ زندگی گزارنے کو ترجیح دیں۔
محمد یعقوب ایوبی (موتی پورہ، مالیگاؤں )
پہلےایک آدمی کماتا تھا چار آدمی کھاتے
آج کے زمانے میں زندگی مہنگی اور موت سستی ہوگئی ہے۔ مڈل کلاس اور لوور کلاس ۱۲؍ گھنٹے محنت ومشقت کرنے کے بعد صرف ضرورت پوری کرپارہاہے۔ جس تیز رفتار سے دنیا ترقی کررہی ہے، اسی رفتار سے آمدنی گھٹ رہی ہے۔ پہلےایک آدمی کماتا تھا چار آدمی کھاتے تھے۔ آج چار آدمی کماتے ہیں پھر بھی کمی بیشی نظر آتی ہے۔
مومن ناعمہ عرفان( اسلام پورہ بھیونڈی تھانے)
معاشی عدم استحکام ایک بڑا مسئلہ ہے
آمدنی، خرچ اور پس اندازی کے درمیان توازن قائم کرنا متوسط طبقے کی ترجیحات میں شامل ہے اور وہ اس کے لئےہمیشہ جد وجہد کرتارہا ہے۔ ان تینوں کے اپنے حدود سے تجاوز کرنے یا عدم توازن کی صورت میں معاشی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس وقت اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ متوسط طبقے کی آمدنی گھٹی نہیں ہےتو بڑھی بھی نہیں ہےجس سے وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کم ہوتی حکومتی رعایات کا مقابلہ کر سکیں ۔ حکومت نے متوسط طبقے کی آمدنی کی فکر کئے بغیر ہر زمرے کی رعایت کو ختم کردیا ہے اور اوسط سے زیادہ دام وصول رہی ہے یا پرائیویٹ ہاتھوں میں سونپ دیا گیا ہے۔ معاشی عدم استحکام اس وقت متوسط طبقے کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آمدنی میں ٹھہراؤ اور مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے مستقبل کے لئے پس انداز کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے، یہ صورتحال متوسط طبقے کو پریشان کئے ہوئے ہے، کیونکہ یہ طبقہ نہ تو نچلے طبقے کی طرح سرکاری مراعات سے فائدہ اٹھانے کا اہل ہے اور نہ ہی دولت مندوں کی طرح بے تحاشہ خرچ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
سعید الرحمان محمد رفیق(گرین پارک روڈ، شیل تھانے)
متوسط طبقے کی خواہشات بڑھ رہی ہیں
انسان ہمیشہ ہی سے خواہشات كا مار ا رہا ہے۔ ہمیشہ اسی وجہ سے پریشان رہتا ہے۔ خواہشات روز جنم لتی ہیں۔ پہلے یا آج سے ۴۰-۳۰؍ سال پہلے کی آمدنی بہت کم تھی مگر اس آمدنی میں برکت اور سکون تھا۔ آج کا دور مختلف ہے۔ آمدنی زیادہ ہے اور پریشانی کم نہیں بلکہ زیادہ ہے۔ پہلے سائیکل تھی، ابھی موٹر سائیکل والا پریشان ہےکہ اگر کار ہوتی تو اچھا ہوتا، کار بھی اونچے ماڈل کی۔ موبائل پہلے سادہ تھا پھر اینڈرائڈ موبائل آگیا۔ اب ایک لاکھ کا مو بائل چاہئے۔ طبیعت مطمئن ہی نہیں ہوتی۔ انسان کی زندگی جتنی سادہ ہو گی، اتنا ہی سکون ہوگا۔ چھوٹے بزنس کرنے والے افراد اور مزدور کی آمدنی بہت کم ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ حکومت کو ٹیکس متوسط طبقہ زیادہ دیتا ہے، انکی زندگی میں سدھار لانا حکومت کا کام ہے۔ کمپنیوں کو حکومت نے بہت سہولیات دی ہیں اور مزدوروں کے حقوق نہایت کم ہیں ۔ مستقل ملازمت نہیں، کمپنی کب باہر کردے گی ؟بھروسہ نہیں ۔ چھوٹے کاروباری کی انکم کم ہوئی ہے۔ اب بڑے مال بن گئے ہیں اور آن لائن شاپنگ کا رجحان بڑھا ہے۔
شیخ عبدا لموحد عبدالرؤف(مہا پولی، بھیونڈی)
متوسط طبقے کی آمد نی ختم ہورہی ہے
متوسط طبقہ کومعاشی مشکلات کا سامنا کر نا پڑرہا ہے ، اس کی آمدنی نہ صرف گھٹ رہی ہے بلکہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ اس کی وجہ سے ہربرانڈ یڈ کمپنی چاہے وہ فوڈ پروڈکٹ کی ہو یا پھر کسی اور شعبےکے ضروری سامان کی اپنی فروخت کو متوازن کرنے اور رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسی طرح بینکوں میں گولڈ لون لینے والوں کے رجحان کو دیکھیں تو لوگ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لئے گولڈ لون کے قرض کے دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ ان تمام زمینی حقیقت کی سرکار کو خبر ہونے کے باوجود سرکار عوام کی راحت رسانی کے لئے کوئی بھی تدبیر، حکمت اور اقدام سے قاصر ہےیا وہ کوئی اقدام کرنا ہی نہیں چاہتی۔ اسی طرح امریکہ کی ٹریف کی مار سے مہنگائی اپنے عروج پر آئے گی۔ اس کا بھی کوئی علاج سرکار نہیں کررہی ہےجس کی سب سے زیادہ مار متوسط طبقہ پرہی پڑنے والی ہے۔ ایسے حالات میں متوسط طبقہ کی آمدنی گھٹ نہیں بلکہ ختم ہورہی ہے۔ اب پہلی اور آخری امید صرف اللہ سے رہ گئی ہے۔ سرکار تو ہر محاذ پر ناکام ہے۔
ہاشمی ابوالاعلیٰ(نیا پورہ، مالیگاؤں )
یہ تشویشناک صورتحال ہے
