آج ہمارے سوچنے کا معیار بدل گیا ہے، ہمارے نزدیک دُنیا کی قیمت زیادہ ہے، اور دنیا داروں کی قدر و منزلت زیادہ ہے حالانکہ اللہ کے نزدیک دُنیا کی حیثیت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: May 05, 2023, 10:48 AM IST | Maulana Syed Abdullah Hosni Nadvi | Mumbai
آج ہمارے سوچنے کا معیار بدل گیا ہے، ہمارے نزدیک دُنیا کی قیمت زیادہ ہے، اور دنیا داروں کی قدر و منزلت زیادہ ہے حالانکہ اللہ کے نزدیک دُنیا کی حیثیت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔
جب اہل ایمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کو ایک دوسرے کے ایمان سے فائدہ ہوتا ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کا نظام اجتماعی رکھا ہے۔ پانچ وقت مسجد آنے کے جو بہت سے فوائد ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کی ملاقات سے ایک دوسرے کو فائدہ ہوتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر دونوں صلاحیتیں رکھی ہیں؛ یعنی انسان متاثر ہوتا بھی ہے اور متاثر کرتا بھی ہے، لہٰذا اگر آپ اچھے آدمی کے ساتھ رہیں گے تو آپ پر اُس کا اچھا اثر پڑے گا، اور اگر کسی بُرے شخص کے ساتھ رہیں گے تو اس کا برا اثر پڑے گا، اور اگر کوئی اس بات کا انکار کرتا ہے تو گویا وہ حقیقت کا انکار کرتا ہے، اس لئے کہ دین اسلام میں انہیں چیزوں کے پیش نظر تاکید کی گئی ہے کہ بروں کی صحبت سے بچو اور اچھوں کی صحبت اختیار کرو۔ اسی لئے بار بار مسجد میں آنے کی پابندی بھی لگادی ہے، تاکہ جو لوگ نماز پڑھتے ہیں اور وہ مکمل طور پر اچھے نہیں ہیں، جب وہ بار بار مسجد آئیں گے اور کچھ دیر اچھے لوگوں کے ساتھ رہیں گے، تو یقینی طور پر ان میں بھی کچھ اچھائی آ جائے گی۔
لیکن موجودہ دور میں ہم لوگوں کا مزاج کچھ اس طرح کا ہوگیا ہے کہ ہم اسلام کی اجتماعی شکلوں سے بھی کما حقہ فائدہ نہیں اٹھا پاتے ہیں، اور ان میں بھی صرف اپنی جسمانی حاضری درج کرانا کافی سمجھتے ہیں، جب کہ صرف آنا اور جانا کافی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ پنج وقتہ نماز باجماعت پابندی کے ساتھ ہونی چاہئے، اور ساتھ ہی یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اس کے ذریعہ ہمیں آپس میں ایک دوسرے سے واقف بھی ہونا ہے۔ ہم یورپی مزاج نہ بنائیں کہ ہر ایک کو صرف اپنے سے مطلب ہو۔ وہاں تو یہ صورت حال ہے کہ ایک کمرہ میں بھی رہتے ہیں، لیکن ایک دوسرے سے بالکل جدا رہتے ہیں۔
اسلام کی اجتماعی شکلوں پر کاربند رہنے کا ایک بنیادی فائدہ یہ بھی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی ضروریات سے بھی واقف ہوں گے اور ہماری آپس کی خلیجیں دور ہوں گی۔ اگر ان شکلوں ہی کا لحاظ مفقود ہوجائے گا تو کس کو توفیق نصیب ہوگی کہ وہ کسی کی ضرورت معلوم کرے، افسوس کی بات ہے کہ آج ہمارے سماج میں آپس ہی میں بے گانگی بہت بڑھتی جارہی ہے۔ اگر یوں کہیں کہ سب جانور جیسے ہوتے جارہے ہیں تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ پہلے زمانہ میں لوگ جانور ہوتے تھے تو انسان بنتے تھے، اور اب صورت حال یہ ہے کہ انسان سے جانور بنتے ہیں، گویا آج ہر چیز بالکل الٹی ہوگئی ہے، پہلے بوڑھے لوگ اچھے ہوتے تھے اور اب اچھے لوگ بوڑھے ہوگئے ہیں۔ عجیب وغریب صورت حال ہےاور حد تو یہ ہے کہ کبھی کبھی یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ فلاں صاحب اچھے کام کرنے سے بُرے ہوگئے، فلاں شخص پہلے نمازی تھے وہ نماز چھوڑ بیٹھے، اور بہت سے خیر کے کام کرلیتے تھے وہ بھی چھوڑ بیٹھے، حالانکہ یہ وہ کام ہیں جو اس لئےکئے جاتے ہیں کہ زندگی میں جو بھی معاملہ الٹا ہے، اس کو سیدھا کردیا جائے، اس لئے کہ اگر الٹے ہی چلتے رہے تو حادثہ ہوجائے گا، تھوڑا بہت چل سکتے ہیں جیسا کہ گاڑی الٹی کرکے مڑا لی جاتی ہے، لیکن مستقل چلنا مشکل ہے۔ اور آج اس الٹے چلنے کا نتیجہ سامنے ہے کہ بھائی بھائی کی نہیں بن رہی ہے،پڑوسی پڑوسی کی نہیں بن رہی ہے، حتیٰ کہ نمازی نمازی کی نہیں بن رہی ہے۔ ظاہر ہے یہ جھگڑے اسی لئے ہیں کہ فرائض میں ہماری کوتاہی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج کوئی گھر اس وبا سے نہیں بچا ہے، اگر آج کسی اعلیٰ درجہ کے خوشحال شخص سے بھی اس کی ذاتی زندگی میں سکون کے متعلق پوچھ لیا جائے تو وہ یہی جواب دیتا ہے کہ بس دور کے ڈھول سہانے۔آپ کو ہمارے اندرون خانہ کی حقیقت کیا معلوم!
آج ہمارے سوچنے کا معیار بدل گیا ہے۔ ہمارے نزدیک دنیا کی قیمت زیادہ ہے، اور دنیا داروں کی قدر و منزلت زیادہ ہے، حالانکہ اللہ کے نزدیک دُنیا کی حیثیت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے، اسی لئے آج بھی جو لوگ واقعی اللہ تعالیٰ کے لئے کام کرتے ہیں، ان کے لئے دنیا کی کوئی حیثیت نہیں ہے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس وقت ہم لوگوں پر دنیا اتنی حاوی ہوگئی ہے کہ ہمارا دین بھی دنیا بن گیا ہے، جب کہ پہلے صورت حال بالکل مختلف تھی، پہلے لوگ دنیا کو دین بناتے تھے اور اب حال یہ ہے کہ دین کو دنیا بناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دنیا بقدر ضرورت رہے، لیکن ہم نے اس کو بالکل الٹا کردیاہے کہ آخرت بقدر ضرورت رہے، اور باقی دُنیا ہی دُنیا ہے۔
یاد رہے کہ جس طرح ایک بھوکے اور تھکے ماندہ شخص کو بقدر ضرورت غذا اور آرام کی ضرورت ہوتی ہے، اگر وہ اس میں غلو کرے تو بدہضمی اور کاہلی کا شکار ہوجائے، اور اس سے بدبو پھوٹنے لگے، اسی طرح دنیا کے ہر انسان کو بقدر ضرورت وسائل ِزندگی کی ضرورت ہوتی ہے، اگر وہ ان کے حصول میں غلو کرے گا تو وہ بھی بدہضمی کا شکار ہوگا اور اچھے اور سچے لوگ اس سے دور بھاگیں گے۔ لہٰذا معتدل راستہ یہ ہے کہ انسان، دُنیا کے حصول کی کوشش بقدر ضرورت کرے کیونکہ اس کیلئے انتہائی درجہ انہماک دین اسلام میں پسندیدہ بات نہیں ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر دُنیا کی ذرا بھی حیثیت ہوتی تو اللہ کی نافرمانی کرنے والے شخص کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہ ہوتا، لیکن دُنیا کی کچھ بھی حیثیت نہیں ہے، اس لئے اس زندگی میں ہر کوئی انعاماتِ خداوندی سے لطف اندوز ہورہا ہے، اس کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ جس طرح دنیا میں جب کسی مجرم کو پھانسی پر چڑھانا ہوتا ہے تو اس سے پوچھتے ہیں کہ تمہاری آخری تمنا کیا ہے؟ اس وقت وہ جو بھی فرمائش کرتا ہے، اس کی فرمائش پوری کی جاتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نافرمان کو بھی خوب دیتے ہیں،کیونکہ آخرت کی زندگی میں اسے جہنم میں جانا ہے، لہٰذا اسے یہاں جتنا کھانا ہو وہ کھالے۔اسی لئے بعض آیات سے یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایمان والے بندوں کا ایمان ڈانواڈول نہ ہوجاتاتو اللہ تعالیٰ نافرمانوں کا گھر سونے کا بنا دیتا تاکہ وہ خوب عیش کرلیں اور ان پر حجت تمام ہوجائے، پھر اس کے بعد ان کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے،لیکن اہل ایمان کی خاطر ایسا نہیں کیا گیا کہ کہیں ان کی چمک دمک کو دیکھ کر وہ بھی اس میں نہ الجھ جائیں۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک دُنیا کی ایسی بے حیثیتی کا علم ہونے کے باوجود اگر ہم دنیا ہی کے لئے جئیں گے مریں گے، تو یاد رہے کہ حدیث شریف میں دنیا کی مثال مچھر سے دی گئی ہے اور مچھر کا پر دیکھنے میں چھوٹا اور معمولی ہوتا ہے، لیکن جب مچھر کاٹتا ہے تو اس سے ڈینگو اور ملیریا پیدا ہوجاتا ہے اور صحت داؤ پر لگ جاتی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو آج پورا سماج اسی مچھر کے کاٹے کا شکار ہے، اور ہر ایک ڈینگو یا ملیریا میں مبتلا ہے اور پریشان رہتا ہے، بس اتنا فرق ہے کہ امیر شخص زیادہ مبتلا ہے اور غریب شخص اپنے معیار کے اعتبار سے کچھ کم مبتلا ہے، البتہ مجموعی طور پر پورا سماج بیمار ہے، جس کے علاج کی سخت ضرورت ہے۔
جب تک اس علاج کی فکر نہیں کی جائیگی، اس وقت تک ہمارے سماج میں صالح اور ثمر آور نتائج کی اُمید مشکل ہے۔