Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنترمنتر پرمرکز نے طلبہ کو بری طرح نظر انداز کیا، رانچی میں امکانات اور متبادلات کھلے ہوئے ہیں

Updated: August 22, 2026, 5:04 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai

دہلی میں احتجاج مرکز کے خلاف تھا جس کے پاس نہ طاقت کی کمی ہے، نہ وسائل کی نیزطلبہ کو  وزیر تعلیم کے استعفے سے کم منظور نہیں تھا،جبکہ رانچی میں طلبہ کا مطالبہ بدعنوانیوں کی فی الحال سی بی آئی تحقیقات کا ہے اور ابھی سارے دروازےکھلے ہیں۔

The ongoing protest at Ranchi`s Jaipal Singh Munda Stadium is the next crucial phase of the protest held at Jantar Mantar. Picture: INN
رانچی کے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میںجاری احتجاج، جنتر منتر پر ہوئے احتجاج کا اگلا اورا ہم مرحلہ ہے۔ تصویر: آئی این این

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا سبب بننے والے جنترمنتر پرجین زی کے احتجاج کے بعدہی رانچی کے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں ریاستی مسابقتی امتحانات میں بےضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج تعلیمی نظام میں بدعنوانی کے خلاف طلبہ کی تحریک کا اگلا اور اہم مرحلہ ثابت ہورہا ہے۔ یہ بہر حال ایک ریاست میں منعقد کئے جانے والے امتحانات جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی میں بدنظمی اوربے ضابطگی کا معاملہ ہے جبکہ جنترمنتر پر احتجاج کی وجہ ملک گیر سطح پر منعقدہونے والے نیٹ پیپرکا افشا ہونا تھی۔ جنتر منترپر کئے گئے احتجاج کو تاریخی کہنا غلط نہیں ہوگاکیونکہ اس نے ملک میں احتجاج کی نوعیت ہی تبدیل کرکے رکھ دی۔ یہ احتجاج صرف ایک احتجاج نہیں تھا بلکہ یہ اس نسل کی تحریک تھی جوملک کو اپنا سمجھتی ہے، اس کی ترقی کی خواہاں ہے اورخود بھی اس کے ساتھ ترقی کرنا چاہتی ہے، تعلیمی نظام میں اصلاحات چاہتی ہے۔ جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کے معاملے میں بھی احتجاج کرنے والے طلبہ ہی ہیں اورانہوں نے بھی اپنے جین زی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ وہ بھی تعلیمی نظام میں ا صلاح چاہتے ہیں مگر جنتر منتر کی تحریک اس لئے بھی بڑی تحریک ثابت ہوئی کہ یہ صرف ایک وزیر سے استعفیٰ لینے کی تحریک نہیں تھی بلکہ اس کی بنیاد’ کاکروچ‘ کا وہ طعنہ تھی جو چیف جسٹس نے بے روزگاروں کو دیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: سی جے پی کا اثر، ملک میں ڈر کا ماحول ختم

اب ان دونوں مقامات پر ہوئے احتجاج کا موازنہ کیاجارہا ہے حالانکہ بنیادی طورپر موازنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جنتر منتر پر احتجاج اور بالخصوص کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)کے مخالفین رانچی میں طلبہ کے احتجاج کے حامی ہیں۔ ان کاکہنا ہےکہ یہ احتجاج درست ہےاور خالصتاًطلبہ کا احتجاج ہے۔ ہو سکتا ہےاس کی ایک وجہ یہ ہوکہ جھارکھنڈ میں حکمراں جھارکھنڈ مکتی مورچہ ہےجو کانگریس کی سربراہی میں انڈیا اتحادکاحصہ ہےلیکن دوسری وجہ یہ بتائی جارہی ہےکہ جنترمنتر پر سی جے پی احتجاج کوغیر ملکی فنڈنگ حاصل تھی۔ یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اس میں ’آزادی‘ کے نعرے لگے تھے۔ یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اس میں غنڈہ گردی کی گئی تھی، تشدد برپا کیاگیاتھا۔ حالانکہ کیا ہوا تھا، یہ پوری طرح واضح ہے۔ یہ واضح ہےکہ تشدد ہوا تو کیو ں ہوا، پولیس نے کیا زیادتیاں کیں، کیسے لاٹھی چارج کیا، پُرامن طلبہ پر کیسےپیلٹ گن تک کا استعمال کیا گیا۔ رانچی میں طلبہ کے حامی کچھ فرقہ وارانہ ذہنیت رکھنے والے عناصر یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ یہاں جنتر منتر کی طر ح ہندوؤں کی توہین نہیں کی جارہی ہے۔ حالانکہ جنتر منتر پر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ جنتر منتر سے جو پیغام دیا گیاوہ فرقہ وارانہ اتحاد کا تھا۔ وہاں سے ہندومسلم یکجہتی کی تصویر سامنے آئی تھی۔ اس کی وجہ بس یہ تھیکہ وہاں حالات ہی کچھ ایسے بن گئے تھےاور اس کی وجہ غالباً  یہ تھی کہ یہ تحریک ملک کی راجدھانی دہلی میں برپا کی گئی نیز اس میں پہلی بار ملک کی نوجوان نسل اپنے مطالبے کیلئے پورے جوش میں نظر آئی جسے فرقہ واریت سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ وہاں ہندوؤں کی مخالفت نہیں کی گئی تھی بلکہ حق اور انصاف کے ایسے نعرے لگائے گئے تھے جو ہندوتوا عناصر کیلئے ناقابل قبول تھے ۔ 

رانچی میں ابھی حالات ایسے نہیں ہیں۔ حالانکہ وہاں جنتر منتر سے شہرت پانے والے محمد جنید بھی گزشتہ دنوں پہنچے تھے اورانہوں نے یہی کہا تھا کہ طلبہ کا حتجاج جہاں بھی وہ اس کی حمایت کریں گےاور طلبہ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ رانچی کے احتجاج میں گزشتہ دنوں آئیسا کی صدرنیہا بورا بھی شامل ہوئی تھیں اور بھوک ہڑتال پر بیٹھے کارکن دیویندر ناتھ مہتو سے ملاقات کی تھی۔ نیہا خود بھی جنتر منتر پر ۲۰؍سے زائد دن بھوک ہڑتال پربیٹھی تھیں۔ نیہا کے ساتھ جے پال سنگھ منڈااسٹیڈیم میں اس وقت ایک ناخوشگوارواقعہ بھی ہواجب ان پرسیاہی پھینکی گئی اور’اینٹی نیشنل‘ ہونے کا الزام لگایا گیا۔ اس واقعے کے بعد بھی نیہابے خوف تھیں اور اس کے بعد ہی انہوں نےملک کے مختلف شہروں میں ’ جین زی رائزنگ ٹور‘کا اعلان کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہمارا تعلیمی نظام : یہ کہاں آگئے ہم ؟

یہ کچھ واقعات بتاتے ہیں کہ تعلیمی نظام میں بدعنوانیوں کے خلاف ان دونوں طلبہ مظاہروں کوفرقہ واریت اورملک دشمنی کے پہلو سے دیکھنے اور بانٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جنترمنتر پر احتجاج کی مودی حکومت حامی میڈیا اورعناصر مخالفت کررہے ہیں جبکہ وہ عناصر جنہوں نے خالصتاً تعلیمی بنیادوں پر جنتر منتر کے احتجاج کی حمایت کی تھی، وہ رانچی احتجاج کی بھی حمایت کررہےہیں۔ جنترمنتر پر احتجاج کی مخالفت کرنے وا لے عناصر نیٹ پیپر لیک کو کوئی سنگین معاملہ سمجھتے ہی نہیں، یہی وجہ ہےکہ اسکے خلا ف احتجاج کو انہو ں نےکیا سے کیا رنگ دینے کی کوشش کی جبکہ یہی عناصر رانچی میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کیلئے مکمل دردمند نظر آتے ہیں اور ریاست میں پیپر لیک اورپیسے دے کرتقرری جیسے مسائل پرجے ایم ایم، کانگریس اور راہل گاندھی کو نشانہ بنارہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: یوم آزادی سے متعلق ۱۰؍ اہم سوالات اور اُن کے جواب

دونوں احتجاج میں شامل طلبہ کا مطالبہ ایک ہے، مقصد ایک ہے اور تحریک ایک ہے لیکن ایک بڑ ا فرق یہ ہےکہ جنتر منتر پر احتجاج   ایک ایسی حکومت کےخلاف تھا جوگزشتہ ۱۰؍سال سے طلبہ، نوجوانوں اور رو زگار کے تعلق سے بڑے بڑے دعوے کرتی آئی ہے۔ یہ اس حکومت کے خلاف تحریک تھی جس کےپاس نہ پیسے کی کمی ہے نہ طاقت کی اور وسائل اس حکومت کے قبضے میں ہیں۔ اس کے باوجود حکومت کا کوئی نمائندہ جنتر منتر پر نہ سونم وانگ چک سے ملنے پہنچا، نہ نیہا بورا سے ملاقات کی اور نہ ہی ابھیجیت دپکے سے کوئی گفتگوکی۔ جنتر منتر پر باقاعدہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا تھا جبکہ جھارکھنڈ میں ایسا کوئی مطالبہ طلبہ کی جانب سے سامنے نہیں آیا ہے۔ وہ فی الحال جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی میں بدعنوانیوں کی سی بی آئی تحقیقات چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین طلبہ کے مطالبات پر ان سے گفتگو کریں۔ یعنی یہاں متبادل موجود ہے۔ جنترمنتر پر سوائے استعفے کے مطالبہ کے اورکوئی متبادل تھا ہی نہیں۔ یہ بھی یاد رہےکہ سورین حکومت مرکزی حکومت کی طرح پیسہ، طاقت اور وسائل سے مالا مال نہیں ہے۔ یعنی حکومتی ا قدامات کے لحاظ سےدونوں مظاہروں کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ جنتر منتر پر حکومت نے طلبہ کوبری طرح نظر انداز کیا جبکہ رانچی میں فی الوقت سارے امکانات اور متبادلات کھلے ہوئےہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK