• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

عالمی عدالت کا گرفتاری وارنٹ

Updated: March 18, 2023, 10:30 AM IST | Mumbai

بظاہر یہ لطیفہ معلوم ہوتا ہے مگر اسے لطیفہ نہیں سمجھنا چاہئے۔ خبر ہے کہ عالمی عدالت نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا ہے۔ پوتن کا جرم کیا ہے

photo;INN
تصویر :آئی این این

 بظاہر یہ لطیفہ معلوم ہوتا ہے مگر اسے لطیفہ نہیں سمجھنا چاہئے۔ خبر ہے کہ عالمی عدالت نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا ہے۔ پوتن کا جرم کیا ہے؟ یوکرین میں جنگ کے سبب پیدا ہونے والے حالات انہی کے پیدا کردہ ہیں۔ یہ عالمی عدالت کا کہنا ہے۔ 
 کیا پوتن کو گرفتار کیا جاسکتا ہے؟ اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ اگر عالمی عدالت یعنی آئی سی سی کوئی وارنٹ جاری کرے تو اس پر عملدرآمد کی ذمہ داری لوکل پولیس کی ہوتی ہے۔ پوتن کے معاملے میں لوکل یعنی روسی پولیس۔ یہ کتنا مضحکہ خیز ہے کہ ایک ملک کی پولیس اُسی ملک کے کسی شہری کو گرفتار کرے۔ اگر شہری بااثر شخصیت ہے تو کون اتنی جرأت کرےگا کہ اُس کے دروازے پر دستک دے، عالمی عدالت کا اریسٹ وارنٹ دکھائے اور اُسے باہر نکال کر گرفتاری کی کارروائی پوری کرے؟ اسی لئے بظاہر یہ گرفتاری وارنٹ جو عالمی عدالت نے جاری کیا ہے، لطیفہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر اتنی جلدی اسے لطیفہ سمجھ لینا ٹھیک نہیں ۔
 ولادیمیر پوتن کے خلاف جاری کئے گئے وارنٹ کا ایک مطلب ہے روسی صدر مجرم ثابت ہوچکے ہیں۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب بھی اُن کا نام لیا جائے گا عالمی عدالت کا حکم یاد آئے گا، تیسرا مطلب یہ ہے کہ پوتن خود کو دودھ کا دھلا نہیں سمجھ سکتے۔ اس کا کوئی چوتھا اور پانچواں مطلب بھی ہوسکتا ہے مگر ہم اتنی تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ اس وارنٹ کے بعد پوتن کی ’’نیک نامی‘‘ متاثر ہوگی مگر جب اُن کے خلاف کوئی عملی کارروائی نہیں ہوگی، اُنہیں سزا نہیں ملے گی اور اُن کی صحت پر معمولی سا بھی فرق نہیں پڑے گا تو کیا اس کی وجہ سے عالمی عدالت کی نیک نامی (ساکھ) متاثر نہیں ہوگی؟ 
 ویسے، یہ وارنٹ کئی سوال پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر کیا خلیجی جنگ کیلئے بش سینئر اور افغانستان اور پھر عراق پر جنگ تھوپنے کیلئے بش جونیئر کے خلاف وارنٹ جاری ہوا؟ ان دونوں جنگو ںمیں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر پامالی ہوئی۔ عراق جنگ کا یہ جواز پیش کیا گیا تھا کہ ا س ملک میں نیوکلیائی اسلحہ کا ذخیرہ ہے۔ جنگ جیسی جنگ ہوئی مگر نیوکلیائی ہتھیار برآمد نہیں ہوئے۔ دراصل یہ ایک جھوٹ تھا جس کی بنیاد پر عراق کو تہس نہس کردیا گیا اور وہاں کی عوامی حکومت کو معزول کیا گیا۔ کہاں تھی عالمی عدالت اُس وقت؟
 پرانی باتوں کو درمیان میں نہ لایا جائے تب بھی یہ سوال جواب چاہتا ہے کہ کیا یوکرین جنگ کیلئے صرف پوتن ذمہ دار ہیں؟ ابتداء میں اس کالم میں بھی پوتن کو یوکرین پر جنگ مسلط کرنے کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا مگر بعد میں یہ راز فاش ہوا کہ پوتن نے بھلے ہی جنگ شروع کی ہو، اس آگ کیلئے ایندھن مغربی ممالک فراہم کررہے ہیں جن کا مقصد روس کو کمزور کرنا ہے۔ 
 یوکرین میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ روس سے ایک آدھ ہفتے سے زیادہ لڑ پاتا مگر مغربی ملکوں نے اس کی ہر ممکن مدد کی جو آج بھی جاری ہے۔ جن ملکوں کو مصالحت کروانی چاہئے تھی، بحالی ٔ امن کی کاوشیں کرنی چاہئے تھیں، وہ فریق بن گئے۔ اس کی وجہ سے پوری دُنیا متاثر ہے۔ کئی ملکوں کی حالت دگرگوں ہے۔ اس کے باوجود مغربی ممالک اب بھی یہی چاہتے ہیں کہ یوکرین ڈٹا رہے۔ ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر نے کے بعد بھی جنگ جاری ہے جو بڑھ سکتی ہے۔ وارنٹ جاری کرنے سے بہتر تھا کہ عدالت مصالحتی راستہ نکالنے کا حکم دیتی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK