• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشیانہ: میچ ختم، اِسکرینیں بند، بزنس جاری: یہ ہے کھیلوں کے میڈیا کی نئی معیشت

Updated: October 18, 2026, 6:15 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

گوگل اسپورٹس مارکیٹنگ ۲۰۲۶ء کےمطابق ہندوستانی شائقین براہِ راست کھیل کے مقابلے میں ’’غیر براہِ راست‘‘ مواد پر اوسطاً ۲۰؍ فیصد زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔ اس میں انٹرویو، پوڈکاسٹ، مختصر ویڈیوز، تجزیے اور اہم لمحات دوبارہ دیکھنا شامل ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

کبھی کھیل دیکھنے کا مطلب میچ کے وقت ٹی وی کے سامنے بیٹھنا تھا۔ آخری گیند کے بعد نشریات ختم اور اگلے میچ کا انتظار شروع۔ اب میچ سے پہلے پیش گوئیاں، دورانِ کھیل اعدادوشمار، وقفے میں تبصرے، اختتام پر جھلکیاں اور اگلے دن تجزیے بھی دیکھے جاتے ہیں۔ کھیلوں کا مواد مسلسل چلتا رہتا ہے۔ کاروباری نکتہ یہ ہے کہ کمائی اب صرف براہِ راست نشریات پر منحصر نہیں رہی۔ پہلے میچ ایک نشریاتی وقت تک محدود تھا؛ اب وہ ہفتے بھر کا مواد اور اشتہاری موقع بن سکتا ہے۔ 
گوگل اسپورٹس مارکیٹنگ ۲۰۲۶ء کےمطابق ہندوستانی شائقین براہِ راست کھیل کے مقابلے میں ’’غیر براہِ راست‘‘ مواد پر اوسطاً ۲۰؍ فیصد زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔ اس میں انٹرویو، پوڈکاسٹ، مختصر ویڈیوز، تجزیے اور اہم لمحات دوبارہ دیکھنا شامل ہے۔ یہ اعداد بدلتی عادت کے ساتھ اشتہارات اور اسپانسرشپ کی نئی منڈی بھی دکھاتے ہیں۔ شائقین میچ کے بعد بھی مواد دیکھیں تو برانڈز کو ان تک پہنچنے کے مزید مواقع ملتے ہیں۔ روایتی کھیلوں کے میڈیا کا بڑا اثاثہ نشریاتی حق تھا: کس چینل کو میچ دکھانے کی اجازت ملے گی اور وہ کتنی رقم دے گا۔ اب اسی حق کے گرد مشمولات کی کئی پرتیں بن رہی ہیں۔ ایک میچ سے تجزیہ، کھلاڑیوں کی کہانیاں، لائیو اعدادوشمار، مختصر کلپس اور بعد از میچ گفتگو تیار ہوسکتی ہے۔ یوں کھیل کئی فارمیٹس میں تقسیم ہونے والا مواد بن جاتا ہے، ہر فارمیٹ کے ناظرین اور تجارتی امکانات ہیں۔ حقوق کی قدر میچ دکھانے کے ساتھ اس کے گرد مشمولات کی عمر بڑھانے میں بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: Pink Noise:جب نیند بھی پروڈکٹ بن جائے، یہ ہےسلیپ اِکنامی کا نیا بازار!

اس کاروبار میں کانٹینٹ کریئٹرز کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ ہر شائق سرکاری کمنٹری یا طویل اسٹوڈیو شو نہیں دیکھنا چاہتا۔ کوئی سابق کھلاڑی کی تکنیکی رائے سنتا ہے، کوئی مزاحیہ تبصرہ پسند کرتا ہے اور کوئی اپنی ٹیم کی خبریں چاہتا ہے۔ یوٹیوب جیسے پلیٹ فارم پر مخصوص انداز اور مستقل سامعین رکھنے والا کریئٹر برانڈز کیلئے قیمتی شراکت دار بن سکتا ہے۔ اشتہار ایک واضح دلچسپی رکھنے والی کمیونٹی تک پہنچ سکتا ہے، صرف بڑی تعداد تک نہیں۔ 
براہِ راست نشریات کے اشتہارات کے علاوہ اسپانسر شدہ پوڈکاسٹ، برانڈیڈ ویڈیوز، پلیئرز کے ساتھ شراکت، سبسکرپشن اور ای کامرس کنکشن، کمائی کے نئے راستے ہیں۔ گوگل کے مطابق ۲۰۲۵ء کے آئی پی ایل میں غیر براہِ راست یوٹیوب مواد استعمال کرنے والی سوئیگی مہم نے ۳ء۵؍ گنا اضافی اشتہاری منافع حاصل کیا تھا۔ یہ دکھاتا ہے کہ میچ کے آس پاس کا مواد اشتہاری خرچ کو زیادہ مؤثر بنا سکتا ہے۔ 
دوسری طرف ناظرین کی توجہ تقسیم ہو رہی ہے۔ ۲۰۲۶ء میں ملک کے آن لائن ویڈیو دیکھنے والوں کی تعداد ۶۶۴ء۹؍  ملین ہونے کا تخمینہ ہے جبکہ اس سے جڑے ہوئے ٹی وی ناظرین بھی تیزی سے بڑھے ہیں۔ ایک شخص میچ بڑی اسکرین پر دیکھتے ہوئے فون پر اسکور، تبصرہ یا کلپ دیکھ سکتا ہے۔ اس ’’دو اسکرینی‘‘ عادت سے پلیٹ فارم کو رابطے کے مزید مواقع ملتے ہیں، لیکن مواد بنانے والوں کیلئے مقابلہ بھی سخت ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: AI، فلمسازوں اور فلم کمپنیوں کو نئے کاروباری امکانات فراہم کررہا ہے

یہیں حقوق کا مسئلہ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ براڈکاسٹر کے پاس براہِ راست نشریات کے حقوق ہوسکتے ہیں، مگر ہر کلپ، ردعمل، میم یا تجزیاتی ویڈیو کی تجارتی حیثیت یکساں نہیں۔ لیگز چاہتی ہیں کہ ان کی سرمایہ کاری سے بننے والی جھلکیوں پر اختیار رہے؛ تخلیق کار اسی مواد سے اپنی کمیونٹی بنانا چاہتے ہیں۔ قواعد بہت سخت ہوں تو گفتگو محدود ہوسکتی ہے، اور بہت نرم ہوں تو حقوق کی قدر متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لئے مختصر مواد کی ترقی لائسنسنگ اور تقسیم کے معاہدوں کا معاملہ بھی ہے۔ 
چھوٹے کھیلوں کیلئے اس تبدیلی میں الگ موقع ہے۔ ہر کھیل مہنگے ٹی وی حقوق یا بڑی براڈکاسٹنگ ٹیم کا خرچ نہیں اٹھا سکتا۔ کم لاگت کی ویڈیو، ڈجیٹل اسکورنگ، مقامی زبان میں تبصرہ اور سوشل میڈیا کے ذریعے چھوٹے مقابلے بھی اپنے شائقین بنا سکتے ہیں۔ اگر شائقین کی تفصیل (عمریں، جنس وغیرہ) معلوم ہو تو مقامی اسپانسر، کھیلوں کا سامان بنانے والے اور تربیتی ادارے بھی اس منڈی میں جگہ حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ خاص طور پر ان کھیلوں کیلئے اہم ہے جن کے پاس بڑے نشریاتی معاہدے نہیں۔ تاہم صرف ویوز کافی نہیں ؛ مستقل ناظرین اور قابلِ پیمائش تجارتی نتائج درکار ہیں۔ 
کھیلوں کے میڈیا کا مستقبل اس بات سے طے نہیں ہوگا کہ میچ کس نے دکھایا بلکہ اس سے کہ میچ کے گرد توجہ کو کس نے کاروبار میں بدلا۔ لائیو اور ڈائریکٹ اسپورٹس اب بھی انتہائی پُرکشش ہے؛ اسی سے جذبات اور بڑے لمحے جنم لیتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد آنے والی کہانیاں اس کشش کو کئی دنوں تک زندہ رکھ سکتی ہیں۔ جس کمپنی کے پاس نشریاتی حق، تخلیق کار، ڈیٹا اور مختلف فارمیٹس کو جوڑنے کی صلاحیت ہوگی، وہ ایک میچ سے زیادہ دیر تک آمدنی حاصل کرسکے گی۔ یاد رہے کہ آخری گیند کے بعد اسکور بورڈ بند ہوتا ہے؛ کاروبار کیلئے کھیل جاری رہتا ہے۔ اور تب تک جاری رہتا ہے جب تک اسے ویوز ملتے رہتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK