افلاس دور کرنے کیلئے اسلامی تدابیر

Updated: February 14, 2020, 10:54 AM IST | Yusuf al Qaradawi

سلام فقر و فاقہ کو ختم کرنے کے لئے ہر وقت مستعد رہتا ہے مبادا کہ وہ انسان کے عقیدہ، اخلاق و کردار، عائلی زندگی اور اجتماعی زندگی پر اثرانداز ہوکر کوئی خطرناک صورت ِ حال پیداکردے۔

اسلامی سوسائٹی میں ہر فرد سےیہ مطالبہ کیاجاتا ہےکہ وہ کوئی نہ کوئی کام کرے۔ تصویر: آئی این این
اسلامی سوسائٹی میں ہر فرد سےیہ مطالبہ کیاجاتا ہےکہ وہ کوئی نہ کوئی کام کرے۔ تصویر: آئی این این

اسلام فقر و فاقہ کو ختم کرنے کے لئے ہر وقت مستعد رہتا ہے مبادا کہ وہ انسان کے عقیدہ، اخلاق و کردار، عائلی زندگی اور اجتماعی زندگی پر اثرانداز ہوکر کوئی خطرناک صورت ِ حال پیداکردے۔ اسی لئے اسلام نے یہ بات لازمی قرار دی ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو کم از کم مندرجۂ ذیل ضروریات ِ زندگی میسر ہونی چاہئیں: خوردونوش، رہائش، گرمیوں اور سردیوں کا لباس، اگر وہ کسی فن میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس فن کی کتابیں وغیرہ جن کی اس کو ضرورت ہو، اگر وہ کوئی دستی کام کرتا ہے تو اس کام کے ہتھیار و اوزار، اور اگر وہ شادی کا خواہشمند ہو تو اس کی شادی کا انتظام۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ معاشرےکے ہر فرد کو اُس کے مناسب ِ حال وہ معیارِ زندگی میسر آسکے جو اللہ کے فرائض کی ادائیگی اور زندگی کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے میں اس کے لئے ممدو معاون ہو۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں معیشت کا یہ معیار ہر انسان کو کیسے حاصل ہو؟ اور اسلام نے اس سلسلے میں کون سے ذرائع و وسائل اختیار کئے ہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلام نے انسان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لئے وسائل اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے۔
 اسلامی سوسائٹی میں ہر فرد سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی کام کرے اور اُسے یہ حکم ہے کہ وہ روئے زمین پر چلے پھرے اور اللہ کا دیا ہوا رزق کھائے، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے:
 ’’وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم و مسخر کر دیا، سو تم اس کے راستوں میں چلو پھرو، اور اُس کے (دئیے ہوئے) رِزق میں سے کھاؤ۔‘‘  (الملک: ۱۵) کام، فقر و فاقہ سے نمٹنے کے لئے پہلا ہتھیار ہے ،حصولِ مال کیلئے پہلا  ذریعہ ہے اور اُس زمین کو آباد کرنے کے لئے بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی خلافت کا شرف بخشا ہے اور اس کو حکم دیا ہے کہ زمین کو آباد کرے۔ ارشادِ خداوندی  ہے، صالح علیہ السلام اپنی قوم سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں:
 ’’اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اُ س کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے، وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے۔‘‘ (ہود:۶۱)
 اسلام نے ہر مسلمان کے لئے ہر کام کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ ہر شخص جس کام کی صلاحیت رکھتا ہو وہ اُسے اختیار کرسکتا ہے۔ کوئی مقررہ کام کرنا اُس پر فرض نہیں اِلّا یہ کہ سوسائٹی کی بہتری کے لئے اس کے سپرد کوئی خاص کام کردیا جائے۔ البتہ اسلام اُن پیشوں کے اختیار کرنے سے روکتا ہے جو فرد اور معاشرہ دونوں کے لئے ضرررساں ہوں۔
 اسلامی نظام کے زیرسایہ رہ کر کوئی محنت کرنے والا اپنی محنت کے معاوضہ  اور کوشش کے ثمر سے محروم نہیں رکھا جاتا بلکہ مزدور کی مزدوری اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ہی بلاکم و کاست ادا کردی جاتی ہے کیونکہ اگر اُسے وہ مزدوری نہیں دی جائے گی جس کا کہ وہ مستحق ہے تو یہ اس پر ظلم ہوگا اور ظلم کو اسلام میں قطعاً  حرام قرار دیا گیا ہے۔
 اسلامی نظام میں اس  بات پر بھی کوئی قدغن نہیں کہ کسی محنت کرنے والے  کے پاس حلال طریقے سے کمائی ہوئی اتنی دولت جمع ہوجائے جس سے وہ کوئی منقولہ یا غیرمنقولہ جائیداد خرید سکے اور اپنے معیارِ زندگی کو بلند کرسکے یا اس سے بیماری اور بڑھاپے کے ایام میں فائدہ اٹھا سکے یا اُس کی اولاد اور ورثاء اس کے مرنے کے بعد اُس سے متمتع ہوسکیں۔
 اسلام نے اُن تمام نفسیاتی اسباب اور عملی رکاوٹوں پر بحث کی ہے جو لوگوں کو جہد و عمل سے روکتی ہیں۔
 بعض لوگ توکل علی اللہ کا دعویٰ کرکے جہدوعمل سے بالکل فارغ ہوکر بیٹھ جاتے ہیں اور اس انتظار میں رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کے لئے آسمان سے رزق اتارے گا اور وہ کھائیں گے۔ ایسے متوکلین نے اسلام کو سمجھنے میں لغزش کھائی ہے کیونکہ توکل علی اللہ جہدوعمل کے منافی نہیں بلکہ مسلمان کا وطیرہ تو اس سلسلے میں یہ ہونا چاہئے جو نبی ﷺ نے ایک بد ّوسے فرمایا تھا جس نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنی اونٹنی کو کھلا چھوڑ دیا تھا۔ آپؐ نے اس سے فرمایا:  ’’اونٹنی کو باندھ اور پھر خدا پر توکل کر۔‘‘
 توکل علی اللہ کے مدعیان اپنے موقف کی حمایت میں آپؐ کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جس میں آپؐ نے فرمایا: ’’اگر تم اللہ پر کماحقہ توکل کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق عطا فرمائے گا جس طرح کہ ان پرندوں کو دیا جاتا ہے جو صبح کے وقت خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پرشکم ہوکر اپنے گھونسلوں میں واپس آتے  ہیں۔‘‘ مگر انہوں نے اس حدیث کو سمجھنے میں غلطی کی ہے۔  حدیث میں لفظ  تَغْدُوا وارد  ہوا ہے جس کا مادہ ’’غدو‘‘ ہے یعنی صبح کے وقت رزق کی تلاش میں نکلنا۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ پرندے گھونسلے میں بیٹھے رہتے ہیں اور پھر خدا اُن کو وہاں رزق پہنچاتا ہے، بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ جس طرح پرندے خدائی زمین سے رزق حاصل کرنے نکلتے ہیں اور پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں اسی طرح تم بھی نکلو، تمہارے لئے بھی خدا نے اپنی زمین پر رزق کا سامان پھیلا رکھا ہے۔
 ایک دفعہ امام احمد بن حنبلؒ سے پوچھا گیا: اس شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو اپنے گھر میں یا مسجد میں بیٹھ رہتا ہے اور کہتا ہے کہ میں کوئی کام نہیں کروں گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ مجھے رزق عطا فرمائے گا۔ امام صاحبؒ نے فرمایا: ’’یہ شخص جاہل مطلق ہے، کیا اس نے آنحضورﷺ کایہ فرمان نہیں سنا کہ ’’میرا رزق میرے نیزے کے سائے میں رکھا گیا ہے۔ اور آپؐ کا یہ ارشاد اسے معلوم نہیں کہ پرندے صبح کے وقت تلاشِ رزق میں خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پرشکم ہوکر لوٹتے ہیں  اور رسول خداﷺ کے صحابہؓ بحر و بر میں تجارت کیا کرتے تھے اور اپنے نخلستانوں میں کام کیا کرتے تھے، ان کا عمل ہمارے لئے نمونہ ہے۔‘‘
 انسان اور کائنات کی تخلیق میں اللہ کی سنت کا تقاضا یہ ہے کہ روئے زمین پر انسان اور دیگر مخلوقات اپنی خوراک اور دیگر سامانِ زیست کوشش اور محنت سے حاصل کریں، تبھی تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ’’ زمین کے اطراف میں پھرو اور اللہ کا عطا کردہ رزق کھاؤ۔‘‘ (الملک:۱۵) ایک اور جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:
 ’’پس جب نماز ادا ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل (روزی) تلاش کرو۔‘‘ (الجمعہ:۱۰)
 روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ توکل علی اللہ کا دعویٰ کرکے نماز کے بعد مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپؓ ناراض ہوئے  اور کہا کہ کوئی شخص رزق کی کوشش ترک کرکے خدا سے یہ دُعا نہ کرے کہ اے اللہ مجھے روزی دے، درآں حالیکہ وہ جانتا ہے کہ آسمان سے سونے اور چاندی کی بارش نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ  جب نماز ادا ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل (روزی) تلاش کرو۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK