Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہمارا تعلیمی نظام : یہ کہاں آگئے ہم ؟

Updated: August 22, 2026, 4:50 PM IST | Mubark Kapdi | Mumbai

جین زی، ’جین الفا، سبھی بے چین ہیں ، مضطرب ہیں۔ ہم سبھوں کو بیدار ہونا ہے کیوں کہ یہ نئی نسلیں پہلے تو احتجاج کریں گی اور پھر بغاوت اور اس کی لپیٹ میں تعلیمی معاشی، معاشرتی اور سیاسی نظام بھی آجائیں گے۔

These students ought to be in college and attending classes, but these poor souls are forced to protest here. Picture: INN
ان طلبہ کو کالج اور کلاسیز میں ہونا چاہئے لیکن یہ بے چارے یہاں احتجاج پر مجبور ہیں۔ تصویر: آئی این این

جین زی، ’جین الفا، سبھی بے چین ہیں ، مضطرب ہیں۔ ہم سبھوں کو بیدار ہونا ہے کیوں کہ یہ نئی نسلیں پہلے تو احتجاج کریں گی اور پھر بغاوت اور اس کی لپیٹ میں تعلیمی معاشی، معاشرتی اور سیاسی نظام بھی آجائیں گے۔ آئیے جائزہ لیں ان کے دل ودماغ میں کیا چل رہا ہے:

(۱) فیس نہ بھر پانے پر کئی طلبہ کلاس کے باہر نظر ہی آتے ہیں مگر اب امتحان گاہ سے پرچہ چھین کر بھی بچّوں کو باہر بھیجا جا رہا ہے۔ 

(۲)ٹاپ کرنے والے کا فوٹو اخبار میں چھپے گا، ناکام ہونے کی وجہ سے کوئی انتہائی قدم اُٹھاؤں تو میرا بھی فوٹو چھپے گانا ؟

(۳) گریجویشن کر کے بیکار رہا......... پھر پوسٹ گریجویشن کیا اور بے کار رہا.... اب لگتا ہے لگے ہاتھوں پی ایچ ڈی کرلوں .... اور بیکار رہوں۔ 

(۴)ہندوستان گاؤں میں بستا ہے، تعلیم کا سفر بلیک بورڈ سے اسمارٹ بورڈ تک طے تو ہوا مگر صرف شہروں میں !

(۵)کیساتعلیمی نظام ہے یہ ؟ کلاس روم میں سوال پوچھنے کو بد تمیزی کہا جاتا ہے اور کلاس روم کے باہر اس کو ملک سے بغاوت کہا جاتا ہے۔ 

(۶)ماہرینِ تعلیم سے اب جین الفا اور جین زی سوال کر رہی ہے کہ نصاب کا کتنا حصہ عملی زندگی سے وابستہ ہے؟ 

یہ بھی پڑھئے: عمر خالد کے نام دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر وجیندر چوہان کا کھلا خط

(۷)ابّو یہ ٹیب ہے، الیکٹرانی تختی.... آپ تو پتھر کی تختی استعمال کرتے تھے۔ 

(۸)بستہ ہلکا ہونے لگا مگر وہ سارا بوجھ ذہن پر کیوں بڑھنے لگا ؟

(۹)امّی ایک درسی کتاب چاہیے اور رَٹنے کیلئے تین گائیڈ بھی چاہئے۔ 

(۱۰) موجودہ تعلیم سے کمیونی کیشن اِسکل یعنی بولنے کی صلاحیت تو بڑھتی ہے مگر کیا یہ سچ بولنے کا اصرار نہیں کرتی۔ 

(۱۱)گھنٹی صرف اسکولی بچّوں کیلئے ہے، اسکول سے باہر کھڑے ہزاروں، لاکھوں بچّوں کیلئے وہ صرف شور ہے۔ 

(۱۲) الیکشن اور دیگر سروے کے کاموں تک تو ٹھیک بھی ہے البتہ کیا معمارانِ قوم کو شہر کے آوارہ کتّوں کی گنتی معلوم کرنے کا کام دینا جائز ہے ؟

(۱۳) کتابوں کے صفحات پر تو مساوات کے بڑے درس لکھے ہیں مگر وہ مساوات اسکول کے بینچوں پر بیٹھنے کے انتظام میں بھی نظر نہیں آتی۔ 

(۱۴)مقابلے کے امتحان کے نتیجے کے دن ایک اور محنتی طالب علم نے اپنے بستر پر اپنا ایک آخری خط چھوڑ گیا۔ 

(۱۵) ہماری جنریشین کو یہ یاد رکھنا پڑے گا کہ ہر منفی خیال سب سے پہلے اپنے آپ پر ایک ظلم ہے۔ 

(۱۶)مصنوعی ذہانت والے روبوٹ بھی سوچنے لگے ہیں مگر قدرتی ذہانت والے سیاست دانوں نے ابھی تک سوچنا شروع کیوں نہیں کیا ہے۔ 

(۱۷)یہ نظام ہی کچھ ایسا بنایا گیا ہے کہ ملک کے ہر طالب علم کو کوچنگ کلاس میں بہر حال داخلہ لینا ہی ہے۔ 

(۱۸)لو بھئی، اب تو یو نیو رسٹی کے کنوکیشن میں اُن منسٹروں سے ہاتھوں ڈگری لینی ہے جن کی اپنی ڈگریاں مشکوک ہیں۔ 

(۱۹) طلبہ صرف اسلئے بے بس ہیں کیونکہ پورا سسٹم بے حِس ہے۔ 

(۲۰)تعلیمی نظام پہلے یہ آواز لگاتا تھا :’’ علم لو، تعلیم لو، اخلاقیات لو‘‘۔ اب یہ نظام صرف یہ آواز لگا رہا ہے :’’نمبر لو....نمبر لو... اور سبھی اُس آواز پر لپک رہے ہیں۔ 

(۲۱)طلبہ اور ا ساتذہ دونوں ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے کیونکہ دونوں ایک ہی اسٹیج پر بیٹھ کر اپنے اپنے مطالبات کے پلے کارڈ لکھ رہے تھے۔ 

(۲۲)کیسے نظام سے گزر رہی ہے ہماری جنریشن، ہمارا ہر خواب صرف خوف میں تبدیل ہو رہا ہے۔ 

(۲۳)اندھ بھکتو! شخصیت پرستی صرف جہالت نہیں۔ در اصل وہ دھرم و ایمان سے دستبرداری کا اعلان بھی ہے۔ 

(۲۴) زباندانی کے سارے پریڈ آئی ٹی کیلئے استعمال کرو... اسپورٹس کے پریڈ میتھس / سائنس کیلئے... صرف روزی روٹی کی بات کرو....جاب کی بات کرو۔ 

(۲۵) ہمارے ہاتھ میں مطالبات کے پلے کارڈ تھے، اُن کے ہاتھ میں پیلٹ گن آگئے۔ ہم پتھر کیوں اُٹھاتے ہیں، ہم تو جین زی ہیں، پتھرکے دَور کے نہیں۔ 

 

(۲۶)حکومت کا واضح اعلان ہے :’’ جن کے پاس دھن و دولت ہے، وہ پڑھیں ، نہیں ہے تو نہ پڑھیں۔ ‘‘ 

(۲۷)عجیب بات ہے، ایک جنتر منتر میں یہ کنکر کنکر ہوجاتے ہیں اور اکھنڈ بھارت کی بات کرتے ہیں۔ 

(۲۸)کچھ بھی کرو، ان طلبہ میں ہندو مسلم نفرت کا ماحول پیدا کرو اور آخریہ کیسی جنریشن ہے جو ہندو مسلم نہیں کرتی۔ 

(۲۹) تحقیق جاری ہے کسی طرح سے بلڈوزر کا کوئی ذکر کسی آئینی کتاب میں ملے۔ 

(۳۰) ہم نے پڑھا تھا کہ ملاوٹ بڑا جرم ہے مگر حکومت نے پیٹرول میں ملاوٹ کرکے ملاوٹ کرنے والوں کی ہمّت افزائی کی ہے۔ 

(۳۱) سارے سرکاری میڈیا اور واٹس اپ یونیورسٹی کا یک نکاتی پروگرام دیں کہ وہ پیپر لیٖک کے واقعات کو پڑوسی دشمن ملک کی سازشیں قرار دیں۔ 

(۳۲) صبح ڈِگری ملی، ہم سب خوش تھے۔ شام میں تعلیمی قرض ادا کرنے کا ارجنٹ نوٹس... اور ساری خوشیاں کا فور ہو گئیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: سی جے پی کا اثر، ملک میں ڈر کا ماحول ختم

(۳۳) ان میں سے ایک بھی مضمون اسکول کے نصاب میں شامل نہیں تھا اور نہ ہی یونیورسٹی میں جو سبق ہمیں جنتر منتر میں ملے۔ 

(۳۴)سیکڑوں دوست اور ہزاروں فالوورس والی ہماری نسل بھی دن کے آخر میں خودکو اکیلا کیوں محسوس کرتی ہے ؟

(۳۵) ارے او اے آئی ! یہ کیا ہو گیا کہ ڈگریوں کا بوجھ اُٹھانے قابل نہیں رہے ہمارے کندھے ؟

(۳۶) موجودہ سسٹم کہہ رہا ہے کہ ہم آپ کے بچّوں کو بھربھر کر مارکس دیں گے۔ اب اُسے اچھا انسان بنانے پر کیوں آمادہ ہیں ؟ مارکس کافی نہیں ہیں ؟ پھر بھی بضد ہو تو گھر میں بنا ئو اُسے اچھا انسان۔ 

(۳۷)ہماری جنریشن یہ کیسا ذہنی دیوالیہ پن دیکھ رہی ہے کہ صرف عوام نہیں، خواص کی بھی اکثریت سحر سے شام اور شام سے سویرتک صرف سیاستدانوں کی خوش آمد کر رہی ہے۔ 

(۳۸)لو، اب تو آوا کا آوا ہی بگڑ گیا ہے۔ اساتذہ کی انگلیاں بھی موبائیل کی اسکرین کھولنے کیلئے مچل جاتی ہیں البتہ سامنے پڑی کتاب کے اوراق کھولنے کیلئے نہیں۔ 

(۳۹) پہلی نوکری کے وقت ہی ہم سے کہہدیا جاتا ہے کہ’’تمہارے پاس تجربہ نہیں ہے ‘‘۔ ارے بھئی تجربہ کا پہلا موقع تو دو ہمیں۔ 

(۴۰) ہم آپ کی جنریشن کے نہیں ہیں لیکن ہمیں سب کچھ یاد رہے گا....... بھر پور یاد رہے گا اور انتخابات کے دن بھی یاد رہیں گے۔ n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK