افراد سے بننے والا اچھا اور مثالی معاشرہ با اثر شخصیات متاثر کن رہ نما پر منحصر ہے۔ معاشرے کے افراد ایسی شخصیات سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کے قول و عمل کو دیکھتے اور پرکھتے ہیں، پھر اسے اپنے لئے رول ماڈل بناتے ہیں
EPAPER
Updated: December 04, 2020, 12:21 PM IST
|
Muhibullah Qasmi
افراد سے بننے والا اچھا اور مثالی معاشرہ با اثر شخصیات متاثر کن رہ نما پر منحصر ہے۔ معاشرے کے افراد ایسی شخصیات سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کے قول و عمل کو دیکھتے اور پرکھتے ہیں، پھر اسے اپنے لئے رول ماڈل بناتے ہیں افراد سے بننے والا اچھا اور مثالی معاشرہ با اثر شخصیات متاثر کن رہ نما پر منحصر ہے۔ معاشرے کے افراد ایسی شخصیات سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کے قول و عمل کو دیکھتے اور پرکھتے ہیں، پھر اسے اپنے لئے رول ماڈل بناتے ہیں۔اگر معاشرے میں مثالی اورمتاثر کن شخصیات نہ ہوں، جنھیں دیکھ کر خدا یاد آئے اور ان کی باتوں سے لوگ متاثر ہوکر اپنے اعمال و کردار پر توجہ دینے لگیں اور ان کے رویے سے متاثر ہوکر اپنے احوال و معاملات درست کرنے کی طرف راغب ہوں تومعاشرہ پرامن اور خوش حال نہیں رہتا، وہ اخلاق کے اس معیار کو حاصل نہیں کر پاتا جو ایک اسلامی اور مثالی معاشرے کے لئے ضروری ہے۔
اب سوال پیدا ہوگا کہ ایسا شخص کہاں سے آئے گا ؟یا ایسے افراد کہاں ملیں گے؟ تو یاد رکھیں کہ ایسے افراد کسی دوسری دنیا سے نہیں آتے بلکہ وہ سماج کا ہی حصہ ہوتے ہیں۔اس امت کو خیر امت کہا گیا ہے ،جو امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے کے لئے ہی برپا کی گئی ہے۔ چوں کہ مومنین مخلصین و مصلحین کے سامنے زندگی کا ایک نصب العین ہوتا ہے، جو انسانی زندگی کے مقصد حیات کو سمجھتے ہیں، انھیں اسلامی تعلیمات کا نہ صرف علم ہوتا ہے بلکہ وہ ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ وہ صرف فلسفیانہ گفتگو کے قائل نہیں ہوتے بلکہ انھیں علم و عمل کے امتزاج کا پورا اداراک ہوتاہے، انھیں اس بات کا شعور ہوتا ہے کہ علم، عمل کیلئے ہی ہے۔ ان خوبیوں کو نکات کی شکل دی جائے جو متاثرکن شخصیت کیلئے ضروری ہیں تو انھیں چند حصوں میں تقسیم جا سکتا ہے:
خلوص و للہیت
پہلی چیز خلوص ہے۔ کوئی بھی انسان اس وقت تک متاثر کن شخصیت نہیں بن سکتا یا وہ لوگوں میں تاثیر پیدا نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ اپنے عمل میں مخلص نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں تمام اعمال کا درومدار نیتوں پر رکھا گیاہے ، اس کا مقصد ہی یہی ہے کہ انسان اپنی نیت درست کرےتاکہ اس کا جوبھی عمل ہو وہ خالص ہواور اللہ کے لئے ہو۔ اس میں کسی طرح کی ریا و نمود کی آمیزش نہ ہو۔مثلاً دوستی ایک فطری اور جذباتی عمل ہے ۔ لوگ خوب دوستی کرتے ہیں، مگر کیا اس دوستی میں خلوص ہے؟ کیا وہ کسی کا دوست ہونے کی بنا پر اس کا خیرخواہ ہے؟ اس کا رازدار ہے؟یا یہ دوستی صرف ایک دکھاواہے، جس میں نفرت و عناد پوشیدہ ہے؟اسی طرح پڑوسی سے دعا سلام ہے، میل جول ہے،مگر کیا اس میں خلوص ہے ؟ یا محض رسماً اداکئے جانے والے بول ہیں۔اگرسلام میں خلوص ہے تو مسلمانوں کا باہمی رشتہ مضبوط ہوگااوروہ آپس میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند ہوں گے۔ کیوں کہ سلام باہمی محبت کی بنیاد ہے ۔
اسی طرح ایمانی اخوت اور باہمی تعلقات کے متعلق اسلام نے یہ وضاحت کی ہے کہ ان تعلقات کی بنیاد ایمان اور للہیت پر ہے،اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اہل ایمان باہم اللہ کی خاطر آپس میں محبت کریں گے اور ایک دوسرے کے مخلص و خیرخواہ ہوں گے۔ایسے لوگ نہ صرف دنیا میں متاثر کن ہوتے ہیں بلکہ روز قیامت عرش الٰہی کے سایے میں ہوں گے۔ جب کہ الفت و محبت کا دکھاوا کرنے والا شخص اور دل میں بغض و نفرت پالے ہو وہ متاثر کن نہیں ہوسکتا ۔
انکساری وخیرخواہی
انسان کی شخصیت کو نکھارنے اور اسے متاثر کن بنانے میں تواضع و انکساری اور خیر کا اہم کردار ہے۔ انسان جب سامنے والے کو دیکھتاہے کہ وہ دوسروں کا احترام کرتا ہے، اس کے ساتھ بڑے پیار اور محبت بھرے انداز میں مسکراتے ہوئے تواضع کے ساتھ ملتا ہے ۔ اسے اپنے علم و عمل اور تقویٰ کا غرور نہیں ہے۔ کوئی بھی اسے دعوت دے وہ انکارنہیں کرتا، مصیبت و پریشانی میں آواز دے وہ لبیک کہتا ہے۔ کوئی کچھ معلوم کرنا چاہے تو وہ اسے بڑے پیار سے سمجھاتا ہے۔ پڑوس میں کوئی بیمار ہو تو اس کی عیادت کو جاتا ہے، کسی کے گھر میں کوئی خوشی کا ماحول ہو تو اسے مبارک باد پیش کرتاہے، حتی الامکان ضرورت مندوں کی ضرورتیں بھی پوری کرتاہے۔اس کے اس رویے سے لوگ اس کے قریب آتے ہیں ۔ پھروہ اصلاح و تربیت کا کام انجام دے تو اس کی باتیں باوزن ہوتی ہیں ۔ اس طرح اللہ تعالی معاشرے میں اسے ایک بلند مقام عطا کر تا ہے،جو درحقیقت اس حدیث کا مصداق ہے:’’جس نے اللہ کے لئے تواضع و انکساری کی روش اختیار ی ہے ۔ اللہ تعالی نےاسے بلندی عطا کی ہے۔‘‘(مسلم)
قول و عمل میں یکسانیت
ہر دور میں اس بات کی بڑی اہمیت رہی کہ بندہ جو کہتا ہے، خود بھی اس کا خیال رکھتا یابڑی حد تک اس کی پابندی کرتا ہےیا نہیں ؟ اگر وہ صرف لوگوں کو نصیحتیں کرتا ہے، اصلاح و تربیت پر زور دیتا ہے اور بڑی بڑی باتیں کر تا ہے۔ مگر عملی طور پر اس کا معاملہ بالکل برعکس ہے تو اس کی باتوں کا وہ اثر نہیں ہوتا جس سے لوگوں کے دل عمل کی طرف مائل ہوں۔یہی وجہ ہے کہ اس دور میں مصلحین و مربین کی بڑی تعداد میں یہ کوتاہیاں آ گئی ہیں۔ نتیجہ معاشرہ میں اس کی اصلاح و تربیت کا وہ اثر نہیں دکھائی دے رہا ہے ، جو ہونا چاہیے تھا۔ اسی لئے قرآن پاک میں ایسے شخص کی بڑی سخت سرزنش کی گئی ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
’’تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو ، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ۔ کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے؟‘‘ (البقرۃ:۴۴)
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟‘‘ (الصف:۲)
اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ لوگ اپنی عملی کوتاہیوں کے سبب اصلاحی کوششوں کو چھوڑ دیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ عملی میدان میں بھی وہ نمونہ بن کر ابھریں تاکہ لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہو کہ بندے کی باتیں ہی نہیں ہیں بلکہ وہ عملی طور پر بھی اس کی گواہی دے رہے ہیں کہ انھوں نے جو کہا ہے اور معرفت خدا وندی کی بات کی ہے۔
حکمت و دانائی
حکمت و دانائی اہم چیزوں میں سے ایک ہے۔ اللہ نے اس کی اہمیت بتاتے ہوئے فرمایا
’’اور جس کو حکمت ملی ، اسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی ۔‘‘(البقرۃ:۲۶۹)
حکمت کو مومن کی گم شدہ چیز سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مومن کو نادانی اور بے وقوفی کا عمل زیب نہیں دیتا ۔اسی لئے اس کے ہر عمل میں حکمت جھلکتی ہے۔ عام گفتگو سے لے کر بڑے سے بڑے معاملات تک کوئی عمل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ تمام چیزوں میں حکمت و دانائی تلاش کرتا ہے، اسکے ذریعہ معاملہ فہمی پر زور دیتا ہے اس لئے وہ صرف ظاہری چیزوں سے متاثر نہیں ہوتا۔