متوسط طبقہ (مڈل کلاس) کی آمدنی میں کمی اور اس طبقہ کا سکڑنا ایک تشویش ناک صورتحال ہے۔ اس کا گہرا اثر نہ صرف ان افراد کی زندگیوں پر پڑ رہا ہے بلکہ معیشت کی مجموعی صحت پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، مثلاً
روزگار کی کمی اور عدم استحکام:مڈل کلاس کی آمدنی میں کمی کی سب سے بڑی وجہ روزگار کے مواقع کی کمی ہے۔ دنیا بھر میں جدید ٹیکنالوجی، آٹومیشن اور گلوبلائزیشن کی وجہ سے روایتی صنعتوں میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوکریوں میں استحکام بھی کم ہو رہا ہے۔ بہت سے لوگ وقتی یا عارضی نوکریوں پر منحصر ہیں جن کی اجرتیں کم اور فوائد محدود ہیں۔
مہنگائی اور زندگی کے اخراجات: مہنگائی کا مسئلہ بھی ایک اہم عنصر ہے جو مڈل کلاس کی آمدنی پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ خوراک، صحت کی خدمات، تعلیم، اور رہائش جیسے بنیادی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو متوسط طبقےکیلئے مشکلات پیدا کر رہا ہے جس کی آمدنی بڑھ نہیں پا رہی ہے۔ جب قیمتیں بڑھتی ہیں اور اجرتوں میں اضافہ نہیں ہوتا، تو لوگوں کو اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات آتی ہیں، جس سے مڈل کلاس کی معیشت سکڑتی جا رہی ہے۔
اقتصادی عدم استحکام: کئی ممالک میں اقتصادی بحران یا کساد بازاری نے مڈل کلاس کو زیادہ متاثر کیا ہے۔ عالمی سطح پر بے روزگاری کی شرح، اسٹاک مارکیٹ کی گرانی اور کاروباری شعبے میں کمی کی وجہ سے لوگ اپنی مالی حالت کو سنبھالنے میں دشواری محسوس کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ پہلے کے مقابلے میں کم آمدنی والے طبقے میں شامل ہو رہے ہیں۔
غذائی اور دیگر ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ:خاص طور پر ہندوستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں خوراک اور ضروریات زندگی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ان ممالک میں ترقیاتی منصوبوں کی کمی یا حکومتی امداد میں کمی کی وجہ سے عوام کی خریداری کی طاقت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ مثلاً، تعلیم اور صحت کی سہولتیں جو کبھی مڈل کلاس کے لیے قابلِ رسائی تھیں، اب ان کی قیمتیں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ متوسط طبقہ انہیں برداشت نہیں کر پا رہا۔
مڈل کلاس کی ترقی کے مواقع کی کمی: جب معیشت سست روی کا شکار ہو تو اس کا اثر مڈل کلاس کی ترقی کے مواقع پر بھی پڑتا ہے۔ لوگوں کے پاس اس بات کا کم موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے کاروباری یا تعلیمی امکانات کو بڑھا سکیں۔ ترقی کے مواقع کی کمی انہیں محدود کر دیتی ہے اور وہ نچلے طبقے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مڈل کلاس کا دائرہ مزید سکڑتا جا رہا ہے۔
مڈل کلاس کی لووَر مڈل کلاس میں منتقلی: بہت سے افراد جو مڈل کلاس کا حصہ تھے، اب لووَر مڈل کلاس میں منتقل ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی آمدنی اتنی کم ہو چکی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے معیار کو برقرار نہیں رکھ پا رہے ہیں اور اس کے باعث وہ متوسط طبقے کی فہرست سے باہر ہو گئے ہیں۔ یہ منتقلی اکثر غیر متوقع اقتصادی جھٹکوں، روزگار کی کمی، اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے ہوتی ہے۔
مومن فیاض احمد غلام مصطفیٰ، (صمدیہ ہائی اسکول و جونیئر کالج)
مڈل کلاس اور نیچے جارہا ہے
متوسط طبقہ آج پریشان ہے۔ ان کی آمدنی گزشتہ ۱۰؍ سال سے ساڑھے۱۰؍ لاکھ سالانہ میں اضافہ نہیں ہورہا ہے۔ اضافہ ہوا بھی تو افراط زر کی وجہ سے پس انداز ہونے والی رقم کافور ہو جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بے روزگاری ا ور مہنگائی کی وجہ سے مڈل کلاس لووَر مڈل کلاس یا اس سے بھی نیچے جارہا ہے اور اس صورت حال کیلئے ذمہ دار روزگار کے مواقع کی کمی، آٹو میشن کے پیداکردہ مسائل، معیشت کی خستہ حالی اور مہنگائی سے زیادہ آج کی نسل کو میسر یہ دنیا ہے جو ان سے کچھ اور تقاضے کررہی ہے اور وہ اس لائف اسٹائل کو اپنانے میں بینکوں سے قرض لیتے ہیں۔ نئی نسل کے سامنے خواہشات کی لامحدود دنیا بچھا دی گئی ہے مگر آمدنی کے متنوع ذرائع انکے پاس نہیں ہے اور نہ ہی ان کے اندر قناعت اور صبر ہے۔ اگر انہیں قناعت کی زندگی گزارنے کا سلیقہ وشعور سکھائی جاتی تو کم آمدنی اور ایک تنخواہ میں خوش رہنے والا متوسط طبقہ خود کو آج بہت بے چین محسوس کرتے نظر نہیں آتے۔
ایم پرویز عالم نور محمد، رفیع گنج، بہار
دنیا بھر میں وطن عزیز کا ڈنکا بج رہا ہے !
حکومت کے بلند بانگ دعوے ہیں۔ بے شمار اشتہارات جن میں ترقی اور خوشحالی کی تصویریں شائع ہوتی ہیں۔ دنیا بھر میں ملک عزیز کا ڈنکا بج رہا ہے۔ ہمارا میڈیا دن بھر بس اس طرح کی خبریں چلاتا ہے کہ ہندوستان عالمی سطح پر ایک معاشی طور پر ترقی یافتہ ملک بن گیا ہے اور دنیا بھر کے لیڈران ہندوستان کی جانب حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا کے ذریعے خبریں پیش کرنے والے افراد جو تحقیقی ا عداد و شمارکے ذریعے معاشی بدحالی کا ذکر کرتے ہیں اور ثبوت کے طور پر کچھ ماہر معاشیات کی باتوں کو سامنے رکھتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کس پر یقین کریں۔ وہ میڈیا جس کے ذمے ملک کے حقیقی حالات پیش کرنے کی ذمہ داری ہے یا وہ لوگ جو بہت چھوٹے سے وسائل کے ذریعے اپنی بات رکھتے ہیں۔ ہر اس شخص کو سچائی کا پتہ لگانے میں وقت نہیں لگتا جو ذرا سی بھی عقل رکھتا ہو۔
ملک میں موجود امیر لوگوں کی آمدنی میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے ثبوت اس بات سے ملتے ہیں کہ آرائش وزیبائش کی مصنوعات، عالیشان مکانات یا بڑے شہروں میں کروڑوں کے فلیٹ اور مہنگی ترین کاروں کی فروخت میں تیزی آئی ہےجبکہ ایک عام آدمی جو متوسطہ طبقے سے تعلق رکھتا ہے اور وہ جن اشیا کا استعمال کرتا ہے ان کی فروخت میں کمی آئی ہے۔ پچھلے دنوں ہندوستان لیور لمیٹڈ کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے جو اعداد و شمارات پیش کئے گئے تو پتہ چلا کہ روزمرہ کی ضروریات کی اشیاء جو یہ کمپنی بناتی ہےا ور جن کا استعمال متوسط طبقے کے افراد کرتے ہیں۔ اس کے منافع میں بھاری کمی آئی ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ لوگوں کی قوت خرید کم ہوئی ہے۔
جی ایس ٹی کی وجہ سے مہنگائی بھری ہے۔ آپ اگر شاپنگ مال کے ڈپارٹمنٹ ( ڈی مارٹ وغیرہ ) اسٹور میں جاتے ہیں۔ جہاں آپ مہینے بھر کا راشن اور ضرورت کی اشیاء خریدتے ہیں۔ جب کاؤنٹر پر بل بھرنے کے بعد جو بل آپ کو ملتا ہے اسے غور سے دیکھنے کے بعد آپ کو پتہ چلتا ہے کہ۴؍ ہزار روپیوں کے اس بل میں آپ نے حکومت کو جی ایس ٹی کے طور پر تقریباً۷۰۰؍ روپے دیے ہیں وہ تو خیر ہو اس نظام کا کہ اپ کے ہاتھوں میں وہ پوری تفصیلات کا بل دیتے ہیں۔ اب ان حالات میں متوسطہ طبقہ کیا کرے گا۔ وہ تو دن بہ دن ٹیکس کے بوجھ تلے دبتے جا رہا ہے اورآمدنی بھی کم ہوتی جارہی ہے۔
ممتاز احمد شمشیر خان، ( سانتا کروز )
تنخواہ میں اضافہ لیکن گزربسر مشکل
ماضی کا زمانہ یاد کرتے ہیں کہ آج سے۴۵؍ سال قبل جب لوگوں کی تنخواہ کم ہوا کرتی تھی، مجھے یاد ہے میں ۱۹۶۸ء میں بمبئی کارپوریشن میں ملازمت کرتا تھا۔ اس وقت جونیئر کلرک کے طور پر کام کیا کرتا تھا اور اس وقت جو تنخواہ بہت کم تھی لیکن اس میں پورا ماہ سکون سے گزرتا تھا اور آج البتہ تنخواہوں میں اضافہ ہوگیا ہے مگر اس وقت یہ کیفیت ہے کہ متوسط طبقہ کے لئےگزرر بسر انتہائی مشکل ہوگیا ہےکیونکہ آج جس تیزی کے ساتھ ہر اشیائے ضروریہ کے دام آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، اسکول میں بچوں کے تعلیمی اخراجات حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ اسکول میں بیاضیں اور اس کے ساتھ اسکول وین کا خرچ بڑھ گیا ہے، اخراجات حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں اور آمدنی گھٹ چکی ہے، حالات اس قدر خراب ہیں کہ نجی دفاترمیں تو تنخواہیں وقت پر نہیں ملا کرتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ متوسط طبقہ کی آمدنی دن بہ دن گھٹتی جارہی ہے اور حکومت ہےکہ اس پر غور کرناضروری نہیں سمجھ رہی ہے۔
محمد زبیر فطرت( پنویل)
حالات دشوار گزار ہیں
ان دنوں کو جب ہم یاد کرتے ہیں کہ اس وقت اسکول میں فیس بہت کم تھی۔ ابا تنہا ملازمت کرتے تھے اور بڑی آسانی سے گھر کا خرچ پورا ہوتا تھا۔ اس زمانے میں متوسط طبقہ بڑے آرام سے زندگی بسر کیا کرتا تھا۔ آج اگرچہ تنخواہیں ضرور بڑھ گئی ہیں مگر اشیائے ضروریہ کے دام بڑھ چکے ہیں اور اس کی وجہ سے یہ کہنا پڑے گا کہ تنخواہیں ضروربڑھ گئی ہیں مگر آمدنی گھٹ چکی ہے۔ حالات دشوارگزار ہیں اور حکومت نے آج تک مہنگائی کو روکنے کے لئےکوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے، چیزوں کے دام پر کنٹرول نہیں کیا گیا ہے۔
محمد فوزان تنگیکر( پنویل)
مڈل کلاس سکڑرہا ہے
ہمارے ملک کا متوسط طبقہ ہمیشہ سے موضوع بحث رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں ایک رپورٹ سامنے آئی ہےجس میں مڈل کلاس کی آمدنی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق انڈین مڈل کلاس سکڑ رہا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ جو کل تک مڈل کلاس میں تھے، بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے مڈل کلاس سے نکل کر لووَر مڈل کلاس یا اس سے بھی نیچے جا رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا متوسط طبقے کی آمدنی گھٹ رہی ہے؟ تو اسکا جواب مثبت ہی ہوگا۔ کیونکہ کہ بعض سیاسی جماعتوں نے متوسط طبقہ کے نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار سے ہٹا کر انہیں `دھرم رکشا اور `گئو رکشا جیسے متعدد اہم کاموں میں مصروف کر رکھا ہے۔ اسی طرح مڈل کلاس کے نوجوانوں کو انکے سیاسی آقاؤں نے کانوڑ یاترا میں اس قدر مصروف کر رکھا ہے کہ َصرف چرس مل جانے سے ہی روزگار اور مہنگائی جیسے اپنے بنیادی مسائل کو بھول جاتے ہیں اور جلوس کے راستے میں سبز پرچم نظر آ جائے تو اسے اتار کر بھگوا پرچم لہرانے میں توانائی رائیگاں کرتے رہتے ہیں۔
افتخار احمد اعظمی(سابق مدیر ضیاء، مسلم یونیورسٹی علیگڑھ)
تمام طبقات میں بے چینی ہے
فسطائی نظریات کی حامل پارٹیوں کیلئے جب سے ملک پر حکومت سازی کی فضا سازگار ہوئی ہے، تمام طبقات کے لوگوں میں بے چینی بڑھتی جا ر ہےہے، کچھ خاص لوگوں کو خوش کرنے میں مصروف موجودہ حکومت کے اقدامات کے سبب ہر طبقے کے لوگوں کی آمدنی میں کافی کمی درج کی گئی ہے۔ چھوٹے موٹے کاروبار ہوں یا پرائیویٹ سیکٹر، کام کی کمی کے سبب وہ سب اپنے ورکروں کو نوکری سے فارغ کر ر ہے ہیں جسکی وجہ سے بے روزگاری دن بہ دن بڑھتی جار ہی ہے۔ مہنگائی کےآسمان سے باتیں کرنے کی وجہ سے اور کمائی کے گراف میں اضافہ نہ ہونے کے باعث لوگوں کی آمدنی، خاص کر متوسط طبقے کی آمدنی میں کافی گراوٹ دیکھنے کو مل ر ہی ہے۔ آئے دن نئے نئے حکومتی فرمان اور بچوں کی مہنگی تعلیم بھی آمدنی کے اضافے میں حائل ہے۔ اس کے علاوہ بہت دور تک بھی ایسے آثار نہیں آرہے ہیں کہ متوسط طبقہ اپنی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکے۔
محمد سلمان شیخ (تکیہ امانی شاہ، بھیونڈی)
ہر کوئی پریشان ہے
آج کے اس مہنگائی کے دور میں ہر کوئی پریشان ہے، چھوٹے کاروباری اور مڈل کلاس والوں کی آمدنی محدود ہوگئی ہے اور اخراجات زیادہ ہوگئے ہیں، اب تو یہ حالات ہوگئے کہ سارے اخراجات پورے ہوجائیں، یہی غنیمت ہے، ورنہ اس جیسے حالات میں ، متوسط طبقہ کا پراپرٹی بنانا اور بینک بیلنس کرنا، بہت مشکل نظر آتا ہے، کیونکہ اخراجات میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، آج کی نسل کفایت شعاری نہیں جانتی، اسے تو نیا لائف اسٹائل چاہئے۔ مہنگی بائک، مہنگی کار اور پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرنےمیں انہیں بے عزتی محسوس ہوتی ہے اور آج کل نئی نسل میں ڈھابہ اور مہنگے ریسٹورینٹ میں کھانا کھانے کا رجحان بڑھتا جارہا ہےاور سیرو تفریح کے نام پر بھی بہت پیسے لٹائے جاتے ہیں۔ آمدنی کم، خرچ زیادہ، یہی وجہ ہےکہ آج متوسط طبقہ پریشانیوں سے گھرا ہوا ہےاور آمدنی بڑھنے کے بجائے گھٹ رہی ہے، ہمیں کفایت شعاری کا سہارا لینا ہوگا، ورنہ مڈل کلاس سے لوور کلاس ہونے میں دیر نہیں لگے گی، آج جب قناعت کی بات آتی ہے تو کہتے ہے کہ ہم قناعت تو کرسکتے ہےلیکن ہمارے بچے قناعت کیسے کریں ؟ ان کی ہر خواہش پورا کرنا ہماری ذمہ داری ہے، ہم کماتے کس لئے ہیں ؟ بے جا خواہشات کو پورا کرنا بھی صحیح نہیں ہے، ان کی تربیت ایسی کریں کہ وہ کفایت شعاری کرنے لگیں۔
ایاز احمد قاسمی (مدنی مسجد وسئی پھاٹا)
متوسط طبقہ، غریب کے زمرے میں آنیوالا ہے
متوسط طبقہ کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہی وہ طبقہ ہے جو ہر چیز پر ٹیکس دیتا ہےاور معیشت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن شاید بہت جلد اب یہ طبقہ غریب کے زمرے میں آنے والا ہے کیونکہ حکومت کی ناکام اور کمزور پالیسیوں کے سبب متوسط طبقے کی آمدنی مسلسل گھٹ رہی ہے۔ آمدنی کی نسبت ` گرانی میں ہونے والا اضافہ عوام کی پریشانیوں کو مزید بڑھاتا جا رہا ہے۔ مہنگائی ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے لیکن لگتا ہے حکومت کو عام آدمی کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اپنے’ ذاتی ایجنڈا ‘ میں مصروف حکومت کو ابھی تک شاید پوری طرح اندازہ نہیں ہے کہ مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کیلئے بجلی کے بل ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔ میڈیاحکومت سے سوال کرنے کے بجاے اس کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن چکا ہے۔ ایسے میں خدشہ ہے کی ہمارا ملک کہیں دوسرا سری لنکا اور بنگلہ دیش نہ بن جائے کیونکہ پانی جب سر سے اونچا ہو جاتا ہے تب عوام قانونی اور غیر قانونی ، آئینی اور غیر آئینی کے بیچ کوئی بھی تفریق نہیں کرتے۔
رضوان عبدالرازق احمد قاضی( کوسہ، ممبرا)
ٹیکس ادا کرکے بھی اس طبقے کو کچھ نہیں ملتا
متوسط طبقہ آج کل شدید معاشی مشکلات کا شکار ہےکیونکہ اس کی آمدنی میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔ مہنگائی کی شرح کے ساتھ ہی ضروریات زندگی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے اس طبقے کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ یہ طبقہ وہ ہے جو محنت مزدوری کرتا ہے اور اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کیلئے سخت محنت کرتا ہے مگر اس کی آمدنی میں کوئی خاص بہتری نہیں آ رہی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس طبقے میں وہ لوگ آتےہیں جو باقاعدہ ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں اور ملک کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں مگر یہ بدقسمتی ہے کہ ان کے حصے میں کچھ نہیں آ رہا ہے جبکہ دوسرے لوگ، جو ٹیکسوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں یا جو قانونی طور پر اپنے حصے کی ادائیگی سے بچتے ہیں ، انہیں کوئی خاص مالی مشکلات کا سامنا نہیں ہوتا۔ آمدنی نہ بڑھنے اور اخراجات کےبڑھتےجانے سے اس طبقے کا معیارِ زندگی مسلسل گر رہا ہے۔
محمد کامل(منیجر آئی ٹی کمپنی، بھساول، جلگاؤں )
متوسط طبقہ ملک کی ریڈھ کی ہڈی ہوتا ہے
متوسط طبقے کی آمدنی روز بروز گھٹ رہی ہے۔ یہ مسئلہ صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی اثرات بھی رکھتا ہے۔ مڈل کلاس طبقہ کسی بھی ملک کی ریڈھ کی ہڈی ہوتا ہے اگر وہ دباؤ میں ہو تو پورا معاشرہ غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ اس مسئلہ کی ایک نہیں،کئی وجوہات ہے جن میں سب سے اہم مہنگائی میں اضافہ ہے۔ اشیائے ضروریہ جیسے بجلی، گیس اور تعلیم کے مد میں ہونےوالے اخرابات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہےجبکہ اس تناسب میں آمدنی نہیں بڑھتی۔ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ اکثر مڈل کلاس ہی کو زیادہ ٹیکس دینا پڑتا ہے جبکہ امیر طبقہ مختلف طریقوں سے ٹیکس بچا لیتا ہے۔ پہلے ایک پرائیویٹ اسکول ٹیچر کی تنخواہ۱۰؍ہزار روپے ماہانہ ہوا کرتی تھی جس سے وہ بچوں کی فیس، کرایہ اور راشن آسانی سے پورا کر لیتا تھا لیکن اب اس کی تنخواہ ماہانہ ۱۵؍ ہزار روپے ہو گئی ہے لیکن اب اخراجات کیلئے وہ قرض لینے پر مجبور ہوتاہے۔
مومن ناظمہ محمد حسن (لیکچرر ، ستیش پردھان گیان سادھنا کالج ، تھانے )
یہ ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے
وطن عزیز ہندوستا ن میں متوسط طبقے کو اتنا نچوڑا جا رہا ہے.... اتنا زیادہ نچوڑا جا رہا ہے ......کہ آ نے والے وقت میں شاید وہ مڈل کلاس کہلانے کے لائق بھی نہ رہے۔ روزمرہ کے سامان اور ضروریات زندگی کی چیزیں روز بروز مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔ متوسط طبقہ کی آمدنی بڑھے نہ بڑھے لیکن ٹیکس اور مہنگائی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہمارے ملک میں کل آبادی کا ایک چوتھائی یعنی تقریباً۳۰؍ کروڑ لوگ متوسط طبقہ سےتعلق رکھتے ہیں جو ٹیکس اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں متوسط طبقے کے پاس بچت تو دور کی بات ہے، ان کیلئے روز مرہ کی ضروریات کرنا بھی مشکل ہو تا جارہا ہے۔ اگر ایسا ہی رہا تو وہ دن دور نہیں ، جب مڈل کلاس کہلانےوالا یہ طبقہ ’پاپ کارن ‘ جیسی چھوٹی چیز تک خریدنےکی پوزیشن میں نہیں رہے گا۔
شیخ نسرین عارف(لیکچرر رابعہ ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج ، بھیونڈی)
متوسط طبقہ —موجودہ حالات کا سب سے بڑا شکار
ملک کا متوسط طبقہ آزادی کے بعد سےمسلسل آزمائشوں سے دوچار ہے۔ ہر نئی حکومت اسے ترقی و خوشحالی کے خواب دکھاتی ہے، لیکن عملی طور پر یہی طبقہ سب سے زیادہ معاشی دباؤ برداشت کرتا ہے۔ یہ طبقہ ٹیکس بھی ادا کرتا ہے، قانون کی پاسداری بھی کرتا ہے اور ملکی نظام کو سنبھالنے میں مرکزی کردار بھی ادا کرتا ہے مگر بدلے میں اسے نہ وہ مراعات ملتی ہیں جو امیروں کو دی جاتی ہیں ، نہ اسکیمیں ہوتی ہیں جو غریبوں کیلئے مخصوص ہوتی ہیں۔ مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ، روزگار کے مواقع میں کمی اور آمدنی کا جمود، یہ سب عوامل اس طبقے کو اندر سے توڑتے جا رہے ہیں۔ تعلیم، صحت، کرایہ، بل، راشن اور بچوں کی ضروریات جیسے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ آمدنی میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آتی۔ ایسے میں ایک باعزت زندگی گزارنا متوسط طبقے کیلئے روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کہنا اب غلط نہ ہوگا کہ متوسط طبقہ بتدریج غربت کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ایسے میں اگر حالات نہیں بدلے تو بعید نہیں کہ یہ خاموشی اب صدائے احتجاج میں بدل جائے۔ یہ خاموش طبقہ اب بیدار ہونے کو ہے۔
جواد عبدالرحیم قاضی(ساگویں ، راجاپور، رتناگیری)
یہ طبقہ صرف ٹیکس دیتا ہے، اسے کوئی مراعات نہیں ملتی
روز مرہ کی اشیائے ضروریہ کی آسمان چھوتی قیمتوں نے متوسط طبقے کی آمدنی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہ بات جگ ظاہر ہے کہ ہمارے ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس متوسط طبقہ ہی ادا کرتا ہےلیکن اسے حکومت کی جانب سے کوئی راحت نہیں ملتی۔ خورد و نوش کی اشیاء پر ٹیکس، دواؤں پر ٹیکس، غرض یہ کہ یہ طبقہ ٹیکس کے مایا جال میں بری طرح جکڑا جا رہا ہے۔ حکو مت اس طبقے کا خون چوس رہی ہے اور اور ارب پتی موج منا رہے ہیں۔ مالیاتی تنگی کی بنا پر یہ طبقہ روز بروز سکڑتا جا رہا ہے۔ اس کے پاس اخراجات کیلئے ر وپے نہیں ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ ملک کے سیاسی حالات نے اس طبقے کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔ فرقہ وارانہ ماحول اور مذہبی انتہا پسندی کا شکار بھی یہی طبقہ زیادہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف بینکوں ، کمپنیوں اور سرکاری ملازمت کرنے والوں کی تنخواہوں میں شاد و نادر ہی اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی روز بروز بڑ ھتی مہنگا ئی نے اس طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
زبیر احمد بوٹکے (نالا سوپارہ ، ویسٹ)
میاں بیوی دونوں کماتے ہیں لیکن گھر خرچ پورا نہیں کرپاتے
ایک وقت وہ تھا کہ گھر میں ایک شخص ملازمت کرتا تھا اور اس کی آمدنی سے پورے گھر کا خرچ پوراہوتا تھا مگر آج متوسط طبقہ کی آمدنی اتنی کم ہوگئی ہے کہ میاں بیوی دونوں کماتے ہیں اور ٹھیک سے ۲؍بچوں کا خرچ بھی نہیں سنبھال پاتے ہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ اب ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے۔
شکیل پٹھان( اولڈ پنویل )
متوسط طبقہ مہنگائی ااور بیروزگاری کے سبب پریشان ہے
متوسط طبقہ کہیں یا مڈل کلاس، یہ اعلیٰ طبقہ اور ادنیٰ طبقہ کے۲؍ پاٹوں کے درمیان پستا رہتا ہے۔ مڈل کلاس نچلے طبقہ کے ساتھ جانا نہیں چاہتا اور اعلیٰ طبقہ کے ساتھ اپنے آپ کو شامل کرکے فخر محسوس کرتا ہے۔ اعلیٰ طبقہ کے لائف اسٹائل ا پناتے اپناتے اخراجات کے دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ ان اخراجات کو پورا کرنے کیلئے اسے نجی اداروں یا بینکوں سے قرض لینے کی نوبت آجاتی ہے جس کی وجہ سے یہ طبقہ مزید پریشانی میں مبتلا ہوجاتاہے جس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ ۲۰۱۴ ء سے قبل حالات ایسے دگرگوں نہ تھے۔ مڈل کلاس کچھ نہ کچھ رقم پس انداز کر لیتا تھا لیکن لاک ڈاؤن ، نوٹ بندی اور مہنگائی کے سبب جمع پونجی بھی ختم ہوچکی ہے یا ختم ہوتی جارہی ہے اسلئے مستقبل میں اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دیتا ہے اس پر برسرِ اقتدار کو غور کرنے اور مثبت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں ترقی کی رفتار بہت تیز ہے۔ دنیاتیزی سے بدل رہی ہے۔ اسی طرح لوگوں کالائف اسٹائل بھی بدل رہا ہے۔ اس لائف اسٹائل کے پیچھے بھاگتے بھاگتے لوگ اندھے گڑھے میں گرتے جارہے ہیں۔ اس میں نوجوان طبقہ پیش پیش ہے۔ آج کا نوجوان تعیش پسند اور دکھاوے کا عادی ہے۔ انھیں مہنگے سے مہنگا موبائل چاہئے۔ پیدل چلنا انھیں گوارا نہیں اسلئے انھیں مہنگی سے مہنگی بائک چاہئے۔ اکثر حیثیت نہ ہونے کے باوجود کار خرید لیتے ہیں جو ہاتھی پالنے جیسا ہے۔ اس میں پیٹرول، ڈیزل اور اس کا خرچ کمر توڑ دیتا ہے۔ ہمارے اجداد قناعت پر تکیہ کیا کرتے تھے لیکن آج کانوجوان طبقہ اس لفظ سے بھی مانوس نہیں ہے۔ مذکورہ بالا اسباب کے علاوہ بیروزگاری، مہنگائی، افراطِ زر، معیشت کی خستہ حالی بھی مڈل کلاس کی پریشانی اور بدحالی کی ذمہ دار ہے۔ اسلئے مڈل کلاس تیزی کے ساتھ لوور مڈل کلاس کی جانب گامزن ہے۔
ملک مومن(سبکدوش معلم، بھیونڈی)
نوٹ بندی ہی سے یہ طبقہ روبہ زوال ہے
جی ہاں ، متوسط طبقے کی آمدنی گھٹ رہی ہے۔ ۲۰۱۴ء سے پہلے ایسے حالات نہیں تھے۔ سب سے پہلے نوٹ بندی ہوئی ، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے چھپی ہوئی بلیک منی باہر آئے گی۔ یہی وہ طبقہ تھا جو گھنٹوں قطار میں کھڑے رہ کر بینکوں سے نوٹ تبدیل کیا۔ امیروں کو گھر بیٹھے مطلوبہ نوٹ مل رہے تھے۔ ایک بار پھر جی ایس ٹی کا تکلیف دہ مرحلہ آیا۔ کورونا کے دور میں معاشی پریشانیوں کا شکار یہی طبقہ ہوا۔ ایک لمبے وقت تک گھروں میں رہنے کی وجہ سے لوگوں کے کام چھوٹ گئے اور تجارت ٹھپ ہو گئی۔ اس دوران امیر طبقہ( دوا فروش اور کھانے پینے کی اشیاء کا ذخیرہ کرنےوالا)من مانی قیمتوں میں سامان بیچ کر خوب کمایا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سرکار کچھ قرض معاف کرتی، الٹا مزدوروں کے ۱۸؍ مہینوں کی رقم روک لی ، یہ کہتے ہوئے کہ کورونا کال میں حکومت کا خزانہ خالی ہو گیا۔ ان سب کا اثردرمیانی طبقہ پر اس قدر ہوا کہ ابھی تک یہ طبقہ سنبھل نہیں پایا ہے۔
مرتضیٰ خان (نیا نگر، میرا روڈ ، تھانے)
متوسط طبقے کا مسلسل استحصال کیا جارہا ہے
یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ ہندوستان میں متوسط طبقے کی آمدنی روز بروز کم ہوتی جا رہی ہیں۔ آمدنی میں کمی کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ کووڈ کے بعد عالمی سطح پر چھائی مندی بھی ایک اہم وجہ ہے۔ اُس دوران کئی لوگوں نےاپنے روزگارکو کھودیا تھا۔ اس کے علاوہ مرکز ی حکومت کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیاں اور عوام کی فلاح و بہبود سے کی جانے والی چشم پوشی بھی ایک اہم وجہ ہے۔ متوسط طبقے کو راحت دینے کے بجائے اُن کا استحصال کیا جارہا ہے۔ اپنے دوست تجارتی گھرانوں کو فائدہ پہنچانےکیلئے عوامی ضروریات جیسے اناج ، گیس، پیٹرول ، ڈیزل اور کپڑوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا جارہا ہے۔ اس اضافے نے متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ٹیکس وصول کرنے کی غلط پالیسی نے بھی متوسط طبقے کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ متوسط طبقے کو بچانے کیلئے حکومت کو اپنی پالیسیوں میں ترمیم کرنی ہوگی۔
اسماعیل سلیمان (کرہاڈ خرد ، پاچورہ جلگاؤں )
مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے ہندوستان میں متوسط طبقہ مسلسل سکڑتا جارہا ہے
حال ہی میں پیو ریسرچ سینٹر اور رائٹرز جیسے معتبر اداروں کی رپورٹس نے اس اندیشے کو حقیقت کا جامہ پہنا دیا ہے کہ صرف۲۰۲۰ء میں ہندوستان کا مڈل کلاس طبقہ۳ء۲؍ کروڑ افراد تک سکڑ گیا، جبکہ نومبر۲۰۲۴ء کی رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق خوراک کی مہنگائی نے اس طبقے کی قوتِ خرید کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ اس طبقے کے نوجوان تعلیم یافتہ تو ہیں لیکن ان کے پاس ملازمتیں نہیں ہیں۔ مڈل کلاس کا بحران صرف مالی نہیں ، جذباتی اور سماجی بھی ہے۔ اسے نہ تو سرکاری مراعات ملتی ہے، نہ ہی اس کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ بچوں کی خواہشات، سوسائٹی کا دباؤ اور روزمرہ کی ضروریات نے اس طبقے کو کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کسی قوم کا مڈل کلاس دباؤ میں آتا ہے تو اس کا اثر پوری معیشت پر پڑتا ہے۔ صارفین کی قوتِ خرید کم ہونے لگتی ہے، بچت کا رجحان کمزور ہو جاتا ہے اور تعلیم کے ساتھ ہی و صحت کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے۔ یہ سب طویل مدتی طور پر ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کی پالیسیوں میں اس طبقے کیلئے نہ کوئی ریلیف ہے، نہ کوئی واضح روڈ میپ۔ سبسیڈی ختم، ٹیکس میں اضافہ اور افراطِ زر کا زور، ان سب نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس میں مڈل کلاس کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ ’کیا متوسط طبقے کی آمدنی گھٹ رہی ہے؟‘بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس طبقے کو سنبھالا جا سکتا ہے؟ اگر حکومت واقعی مڈل کلاس کو بچانا چاہتی ہے تو اسے تعلیم، صحت، روزگار اور رہائش کے میدان میں مخصوص پالیسیاں بنانی ہوں گی۔
آصف جلیل احمد (چونابھٹّی، مالیگاؤں )
متوسط طبقے کی آمدنی میں کمی ایک بڑااقتصادی مسئلہ ہے
متوسط طبقے کی آمدنی میں کمی سے نہ صرف اس طبقے کے افراد متاثر ہورہے ہیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی سنگین اثرات مرتب کر رہا ہے۔ متوسط طبقہ وہ ہے جو نہ تو انتہائی غریب ہوتا ہے، نہ ہی انتہائی امیر۔ یہ لوگ اپنی روزمرہ کی ضروریات جیسے خوراک، رہائش، تعلیم اور صحت کی خدمات کو پورا کرنے کے قابل ہوتے ہیں مگر ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ اپنی جائز خواہشات کی تکمیل کر سکیں۔ مختلف ممالک میں متوسط طبقے کی مختلف تعریفیں ہو سکتی ہیں مگر عمومی طور پر اس میں وہ افراد شامل ہوتے ہیں جن کی آمدنی ایک مخصوص حد تک ہوتی ہے جو نہ بہت کم اور نہ بہت زیادہ ہو۔ ہمارے یہاں متوسط طبقے کی آمدنی میں کمی کا بنیادی سبب مہنگائی ہے۔ خوراک، توانائی اور صحت کی خدمات جیسے بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے سے اس طبقے کا بجٹ بگڑ جاتا ہے۔ ایسے میں حکومتوں کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرسکیں۔ حکومتوں ، کاروباری اداروں اور افراد کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ متوسط طبقے کی مالی حالت کو بہتر بنایا جا سکے اور معاشی ترقی کیلئے ایک مضبوط بنیاد رکھی جا سکے۔ حکومتوں کو معاشی اصلاحات پر بھی توجہ دینی ہوگی۔
حافظ افتخاراحمدقادری(کریم گنج، پورن پور، یوپی)
اس ہفتے کا عنوان
آپ جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں کس قسم کی سیاسی ریشہ دوانیاں جاری ہیں۔ ’’مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو؟‘‘ اس موضوع پر اَب سے ۲۰؍ برس، ۳۰؍ برس حتیٰ کہ ۵۰؍ برس پہلے بھی بحث و مباحثہ ہوا ہے۔ اس کے باوجو د حالات نہیں بدلے بلکہ پہلے سے زیادہ خراب ہوئے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ:
خود کو سنوارنےکی حکمت عملی کیا ہوسکتی ہے؟
اس موضوع پر آپ دو تین پیراگراف پر مشتمل اپنی رائے لکھ کر انقلاب کے نمبر (8850489134) پرمنگل کو شام ۸؍ بجے تک وہاٹس ایپ کر دیں۔ منتخب تحریریں ان شاء اللہ اتوار (۲۰؍اپریل) کے شمارے میں شائع کی جائیں گی۔
کچھ تخلیقات کل اور پرسوں کے شمارے میں شائع ہوں گی۔
نوٹ: براہ کرم اپنی تحریر کے ذریعہ قارئین کو ایسے مشورے دیں جن پرعمل آسان ہو اور جن سے کثیر جہتی سماج میں مسلمانوں کی پہچان بدلی جاسکتی ہو۔ (ادارہ)