بچوں کو مناسب ماحول، مؤثر رہنمائی اور سرگرمیوں پر مبنی تدریس کے ذریعے اظہارِ خیال کے مواقع فراہم کیے جائیں تو ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بڑی حد تک اجاگر کیا جا سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: October 18, 2026, 6:13 PM IST | Farhana Feroz Shaikh | Mumbai
بچوں کو مناسب ماحول، مؤثر رہنمائی اور سرگرمیوں پر مبنی تدریس کے ذریعے اظہارِ خیال کے مواقع فراہم کیے جائیں تو ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بڑی حد تک اجاگر کیا جا سکتا ہے۔
حال ہی میں ۷؍اکتوبر۲۰۲۶ءکو ٹین اسٹون سوشل انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سےرابوڈی فرینڈس سرکل ایجوکیشن سوسائٹی کے زیرِ انتظام شفیع بورونڈکرپرائمری اردو اسکول میں ششم اور ہفتم کے طلبہ کیلئے ’’پربودھن اور سائنسی نقطۂ نظر‘‘ کے موضوع پر ایک مؤثر تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد طلبہ میں سائنسی فکر، مشاہدہ، سوال کرنے کی صلاحیت اور زندگی کو ایک نئے زاویۂ نظر سے دیکھنے کا رجحان پیدا کرنا تھا۔
پروگرام کے دوران جب طلبہ کو اپنے خیالات، مشاہدات اور تجربات بیان کرنے کا موقع دیا گیا تو ان کے اندازِ گفتگو، اعتماد اور اظہارِ خیال میں نمایاں تبدیلی محسوس ہوئی۔ وہ محض سنی ہوئی باتوں کو دہرانے کے بجائے خود سوچنے، سوال کرنے اور اپنے خیالات پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے اندر ابھرتا ہوا یہ اعتماد میرے لیے محض ایک خوش گوار تجربہ نہیں، بلکہ اہم تعلیمی پیغام بھی تھا۔ جو ہمارے ملک کی نئی تعلیمی پالیسی۲۰۲۰ءکا مقصد ہے۔
اس تجربے نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اگر بچوں کو مناسب ماحول، مؤثر رہنمائی اور سرگرمیوں پر مبنی تدریس کے ذریعے اظہارِ خیال کے مواقع فراہم کیے جائیں تو ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بڑی حد تک اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ اس احساس نے اس حقیقت کو مزید واضح کیا کہ آج کے تعلیمی دور میں بچوں کو محض معلومات فراہم کرنا کافی نہیں، بلکہ ان میں شعور و آگہی پیدا کرنا، ان کی سوچ کو مثبت سمت دینا، منطقی استدلال کی صلاحیت پروان چڑھانا اور انہیں زندگی کے فیصلے سمجھ بوجھ کے ساتھ کرنے کے قابل بنانا ضروری ہے۔ اسی مشاہدے نے مجھے اس موضوع پر قلم اٹھانے کی تحریک دی کہ آخر معلومات کو شعور، شعور کو اعتماد اور اعتماد کو مثبت رویّے میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے؟
معلومات، علم اور شعور: تین مختلف مراحل
آج کا دور معلومات کا دور ہے۔ ایک کلک پر دنیا بھر کی خبریں، معلومات، تصاویر اور ویڈیوز دستیاب ہیں۔ بچے بھی اس ڈجیٹل دنیا کا حصہ ہیں اور انہیں معلومات تک رسائی کے پہلے سے کہیں زیادہ مواقع حاصل ہیں۔ تاہم، ہمارے سامنے ایک اہم سوال ہے: کیا معلومات کی فراوانی لازماً شعور و آگہی میں اضافے کا سبب بھی بن رہی ہے؟ کیا ہمارا نظامِ تعلیم بچوں کو صرف معلومات فراہم کر رہا ہے یا انہیں صحیح اور غلط میں تمیز کرنے، حقائق کو پرکھنے اور درست طرزِ عمل اختیار کرنے کے قابل بھی بنا رہا ہے؟
یہیں سے پربودھن، یعنی شعور و آگہی اور مثبت طرزِ فکر کو پروان چڑھانے کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ معلومات، علم اور شعور بظاہر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تصورات ہیں، لیکن ان کے درمیان بنیادی فرق موجود ہے۔ معلومات کسی حقیقت سے واقف کراتی ہیں، علم اس حقیقت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، جب کہ شعور انسان کو اس سمجھ کی بنیاد پر درست فیصلہ کرنے اور ذمہ دارانہ عمل اختیار کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایک احتجاجی طالب علم کی ڈائری
مثلاً کسی بچے کو یہ بتانا کہ سڑک پار کرتے وقت ٹریفک سگنل کا خیال رکھنا چاہیے، معلومات فراہم کرنا ہے۔ اسے ٹریفک قوانین کی وجوہات سمجھانا علم میں اضافے کا ذریعہ ہے، جب کہ سڑک پار کرتے وقت خود ان قوانین پر عمل کرنا شعور کی علامت ہے۔ معلومات کانوں تک پہنچتی ہیں، علم ذہن میں جگہ بناتا ہے، لیکن شعور انسان کے اندر راسخ ہو کر اس کے کردار اور رویّے میں جھلکتا ہے۔ تعلیم کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں کہ بچہ کتنا یاد رکھتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی عملی زندگی میں کس طرح برتتا ہے۔
سرگرمیوں پر مبنی تدریس کی اہمیت
قومی تعلیمی پالیسی میں سرگرمیوں پر مبنی تدریس پر زور دیا گیا ہے۔ یہ طریقۂ تدریس بچوں میں شعور و آگہی پیدا کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ روایتی تدریس میں اکثر استاد معلومات فراہم کرتا ہے اور طالب علم انہیں یاد کرکے امتحان میں لکھ دیتا ہے۔ اس طریقۂ تدریس کی اپنی اہمیت ہے لیکن اگر تعلیم کا مقصد بچوں میں سوچنے، سمجھنے، مسائل حل کرنے اور عملی زندگی میں درست فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے تو تدریس کو سرگرمیوں، تجربات اور حقیقی زندگی کے مشاہدات سے جوڑنا ہوگا۔ مثال کے طور پر، صفائی کے موضوع پر سبق پڑھانے کے بعد بچوں سے صرف صفائی کی اہمیت لکھنے کو نہ کہا جائے بلکہ انہیں جماعت اور اسکول کی صفائی کی ذمہ داری بھی سونپی جائے۔ پانی کی بچت پر گفتگو کے ساتھ انہیں پانی کے ضیاع کا مشاہدہ کروایا جائے۔ ہمدردی کا سبق پڑھانے کے بعد کسی ضرورت مند ساتھی کی مدد کرنے اور اپنے تجربے کو بیان کرنے کا موقع دیا جائے۔
استاد کا کردار: رہنما اور سہولت کار
استاد کا کردار محض نصاب مکمل کروانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ وہ بچوں کی سوچ کو صحیح سمت دینے، ان میں سوال کرنے کی ہمت پیدا کرنے اور ان کی اخلاقی و سماجی تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک باشعور استاد بچے کے ہر سوال کو بدتمیزی نہیں سمجھتا بلکہ اس کے تجسس کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے دلیل کے ساتھ بات کرنا سکھاتا ہے۔ غلطی کی صورت میں صرف سزا دینے پر اکتفا کرنے کے بجائے بچے کو اپنی غلطی سمجھنے، اس کے نتائج پر غور کرنے اور اصلاح کا موقع فراہم کرتا ہے۔
کردار سازی میں والدین کا کردار
بچوں کی کردار سازی میں والدین کا کردار نہایت اہم ہے، کیونکہ بچے کی شخصیت کی تشکیل صرف اسکول میں نہیں ہوتی۔ گھر کا ماحول، والدین کا طرزِ گفتگو، ان کے فیصلے اور روزمرہ کے معمولات بچے کے ذہن پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مثلاً موبائل فون کے بے جا استعمال پر بچوں کو نصیحت کرنا اسی وقت مؤثر ہوگا جب گھر کے بڑے بھی اپنے اسکرین ٹائم اور ڈجیٹل عادات کے معاملہ میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ والدین بچوں کے ساتھ روزانہ کچھ وقت بامقصد گفتگو کیلئےمختص کر سکتے ہیں۔ ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے آج کیا نیا سیکھا، کس بات نے انہیں سوچنے پر مجبور کیا۔ سوالات بچوں کو اپنے تجربات پر غور کرنے اور احساسات بیان کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ بچوں کو صرف حکم دینے کے بجائے ان سےگفتگو کرنا، ان کی بات توجہ سے سننا اور غلطی پر اصلاح کا راستہ دکھانا شعور بیدار کرنے کیلئے نہایت اہم ہے۔
سوشل میڈیا اور ڈجیٹل شعور
آج بچوں کے رویّوں میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں میں سوشل میڈیا کا کردار اہم ہے۔ تاہم، سوشل میڈیا کو مکمل طور پر برا قرار دینا یا اسے ہر مسئلے کا حل سمجھنا، دونوں غیر متوازن رویّے ہیں۔ اس کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے کس مقصد، کس انداز اور کتنی ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔
تعلیمی ویڈیوز، سائنسی تجربات، زبان سیکھنے کے وسائل، تاریخی معلومات اور تخلیقی سرگرمیاں بچوں کے علم میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب غیر مصدقہ خبریں، نامناسب مواد، آن لائن ہراسانی، دوسروں سے غیر ضروری موازنہ اور حد سے زیادہ اسکرین ٹائم ان کی توجہ، وقت اور سماجی تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کو صرف موبائل فون سے دور رکھنے کے بجائے اس کے درست استعمال کا شعور دیا جائے۔ انہیں سکھایا جائے کہ ڈیجیٹل مواد کو کس طرح پرکھنا ہے، معلومات کی صحت کی تصدیق کیسے کرنی ہے، آن لائن بدسلوکی کی صورت میں کس قابلِ اعتماد بالغ فرد سے مدد لینی ہے اور ٹیکنالوجی کو تعلیمی و تخلیقی مقاصد کے لیے کس طرح استعمال کرنا ہے۔
(مضمون نگارشفیع بورونڈکرپرائمری اردو اسکول کی صدر مدرسہ ہیں )