کبھی کبھی ’’لوگو‘‘ بھی یکسانیت سے اکتا کر چھٹی پر چلا جاتا ہے۔ لیکن کوئی بھی کمپنی یا برانڈ، یہ خطرہ مول لینے سے کتراتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ چند ایک برانڈ کے علاوہ کسی نے اب تک یہ رِسک نہیں لیا۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 5:15 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
کبھی کبھی ’’لوگو‘‘ بھی یکسانیت سے اکتا کر چھٹی پر چلا جاتا ہے۔ لیکن کوئی بھی کمپنی یا برانڈ، یہ خطرہ مول لینے سے کتراتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ چند ایک برانڈ کے علاوہ کسی نے اب تک یہ رِسک نہیں لیا۔
کبھی کبھی ’’لوگو‘‘ بھی یکسانیت سے اکتا کر چھٹی پر چلا جاتا ہے۔ لیکن کوئی بھی کمپنی یا برانڈ، یہ خطرہ مول لینے سے کتراتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ چند ایک برانڈ کے علاوہ کسی نے اب تک یہ رِسک نہیں لیا۔
ایک برانڈ کا لوگو ہے ’’مگرمچھ‘‘ جو کبھی کبھی چھٹی پر چلا جاتا ہے اور اس کی جگہ دیگر جانور لے لیتے ہیں مثلاً کبھی بکری، کبھی سماتری شیر، کبھی کچھوا یا کبھی گینڈا، یہ صاحبان مگر مچھ کو کچھ پل کی راحت دیتے ہیں۔ سننے میں یہ فیشن کی شرارت لگتی ہے مگر لکوسٹ (Lacoste) کیلئے یہ سنجیدہ کاروباری حکمت عملی ہے۔ جون ۲۰۲۶ء میں کمپنی نے ٹینس کے مشہور کھلاڑی اور اپنے برانڈ ایمبیسیڈر نوواک جوکووچ کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے مگر مچھ کو چھٹی پر بھیج کر ’’بکری‘‘ کے لوگو والی ۱۰۰؍ پولو شرٹس جاری کیں۔ جوکووچ کو ٹینس کا GOAT(گریٹیسٹ آف آل ٹائم) کہتے ہیں، اور ۱۰۰؍ اے ٹی پی جیتنے پر اتنی ہی تعداد میں بکری والی ٹی شرٹس جاری کی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: عمر خالد کے نام دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر وجیندر چوہان کا کھلا خط
لکوسٹ نے ایسا پہلی بار نہیں کیا۔ ۲۰۱۸ء میں Save Our Species کے ساتھ مل کر اس نے خطروں سے دو چار ۱۰؍ نایاب جانوروں والی محدود تعداد میں پولو شرٹس بنائی تھیں۔ روایتی مگرمچھ کی جگہ ان جانوروں کی علامتیں استعمال ہوئیں اور مجموعی طور پر صرف ۱۷۷۵؍ شرٹس تیار کی گئیں۔ ہر نوع کیلئے شرٹس کی تعداد دنیا میں باقی ان جانوروں کی تعداد کے مطابق رکھی گئی؛ یعنی نایاب جانور، نایاب شرٹ۔ اس وقت سماتری شیروں کی تعداد ۳۵۰؍ تھی، اس لئے ان کے لوگو والی اتنی ہی شرٹس بنائی گئیں۔ ۲۰۱۸ء، اور اب ۲۰۲۶ء کی یہ مہمات واضح کرتی ہیں کہ ایک مشہور لوگو کپڑے پر بنی صرف تصویر نہیں، ایک ایسا معاشی اثاثہ بھی ہے جسے بار بار نئی کہانی دے کر اس کی قدر بڑھائی جا سکتی ہے۔ دونوں ہی موقعوں پر لکوسٹ نے ایک پرانا کاروباری اصول نئے انداز میں استعمال کیا: Scarcity sells۔ عام شرٹ بآسانی مل جاتی ہے۔ محدود ایڈیشن صارف کو یہ احساس دیتا ہے کہ اگر آج نہیں خریدا تو شاید کل موقع نہ ملے۔ لیکن ان ہر دو طرح کی مہم میں صارف ایک کہانی کا بھی حصہ بن رہا تھا۔ خریدار کو بتایا جا رہا تھا کہ جس جانور کی علامت اس کے سینے پر ہے، وہ معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔ جوکووچ کے معاملے میں خریدار کو احساس دلایا گیا کہ وہ ایک مشہور کھیل اور ایک عظیم شخصیت کو اپنی زندگی اور وارڈروب کا حصہ بنا رہا ہے۔
لکوسٹ نے اپنے لوگو کی معاشی قدر کو استعمال کرنے کا طریقہ سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی کمپنی کیلئے لوگو سب سے اہم ہوتا ہے۔ لوگو کا کام ہوتا ہے کہ اسے دیکھتے ہی لوگوں کے ذہن میں برانڈ کا نام آجائے۔ اس پہچان کو بنانے میں برسوں کی مارکیٹنگ، مصنوعات، ایڈ اور صارفین کا اعتماد درکار ہوتا ہے۔ معاشیات کی زبان میں یہ ’’برانڈ ایکویٹی‘‘ کہلاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۸۰؍ویں یوم آزادی پر اپنا محاسبہ، کس رخ پر جارہی ہے ہماری جمہوریت؟
لکوسٹ کیلئے مگرمچھ اسی برانڈ ایکویٹی کا خاموش اثاثہ ہے۔ یہ ماڈل اس لئے طاقتور ہے کہ کمپنی کو ہر نئی مہم میں اپنی پہچان صفر سے نہیں بنانی پڑتی۔ صارف مگرمچھ کو جانتا ہے۔ اب کمپنی کو اس کے گرد صرف نئی کہانی بنانا ہے۔ یہاں ایک اہم سبق ہندوستانی کاروبار کیلئے بھی ہے۔ آج صارف اتنا ہی نہیں دیکھتا کہ شرٹ کتنے کی ہے۔ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ اسے پہن کر وہ کون سی منفرد چیز کا حصہ بن رہا ہے۔
مشہور شخصیت، محدود ایڈیشن، ماحولیات یا کسی ثقافتی علامت سے جڑی چیز زیادہ جذباتی قدر پیدا کر سکتی ہے۔ اسی لئے برانڈز اب مصنوعات سے زیادہ معنی فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لیکن اس میں خطرہ بھی ہے۔ لوگو کو ہر دوسری مہم میں نئی شکل دیتے دیتے اگر اصل شناخت دھندلا جائے تو صارف پوچھ سکتا ہے: ’مگرمچھ صاحب! آپ ہیں کہاں؟‘ تخلیق اور پہچان کے درمیان یہی توازن اصل برانڈ مینجمنٹ ہے۔ لکوسٹ کی کہانی بتاتی ہے کہ مضبوط لوگو محض ڈیزائن نہیں ہوتا۔ وہ ایک ایسا اثاثہ ہوتا ہے جسے کمپنی بار بار نئی مارکیٹ، نئی نسل اور نئی گفتگو سے جوڑ سکتی ہے۔ تبھی یہ برانڈ یعنی لکوسٹ ۹۳؍ سال سے زندہ ہے۔