عمر خالد کے نام دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر وجیندر چوہان کا کھلا خط، جس میں لکھا کہ: تمہارا قید ہونا اس آزاد ملک کیلئے ایک امتحان ہے۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 4:45 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
عمر خالد کے نام دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر وجیندر چوہان کا کھلا خط، جس میں لکھا کہ: تمہارا قید ہونا اس آزاد ملک کیلئے ایک امتحان ہے۔
پیارے عمر،
آج۱۵؍ اگست ہے۔ باہر جھنڈے لہرائے جا رہے ہیں۔ اسکولوں میں بچے قومی ترانے کی ریہرسل کررہے ہوں گے۔ سرکاری عمارتیں روشنی سے نہا جائیں گی، تقاریر ہوں گی، کیمروں کا رخ لال قلعہ پر ہوگا اور چند گھنٹوں کیلئے پورا ملک اپنی آزادی کا جشن منائے گا۔ لیکن سچ کہوں تو آج صبح جب میں آزادی کے بارے میں لکھنے بیٹھا تو سب سے پہلے مجھے آپ کا خیال آیا۔ کاغذ میرے سامنے تھا لیکن میری آنکھوں کے سامنے جیل کا بند دروازہ تھا۔ میرے دل میں ایک سوال اٹک رہا تھا کہ جب اپنے زمانے کا ایک طالب علم برسوں سے قید ہو تو ایک استاد آزادی کے معنی لکھے بھی تو کیسے؟
میں یہ خط تمہیں کسی کہانی کا ہیرو بنانے کیلئے نہیں لکھ رہا ہوں، نہ تمہیں دلاسا دینے کی میری کوئی حیثیت ہے اور نہ ہی تمہاری طرف سے بولنے کا کوئی حق ہے۔ جیل کی دیواریں، بند دروازے، محدود ملاقاتیں، اور معمول کی زندگی کا جمود، باہر بیٹھا شخص ان کا پورا مطلب کیسے سمجھ سکتا ہے؟ البتہ اتنا ضرور سمجھتا ہوں کہ برسوں کی قید صرف دن نہیں چھینتی۔ وہ خاندان کی مسکراہٹ، والدین کی نیند، دوستوں کی لمبی عمر، اور آنے والے کل کی تصویر میں سے بھی کچھ نہ کچھ کاٹتی جاتی ہے۔ باہرکیلنڈر پر تاریخ بدلتی ہے لیکن جیل کے اندر شاید وہی تاریخ جسم اور یادداشت پر نقش کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اُردو کے ساتھ امتیازی رویہ لسانی تنوع کیلئے نقصان دہ
عمر! مجھے تمہاری قید ناحق لگتی ہے۔ یہ میرا واضح اخلاقی اور شہری فیصلہ ہے۔ عدالت کی اپنی کارروائی ہے، الزامات اپنی جگہ، اور دفاع اپنی جگہ۔ لیکن جمہوریت میں اگر مقدمے کی سماعت مکمل ہونے سے پہلے ہی قید اس قدر طول پکڑ جائے کہ کسی کی زندگی کا ایک بڑا حصہ سزا کے طور پر گزر جائے تو ہم محض قانون کی کتاب دکھا کر خود کو بے گناہ قرار نہیں دے سکتے۔ اُس صورت میں کارروائی اور سزا کا فرق مٹنے لگتا ہے۔ اور جب جیل میں قید وہ نوجوان ہو جس کی پہچان سوال پوچھنے، تقریر کرنے اور حکومت کیخلاف اظہار رائے کی رہی ہو، تو تالا صرف ایک شخص پرنہیں لگتا۔ اس کی آواز کی گونج یونیورسٹیوں، آڈیٹوریم اور ان تمام بچوں تک پہنچتی ہے جو اَب بولنے سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ اس کی کتنی قیمت چکانی پڑے گی۔
