گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے مضمون ’’قرآن وحدیث کی روشنی میں جائزہ لیجئے،اسلام کا تصورِ جہاد بہت وسیع اور مثبت معنوں میں استعمال کیا گیا ہے‘‘ کا دوسرا اور آخری حصہ۔
EPAPER
Updated: February 07, 2020, 8:20 AM IST
|
Maulana Khalid Saifullah Rahmani
گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے مضمون ’’قرآن وحدیث کی روشنی میں جائزہ لیجئے،اسلام کا تصورِ جہاد بہت وسیع اور مثبت معنوں میں استعمال کیا گیا ہے‘‘ کا دوسرا اور آخری حصہ۔ جہاد کی تیسری قسم’’ جہاد بالنفس‘‘ ہے۔ قرآن مجید کی مختلف آیات میں اس کا ذکر آیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور اپنے مال و جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔‘‘(التوبہ: ۴۱) اس کے علاوہ سورۂ نساء (آیت : ۹۵)، انفال (آیت : ۷۲) اور توبہ (آیت : ۲۰،۴۴،۸۸) میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔ حدیث میں بھی جہاد بالنفس کا تذکرہ وارد ہوا ہے؛ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جو روایت اوپر آچکی ہے، اس میں ’’أنفسکم‘‘ کا لفظ بھی ہے (مسند احمد، حدیث نمبر: ۱۲۵۵۵)۔ جہاد بالنفس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ، اس کا ایک مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ راہ حق میں انسان اپنی زندگی کی قربانی کیلئے تیار ہو جائے، ایسی صورت میں یہ جہاد بالسیف یعنی قتال کے معنیٰ میں ہوگا، اور اس میں شبہ نہیں کہ قرآن مجید میں بعض مواقع پر جہاد بالنفس کی تعبیر جہاد بالسیف کے لئے بھی کی گئی ہے؛ لیکن جہاد بالنفس کے ایک معنیٰ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے میں مشقت برداشت کرنے اور گناہوں سے بچنے میں جو تکلیف ہوتی ہے، اس پر صبر کرنے کے بھی ہیں ، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر کمزور آدمی کا جہاد حج ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ، عن ام سلمۃ: ۱۲۶۵۶) ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا: کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں ، عورتوں پر جہادہے؛ لیکن ایسا جہاد جس میں قتال کی نوبت نہیں آتی یعنی حج اور عمرہ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱، نیز دیکھئے صحیح ابن حبان، حدیث نمبر: ۳۷۰۲)۔ ان احادیث کے ذیل میں شارحین نے جو کچھ لکھا ہے، وہ بہت اہم ہے، حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں
حج کو جہاد قرار دینے سے مراد جہاد نفس ہے؛ اس لئے کہ انسان اس میں بدنی اور مالی مشقت سے دوچار ہوتا ہے۔ (فتح الباری لابن حجر:۳؍۳۸۱) بخاری کے ایک دوسرے شارح علامہ بدرالدین عینیؒ فرماتے ہیں : حج کو جہاد اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی شہوات سے اور شیطان سے جہاد کرتا ہے۔(عمدۃ القاری:۹؍۱۳۴) حج کے علاوہ جہاد بالنفس کی بعض اور صورتیں بھی حدیث میں آئی ہیں ؛ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمروابن العاص ؓ سے مروی ہے۔
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اور جہاد میں جانے کی اجازت چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تمہارے والدین بقید حیات ہیں ؟ انھوں نے کہا: ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان ہی دونوں میں جہاد کرو۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۳۰۰۴، نیز دیکھئے: مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر: ۳۳۴۵۶) یعنی والدین کی خدمت کو بھی جہاد قرار دیا گیا؛ کیوں کہ اس میں مشقت بھی ہوتی ہے اور بڑھاپے میں والدین کے مزاج میں تیزی پیدا ہو جاتی ہے تو ان کی ڈانٹ ڈپٹ سننا نفس کو شاق بھی گزرتا ہے۔
جہاد بالنفس کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کہ ’’جہاد کا حق ادا کرو ‘‘ (الحج: ۷۸) کو بہت سے شارحین نے جہاد بالنفس ہی پر محمول کیا ہے، یا کم سے کم اس کو بھی اس جہاد میں شامل رکھا ہے، حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حق جہاد کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا:حق جہاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن باتوں کا حکم دیا ہے ان پر عمل کرو، اور جن باتوں سے منع فرمایا ہے، ان سے باز رہو، اور آخرت سے ڈر کر دُنیا سے بے رغبتی اختیار کرو۔ (تفسیر السمرقندی: ۲؍ ۴۴۹) علامہ ابو منصور ماتریدیؒ اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : اپنے نفس کی خواہشات اور آرزوؤں پر غلبہ پانے کے لئے نفس سے جہاد کرو، یا اللہ کے دشمنوں سے ان کے وساوس کو دور کر کے اور ان کے ساتھ جنگ کر کے جہاد کرو۔( تفسیر الماتریدی: ۴۴۶) علامہ نیساپوریؒ فرماتے ہیں : نفس سے جہاد یہ ہے کہ حقوق ادا کر کے اور خواہشات سے بچ کر نفس کو صاف ستھرا کیا جائے۔ (غرائب القرآن ورغائب الفرقان للنیسابوری:۵؍۱۰۴)
غرض کہ قرآن وحدیث میں جہاد کی ایک قسم جہاد بالنفس بھی بتلائی گئی ہے، اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفقاء کے ساتھ ایک فوجی مہم سے واپس ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سے کہا: تمہارا آنا مبارک ہو، تم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف آئے ہو۔ (کنز العمال، حدیث نمبر: ۱۱۷۷۹)
جہاد کی چوتھی قسم جس کا قرآن مجید نے ذکر کیا ہے ’’ جہاد بالقرآن‘‘ ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر ہم چاہتے تو ہر آبادی میں ایک اللہ سے ڈرانے والے کو بھیج دیتے؛ لہٰذا آپ کافروں کی بات نہ مانئے اور ان سے قرآن کے ذریعہ بڑا جہاد کیجئے۔‘‘(الفرقان:۵۱-۵۲) اس آیت میں ’’ جاھدھم بہ‘‘ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اس سے قرآن مجید مراد ہے: (تفسیر الطبری: ۱۹؍ ۲۸۰) علامہ سمرقندیؒ نے بھی یہ تشریح کی ہے۔ (تفسیر السمرقندی: ۲؍۵۴۱) مفسرین کا دوسرا قول یہ ہے کہ اس میں اسلام اور دین کے ذریعہ جہاد مراد ہے۔ (تفسیر ابن ابی حاتم: ۸؍۲۷۰۷) بہر حال قرآن مراد ہو یا اسلام یا دین، سب کا ما حصل ایک ہی ہے کہ غیر مسلموں کو ایمان کی دعوت پیش کی جائے؛ کیوں کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں ، ان کو ایمان کی طرف لانا بھی ایک مشکل اور دشوار کام ہے، اور اس میں بھی مجاہدہ کی نوبت آتی ہے؛اس لئے یہ بھی جہاد کی ایک قسم ہے؛ بلکہ اہم قسم ہے۔
جہاد کی پانچویں قسم’’ جہاد بالسیف‘‘ (تلوار سے جہاد) ہے، اس کے لئے عام طور پر قتال کا لفظ آیا ہے؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اللہ کے راستہ میں ان لوگوں سے قتال کرو جو تم سے قتال کرتے ہیں ، اور حد سے تجاوز نہ کرو۔‘‘ (البقرہ: ۱۹۰) الفاظ اور صیغوں کے ساتھ قتال کا حکم اور صاحب ِایمان کی حیثیت سے قتال کی صفت کا مختلف آیتوں میں ذکر آیا ہے۔
قرآن کے اس حکم میں دو باتیں قابل لحاظ ہیں : اول یہ کہ قرآن نے یک طرفہ قتل کا حکم نہیں دیا ہے، جس میں ایک فریق دوسرے کو قتل کر دیتا ہے، اور دوسرے فریق کی طرف سے کوئی اقدام نہ ہو۔ قتال کے معنیٰ یہ ہیں کہ دونوں فریق کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف قتل کا اقدام پایا جائے، اور ظاہر ہے کہ جب دوسرے فریق کی طرف سے قتل کا اقدام ہو تو اس کے مقابلہ میں قتل کا اقدام عین تقاضۂ انصاف ہے۔
دوسرا قابل توجہ نقطہ یہ ہے کہ اسلام ایسا دین نہیں ہے، جو اپنے ماننے والوں سے صرف عبادت کا مطالبہ کرتا ہو؛ بلکہ وہ ایک جامع نظام حیات ہے، جو فرد کی اصلاح سے لے کر ایک منصف مزاج اور عدل پرور سلطنت تک کا تصور پیش کرتا ہے؛ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے تو اس وقت نہ وہاں کوئی حکومت تھی نہ لاء اینڈ آرڈر کا کوئی اور نظام تھا؛ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہلی اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھی، جس میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھی مقیم تھے، سبھوں کے ساتھ عدل، مذہبی آزادی، معاشی ترقی کے مساوی مواقع اور بے لاگ انصاف اس سلطنت کے بنیادی اصول تھے۔ سلطنتوں کو اپنی حفاظت کیلئے فوج کی اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے حسب ضرورت جنگ کی ضرورت بھی پیش آتی ہے، دنیا کی تاریخ میں نہ پہلے کوئی ایسا ملک تھا، جس نے بیرونی یلغار سے حفاظت کا انتظام نہیں کیا ہو اور نہ آج کوئی ایسا ملک ہے؛ بلکہ آج تو صورت حال یہ ہے کہ دنیا کی طاقت ور اقوام دوسروں کو کچلنے، ان کے معاشی وسائل پر قبضہ کرنے اور پوری پوری قوم کو غلام بنانے کیلئے جنگ کرتی ہیں ؛ اس لئے اپنی حفاظت اور معاندین کی سرکوبی کے لئے جہاد بمعنیٰ قتال ایک ضروری حکم ہے اور یہ ایسی بات نہیں ہے، جسے برا سمجھا جائے۔
حاصل یہ ہے کہ اس وقت جو پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ جہاد مارکاٹ اور غیر مسلموں کے قتل عام کانام ہے، یہ بات درست نہیں ہے۔ جہاد کی مختلف قسمیں ہیں اور ان میں سے بیشتر وہ ہیں ، جن میں لوہے کی تلوار نہیں اخلاق اور محبت کی تلوار استعمال کی جاتی ہے۔ کاش ہم اسلام کے اس فلسفے کو سمجھیں اور اسے دوسروں تک پہنچائیں ۔