• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

اسلام انسان کی پُرلطف زندگی کےخلاف نہیں

Updated: January 13, 2023, 12:44 PM IST | Mudassar Ahmad Qasmi | Mumbai

بس شرط یہ ہے کہ ہمارا ہر عمل اسلامی احکامات کے دائرہ میں ہو

Distinguishing between halal and haram is necessary to enjoy the world
دنیا سے لطف اٹھانے کے لئے حلال و حرام کے درمیان تمیز ضروری ہے

دین فطرت یعنی اسلام کی تعلیمات میں بکثرت اس امر کی جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ اللہ رب العزت نے انسان کو بلا مقصد پیدا نہیں فرمایا ہے، اسی وجہ سے وہ حیوان محض بن کر زندگی نہیں گزار سکتا کہ جو طبیعت میں آئے وہ کرے اور جو نہ چاہے وہ نہ کرے۔ چنانچہ اس حوالے سے بنیادی بات جو اللہ نے قرآن مجید میں ہمیں بتلائی ہے وہ یہ ہے کہ:’’میں نے جنات اور انسان کو صرف اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔‘‘ (الذاریات:۵۶)  اس مقصد کو بتلانے کے ساتھ ایک جگہ قرآن مجید میں یہ بھی ارشاد فرمایا گیا کہ:’’کیا اس کا خیال ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا نہیں ہے؟‘‘ (البلد:۷) ان دونو ں آیات سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ انسان اپنی مرضی سے  اور آزاد بن کر زندگی نہیں گزار سکتا اور اگر اس نے ایسا کیا تو اس کی سخت پکڑ ہوگی کیونکہ کوئی دیکھے نہ دیکھے ہر لحظہ اللہ دیکھ رہا ہے۔  
 ایک طرف مذکورہ حقیقت ہے اور دوسری طرف دنیا کے ہر گوشے سے قول و عمل اور فکر و خیال کی آزادی کے نعرے سنے جاتے ہیں۔ یوں تو آزادی ایک نعمت ہے لیکن یہ نعمت اسی وقت تک ہے جب تک یہ شرعی حدود میں ہو ورنہ تو وہ آزادی نہیں بلکہ طوفان بلا خیز ہے۔افسوس کی بات ہے کہ شرعی حدود سے  آزادی کا عفریت ا نسانی دماغ پر اس قدر حاوی ہے کہ اب مذہب کی پابندی بھی گراں گزرتی ہے؛ چنانچہ کچھ لوگ مذہب سے مکمل آزادی چاہتے ہیں تو کچھ دوسرے لوگ مذہب کے تمام شعبوں میں رخصت اور رعایت کے متمنی رہتے ہیں۔ مذہب کے باب میں ’قدامت پسندی‘، ’اولڈ فیشن‘ اور ’پسماندہ‘  جیسی اصطلاحات اِنہی بیمار ذہنوں کی پیداوار ہیں۔ حالانکہ دین کسی انسانی ذہن کی پیداوار نہیں ہے اور یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے انسانی خواہش اور ذوق کے مطابق ڈھالا جائے۔چونکہ اللہ  تعالیٰ نے دین اسلام کو کامل و مکمل فرما دیا ہے لہٰذا دین  میں بے جا اور بلا ضرورت رعایت و رخصت کو طلب کرنا دین کو نامکمل قرار دینے  کے مترادف ہے۔
  گہرائی سے غور و فکر کریں گے تو یہ بات ہمارے سامنے عیاں ہو جائے گی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اِس دنیا کو اِس انداز سے تخلیق فرمایا ہے کہ یہاں مکمل آزادی نا ممکن ہے۔یہ بات عقلی طور پر بآسانی اِس طرح سمجھی جاسکتی ہے کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت یا تنظیم ایسی نہیں ہے جو مکمل آزادی کی وکالت کرتی ہو؛ اِس کے بر خلاف ہمیشہ سے زندگی کے ہر شعبے میں کسی نہ کسی اعتبار سے کچھ پابندیاں رہی ہیں تاکہ ایک متوازن سماج کی تشکیل عمل میں آسکے۔
  یاد رکھئے! انسانی زند گی میں مکمل آزادی کی طلب کی تکمیل ناممکنات میں سے ہے کیونکہ دنیا میں ہر خواہش کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے بھی مکمل آزادی کے تصور کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے اُن کے یہاں ایک زبردست سماجی بحران پیدا ہوا جسے خاص طور پر جنسی بے راہ روی کے عام ہونے کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔ سماجی مصلحین اپنے مطالعے میں اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آزادی کے نام پر بے راہ روی دراصل زندگی کو محض لطف اندوزی کی چیز اور کھیل سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ اس کی ایک مثا ل یہ ہے کہ کچھ لوگ گھر میں اپنے بیوی بچے اور والدین کے ساتھ زندگی کی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے گھر سے باہر دوستوں کے ساتھ رنگ رلیاں منانے اور وقت ضائع کرنے نیز  پیسہ اُڑانے میں زندگی کے لطف کو مضمر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اگر ہم اپنی عقل کا سوواں حصہ بھی استعمال کریں گے تو اِس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہماری یہ گمراہ  سوچ پانی کے بلبلے کی مانند ہے کہ جس کا وجود ہی اختتام کی دلیل ہے۔ یہ بات ہمارے ذہن میں رہے کہ مذہب اسلام انسان کی پُر لطف زندگی کے خلاف نہیں ہے بس شرط یہ ہے کہ ہمارا ہر عمل اسلامی احکامات کے دائرہ میں ہو۔ چنانچہ اچھا کھانا، اچھا پہننا، عمدہ رہن سہن، پاکیزہ ماحول، صاف ستھرا معاملہ وغیرہ زندگی کو پُر لطف بنانے کے اسباب میں سے ہیں اور یہ سب اسلامی اُصول کے مطابق صحیح ہیں شرط صرف یہ ہے کہ اِن سب چیزوں کا حصول جائز طریقوں پر ہو۔ مسلمانوں کے لئے بطورِ خاص یہ ضروری ہے کہ وہ دنیا سے فائدہ اور لطف اُٹھانے کے لئے حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے درمیان حد فاصل ضرور قائم کریں۔ 
 مسلمانوں کے پاس شریعت اسلامیہ کی صورت میں ایک خوبصورت ضابطہ ٔ حیات موجود ہے لہٰذا اُن کی نظریں غیروں کے ذریعے لطف اندوزی کے ناجائز اسباب کی طرف نہیں اُٹھنی چاہئے اور اُنہیں یہ سمجھنا چاہئے کے اُن کے لئے خوشی اور لطف اندوزی کے لامحدود و لازوال اسباب جنت میں محفوظ ہیں جن کے حصول کے لئے دنیاایک عمل گاہ ہے۔ مسلم شریف کی ایک حدیث کے مطابق `دنیا مومنوں کے لئے جیل کی  مانند ہے اور غیر مومنوں کے لئے جنت کی طرح ہے۔اس کا مطلب صاف ہے کہ جس طرح ایک قیدی جیل کے اندر من مانی نہیں کرسکتا اسی طرح مسلمان دنیا میں من مانی نہیں کرسکتے کیونکہ مالکوں کے مالک اللہ رب ا لعزت اُن سے اِس دنیا میں تقویٰ والی زندگی چاہتے ہیں تاکہ انہیں ما بعد کی زندگی میں ہمیشہ ہمیش کی آزادی نصیب ہو

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK