ارتضیٰ نشاط ایک شاعر کا نہیں بلکہ ایک عہد کا نام ہے

Updated: November 21, 2022, 1:37 PM IST | Ejaz Hindi | Mumbai

زندگی کے تجربات سے نشاط سرسری نہیں گزرے ، ا نہوںنے بڑی چابکدستی سے ہر حادثہ اور واقعہ کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا

Irtiza Nishat .Picture:INN
ارتضیٰ نشاط ۔ تصویر:آئی این این

میں ہر اک دور ہر اک عہد میں زندہ ہوں نشاطؔ
سب سمجھتے ہیں مجھے اپنے زمان والا
  کچھ عرصہ قبل ہمارے دوست عالم رضوی نے ارتضیٰ نشاط کی شخصیت کو انگریزی کے ایک جملے میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا تھا انہوںنے کہا تھا ۔ " A Great Poet of this Era" اسی خیال کو مرکز بنا کر میں نے اپنے مضمون کا عنوان ’’ ارتضیٰ نشاط ایک شاعر نہیں ایک عہد ہے ‘‘ تجویز کیا ہے۔ 
 ارتضیٰ نشاط تقریباً پچھلے ۶۰؍ برسوں سے شعر کہہ رہے ہیں لیکن انہوںنے کبھی نام ونمود کی خاطر کوئی ہتھکنڈا استعمال نہیں کیا۔ نہ مدیروں کو خوشامدی خطوط لکھے اور نہ ہی سفارشی حوالوں کا استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہم عصروں میں نمایاں حیثیت رکھتے ہوئے بھی سستی شہرت کی دہلیز پار نہیں کرسکے۔ انہوںنے ان برسوں میں جو مقام حاصل کیا وہ ان کی انتھک محنت اور ریاضت کی دین ہے ۔ اس طویل شعری سفر میں نشاطؔ نے شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ انہوںنے پابندنظم ، آزاد نظم، نثری نظم ، رباعیات، قطعات اور غزل کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے لیکن ان کا جھکاؤ غزل کی طرف زیادہ رہا۔ ان کے چار شعری مجموعے ’’ریت کی رسی‘‘، ’’تکذبٰن‘‘، ’’کہرام‘‘ اور ’’واقعی‘‘ شائع ہوچکے ہیں۔
  اب ان کا پانچواں شعری مجموعہ ’’ غزل دلربا ہے میری ‘‘ طباعت کے مراحل میں ہے جو ان کے اس رجحان اور پسند کا غماز ہے۔ اس کے علاوہ ان کی آئندہ چند مطبوعات اس طرح ہیں ۔ نظموں کا مجموعہ ’’ عش عش‘‘ ، نظموں اور غزلوں کے انگریزی تراجم’’Dying of the Lights ‘‘اورکچھ عرصہ قبل مرحوم ایڈوکیٹ سعود پیش امام نے ان کی بہت سی اردو غزلوں کا منظوم انگریزی ترجمہ کیا ہے ۔ جس کی اشاعت بھی زیر غور ہے۔
 اردو شاعری میں غزل کی اہمیت اورافادیت پر اتنا کچھ کہا اور سنا جاچکا ہے کہ اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ اس خوبصورت ،دلپذیر اور ہمہ گیر صنفِ سخن پر آخر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ اس کو غریب الدیار سمجھا گیا، نیم وحشی صنفِ سخن گردانا گیا لیکن ان تمام الزامات اور دربدری کے باوجود غزل کا جادو سرچڑھ کر بولتا رہا۔ جاں نثار اختر نے کہا تھا؎
ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے ، غزل کا فن کیا
چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے
  یہ چھپی ہوئی آگ نشاط کی غزلوں میں جا بجا نظر آتی ہے ۔ ذرا سا ان چنگاریوں کو کریدنے کی دیر ہے کہ شرارے پھوٹتے چلے جاتے ہیں۔ گویا بس دیئے کی لَو میں گرہ لگانے کی بات ہے؎
دیئے کی لَو میں تمہی نے گِرہ لگائی نشاطؔ
کہ شعر شعر میں باندھے ہیں بات بات کے رنگ
  میں سمجھتاہوں کہ شاعری کا تعلق سننے سے زیادہ پڑھنے میں ہوتا ہے۔ مشاعرہ سن کر دوچار شعروں سے آپ محظوظ تو ہوسکتے ہیں لیکن کسی اچھی کتاب کی و سے چار بار پڑھنے کا جو لطف ہے وہ حاصل نہیں کرسکتے۔ ارتضیٰ نشاط کے شعر پڑھنے اور سننے دونوں میں کمال رکھتے ہیں۔ ان کے یہاں لفظوں کا دروبست، خیال کی بندش اور موضوع کا انتخاب قابِل تحسین ہے۔
بے حسی کا سوچ کا غم بن گیا
گفتگو میں شعر موسم بن گیا
سن لیا نوحہ مری تنہائی کا
چاند پگھلا اور شبنم بن گیا
اگر گزر ہو اداسی کے جنگلوں سے کبھی
کوئی پہاڑ مرا مقبرہ سمجھ لینا
کسی سے مت ملو بیٹھے رہو دیکھو دریچے سے
غبار آلود دل سے دھند اچھی کہساروں کی 
تیشہ زنگ آلود پرانا لگتا ہے 
مشکل جوئے شیر کا لانا لگتا ہے
 ان اشعار میں بے حسی کی سوچ ،چاند کا پگھل کر شبنم بن جانا ، اداسی کے جنگل ، غبار آلود دل اور زنگ آلود تیشہ کیسی عجیب سی دلدوز کیفیات کا اظہار کرتے ہیں۔
 نشاط کی غزلوں میں مشاہدات ، تشبیہات ، استعارات، محاکات اور انسلاکات کے ساتھ احتیا ط وانظبات کا ایک وسیع سلسلہ نظرآتا ہے اوراس کیلئے انہیں کسی مشقت کی ضرورت نہیں پڑتی وہ بڑی آسانی سے اپنے آس پاس پھیلے موضوعات کو اپنی شاعری کا جز بنالیتے ہیں؎
ہوا میں ہوتے ہیں مضمون آس پاس کہیں
ذرا سا ہاتھ بڑھا دوںتو میری مٹھی میں 
 تخیلات اور تصورات کی دنیا میں ہزاروں ایسی متحرک تصویریں بنتی بگڑتی رہتی ہیں جن کو ضبطِ تحریر میں لانے کیلئے نشاط تمثیلات اور تلمیحات کے سہارے بھی اس بکھری ہوئی شعری کائنات کو منظم کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
اپنے ہنر کے ساتھ وفادار میں ہی ہوں
گہرائیوں میں فن کی گہر بار میں ہی ہوں
مرے ادراک سے باہر نہیں کچھ 
میں شاعر ہوں حدود وہوش میں ہوں
 حدود وہوش کی مستیوں میں نشاط جب غزل کی زلفیں سنوارتے ہیں تو غلط تو نہیں کہتے کہ 
وہ غزل جو میرؔ و غالب ؔ کی غزل تھی
اس میں لہجہ ارتضیٰ سا آگیا ہے
 اس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنفِ سخن ہے۔ پروفیسر رشید احمد صدیقی نے بجاطورپر غزل کو اردو شاعری کی آبروکہا ہے ۔ شمس الرحمٰن فاروقی کا ماننا ہے کہ ’’شاعر کو وہ سب کچھ کہنا چاہئے جو اس کے اندر ہے۔ اسے اپنی داخلی واردات سے شرمانا نہیں چاہئے۔ تلخی ہو، غصہ ہو، مایوسی ہو، فریب شکستگی ہو، جھنجھلاہٹ ہو، کام دہن کی لذت ہو، یا جسم کے ولولے ہوں ۔ بیان کردینا چاہئے۔‘‘ (شمس الرحمٰن فاروقی ، حوالہ روزنامہ انقلاب، صفحہ ادب نما ، مورخہ ۲۰۲۰۔۱۔ ۲۸)
  اگر آپ بغور نشاط کی شاعری کا مطالعہ کریں گے تو تقریباً یہ سارے تجربات آپ کو نشاط کی شاعری میں مل جائیں گے۔ زندگی کے تجربات سے نشاط سرسری نہیں گزرے ، انہوںنے بڑی چابکدستی سے ہر حادثہ اور واقعہ کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ چاہے وہ ذاتی ہو، دنیاوی ہو یا کائناتی ہو، غربت، بھوک، استحصال ، جنسی بے راہ روی ، نشے کی کارفرمائیاں، خون خرابہ، حادثات ارض وسماوی آفات ، فسادات ، مذہب، خدا ، قرآن ایسے ان گنت موضوعات ان کے شعری سفر کا حصہ بن چکے ہیں۔؎
محبت میں ہمیشہ مرتبے نیچے اترتے ہیں
صدف سے ابر گوہر بار زیرِ آب ملتا ہے
فسادی شرپسندوں میں کتابیں بانٹ دی جائیں 
کہ ملبے سے کسی بچے کا اک بستہ نکلتا ہے
جیسے ہر شخص کوئی جرم کئے بیٹھا ہو
گھر میں گھستے ہی عجب گھر کی فضا لگتی ہے
سہولت سے مہمان کھیلیں شکار
درختوں پہ چڑیاں سجا دی گئیں
سورۂ والعصر ہے قرآن میں
مجھ سے زیادہ کون ہے نقصان میں
اوران کے یہ دو شعر تو عالمی سطح پر گونج رہے ہیں؎
کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے
اور
شاعری ہے کوئی نوشاد کا میوزک تو نہیں
شعر اچھا ہے تو پھر گاکے سناتا کیا ہے
 بہت ہی کم عرصہ میں ارتضیٰ نشاط نےہندو پاک میں اپنی شاعری کا جلوہ بکھیر دیا۔ وارث علوی نے انہیں اردو ادب کا شاہ حاتم کہا۔ سکندر احمد نے امراء القیس کے لقب سے یادکیا۔ مولانا انجم فوقی بدایونی نے شاعر آتش ندا کہا۔ آوارہ سلطانپوری نے سیاسی اور سماجی طنز کا صورت گر سمجھا۔فضیل جعفری نے ارتضیٰ نشاط کی شاعری کو زندہ انسان کی شاعری بتایا۔ عبدالاحد ساز نے چلتی پھرتی رصد گاہِ خیال کہا۔ پرویز یداللہ مہدی نے دیٹ مین فرام استنبول کہا۔ انور خان نے برہنہ اسلوب کا شاعر کہا۔تنویرعالم جلگاؤنی نے شعری صلاحیتوں کا مستحکم اسلوب کہا۔ نظام الدین نظام نے زندگی کے مسائل کا شاعر کہا۔ جاوید ناصر نے زیر لب بلند آگہی کی تہہ نشین گونج کہا۔
 اعجاز ہندی نےHorrible Expression کا شاعر کہا۔ خلیق الزماں نصرت نے ان کے اشعار کو شوکیس میں سجانے کی بات کہی۔ پروفیسر عتیق اللہ نے سچے اور محسوس تجربے کا شاعر کہا۔ ڈاکٹر مجاہد حسین حسینی نے اردو کا لافانی صحیفہ نگار کہا۔ رفیق جعفر نے ان کی شاعری کو خاموش طوفان بتایا۔ پروفیسر الیاس شوقی نے دبا دبا سا باغیانہ رویہ کہا اور ڈاکٹر قمر صدیقی نے گم ہوتی ہوئی انسانی رشتوں کا شعری اسلوب کہا۔ بہرحال یہ تو ہوئی کچھ مشاہیر شعراء اور ہم عصر شاعروں کی آراء لیکن خود ارتضیٰ نشاط اپنے تعلق سے کیا کہتے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے؎
اپنی جگہ ادب میں بنالے گا ارتضیٰ
یہ ایک بات اس کے مقدر میں خاص ہے
یقیناً انہوںنے ادب میں اپنی جگہ بنالی ہے۔
 اُردو کے علاوہ ہندی ساہتیہ سے جڑے ہوئے لوگوں میں بھی ان کی پذیرائی ہوتی ہے۔ انہیں ہندی کی کئی انجمنوں نے ساہتیہ بھوشن جیسے پرسکار اور دیگر اعزازات سے نوازا ہے۔ نشاط جتنے اردو میں مقبول ہیں اتنے ہی ہندی زبان میں مقبولیت رکھتے ہیں ۔ پچھلے دنوں سنسکرتی سنگم کلیان نے انہیں ورشٹھ کوی پر سکار سے متمانت کیا ہے۔مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی نے ان کی کتابوں کو انعامات سے نوازا ہے۔
 میں ذرا سی ترمیم کی اجازت چاہتے ہوئےفراق گورکھپوری کے مشہور زمانہ شعر کو ارتضیٰ نشاط کے نام کرتے ہوئے اپنی بات مکمل کرتا ہوں؎
آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں گی ہم عصرو
جب بھی ان کو دھیان آئے گا تم نے نشاط کو دیکھا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK