یہ مسئلہ ۲۰۰۸ء کی مندی کی یاد دلاتا ہے جب امریکہ میں عام شہریوں نے بھی ’قرض ڈیفالٹ ‘ کرنا شروع کردیا تھا، بڑھتی مہنگائی اور دیگر عوامل نے ہندوستان میں بھی وہی مسئلہ پیدا کردیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 18, 2026, 6:15 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai
یہ مسئلہ ۲۰۰۸ء کی مندی کی یاد دلاتا ہے جب امریکہ میں عام شہریوں نے بھی ’قرض ڈیفالٹ ‘ کرنا شروع کردیا تھا، بڑھتی مہنگائی اور دیگر عوامل نے ہندوستان میں بھی وہی مسئلہ پیدا کردیا ہے۔
ملک کی معاشی ترقی کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جاسکتا کہ قومی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے، حکومت کے خزانے میں کتنا سرمایہ جمع ہورہا ہے یا اسٹاک مارکیٹ میں کتنی تیزی ہے۔ ترقی کا حقیقی پیمانہ یہ ہے کہ عام شہری کی زندگی کتنی آسان ہوئی، اس کی آمدنی اور اخراجات میں کتنا توازن پیدا ہوا، اسے اپنے بچوں کی تعلیم، خاندان کے علاج، رہائش اور روزمرہ ضروریات کے لئے کتنی مالی جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ اگر ایک طرف معیشت کی ترقی کے بلند بانگ دعوے کئےجارہے ہوں اور دوسری طرف عام آدمی اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے قرض لینے پر مجبور ہو تو اس صورت حال کا سنجیدہ معاشی جائزہ ضروری ہوجاتا ہے۔ آج ملک میں گھریلو قرضوں کا بڑھتا ہوا رجحان اسی تناظر میں تشویش کا باعث ہے۔ مہنگائی، آمدنی میں غیر یقینی اضافہ، تعلیم اور علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مکان کی قیمتوں میں اضافہ اور روزگار کے مسائل نے متوسط طبقے اور کم آمدنی والے خاندانوں کے مالی وسائل پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ بہت سے گھرانوں کیلئے قرض اب کسی کاروبار کو وسعت دینے یا کوئی اثاثہ خریدنے کا ذریعہ ہی نہیں رہا بلکہ ماہانہ اخراجات پورے کرنے کا ایک راستہ بنتا جارہا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرض محض ایک مالی معاملہ نہیں رہتا بلکہ معاشرتی اور معاشی مسئلہ بن جاتا ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا کی مالی استحکام رپورٹ کے مطابق مارچ ۲۰۲۵ءکے اختتام پر ہندوستانی گھریلو قرض مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے ۴۱؍فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ یہ تناسب گزشتہ پانچ برسوں کے اوسط سے زیادہ تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ستمبر۲۰۲۵ء تک مالی اداروں سے گھرانوں کے مجموعی قرض میں غیر رہائشی خوردہ قرضوں جن میں بڑی حد تک پرسنل لون اور ذاتی قرض شامل ہیں، کا گراف بہت تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ ان اعداد و شمار کو سمجھنے کے لیے یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ گھریلو قرض میں اضافہ لازماً معاشی تباہی کی علامت نہیں ہوتا۔ مکان کی خریداری، کاروبار کے قیام اور تعلیم کے لیے قرض لینا بعض اوقات مستقبل کی آمدنی اور مالی خودمختاری بڑھانے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب قرض پیداواری سرگرمیوں کے بجائے روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لئے لیا جائے اور قرض کی قسطیں ادا کرنے کے بعد خاندان کے پاس ضروریاتِ زندگی کے لیے مناسب رقم ہی باقی نہ بچے۔ یہی وجہ ہے کہ قرض کی مجموعی مقدار کے ساتھ اس کے استعمال، شرح سود، قرض لینے والوں کی آمدنی اور ادائیگی کی صلاحیت کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ ایک خوش حال خاندان اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور کے لئے قرض کے یکساں حجم کے نتائج یکساں نہیں ہوسکتے۔
یہ بھی پڑھئے: جو حکومتیں اپنی قانونی حیثیت پر یقین رکھتی ہیں وہ شہریوں کے اجتماع سے نہیں ڈرتیں
عام آدمی کی مالی پریشانیوں کی بنیادی وجوہات میں آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق شامل ہے۔ اشیائے خوردونوش، بجلی، کرایہ، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور علاج کے اخراجات میں اضافہ خاندانوں کی بچت کو محدود کردیتا ہے۔ اگر آمدنی اسی رفتار سے نہ بڑھے تو لوگ پہلے اپنی بچت استعمال کرتے ہیں، پھر رشتہ داروں سے مدد لیتے ہیں اور آخرکار بینک، غیر بینکاری مالیاتی اداروں یا ڈیجیٹل قرض فراہم کرنے والی ایپس کا رخ کرتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ ایک خاندان کی ماہانہ آمدنی ۳۰؍ ہزار روپے ہے اور مکان کے کرائے، راشن، بچوں کی تعلیم، بجلی، سفر اور علاج پر تقریباً پوری آمدنی خرچ ہوجاتی ہے۔ کسی مہینے بچے کی فیس بڑھ جائے، گھر میں کوئی بیمار پڑجائے یا روزگار میں عارضی تعطل آجائے تو اس خاندان کے پاس اضافی رقم کا کوئی قابلِ اعتماد ذریعہ نہیں ہوگا۔ ایسے حالات میں لیا گیا قرض وقتی ضرورت تو پوری کردیتا ہے لیکن اگلے مہینے اس کی قسط آمدنی کے پہلے سے محدود دائرے کو مزید تنگ کردیتی ہے۔ یوں قرض کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس میں پرانے قرض کی قسط ادا کرنے کے لئے نیا قرض لینا پڑتا ہے۔ بظاہر یہ مالی انتظام ہے لیکن حقیقت میں یہ خاندان کی آئندہ آمدنی پر پہلے سے بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ڈیجیٹل بینکاری، فوری قرض اور کریڈٹ کارڈ کی سہولتوں نے مالی لین دین کو آسان بنایا ہے۔ اس سہولت کا فائدہ بھی ہے لیکن اس کے ساتھ غیر ضروری قرض لینے کے امکانات بھی بڑھے ہیں۔ چند منٹ میں قرض کی منظوری، فوری رقم کی دستیابی اور قسطوں میں ادائیگی کے اشتہارات صارفین کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ اپنی موجودہ آمدنی سے زیادہ خرچ کرسکتے ہیں۔ مسئلہ صرف قرض کی دستیابی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ وابستہ شرائط اور صارف کی مالی آگاہی بھی ہے۔ اگر قرض لینے والے کو سود، جرمانے، پروسیسنگ فیس اور تاخیر سے ادائیگی کے نتائج پوری طرح معلوم نہ ہوں تو معمولی رقم کا قرض بھی وقت کے ساتھ بڑا مالی بوجھ بن سکتا ہے۔
ریزرو بینک کی رپورٹس میں غیر رہائشی خوردہ قرضوں کی بڑھتی اہمیت پر توجہ دی گئی ہے۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر قرض لینے والا مالی بحران کا شکار ہے یا تمام قرض غیر ضروری ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ قرض لینے والے طبقے کی آمدنی اور قرض کی ادائیگی کے درمیان کتنا توازن موجود ہے، بالخصوص کم آمدنی والے خاندانوں میں۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کو چاہیے کہ وہ قرض فراہم کرنے والی کمپنیوں کی نگرانی مضبوط کریں، قرض کی شرائط واضح بنائیں اور صارفین کو گمراہ کن اشتہارات اور غیر شفاف وصولی کے طریقوں سے محفوظ رکھیں۔ مالی شمولیت کا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قرض فراہم کرنا نہیں، بلکہ انہیں محفوظ اور ذمہ دار مالی خدمات تک رسائی دینا ہونا چاہئے۔ گھریلو قرض کے ساتھ حکومت کے بڑھتے ہوئے قرض اور بجٹ خسارے کا معاملہ بھی اہم ہے۔ جب حکومت کی آمدنی اس کے اخراجات سے کم ہوتی ہے تو اس فرق کو پورا کرنےکیلئے اسے قرض لینا پڑسکتا ہے۔ اگر قرض کا استعمال بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، توانائی اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کیلئے ہو تو اس سے مستقبل میں معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ لیکن قرض پر سود کی ادائیگی کیلئے بجٹ کا بڑا حصہ مختص کرنا پڑے تو دیگر اہم شعبوں کے لیے مالی گنجائش محدود ہوسکتی ہے۔ تاہم حکومت کے مالی فیصلوں کے بالواسطہ اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں۔ قرض کی ادائیگی کے اخراجات، ٹیکس پالیسی، عوامی خدمات پر سرکاری خرچ اور معاشی ترقی کی رفتار بالآخر شہریوں کی زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ قرض کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ خاندانوں کی مالی خودمختاری متاثر ہوسکتی ہے۔ اگر آمدنی کا بڑا حصہ ضروری اخراجات اور قرض کی قسطوں پر خرچ ہوجائے تو ہنگامی حالات کے لئے بچت مشکل ہوجاتی ہے۔ سنگین بیماری، ملازمت ختم ہونے، کاروباری نقصان یا کسی قدرتی آفت کی صورت میں یہی بچت خاندان کے لیے حفاظتی حصار ثابت ہوتی ہے۔ یہاں پالیسی سازوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ معاشی ترقی کے فوائد مختلف آمدنی والے طبقوں تک پہنچیں۔ اگر ترقی کے ثمرات محدود طبقے تک سمٹ جائیں اور عام شہری کی قوتِ خرید کمزور رہے تو قرض کی دستیابی عارضی طور پر کھپت کو سہارا دے سکتی ہے لیکن دیرپا خوشحالی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ تو اس کا حل کیا ہے ؟عام آدمی کو قرض کے جال سے بچانے کے لئے سب سے پہلے روزگار کے مواقع میں اضافہ اور حقیقی آمدنی کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ صرف قرض کی فراہمی آسان کردینے سے معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ حکومت کو چھوٹے کاروباروں، غیر منظم شعبے کے مزدوروں اور متوسط طبقے کی مالی مشکلات کو سمجھتے ہوئے ایسی پالیسیاں بنانی چاہئیں جن سے آمدنی کے مستقل ذرائع پیدا ہوں۔ صحت اور تعلیم کی معیاری سہولتیں قابلِ برداشت قیمتوں پر دستیاب ہوں تو خاندانوں کو ان ضروریات کے لئے مہنگے قرض لینے کی کم ضرورت پڑے گی۔ سماجی تحفظ کا مؤثر نظام، روزگار کے بہتر مواقع اور چھوٹے کاروباروں کے لیے مناسب مالی معاونت بھی گھریلو قرض کے دباؤ کو کم کرسکتی ہے۔ اگر ایک خاندان کو بچوں کی تعلیم، علاج اور راشن کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مسلسل قرض لینا پڑے تو اس کی مالی پریشانی محض انفرادی ناکامی نہیں بلکہ معاشی پالیسیوں اور سماجی تحفظ کے نظام پر غور کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