سنگھ پریوار کی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے اطمینانی نے حال ہی میں ’کاکروچ موومنٹ‘کی شکل اختیار کر لی ہے، اس تحریک نےعارضی طور پر ہی سہی ملک میں ’منتخب ڈکٹیٹر‘ کا خوف کم کردیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 5:08 PM IST | Professor Ram Puniyani | Mumbai
سنگھ پریوار کی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے اطمینانی نے حال ہی میں ’کاکروچ موومنٹ‘کی شکل اختیار کر لی ہے، اس تحریک نےعارضی طور پر ہی سہی ملک میں ’منتخب ڈکٹیٹر‘ کا خوف کم کردیا ہے۔
ملک کی آزادی ہمارے لوگوں کی برطانوی مخالف عوامی جدوجہد کی ایک یادگار کامیابی تھی۔ آزادی کی جدوجہد میں تمام مذاہب، ذات، جنس اور زبان کے لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ آزادی، مساوات، بھائی چارے اور سماجی انصاف کی اقدار اس جدوجہد میں ہمارے رہنما اصول تھے۔ بھگت سنگھ جیسے لوگوں نے ذات پات اور طبقاتی حدود سے بالاتر ہوکر تمام لوگوں کے حقوق اور آزادیوں پر زور دیا تھا۔ امبیڈکر نے ذات اور طبقے کی رکاوٹوں کو توڑنے اور سب کیلئے برابری (سماجی انصاف) کے حصول کو بہت اہمیت دی تھی۔ اور جدوجہد کے سب سے اہم رہنما گاندھی نے بھائی چارے پر زور دیا تھا۔ نئے ابھرتے ہوئے طبقے، صنعتکار، تاجر، مزدور، خواتین اور قبائل نے ان تمام رہنماؤں کی حمایت کی تھی۔ ان تینوں عظیم رہنماؤں نے جدید ریاست کے تین اہم ستونوں کی نمائندگی کی اور آزاد ہندوستان پر گہرا اثر ڈالا۔ تحریک آزادی کی یہ اقدار ہندوستانی آئین کی بنیاد ہیں۔
صنعت کاری، مواصلات کی ترقی اور جدید تعلیم سے بااختیار، نئے ابھرتے ہوئے طبقے نے ایک ایسے ملک کا خواب دیکھا جہاں جامع قوم پرستی کے ذریعے امن اور ترقی کو یقینی بنایا جائے۔ موٹے طور پر دیکھا جائے تو یہ ملک کی طبقاتی تقسیم تھی، حالانکہ اس میں کچھ مستثنیات تھے۔ جدید ہندوستان کی چمپئن بننے والی ان قوتوں کی مخالفت سماج کے زوال پذیر طبقات بشمول سابق راجاؤں، نوابوں اور زمینداروں اور سماج کے غالب طبقے نے کی، جو ذات پات اور جنس کی بنیاد پر جاگیردارانہ اقدار پر یقین رکھتے تھے۔ ان طبقوں میں طبقاتی نظام کا اثر بہت گہرا تھا، اور انہوں نے اس دور کی تعریف کی جب راج شاہی اور جاگیردارانہ اقدار غالب تھیں۔ ان طبقوں کے زیادہ تر اراکین نے تحریک آزادی کی مخالفت کی اور ہندوستان کے قدیم ’شاندار ماضی‘ کی شان میں قصیدہ خوانی کی۔
انہوں نے آگے بڑھتے ہوئے بھی پیچھے کی طرف جانے کے طریقے وضع کئے۔ یہ ہتھکنڈے جاگیرداروں، راجاؤں اور دوسروں کے ذریعے آتے تھے۔ وہ مزدوروں، دلتوں، عورتوں اور قبائلیوں کی آوازوں سے ڈرتے تھے۔ وہ اپنے اپنے مذاہب کے حکمرانوں اور اپنے عہد کی سماجی اقدار کو بہترین سمجھتے تھے۔ مسلم لیگ کو بنیادی طور پر نوابوں اور جاگیرداروں کی حمایت حاصل تھی، جبکہ ہندو مہاسبھا (آر ایس ایس) کو راجاؤں، جاگیرداروں اور پجاری طبقے کی حمایت حاصل تھی۔ یہ دونوں طبقے جمہوری معاشرے کی ابھرتی ہوئی اقدار، جدید تعلیم تک عالمی رسائی اور انگریزوں کے خلاف جدوجہد کے مخالف تھے۔ وہ مذہب کو قوم کی بنیاد سمجھتے تھے، یہ نظریہ ساورکر نے اپنی کتاب ’ہندوتوا آر ہو از اے ہندو‘ میں بیان کیا ہے۔ یہ دونوں رحجانات قومی تحریک کی انگریز مخالف جدوجہد کے مخالف تھے جو کہ انتہائی افسوسناک تھا۔ مذہب کی بنیاد پر ملک کی تقسیم ہندوستانی قوم پرستی کو سب سے بڑا دھچکا تھا۔
دستور ساز اسمبلی نے ملک کے تنوع کی نمائندگی کی۔ امبیڈکر، جنہوں نے منوسمرتی کو جلایا تھا، کو آئین کا مسودہ تیار کرنے والی اہم کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔ آئین کا مسودہ تیار ہونے کے فوراً بعد، آر ایس ایس کے ترجمان، ’آرگنائزر‘ نے آئین پر اس بنیاد پر سخت تنقید کی کہ اس میں منوسمرتی کی قدیم اقدار کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ ان عناصر نے امبیڈکر اور نہرو کی تصویروں کو جلایا۔
یہ بھی پڑھئے: ہمارا تعلیمی نظام : یہ کہاں آگئے ہم ؟
آزاد ہندوستان کی قیادت گاندھی جی کے دو سخت گیر پیروکار نہرو اور پٹیل نے کی۔ سردار پٹیل نے زیادہ تر شاہی ریاستوں کو کامیابی کے ساتھ ہندوستان میں ضم کیا جبکہ نہرو نے آئین کی دفعات کی پابندی کو یقینی بناتے ہوئے جدید ہندوستان کے خواب کی تعبیر کیلئے بنائے گئے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا۔ ’ایک شخص، ایک ووٹ‘ کے اصول کو کامیابی کے ساتھ نافذ کیا گیا، اور جمہوریت اور سیکولرازم پر نہرو کے گہرے یقین نے، جو کہ ایک طرح سے جڑواں ہیں، نے ملک میں جمہوریت کی گہری جڑوں کو یقینی بنایا۔
جدید تعلیم (آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور ایمس وغیرہ) پر نہرو کے زور، پبلک سیکٹر اور آبپاشی کی سہولیات کی تخلیق، اور ریزرویشن پالیسی کے نفاذ نے سماج میں برابری کی فضا ہموار کی۔ چند مبصرین نے چند دہائیوں قبل ہندوستان اور پاکستان کی صورتحال کا موازنہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا تھا کہ تعلیم اور صنعت کاری کے شعبوں میں ہندوستان کی کامیابیوں اور پاکستان کی ناکامیوں کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن ایک اہم وجہ جواہر لال نہرو کی قیادت تھی۔
پچھلی چند دہائیوں میں ہندوستانی دائیں بازو کے عروج کے ساتھ، آر ایس ایس اور اس کے ساتھیوں نے ملک کی سمت اور اہداف کو بدل دیا ہے۔ تحریک آزادی کے دوران ابھرنے والے ’’آئیڈیا آف انڈیا‘‘ کو کمزور کرتے ہوئے ہندو ازم کے نام پر من مانی سیاست کھیلی جارہی ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے تحریک آزادی کے دوران اپنا گھر بار نہیں چھوڑا اور آزادی کی لڑائی، ملک میں جامعیت اور مساوات کے اقدار کی مخالفت کرتے رہے، اب ملک پر قابض ہیں، جس کی وجہ سے ملکی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عمر خالد کے نام دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر وجیندر چوہان کا کھلا خط
مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلائی جا رہی ہے، ہمارے معاشرے سے بھائی چارے کا جذبہ ختم ہو رہا ہے۔ امتحانی نظام کی ناکامی کے خلاف تحریک کی حالیہ کامیابی نے موجودہ حکومت کے تکبر کو کسی حد تک ضرور توڑا ہے لیکن ہندوتوا قوم پرستوں کی سمت اور اہداف جوں کے توں ہیں۔ ہمارے ملک کی جمہوری روح اور ہندوستانی آئین کی اقدار کو بحال کرنے کیلئے ایک مشکل اور طویل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ سنگھ پریوار نے سماج میں نفرت کے بیج بوئے ہیں۔ اس نے ریاستی نظام کے ہر شعبے میں گھس پیٹھ کرلیا ہے۔ سنگھ پریوار کی حکومتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے اطمینانی نے حال ہی میں ’کاکروچ موومنٹ‘کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس تحریک نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ایک ’منتخب ڈکٹیٹر‘ حکومت کا خوف عارضی طور پر ہی سہی مگر ختم ہو گیا تاہم، ملک پر آر ایس ایس کے کنبے نے جو گہرے زخم دیئے ہیں، اسے بھرنے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے ملکی سیاست پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ہمیں ہندو قوم پرستی کیلئے پرعزم اس سرکار کے بجائے ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو ہندوستانی آئین کیلئے پرعزم اور وقف ہو۔ نفرت پھیلانے والی جھوٹی داستانوں نے ہمارے اجتماعی شعور کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان کا مقابلہ ہندوستانیوں کے درمیان صدیوں پرانے پیار، بھائی چارے اور دوستانہ تعلقات پر مبنی بیانیے سے کیا جانا چاہیے - وہ بیانیے جو سبھاش چندر بوس، مہاتما گاندھی، سردار پٹیل اور پنڈت نہرو نے عوام کی نفسیات میں بسانے کی کوشش کی۔ جنتر منتر پر حال ہی میں جو کچھ ہوا وہ ہندوستان کی صدیوں پرانی تہذیب کو زندہ کرنے کی طرف پہلا قدم تھا۔ صرف یہی بحالی دنیا کی اقوام میں ہمارا صحیح مقام محفوظ کر سکے گی۔
اقلیتوں کے ساتھ مساوی شہری جیسا سلوک کیا جائے۔ حکومتی آمریت کا خاتمہ ہونا چاہیے، اور ہمیں منطقی اور سائنسی بنیادوں پر قوم کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔ جنتر منتر صرف ایک شروعات ہے۔ ہمیں گاندھی اور امبیڈکر، بھگت سنگھ اور سبھاش بوس، مولانا آزاد اور سردار پٹیل کے خوابوں کو پورا کرنے کیلئے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ آپ سب کو یوم آزادی مبارک ہو۔