تمہارا کا ایک اور یوم آزادی جیل میں گزارنا اس آزاد ملک کی حالت پر بہت سخت تبصرہ ہے۔ لیکن شاید اس سے بھی زیادہ سخت بات یہ ہے کہ ہم میں سے بہتوں نے یہ تبصرہ پڑھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ طویل قید پہلے خبر بنتی ہے، پھر پرانی خبر اور آخر میں ہمارے ذہن کے ایک دھندلے کونے میں چلی جاتی ہے۔ پہلے بے چینی ہوتی ہے، پھر عادت پڑتی ہے اور پھر خاموشی طاری ہوجاتی ہے۔ اقتدار کی جیت ہمیشہ اس میں نہیں ہوتی کہ ہر کسی سے اپنی بات منوا لے۔ کئی بار وہ ناانصافی کو اتنا طول دے دیتا ہے کہ لوگ تھک ہار کر اسے معمول سمجھ لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جنگ آزادی میں دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کا اہم رول
اس خاموشی میں میرا بھی حصہ ہے اور مجھے یہ کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔ میں ایک استاد ہوں۔ میں بچوں سے کہتا ہوں، سوال پوچھو۔ آئین پڑھو، ڈر کر چپ مت ہوجاؤ۔ اسٹیج پر، میں بڑے اعتماد کے ساتھکہتا ہوں کہ اختلاف رائےجمہوریت کی طاقت ہے۔ پھر میں کلاس، ریکارڈنگ، سفر اوراپنی روزمرہ کی چھوٹی بڑی مصروفیات میں لوٹ جاتا ہوں۔ تمہارے لئے کبھی دکھی ہوا، کبھی غصہ آیا، کبھی کچھ بولا بھی، مگر جتنا بولنا چاہئے تھا، اتنا نہیں بولا۔ جتنی دیر تک بے چینی بچائے رکھنی تھی، شاید نہیں رکھ پایا۔ تمہاریقید کیلئے میں قانونی طور پر ذمہ دار نہیں ہوں، لیکن اسے معمول بن جانے دینے والی سماجی خاموشی میں اپنے آپ کو مکمل طور پر پاک صاف بھی نہیں کہہ سکتا۔ استاد ہونے کا مطلب صرف صحیح جواب کی وضاحت کرنا نہیں ہے۔ کبھی کبھی یہ طلبہ کے سامنے اپنی کوتاہیوں اور سمجھوتوں کو تسلیم کرنے کے بارے میں بھی ہوتا ہے۔ ہم نے تمہاری نسل سے کہا تھا: یہ جمہوریت تمہاری ہے، سوال کرو، آئین پر اعتماد کرو، اور پرامن طریقے سے اختلاف رائے کا اظہار کرو... مگر جب سوال کرنے کی قیمت تمہاری آزادی بن گئی، تو ہم میں سے کتنے لوگ اتنی مضبوطی سے کھڑے رہے، جتنی مضبوطی سے ہم نے کلاس میں اختلاف رائے کی اہمیت پڑھائی تھی؟
تمہاریقید ریاست کے ساتھ ہم اساتذہ، صحافیوں اور شہریوں کیلئے بھی ایک امتحان ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ ہم بہت اچھے نمبروں سے پاس نہیں ہوئے۔ اسلئے آج۱۹۴۷ء کو محض فتح کی تاریخ کے طور پر دیکھنا مشکل ہورہا ہے۔ برطانوی راج سے آزادی کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ وہ لوٹ، نسلی غرور، اور اس تصور پر مبنی طاقت کا خاتمہ تھا کہ ہندوستانی اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کے لائق نہیں ہیں .... مگر صرف حکمران بدل جانے سے ہرآدمی آزاد نہیں ہوجاتا۔ ۱۹۴۷ء نے غیر ملکی حکمرانی سے آزادی دلائی۔ ۱۹۵۰ء کے آئین نے عوام کو شہری بنانے کا عمل شروع کیا۔ یہ فرق بھول جائیں تو جھنڈا بدل جاتا ہے، حکومت کی زبان بدل جاتی ہے، لیکن طاقت اور انسان کا پرانا رشتہ نئے لبادے میں واپس آ سکتا ہے۔
ہمارے آئین نے صرف ہندوستان کو ایک خودمختار ملک نہیں کہا۔ اس نے ہمیں ایک جمہوری، سوشلسٹ اور سیکولر جمہوریہ ہونے کا اعلان کیا۔ یہ بڑے بڑے الفاظ لگ سکتے ہیں، لیکن ان کے معنی گہرے ہیں۔ جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ اکثریت حکومت تو بنا سکتی ہے، لیکن وہ کسی شہری کی عزت کا مالک نہیں بن سکتی۔ سیکولرازم کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا مذہب تمہارے حقوق یا تمہاری وفاداری کا پیمانہ نہیں ہوگا۔ سوشلزم کا مطلب ہے کہ بھوک، بیماری اور بے روزگاری سے آزادی کو صرف امیروں کیلئے مخصوص نہیں ہونے دے گی۔ جمہوریہ کا مطلب ہے کہ یہ ملک کسی بادشاہ، خاندان، مذہب، ذات یا رہنما کی جاگیر نہیں ہے۔ یہ ہم سب کیلئے ایک مشترکہ جگہ ہے۔
تمہیں لکھتے ہوئے بار بار خیال آتا ہےکہ ان تمام الفاظ کا حقیقی امتحان جیل کے دروازے پر کیوں ہوتا ہے؟ ریاست کس کو خطرہ سمجھتی ہے؟ کس کی آواز کو سلامتی کا معاملہبنا دیتا ہے؟ کس کیلئے ضمانت ایک دور کی امید اور قید روز کا معمول بن جاتی ہے؟ کسے اپنے نام، اپنے خیالات اور اپنے مذہب سے اپنی بے گناہی ثابت کرنی پڑتی ہے؟ کتاب میں سب برابر ہیں لیکن اقتدار کی نظریں سب پر یکساں نہیں پڑتیں۔ بعض لوگوں کے نام ان کے دلائل سے پہلے پہنچ جاتے ہیں۔ انہیں شہری بعد میں مشتبہ پہلے پڑھ لیا جاتا ہے۔ سیکولرازم کی ضرورت یہیں صاف دکھائی دیتی ہے۔ یہ اقلیت پر احسان نہیں ہے۔ یہ ایک اصول ہے جو ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی کے مذہب کو ان کے حقوق، ان کے ارادوں یا ان کے خطرے کے ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کرے گی۔ ہندوستان جیسا متنوع ملک ایک مذہبی قوم کی زبان میں امن سے نہیں رہ سکتا۔ وہ زبان اکثریت کے اندر ملکیت کا احساس اور اقلیت کے اندر کرایہ دار ہونے کا احساس پیدا کرتی ہے۔ بعض کو فطری وارث قرار دیا جاتا ہے، جبکہ بعض سے پوچھا جاتا ہے کہ مجھے بتاؤ، تم میں سے کتنے اس گھر کے ہیں ؟
تمہیں کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ، پھر بھی ہم نے مسلمان شہریوں سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ مانگنے کی بری عادت پال لی ہے۔ وہ کس نعرے پر کھڑا ہوا، کس واقعے پر بولا، کس تشدد کی مذمت کی اور کتنی اونچی آواز میں کی، سب کا حساب رکھا جاتا ہے۔ یہ مساوی شہریت نہیں ہے۔
آج یوم آزادی پر تمہیں نیک خواہشات لکھنا عجیب لگے گا۔ اسلئے میں تمہیں اپنی معذرت اور وعدہ بھیج رہاہوں۔ معافی اسلئے کہ ہم اتنی بلند آواز میں او ر اتنی لگاتار نہیں بولے جتنی تمہاری لمبی قید اس کا مطالبہ کرتی تھی۔ وعدہ اسلئے کہ امید ایک رسمی پھول نہیں بلکہ ایک شہری کی ذمہ داری بنائی جائے۔
دعا ہے کہ ایک دن جیل کے دروازے کھل جائیں، لیکن اس سے بھی بڑی دعا یہ ہے کہ اس ملک کے دروازے اتنے کھلے ہوں کہ کسی طالب علم کو اپنے سوالات، نام، مذہب یا اختلاف کی اتنی قیمت پھر کبھی ادا نہ کرنی پڑے۔
بہت پیار اور تھوڑی سی شرم کے ساتھ، وجیندر
بشکریہ: وی وائر ہندی