• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی ڈی بی آئی: کیسے ہندوستان نے اپنا ایک بینک کھو دیا

Updated: October 18, 2026, 6:14 PM IST | Varanasi Subramaniam | Mumbai

اس کو پہلے نظرانداز کیا گیا، پھر عوام کے پیسوں سے اسے بحران سے نکالا گیا اور جب اس کی حالت بہتر ہوگئی اور منافع کمانے لگا تو کنیڈا کی کمپنی کو فروخت کردیا گیا۔

The sale of a 60.72 percent government stake in IDBI was approved on October 14. Image: INN
آئی ڈی بی آئی میں  ۶۰ء۷۲؍ فیصد سرکاری شیئر کے فروخت کو ۱۴؍اکتوبر کو منظوری دی گئی۔ تصویر: آئی این این

۱۴؍اکتوبر۲۶ءکو مرکزی کابینہ نے آئی ڈی بی آئی بینک کے۶۰ء۷۲؍ فیصد شیئرکینیڈا کے فیئر فیکس گروپ کو۵۲؍ ہزار ۸۷۸؍کروڑ روپے میں فروخت کرنے کی منظوری دے دی۔ وزراء نے اسے ہندوستان کے مالیاتی شعبے میں اب تک کی سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری قرار دیا ہے۔ دوسری جانب بینک ملازمین کی یونینوں نے اس سودے کو ’’ہندوستانی بینکاری کی غیر ملکی تحویل میں منتقلی‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایک غیر ملکی کاروباری گروپ بینک کے بنیادی مالیاتی کنٹرول پر قبضہ کر رہا ہے۔ 
وہ بینک جوصنعتوں کیلئے قائم کیا گیاتھا
۱۹۶۴ء میں پارلیمنٹ نے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا (آئی ڈی بی آئی) قائم کیا۔ ابتدا میں یہ ریزرو بینک آف انڈیا کا ذیلی ادارہ تھا۔ ۱۹۷۶ءمیں اس کی ملکیت حکومت ہند کو منتقل ہوگئی۔ اس کا بنیادی مقصد کارخانوں، کھاد کے کارخانوں اور بجلی کے منصوبوں کو طویل مدتی قرض فراہم کرنا تھا۔ ایسے اداروں کو ترقیاتی مالیاتی ادارے (ڈی ایف آئی) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ ادارے ہیں جو ملک کی صنعتی ترقی اور تعمیر ِ نو کیلئے کم شرحِ سود پر طویل مدتی قرض فراہم کرتے ہیں۔ 
تقریباً۲۵؍ برس تک آئی ڈی بی آئی ہندوستانی صنعتوں کو قرض دینے والا سب سے بڑا ادارہ رہا۔ ۱۹۷۰ء سے ۱۹۸۰ء اور۱۹۸۰ء کی دہائیوں میں ہندوستان کے تجارتی بینک بنیادی طور پر کاروبار کی روزمرہ ضروریات کیلئے مختصر مدتی قرض فراہم کرتے تھے۔ اس کے برعکس، خصوصی قانونی اختیارات کے تحت کام کرنے والا آئی ڈی بی آئی بڑے پیمانے پر سرمایہ طلب منصوبوں، مثلاً فولاد، ٹیکسٹائل، سیمنٹ، بجلی اور کیمیکل صنعتوں کی مدد کرتا تھا۔ اپنے عروج کے دور میں آئی ڈی بی آئی براہِ راست قرض دینے کے ساتھ دوسرے مالیاتی اداروں کو بھی قرض فراہم کرتا تھا تاکہ وہ صنعتی منصوبوں کی مالی ضروریات پوری کر سکیں۔ ہندوستان میں صنعتی منصوبوں کے لیے فراہم کیے جانے والے مجموعی طویل مدتی قرضوں میں اس کی مدد کا حصہ ۵۰؍ تا۵۵؍فیصد تھا۔ 
اس کے بعد۱۹۹۰ء کی دہائی میں ہندوستانی معیشت کو بیرونی سرمایہ کاری اور عالمی تجارت کیلئے کھول دیا گیا۔ ترقیاتی مالیاتی اداروں کو سستے مالی وسائل ملنا بند ہوگئے۔ ۲۰۰۳ءمیں آئی ڈی بی آئی کے قیام سے متعلق قانون منسوخ کردیا گیا اور اکتوبر۲۰۰۴ءمیں اسے تجارتی بینک میں تبدیل کردیا گیا۔ ۲۰۰۵ءمیں اس کا اپنے ہی بینکاری شعبے کے ساتھ انضمام ہوگیا۔ 
ایک اور پرانا ترقیاتی مالیاتی ادارہ آئی سی آئی سی آئی بھی تقریباً۲۰۰۲ءمیں اسی راستے پر چلا اور بعد میں ہندوستان کے بڑے نجی بینکوں میں شامل ہوگیا۔ آئی ڈی بی آئی سرکاری تحویل میں ہی رہا اور ایسا بینک بن گیا جس کے بارے میں حکومت واضح طور پر طے نہیں کر پائی کہ اسے کس طرح چلایا جائے۔ یہ حکومت کی لبرلائزیشن، پرائیویٹائزیشن اور گلوبلائزیشن (ایل پی جی) پالیسی کا نتیجہ تھا۔

یہ بھی پرھئے: اُردو: آئیے ! اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جائیں

بینک کو بچانے کی کوشش
مودی حکومت کے دور میں آئی ڈی بی آئی کو بحران سے نکالنے کے لیے دو طریقے اختیار کیے گئے۔ پہلا طریقہ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے بینک کو سرمایہ فراہم کرنا تھا۔ حکومت نے۲۰۲۰ء تک اس بینک میں تقریباً۲۵؍ہزار کروڑ روپے لگائے۔ دوسرا اور زیادہ غیر معمولی طریقہ لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) کو اس میں شامل کرنا تھا۔ جنوری۲۰۱۹ء میں ایل آئی سی نے۲۱؍ہزار ۶۲۴؍ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرکے بینک کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس سودے پر کئی اہم سوالات اٹھے۔ بزنس اسٹینڈرڈ نے سوال کیا کہ کیا عام شہریوں کی بیمہ پالیسیوں کے پریمیم سے حاصل ہونے والی رقم کو حکومت کی مالیاتی مشکلات دور کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے؟
اس دوران بینک کی درجہ بندی بھی تبدیل کردی گئی۔ ریزرو بینک نے آئی ڈی بی آئی کو نجی شعبے کے بینک کے زمرہ میں  رکھ دیاگیالیکن حکومت اور ایل آئی سی کے پاس اس کے اکثریتی شیئرموجود رہے۔ اس طرح یہ کاغذ پرتو بینک نجی ہوگیا مگر حقیقت میں اس کی ملکیت سرکاری اداروں کے پاس ہی تھی۔ 
بینک کی فروخت کا عمل 
مئی۲۱ء میں حکومت نے اصولی طور پر آئی ڈی بی آئی میں اپنے شیئرفروخت کرنے کی منظوری دی۔ فروخت کے بعد حکومت کے پاس بینک کے۱۵؍ فیصد اور ایل آئی سی کے پاس۱۹؍ فیصد حصص باقی رہیں گے۔ فیئر فیکس کو دوسرے شیئر ہولڈرس سے بھی۲۶؍ فیصد تک شیئرخریدنے کے لیے کھلی پیش کش کرنی ہوگی۔ حکومت نے اس عمل کو بینک کی فروخت کے بجائے ’’اسٹریٹجک تنظیم نو‘‘ قرار دیا ہے۔ ناقدین نے اسے بینک فروخت کرنے کیلئےنرم اور خوش نما اصطلاح قرار دیا ہے۔ 
۸۰؍ ہزار کروڑ کی نجکاری
حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں سرکاری اداروں کے حصص کی فروخت اور اثاثوں سے رقم حاصل کرنے کے ذریعے۸۰؍ہزارکروڑ روپے جمع کرنے کا ہدف رکھا تھا۔ اگست تک اس ہدف کا تقریباً۷۸؍ فیصد حاصل کیا جا چکا تھا۔ اس معاملے میں ایک اور پیچیدگی بھی ہے۔ فیئر فیکس کے پاس پہلے ہی سی ایس بی بینک کے۴۰؍ فیصد حصص ہیں۔ ریزرو بینک کے ضوابط کے مطابق ایک ہی پروموٹر دو بینکنگ لائسنس اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔ اس لیے فیئر فیکس کو معاہدہ پر دستخط کرنے کے دو برس کے اندر یا تو سی ایس بی بینک کو آئی ڈی بی آئی میں ضم کرنا ہوگا یا سی ایس بی میں اپنے حصص فروخت کرنے ہوں گے۔ 
فیئرفیکس کا پس منظر
فیئر فیکس کے مالک پریم واتسا حیدرآباد میں پیدا ہوئے اور آئی آئی ٹی مدراس سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد کنیڈا منتقل ہوگئے۔ انہوں نے ۱۹۸۵ء میں ٹورنٹو میں فیئر فیکس کی بنیاد رکھی۔ انہیں کنیڈا کا وارین بفیٹ بھی کہا جاتا ہے۔ ہندوستان سرمایہ کاری کیلئے فیئر فیکس کی پسندیدہ منڈیوں میں شامل ہے۔ اس کا ہندوستانی کاروبار۲۰۰۱ء میں شروع ہوا، جب اس نے آئی سی آئی سی آئی کے ساتھ شراکت داری کرکے آئی سی آئی سی آئی لومبارڈ قائم کیا۔ بعد میں تھامس کک انڈیا بھی اس کے کاروباری دائرے میں آگیا۔ فیئر فیکس کے پاس بنگلورو ایئرپورٹ لمیٹڈ کے۷۴؍ فیصد شیئر ہیں۔ 
آئی ڈی بی آئی کی یہ حالت کیوں ہوئی؟
اس کی کوئی ایک وجہ نہیں ، کئی عوامل نے مل کر بینک کو اس صورتِ حال تک پہنچایا۔ بڑے کاروباری گروپوں کو قرض دینے کی دوڑ میں اس نے بھاری خطرات مول لیے۔ بعض قرض قواعد کی خلاف ورزی کرکے منظورکئے گئے۔ کئی برس تک بینک عجیب صورتحال میں پھنسا رہا۔ وہ سرکاری ملکیت میں تھا، لیکن اسےسرکاری بینک کی طرح نہیں چلایا گیا۔ اس کا انتظام نجی بینک کے انداز میں کیا جاتا رہا، حالاں کہ اس کے پاس نجی مالکان موجود نہیں تھے۔ بینک کی اصلاح اور بحالی کی ذمہ داری واضح طور پر کسی ایک فریق پر عائد نہیں کی گئی۔ 
 منافع بخش ہونے کے بعد فروخت
اس بینک کی فروخت پر بینک یونینوں کا پہلا اعتراض یہ ہے کہ بینک کی بحالی پر ملک کا پیسہ خرچ ہوا لیکن اب اس کی کامیابی کا فائدہ ایک غیر ملکی کمپنی کو مل رہا ہے۔ ٹیکس دہندگان اور ایل آئی سی کے پالیسی ہولڈرس نے اس بینک کی اصلاح کیلئے ہزاروں کروڑ روپے لگائے۔ اب جب بینک ریکارڈ منافع کما رہا ہے تو اس کا کنٹرول کنیڈا کی ایک کمپنی کے ہاتھ میں جا رہا ہے۔ یونینوں کے مطابق یہ منافع کی نجکاری اور نقصان کو سماج پر ڈالنے کی واضح مثال ہے۔ ان کے نزدیک لبرلائزیشن کے بعد ہندوستانی معیشت میں یہی اصول بار بار دکھائی دیتا ہے۔ 
ان کا کہنا ہے کہ حکومت ایک طرف ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کی بات کرتی ہے لیکن دوسری طرف عوام کی بڑی بچتوں سے وابستہ بینک ایک غیر ملکی سرمایہ کار کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ اس بینک میں تقریباً۳ء۵؍ لاکھ کروڑ روپے کے عوامی ڈپازٹس ہیں۔ اگرچہ واتسا حیدرآباد میں پیدا ہوئے لیکن ان کی کمپنی کنیڈا کی ہے۔ 
ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ ہندوستان اپنے سرکاری بینکوں کو بہتر انداز میں چلانا کیوں نہیں سیکھ سکا؟ آئی ڈی بی آئی جیسے بینک کیلئے ہندوستانی ملکیت اور ہندوستانی انتظامیہ کا مضبوط نظام کیوں تیار نہیں کیا جا سکا؟ حکومت نے کسی مضبوط سرکاری بینک یا ہندوستانی کمپنیوں کے کنسورشیم کو اس کا متبادل کیوں نہیں بنایا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK