• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

اقلیت کی اکثریت پر یلغار، غزہ کا میدان ِ کارزار!

Updated: October 31, 2023, 12:27 AM IST | Hasan Kamal | Mumbai

۷؍ اکتوبر کو اسرائیل میں جو کچھ ہوا اس کے بارے میں ہمارے یہاں جو خبریں آئیں وہ بالکل یک طرفہ تھیں۔ شروع میں تو بس یہی معلوم ہوا کہ حماس نے سنگین غلطی کی ہے اور اسرائیل دو ہی دن میں ان کا بھرکس نکال دے گا۔

Gaza. Photo: INN
غزہ:آئی این این

دنیا یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی کہ بارہ سو سے پندرہ سو تک کے حماس کی ایک تعداد نے اسرائیل کی مشہور زمانہ مستعد اسرائیلی فوج کو چوبیس گھنٹوں کے اندر اپنے بس میں کر لیا۔ حماسِ کی تعداد کے بارے میں ہم نے گزشتہ ہفتہ جو بات بتائی تھی وہ محض ہمارا اندازہ نہیں تھی۔ ہم نے یہ فیگر اسرائیل کے اخبار ہریٹس کے ایک مضمون سے لی تھی جس نے ایک رپورٹر کی بتائی ہوئی داستان سنائی تھی۔ہمارے ملک کا میڈیا بھی دنیا کے بیشتر میڈیا والوں کی طرح دنگ تھا۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اگر یہ کوئی معجزہ بھی تھا توکیسے ہوا ، کیونکر ہوا؟اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہمارے ملک کا میڈیا بھی انگلش میڈیا کا محتاج رہتا ہے۔ حالت یہ تھی کہ ہمارے ملک کا ا ردو میڈیا بھی حالات کی گہرائی تک پہنچنے سے قاصر تھا۔ کمپیوٹر کی وجہ سے جب یہ انتظام ہوا ہے کہ ہندی میڈیا کو کمپیوٹر کی زبان دانی کی وجہ سے بہت آسانی سے اردو میں لایا جا سکتا ہے۔ اس میں ویسے کوئی حرج نہیں ہے، اس سے اردو میڈیا کے صحافیوںکا وقت بچ جاتا ہے لیکن اردو صحافی یہ بھول جاتے ہیں کہ اردو میڈیا کی معلومات رکھنے والے قاری اردو جاننے والوں کی اکثریت کی طرح عالمی برادری کے بارے میں دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔دنیا کےکم سے کم ۵۷؍ ایسے ممالک ہیں، جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، اردو میڈیا کے قاری ان ممالک کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔اردو کے سوا کوئی اور ایسی زبان نہیں ہے جو ان میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہو۔ یوں بھی دیکھا جائے تواردو جاننے والے جو لوگ  حج کو جاتے ہیں اُنہیں کچھ نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ اسے اس موقع پر معلوم ہوتا ہے کہ یہاں آنے والے حاجیوں میں بہت سے ایسے ہوتے ہیں، جن کی جلد کی رنگت ہماری طرح سانولی سلونی ہے، بہت سے ایسے حاجی ہیں جن کی جلد سیاہ خالص سیاہ  ہے، بہت سے حاجی زرد رنگت والی جلد کے ہوتے ہیں، بہت سے حاجی اجلی اور کھلی جلد والے ہوتے ہیں اور بہت سے حاجی بالکل سفید فام ہوتے ہیں جومغربی ملکوں سے آتے ہیں۔اردو والے ان لوگوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے ہیں جو کسی اور زبان والے نہیں جاننا چاہتے۔
 ۷؍ اکتوبر کو اسرائیل میں جو کچھ ہوا اس کے بارے میں ہمارے یہاں جو خبریںآئیں وہ بالکل یک طرفہ تھیں۔ شروع شروع میں تو بس یہی معلوم ہوا کہ حماس نے سنگین غلطی کی ہے اور اسرائیل دو ہی دن میں ان کا بھرکس نکال دے گا۔ ا س کی وجہ بھی ایک غلطی تھی۔ غزہ واقعی  ایساقید خانہ ہے، جس کی کوئی حد اور دیوار نہیں ہے۔ غزہ کے ہزاروں لوگ روز مرہ کی زندگی گزارنے کیلئے اسرائیل جاتے ہیں، ہر شام وہ کسی تھکے ہوئے جانور کی طرح واپس آتے ہیں، اسرائیلی بھی انہیں ویسے ہی غلام قیدی سمجھتے ہیں جیسے رومی شہنشاہوں کے دور میں ہوا کرتے تھے لیکن یہ غزہ والے اسرائیل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
 اب غزہ والوں کو عربی زبان بھی آتی ہے اور عبرانی بھی جو اسرئیل کی قومی زبان ہے۔ یعنی غزہ والے اسرائیلیوں کی بھاشا اچھی طرح جانتے ہیں۔ غزہ میں کوئی کالج نہیں ہے۔ غزہ والے تو بین الاقوامی خیرات پر جیتے ہیں وہ کوئی کالج کہاں سے کھولیںگے۔ لیکن غزہ کی نسلیں بم اور گولیوں کی آواز کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں اور ان میں سے اکثر انہیں دھماکوں کے ساتھ یا ان ہی کی وجہ سے موت کے گلے لگ جاتے ہیں اس لئے وہ ان کیلئے زندگی کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ وہ اسلحہ چلانا ہی نہیں بنانا بھی جانتے ہیں۔ غزہ کے ان روزمرہ کے مزدوروں نے بہت جلد جان لیا کہ یوں تو اسرائیل میں ہر شہری کیلئے فوجی ٹریننگ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس طرح ان کی یہ ریزرو فوج چارلاکھ سے بھی زیادہ ہے، لیکن فوجی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد یہ اسرائیلی دوسرے کام دھندوں میں لگ جاتے ہیں، یہ باقاعدہ یا باضابطہ فوجی نہیں ہوتے۔ اس کے بعد یہ اسرائیلی جانتے ہیں کہ ضابطہ بند فوجی نہیں ہیں، غزہ والوں نے اندازہ لگایا کہ یہ اسرائیلی کسی ضابطہ بند فوجیوں کی طرح نہیں لڑ سکتے، یوں بھی اسرائیلی فوجوں کو اپنی ٹیکنالوجیکل استعداد پر بہت ناز تھا، وہ جانتے تھے کہ ان کے فوجی ٹیکنالوجی کے سردار ہیں، اسرائیل کا مشہور زمانہ اور اینٹی میزائل سسٹم ایسی چین تھی جو کسی دور سےآتے ہوئے راکٹ کا پتہ لگا لیتی ہے اور اس کے اڑتے ہی آسمان میں ہی چیتھڑوں کی طرح اُڑاسکتی ہے۔ غزہ والوں کو معلوم تھا کہ یہ سب صحیح ہے، لیکن انہوں نے دیکھا کہ ان مشینوں کی نگرانی کرنے والے بہت کم اسرائیلی فوجی تعینات ہوتے ہیں، غزہ والوں نے معلوم کیا کہ ان نگرانی کرنے والوں کی تعداد چند ہی سوہے۔ اس لئے غزہ پر حملہ کرنے والوں نے سب سے پہلے ان ہی کو دبوچ لیا اور ایسا دبوچا کہ چوبیس گھنٹوں میں اسرائیل کی فوجی طاقت نے گھٹنے ٹیک دیئے ، یہ سب باتیں اسی رپورٹ میں بتائی گئی تھیں۔
 یہ خبریں جو ہم نے آپ کو دی ہیں یہ ہمارے تخیل کی پیداوار نہیں ہیں، ہم نے اسے ہاریٹس کے مضمون کے علاوہ الجزیرہ اور چند دیگر خبری ذرائع سے مستعار لی ہیں، ان ہی خبروں کے ساتھ یہ تبصرہ بھی شامل ہے کہ حماس نے اسرائیلی فوج کو اس بری طرح دبوچا کہ ان کو الارم بجانے کا بھی موقع نہیں ملا، یہی وجہ ہے کہ اس خبر کے باوجود اسرائیلی حکام کہہ رہے تھے کہ وہ حماس کا نام و نشان تک مٹا دیں گے مگر انہیں غزہ پر کوئی بڑا حملہ کرنے کی ہمت نہیں پڑی۔ ان کو یہ خیال تھا کہ اس حملہ کے نتیجے میں ان دو سو یرغمالوں کا کیا ہوگا جو حماس نے سرنگوں میں پہنچا دیئے ہیں، اگر ان یرغمالوں کا کوئی برا حشر ہوا تو اسرائیلی حکومت اپنے عوام کی مخالفت ہی نہیں شدید ناراضگی کا بوجھ برداشت نہیں کر پائے گی۔
 نیتن یاہو نے حماس کے جن رضاکاروں کو دہشت گرد قرار دیا ہے، ذرا ان کا حال بھی سن لیجئے۔ ان ’دہشت پسندوں‘ نے دو امریکی ماں اور بیٹی کو بھی چھوڑ دیا ہے۔ ان دہشت پسندوں نے دو عمررسیدہ اسرائیلی خواتین کو بھی رہا کر دیا ہے جن کی عمریں ۸۰؍ سال کے قریب تھیں۔ ان خواتین نے کہا کہ انہیں حماس سرنگوں میں لے گئے، لیکن انہیں سونےکیلئے گدے دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں کھانے کیلئے وہی دیا گیا جو حماس والے خود کھا رہے تھے۔ ہر پانچ یرغمالوں کیلئے ایک حماس گارڈ تعینات تھا۔ انہیں جب چھوڑا گیا تو انہوں نے ان دہشت پسندوں سے مصافحہ کیا۔ ان کا ویڈیو اسرائیل کے گھر گھر پہنچ چکا ہے۔ انہیں دہشت گرد کہنے والوں کو یہ ویڈیو ضرور دیکھنا چاہئے۔ اخیر میں ایک مختصر جملہ بھی سن لیجئے، فوجی اعتبار سے، اخلاقی اعتبار سے اور سیاسی اعتبار سے حماس اسرائیل پر فتح پاچکا ہے مگر اسرائیلی حکومت یہ اعتراف کبھی نہیں کرے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK