• Thu, 22 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسلامی تعلیمات جمالیاتی حس کو بڑھاتی ہیں اور مطالعہ ٔقرآن سے جمالیاتی ذوق بڑھتا ہے

Updated: June 27, 2025, 5:09 PM IST | S. Aminul Hassan | Mumbai

قرآن اپنے پڑھنے والوں کو نہ صرف ہدایت اور رہ نمائی سے سرفراز کرتا ہے بلکہ ان کی جمالیاتی حس کو بھی تیز کر دیتا ہے۔ قرآن اور جمالیات کا گہرا رشتہ ہے۔ جن کو جمالیات میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے ان کے لئے قرآن کا فہم بھی آسان تر ہو جاتا ہے۔ اس کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کے مطالعے سے جمالیاتی ذوق کو جلا ملتی ہے اور جمالیاتی حس کا حامل شخص قرآن سے زیادہ لطف اندوز ہوسکتا ہے۔ جن کی طبیعت میں لطافت ِحس کی کمی ہو، قرآن کا مطالعہ انہیں لطافت حس سے مالامال کر سکتا ہے۔

Allah Almighty has provided us with abundant means to satisfy our delicate senses and aesthetic taste, both in this world and in the world to come. Photo: INN
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی اور آنے والی دنیا میں بھی ہمارے اندر پائی جانے والی لطافت حس اور جمالیاتی ذوق کی تسکین کا سامان وافر مقدار میں کیا ہے۔ تصویر: آئی این این

لطافت ایک ذوق ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر ودیعت فرمایا ہے۔ جو لوگ اس کا استعمال کرتے ہیں ان کے اس ذوق کو ترقی ملتی ہے۔ اسلام کی تعلیمات جمالیاتی حس کو بڑھاتی ہیں اور مطالعہ ٔ قرآن سے جمالیاتی ذوق بڑھتا ہے۔ جو لوگ فطرت کے خلاف چلنے کے عادی ہوتے ہیں ان کے اندر بھونڈا پن ہوتا ہے اور پھوہڑ پن ان کی طبیعت کا حصہ بن جاتا ہے۔ ان کے اندر لطافت، نزاکت اور احساسات کی باریکیاں مفقود ہوتی جاتی ہیں۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ حسن اور اس کی طلب ہماری فطرت کا حصہ ہے۔ جمالیاتی ذوق کی تسکین ہماری فطرت کی طلب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دُنیا میں بھی اور آنے والی دنیا میں بھی ہمارے اندر پائی جانے والی لطافت حس اور جمالیاتی ذوق کی تسکین کا سامان وافر مقدار میں کیا ہے۔ 
قرآن میں اپنے اندرون کی اس حس کے اظہار کیلئے جمیل، جمال، حسن، حسنی، زینت، سرور نظر، آنکھوں کی ٹھنڈک جیسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ حسن ایک ایسی چیز ہے جس کی مقدار ناپ اور تول کر سامنے رکھی نہیں جا سکتی اور اسےکسی ایک چیز میں مقید کر کے تو لا نہیں جا سکتا۔ ایک باشعور انسان اپنے اردگرد کے ماحول پر اپنی نظریں دوڑائے تو ہر چہار جانب اسے حسن ہی حسن نظر آئے گا۔ جدھر نظر اٹھے اُدھر کےحسین مناظر اس کا دل لبھاتے ہیں۔ کائنات کی تخلیق کے ہر گوشے میں اسے فن کاری نظر آتی ہے۔ حسن، کاریگری اور توازن کا نمونہ ہر پتہ، ہر بوٹا، ہر کلی اور ہر گل میں دیکھا جاسکتا ہے۔ مناظر کائنات ہر فریم میں اپنی موزونیت کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ حسن کا تصور ایک وسیع آئیڈیا ہے جسے کائنات کے چپے چپے میں دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ حسن کسی پیکر کا نام نہیں ہے بلکہ ایک صفت ہے۔ جمال، حسن، حسنی، سرور، رونق اور زینت کسی وجود کا نہیں بلکہ لطیف تصور یا آئیڈیا کا نام ہے۔ 
حسن کسے کہتے ہیں ؟ اس کے جواب میں فلسفیوں کا کہنا ہے کہ حسن کا فیصلہ اول مرحلے میں عقل کرتی ہے۔ جو چیز عقل کو حسین لگے اس پر حسین ہونے کا فیصلہ صادر ہوتا ہے اور وہ دلیل کا محتاج نہیں ہے۔ کسی سے آپ پوچھیں کہ تاج محل زیادہ حسین ہے یا میرا اپنا گھر۔ ‌ وہ برجستہ اور لامحالہ کہے گا کہ کہاں آفتاب اور کہاں ذرۂ خاک! کسی سے یہ پوچھا جائے کہ کشمیر حسین ہے یا میرا قریہ یا شہر تو وہ برجستہ جواب دے گا کہاں جنت اور کہاں تمہاری بستی! یہ عقل کا فیصلہ ہوتا ہے۔ حسن کا ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ وہ نفس کو اچھا لگے۔ ‌ یہ اور بات ہے کہ نفس کو اچھی لگنے والی چیزوں میں بعض مباح ہیں اور بعض حرمتوں کے دائرے میں آتے ہیں :
’’لوگوں کے لئے ان خواہشات کی محبت (خوب) آراستہ کر دی گئی ہے (جن میں ) عورتیں اور اولاد اور سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشان کئے ہوئے خوبصورت گھوڑے اور مویشی اور کھیتی (شامل ہیں )، یہ (سب) دُنیوی زندگی کا سامان ہے، اور اﷲ کے پاس بہتر ٹھکانا ہے۔ ‘‘ (آل عمران:۱۴)
حسن کا ایک اور پیمانہ یہ بھی ہے کہ وہ احساسات کو اچھا لگے۔ ‌کسی خوش مزاج، پخته فکر، سلیقہ مند اور نورانی شخصیت سے ملاقات ہونے پر ایک اچھا تاثر ملتا ہے۔ ایک اچھی اذان کانوں میں رس گھولتی ہے، ایک اچھی قرأت وجدان کے تاروں کو چھیڑتی ہے، مترنم غزل، درد بھری شاعری، محبت آمیز نعت اور روح پرور نغمہ گوئی خوش گوار جذبات سے ہمیں سرشار کرتی ہیں۔ سرور بخش احساسات کی ایک لمبی فہرست ہے جو دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے اور چھونے سے پیدا ہوتے ہیں۔ 
اس پوری بحث سے معلوم ہوا کہ جو چیز حسین ہوتی ہے وہ دلنشین ہوتی ہے۔ حسن دلوں میں گھر کر لیتا ہے۔ اس کا اثر دلوں پر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں انسان کے باطن میں ایک مسرت کی کیفیت رونما ہوتی ہے‌۔ سرور کا پر کیف اثر انسانی روح اور جسم پر ہوتا ہے۔ جو چیز اچھی ہوتی ہے وہ لطف اندوز بھی ہوتی ہے اور انسان اس کی تمنا کرتا ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ خوش پوشاک ہو، خوب صورت نظر آئے، اس کا گھر خوب صورت ہو اور اندر سے رنگ ڈھنگ ہو اور سلیقہ مندی اور حسن جھلکے۔ اچھا کھانا کھانا اس کی چاہت ہے، آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والے مناظر کی دید اس کے اندرون کی طلب ہے۔ زینت، حسن اور سرور کی کیفیات فطرت سے اٹھتی ہیں اور دل میں گھر کر لیتی ہیں۔ حسن اور جمال سبب ہیں اور اس کا تاثر طمانیت قلب اور روحانی مسرت ہے۔ زینت طبیعت کو جلا بخشتی ہے اور مزاج میں فرحت پیدا کرتی ہے۔ جو چیز اچھی ہوتی ہے، جو بات اچھی لگتی ہے، جو آواز خوش کن ہوتی ہے، جس کا برتاؤ اچھا ہو، جو فلسفہ دل کو بھاتا ہو، جو عمارت اچھی لگے، جو عبادت سنجیدہ ہو، جو تحیات (تحیہ یا تحیت کی جمع، معنی سلام، تسلیمات، آداب، دُعا) امن اور سلامتی والا ہو اس کا اثر سرور نظر اور طمانیت قلب کی شکل میں رونما ہوتا ہے۔ کائنات اور خدا کی مخلوقات کی دید سے جو روحانی مسرت ہوتی ہے قرآن میں جابجا اس کا ذکر ہوا ہے۔ ‌ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قرآن کے نزدیک حسین شے ہی نیکی ہے، وہی اصل خیر ہے اور وہی نور کی شکل میں ڈھلتی ہے۔ اس کے برعکس ظلم، گناہ اور بدی اپنی طبیعت میں حسن سے عاری ہوتی ہیں۔ اس کے اندر فی نفسہٖ قبح ہے۔ ان برائیوں کی قباحت فطرت جانتی ہے۔ جو چیز تمہارے دل کو اچھی لگے وہی نیکی ہے اور جو چیز تمہارے دل میں کھٹکے وہ برائی ہے۔ ملاحظہ ہو یہ حدیث : نواس بن سمعانؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے متعلق سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا :
’’نیکی عادت کا اچھا ہونا ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے اور تو اس بات کو ناپسند جانے کہ لوگ اس پر اطلاع پائیں۔ ‘‘(مسلم) 
نیکیوں کو اگر جسم عطا کیے جائیں تو وہ ایسے حسین پیکر ہوں گی جنہیں دیکھ کر آنکھوں کو سرور، دلوں کو خوشی اور طبیعت کو فرحت ملے گی جبکہ ظلم گناہ اور برائیوں کو جسم عطا کئے جائیں تو وہ خوفناک اور کالے پیکر ہوں گے۔ ثواب میں خوشی ہے عذاب میں غم ہے۔ جمالیاتی پہلو سے عمل جیسا ہوگا ویسے ہی احساسات ہوں گے اور ویسا ہی انجام بھی ہوگا۔ نیکی اپنے آپ میں ایک انعام ہے اور برائی اپنے آپ میں ایک سزا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن جمالیات کا ایک پورا تصور اور آئیڈیا دیتا ہے اور جمالیاتی حس کو بڑھاتا بھی ہے۔ 
قرآن میں جمالیات
سرور نظر: بنی اسرائیل کو ایک گائے کی قربانی کا حکم ہوا تو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پے در پے سوالات کیے کہ وہ گائے کیسی ہونی چاہئے۔ اللہ تعالی نے رہ نمائی کی کہ جمالیاتی پہلو سے وہ ایسی خوبصورت ہو کہ دیکھنے والوں کی نظروں کو سرور ملے:
’’وہ (پھر) بولے: اپنے رب سے ہمارے حق میں دعا کریں وہ ہمارے لئے واضح کر دے کہ اس کا رنگ کیسا ہو؟ (موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے زرد رنگ کی ہو، اس کی رنگت خوب گہری ہو (ایسی جاذبِ نظر ہو کہ) دیکھنے والوں کو بہت بھلی لگے۔ ‘‘ (البقرہ:۶۹)
چوپایوں میں حسن: عربوں کا سرمایہ ان کے چو پائے ہوتے تھے۔ جس کے پاس جتنا بڑا ریوڑ ہوتا وہ اتنی شوکت کا مالک ہوتا۔ بھیڑ اور بکریاں انسان دوست جانور ہیں۔ ان کی آنکھوں کی پتلی مربع نما ہوتی ہے۔ ان کی سونگھنے کی حس تیز ہوتی ہے۔ وہ اپنے گروپ کے پچاس سے زیادہ جانوروں کو چہروں سے شناخت کر سکتے ہیں۔ ان کی اپنی بھی ایک پیچیدہ شخصیت ہوتی ہے۔ صبح میں چراگاہ کی طرف لے جانے اور شام میں جب وہ کھا پی کر فربہ ہو جائیں تو گھر کی طرف لوٹا کر لانے میں بھی ایک حسن و جمال ہوتا ہے:
’’اور ان میں تمہارے لئے رونق (اور دل کشی بھی) ہے جب تم شام کو چراگاہ سے (واپس) لاتے ہو اور جب تم صبح کو (چرانے کے لئے) لے جاتے ہو۔ ‘‘ (النحل:۶)
جنت کی نعمتیں 
ہماری پوری زندگی جنت میں داخل ہونے کے حتمی مقصد کے ساتھ بسر ہوتی ہے۔ ہر وہ بندہ جو اللہ پر ایمان لائے اور اس کے احکام اور مرضیات کے مطابق زندگی گزارے وہ جنت کا متمنی ہوتا ہے اور اس کے دل میں تجسس ہوتا ہے کہ وہ جنت کیسی ہوگی۔ اس کی اصل حقیقت یقینی طور پر صرف اللہ ہی جانتا ہے، لیکن قرآن میں جنت کا بیان قرب فہم کیلئے بہت خوب صورت پیرائے میں اتنی کثرت سے بیان ہوا ہے کہ اگر ہم یہ کہیں تو بے جا نہ ہوگا کہ کوئی صفحہ اس کے تذکرے سے خالی نہیں ہے۔ گل پوش وادیوں اور گل ریز گلشنوں کے بیچ، بہتے دریاؤں اور اچھلتے فواروں کے کنارے، گھنے سایوں اور پھلوں سے لدے ہوئے باغوں میں سرفراز لوگوں کے حسین بنگلے اور بدوی زندگی کے طرز کے خیمے لگے ہوئے ہونگے۔ کبھی جنتی خوب صورت جگہوں پر بیٹھے خوش گپیاں کر رہے ہوں گے جہاں درختوں کے سائے سے روشنی چھن کر کچھ دھوپ اور کچھ چھاؤں کا منظر پیش کر رہی ہوگی۔ کھانے پینے کے حوالے سے نفیس ترین برتن ان کے سامنے کھنکھنائے جائینگے۔ وہاں انہیں ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ تمنا کریں گے۔ وہاں کی نعمتیں ایسی ہوں گی جن کی دید سے آنکھوں کو لذت ملے گی۔ ‌ زبان کی لذت سے تو ہر عام آدمی آشنا ہوتا ہے مگر آنکھوں کی لذت کا تعلق جمالیات سے ہے جو لذت کام و دہن سے بڑھ کر ہوگی۔ کہیں اسے آنکھوں کی لذت کہا گیا اور کہیں اسے آنکھوں کی ٹھنڈک کہا گیا ہے۔ وہاں بندہ مومن کیلئے ایسی چیزوں کا اہتمام ہوگا جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہوگا اور نہ کسی کے وہم و خیال میں گزرا ہوگا۔ ان چیزوں کی دید سے روح کے اندر مسرتوں کی لہریں دوڑ پڑیں گی۔ قرآن کہتا ہے:
’’ان پر سونے کی پلیٹوں اور گلاسوں کا دور چلایا جائے گا اور وہاں وہ سب چیزیں (موجود) ہوں گی جن کو دل چاہیں گے اور (جن سے) آنکھیں راحت پائیں گی اور تم وہاں ہمیشہ رہو گے۔ ‘‘ (الزخرف:۷۱)
وہاں کی نعمتوں کے بارے میں سرکار دوعالم، خاتم الانبیاء، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں، جنہیں نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی خیال گزرا ہے۔ اگر جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو (ترجمہ) پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا کیا چیزیں چھپا کر رکھی گئی ہیں۔ ‘‘(صحیح بخاری )
نہ صرف بیرون کا ہر ذرہ، جنت کا ہر چپہ، باغوں کا ہر پھول اور بوٹا اور بہشت بریں کا ہر گوشہ مجسم حسن و جمال ہوگا بلکہ جنتی بھی اپنے ظاہری حسن اور کپڑوں کی زینت فاخرہ میں جمالیات کی اعلیٰ ترین تصویر پیش کر رہے ہوں گے، جس سے انسانی نفوس آسودہ ہوں گے۔ 

جنت نما باغات زمین پر:اسلام کے تصور جنت کے عملی نمونے اسلامی تمدن کے آثاریات میں آج بھی پائے جاتے ہیں۔ مغلیہ سلطنت کے دور کی عمارتوں اور اس کے اطراف کے ماحول کی تزئین و آرائش اور ان کی باریک تفصیلات پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اسلام کے تصور جنت سے وہ سب مستعار لئے گئے ہیں۔ ان میں باغات اہم عنصر ہیں۔ ان باغات میں افادیت کے پہلوؤں کے علاوہ جمالیات کے ذوق کی بھی کار فرمائی رہی ہے۔ 
مسلم بادشاہوں نے چہار باغ کا تصور دیا۔ فارسی میں چہار باغ اور اردو میں چار باغ کہا جاتا ہے۔ یہ مسلم بادشاہوں کے طرز تعمیر کی ایک نمایاں علامت ہے۔ انہوں نے عمارتیں بنائیں، مقبرے تعمیر کئے اور فی نفسہٖ جو باغات بنائے ان کی قرآن میں مذکور جنت کے چار باغات پر مبنی چوکور باغ کی ترتیب ہوتی تھی۔ چوکور باغ کو واک ویز یا بہتے پانی کے ذریعے چار چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہوتا ہے۔ 
مغل اقتدار کے عروج کے دور یعنی متحدہ ہندوستان میں صرف لاہور میں پچاس سے زیادہ باغات پائے جاتے تھے ان میں سے ایک دنیا کے سب سے بڑے باغوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ باغات اپنے اندر جمالیاتی پہلو بھی رکھتے تھے اور مذہبی اقدار بھی۔ مغل بادشاہ جہانگیر نے اپنی یادداشت ’’تزک جہانگیری‘‘ میں پانی کے چشموں، جھرنوں، فواروں اور اونچے اونچے چنار کے درختوں کا تذکرہ کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مغل بادشاہوں نے اپنے دور عروج میں کشمیر میں ۷۰۰؍ سے زیادہ باغات بنائے۔ ان میں سے نشاط باغ، شالیمار باغ، پری محل اور چشمہ شاہی کی شہرت آج بھی ہے اور دور دور تک ہے۔ 
چار باغ کے بارے میں ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ سورہ رحمٰن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنین کے لئے جن دو اور دو جنتوں کا ذکر کیا ہے وہی چار باغات ہیں۔ ایک مصنف لکھتا ہے : ’’قرآن وعدہ کرتا ہے کہ اہل ایمان ایک ٹھنڈی پھل دار جنت میں رہیں گے اور ان پُرکشش مقامات کی تفصیلات دیتا ہےجو وہاں ان کا انتظار کر رہی ہیں …مزید یہ سورہ باغات، سبزہ زار، کھجور کے درخت اور انار اور ٹھنڈے پویلین میں موجود حوروں کے بارے میں بتاتی ہے۔ ‘‘
(Moore, Charles W., William John Mitchell, and William Turnbull. The poetics of gardens. MIT Press, 1993.)
اس طرح قبروں سے منسلک باغات کو جنت کی عکاسی کے طور پر بنایا گیا۔ اس کے ساتھ یہ تصور بھی منسلک ہے کہ پھل والے پودوں سے زندگی وابستہ ہے اور صنوبر کے درخت موت کی نشان دہی کرنے کے لئے ہوتے ہیں ( آٖ واقف ہوں گے کہ جب ہوائیں چلتی ہیں تو ان میں زندگی کے آثار نہیں دکھائی دیتے، وہ جھومتے اور جھولتے نظر نہیں آتے بلکہ صامت کھڑے کے کھڑے رہتے ہیں۔ ) 
باغات اور مقابر: غرض چارباغ اور مزار کے درمیان ایک لطیف رشتہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں موت جڑی ہوئی ہوتی ہے جنت کی پُر بہار زندگی سے اور زمین جڑی ہوئی ہوتی ہے جنت بالا سے۔ جب زائر اس طرح باغات سے چہل قدمی کرتا ہوا مقبرے تک پہنچتا ہے تو یوں محسوس کرتا ہے کہ صاحب ِقبر پھل دار جنت کی بانہوں میں آرام فرما رہے ہیں۔ اس طرح کے باغات کی اعلیٰ ترین مثالیں مغل بادشاہ ہمایوں اور اکبر کے مقبرے ہیں۔ 
ان تمام باغات کیلئے پانی کی بڑی مقدار کی ضرورت تھی۔ مغل بادشاہوں نے نہریں بنانے کی انجینئرنگ کو خصوصیت کے ساتھ ترقی دی۔ دلی کے باغات، دیوان خاص، حمام خواہ باغ، رنگ محل، زنانہ محل وغیرہ تک پانی پہنچانے کیلئے جمنا ندی سے خاص نہر نکالی گئی تھی جس کا نام‌ ’’نہر بہشت‘‘ یعنی جنت کی نہر تھا۔ 
خدا جمیل ہے: اسلام میں جمالیات کے لئے سب سے پائیدار اور مضبوط دلیل یہ ہے کہ خدا خود جمیل ہے اور وہ جمال کو پسند کرتا ہے۔ خدا کے جمال کا اس کی تخلیق کائنات ہی میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے مگر خود اس کے جمال کا تصور ہمارے ذہنوں سے پرے ہے۔ جب بھی انسانوں نے خدا کے جمال کو آرٹ اور مصوری کی گرفت میں لانے کی کوشش کی اس کی شان میں کوتاہی ہوئی۔ یہ اس کی شان کے خلاف ہے۔ مزید یہ کہ چوں کہ وہ جمال کو پسند کرتا ہے اس لئے اس کی بنائی ہوئی ہر چیز میں جمال عیاں ہے۔ ہر پتے میں حسن اور ہر بوٹے میں کاریگری نمایاں ہے۔ سورج چاند اور ستاروں کی تخلیق میں رونق اور کشش ہے۔ ہر جانور کی اپنی پہچان ہے اور ہر درخت میں فن کاری دکھائی دیتی ہے۔ ایک تتلی سے لے کر ایک وسیع کہکشاں تک کا مشاہدہ کر لیجئے، آپ کی عقل اور آپ کا قلب گواہی دے گا کہ خدا جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔ یہ بات حدیث میں یوں آئی ہے:
حدیث مبارکہ: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے نبی کریمؐ سے روایت کی، آپؐ نے فرمایا :’’جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا، وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا : انسان چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کے جوتے اچھے ہوں۔ آپؐ نے فرمایا :اللہ خود جمیل ہے، وہ جمال کو پسند فرماتا ہے. تکبر، حق کو قبول نہ کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔ ‘‘ (صحیح مسلم)
کائنات خوب صورت ہے: قرآن نے جابجا انسانوں کو نظام بالا کی طرف غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے۔ سورج اور چاند ستاروں کے حسن کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ رات میں تاروں کا حسین منظر ہر دل کو لبھاتا ہے۔ زمانہ قدیم سے لے کر آج کے جدید دور کے انسان تک کے لئے کائنات کا حسن اس کے غور و فکر اور مطالعہ کا موضوع رہا ہے۔ ان مناظر کے حسن میں جب وہ ڈوب جاتا ہے تو آرٹ، شاعری، مصوری اور نغمہ گوئی کی شکل میں ان حسین مناظر کی منظر کشی کرتا ہے اور اپنے احساسات کا تذکرہ کرتا ہے۔ ہمارے اطراف جو کائنات پھیلی ہوئی ہے وہ منظم، مستحکم، بے نقص اور بے عیب ہے۔ انسان حسین مناظر کو دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے، اسے کوئی چیز ایسی نہیں ملتی جو جمالیاتی حس کے خلاف ہو۔ 
قرآنی استدلال: اس ضمن میں قرآن کہتا ہے کہ انسان کے ذوق جمال کی تسکین جس سے نہ ہوتی ہو وہ اگر تمہیں نظر آئے تو بتاؤ !
’’جس نے سات (یا متعدّد) آسمانی کرّے باہمی مطابقت کے ساتھ (طبق دَر طبق) پیدا فرمائے، تم (خدائے) رحمان کے نظامِ تخلیق میں کوئی بے ضابطگی اور عدمِ تناسب نہیں دیکھو گے، سو تم نگاہِ (غور و فکر) پھیر کر دیکھو، کیا تم اس (تخلیق) میں کوئی شگاف یا خلل (یعنی شکستگی یا اِنقطاع) دیکھتے ہو۔ ‘‘ (الملک:۳)
تاروں بھرا آسمان: آسمان دنیا کو خوب صورت تاروں سے مزین کیا گیا ہے۔ سیاہ آسمان کی چادر پر چمکتے تاروں کی سجاوٹ آنکھوں کو ٹھنڈک عطا کرتی ہے اور یہ نظارہ انسان کے لیے کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ 
’’اور بے شک ہم نے سب سے قریبی آسمانی کائنات کو (ستاروں، سیاروں، دیگر خلائی کرّوں اور ذرّوں کی شکل میں ) چراغوں سے مزین فرما دیا ہے، اور ہم نے ان (ہی میں سے بعض) کو شیطانوں (یعنی سرکش قوتوں ) کو مار بھگانے (یعنی ان کے منفی اَثرات ختم کرنے) کا ذریعہ (بھی) بنایا ہے، اور ہم نے ان (شیطانوں ) کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ‘‘ (الملک:۵)
زمین بھی خوب صورت ہے: صرف اوپر کی دنیا ہی خوب صورت نہیں بلکہ جس زمین پر ہم چلتے پھرتے ہیں اس کا چپہ چپہ اپنے اندر کشش رکھتا ہے اور ہمارے ذوقِ جمال کی تسکین کا سامان ہر چہار طرف پایا جاتا ہے، دیکھئے قرآن مجید میں اس کی وضاحت کس طرح آئی ہے: ’’اور زمین کو ہم نے بچھایا اور ہم نے اس میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے اور اس میں ہر قسم کی چیزیں تناسب کے ساتھ اگائیں۔ ‘‘ ( سورہ الحجر: ۱۹)
آسمان کے حسن کی طرف اشارہ کرنے کے بعد زمین کا جو فرش ہمارے لئے بچھایا گیا ہے، قرآن اس کے حسن کی سیر کراتا ہے۔ اس زمین پر اس نے ہر چیز کو ایک موزونیت کے ساتھ بنایا اور ایک تناسب عطا کیا۔ کسی شے کی موزونیت اور تناسب بگڑ جائے تو یہ دنیا ہمارے لئے جینے کے قابل نہ رہے گی۔ اس نے زمین پر پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے جس سے زمین کا توازن برقرار ہے۔ پانی کی مقدار اس نے اس زمین کے مختلف حصوں میں اور فضاؤں میں رکھ دی اور ان کے درمیان توازن کے نتیجے میں انسان کو اپنی تمام ضرورتوں کیلئے پانی میسر آتا ہے۔ جس کی فطرت مسخ نہ ہوئی ہو وہ فطرت کے مناظر میں خدا کی کاریگری کا مشاہدہ ضرور کرے گا۔ ہری بھری وادیاں، گھنے گھنے باغات اور لہلہاتی ہوئی کھیتیاں اپنی نزاکتوں اور مناسبتوں سے گواہی دیتی ہیں کہ یہ دنیا دیدۂ بینا رکھنے والوں کیلئے بہت حسین ہے۔ 
ہر مخلوق خوب صورت ہے: جنگل و پہاڑ، بہتے چشمے اور گرتے آبشار، گل پوش وادیاں، ٹیولپ کی لیونڈر کھیتیاں، صحراؤں میں خاردار جھاڑیاں گویا ہر شے اپنے پیدا کرنے والے کے گن گاتی نظر آتی ہیں۔ باگھ کی دھاریاں، چیتے کے چھینٹے، زیبرا کی کالی سفید پٹیاں، خوب صورت نقوش والے ہرن اپنے صانع عظیم کے ثناخواں نظر آتے ہیں۔ ایک ایک پرندہ اپنے حسن و جمال، اپنی رنگت و نزاکت اور اپنی اداؤں سے خدا کی تعریف میں منہمک نظر آتا ہے۔ اونٹ اپنی تخلیق میں دیگر جانوروں سے الگ ہے مگر صحرائی سفر کا موزوں ترین جانور ہے۔ برفانی ریچھ نے اپنے شدید ترین سرد ماحول کے لئے مناسب ترین جسم و حسن پایا ہے۔ برف کے ٹھنڈے پانی میں نہاتی ہوئی سیل (مچھلی) ہو کہ کرۂ ارض کے جنوبی قطب کے لاکھوں پینگوئن ہوں، کون شخص ہوگا جو ان مخلوقات کی زینت پر فریفتہ نہ ہو۔ 
’’جس نے جو چیز بھی بنائی ہے خوب ہی بنائی ہے ! اس نے انسان کی خلقت کا آغاز مٹی سے کیا۔ ‘‘ (السجدة:۷)
انسان کی تخلیق بھی خوب : انسان اپنے ظاہر میں ایک حسین ساخت رکھتا ہےاور اس کے جسم کا ڈھانچہ انتہائی پیچیدہ ہے۔ انسان ظاہر کے اعتبار سے بھی اپنے اسٹرکچر میں دیگر تمام مخلوقات سے برتر ہے اور اپنے روحانی کمالات میں یکتائے روزگار ہے۔ اس کے جسم کا ایک ایک عضو متناسب ہے۔ لمبائی اور چوڑائی میں وہ اپنی بالشت میں تقریبا آٹھ بالشت واقع ہوتا ہے۔ لمبائی میں بھی اس کے چار نمایاں حصے ہیں اور چوڑائی میں بھی۔ یہ حیرت انگیز تناسب اسے وہ لچک عطا کرتا ہے جس سے دنیا میں وہ دوڑ دھوپ کرنے کے لائق بنا۔ اس پہلو سے یہاں احسن تقویم کا مطلب ہوگا: 
 Most Perfect Shape
 قرآن مجید نے فرمایا: ’’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔‘‘ (التین: ۴)
عمل کا بھی حسن ہوتا ہے: انسان کا اندرون بھی اپنی پیدائش کے لحاظ سے حسین ہے۔ مگر اس مقام پر اسے آزادی دی گئی کہ وہ اپنے عمل سے اپنی غیر مرئی شخصیت کو چاہے تو نکھار کر انتہائی حسین اور خوب صورت بنا سکتا ہے یا انتہائی بھیانک اور خوف ناک۔‌ انسان کے اعمال کا اثر اس کے اندرون کی اس شخصیت پر پڑتا ہے جسے لے کر وہ خدا کے سامنے حاضر ہوگا۔ خوب صورت شخصیت کی تراش خراش کرنے میں اگر وہ کامیاب ہوگیا تو خوب صورت انجام سے سرفراز ہوگا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بہترین ساخت کو اس نے اگر خواہش نفس اور شیطان کی راہ پر چل کر شیطان نما بنا لیا تو شیطان کے ساتھ آگ میں اس کا ٹھکانا ہوگا۔ یہی وہ بات ہے جسے قرآن نے یوں بیان کیا ہے:
 ’’جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔‘‘ (الملك: ۲)
 ہمیں ایک خوب صورت کائنات میں بھیجا گیا ہے۔ ہمیں ایک خوب صورت زمین عطا کی گئی ہے۔ جب ہمارا گھر اور ہماری چھت خوب صورت ہو تو اس کا تقاضا ہے کہ ہمارے اعمال بھی حسین و خوب صورت ہوں ۔ جب ہمارے اطراف میں پھیلی ہر چیز خوب صورت ہو اور ہم ان میں اشرف المخلوقات قرار پائیں تو ہمیں بھی بدرجہ اولیٰ حسین و خوب صورت ہونا چاہئے۔ اور یہ یاد رہنا چاہئے کہ انسان کا اصل حسن اس کے ظاہر میں نہیں بلکہ اس کے باطن میں ہوتا ہے۔ اس کے اعمال اسے حسین اور اس کے اخلاق اسے باوزن بناتے ہیں ۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انسان جمالیاتی لحاظ سے بلند ہوں ، ان میں نفاست ہو، حسن کا شوق ہو، بھلے اور برے کی تمیز ہو یہاں تک کہ ان کا ہر عمل حسین تر ہوجائے۔
پاک صاف زندگی: اسلام کے مطابق چلنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا میں انسانوں کی زندگی ہر پہلو سے پاک صاف ہو جائے گی: ’’جو کوئی نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، وہ ایمان پر ہے، تو ہم اس کو ایک پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔‘‘ (النحل:۹۷)
خوب صورت انجام: قرآن ہمیں بار بار بتاتا ہے کہ تم نے دنیا میں جو خوبصورت اعمال انجام دیئے ہیں اس کا بدلہ بھی آخرت میں خوبصورت نکلے گا:
 ’’اور ہم ان کو جو کچھ وہ کرتے رہے اس کا بہتر صلہ دیں گے۔‘‘ (النحل:۹۷)
اسلام کے پانچوں ستون حسین:  اسلام کی تمام عبادات کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو ان سب میں جمالیات کے بے شمار پہلو پائیں گے۔
توحید پر غور کریں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اسلام‌ کا تصور خدا، خدا کی عظمت کے شایان شان ہے۔ اس کی ذات ان تمام عیوب سے منزہ اور پاک ہے جو ادیان باطل خدائے بزرگ و برتر کی طرف منسوب کر دیتے ہیں ۔ وہ بے مثل ہے اور یکتا ہے۔‌ اس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ کائنات کو اس نے اپنی مرضی سے ایجاد کیا اور اپنے بل بوتے پر چلاتا ہے۔ اسے کسی شریک و سہیم کی ضرورت نہیں ہے۔ جو بندہ توحید مان لیتا ہے اس کی زندگی میں بھی حسن کے گوناگوں پہلو رونما ہوتے ہیں ۔ زمین پر جب وہ چلتا ہے تو اس کی چال میں اکڑفوں نہیں بلکہ نرمی ہوتی ہے۔ اس کی گفتگو مغلظات و مفاخرت کی نہیں بلکہ تواضع اور انکساری کی ہوتی ہے۔ درشتگی کے بجائے اس کے پاس قول لین (نرمی کا قول) ہوتا ہے۔ جاہلوں سے پالا پڑے تو خوب صورتی کے ساتھ کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے دامن میں برائیوں کے دھبے نہیں ہوتے۔ اگر غلطی سے لگ بھی جائے تو اس کی پاک فطرت جلد از جلد اسے پاک کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور توبہ کے ذریعے سے اس کا دل پھر چمک اٹھتا ہے۔
 نماز کی شرائط اور اس کی ہیئت پر آپ غور کریں گے تو دنیا میں پائے جانے والے تمام طریقہ ہائے عبادات میں نماز کو سب سےحسین طرز بندگی پائیں گے۔ نماز بندۂ مومن کو آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سرور عطا کرتی ہے۔ سرکار دو عالم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
 روزہ انسان کے اندر ون کو پاک صاف کرتا ہے اور روحانی حسن و جمال عطا کرتا ہے کیوں کہ روزے کی حالت میں وہ فرشتوں سے مشابہ ہو جاتا ہے۔ نفس پر جب توجہ نہیں دی جاتی تو دل کی کیفیت وحشت ناک ہوجاتی ہے۔ خواہشات کے جالے جابجا تنے ہوئے ہوتے ہیں ۔ غضب اور حسد کے سانپ پھنکارتے رہتے ہیں ، غیبت کی وجہ سے دل کے اندر مردہ لاشوں کا تعفن پیدا ہو جاتا ہے۔ ہوس پرستی کی گندگی کے ڈھیر دل کے بیچوں بیچ نظر آتے ہیں ۔ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے نتیجے میں بندۂ مومن خود اپنے خستہ حال دل میں اترنے کی ہمت کرتا ہے اور اپنے ہاتھوں سے گندگی کے ڈھیر صاف کرتا ہے، لاشوں کو باہر نکالتا ہے، سانپوں کو مار دیتا ہے اور قلب کی ایسی صفائی کرتا ہے کہ پھر سے وہ روشن اور منور ہو جاتا ہے۔
 زکوٰة مال کو صاف کرتی ہے۔ دولت پرست انسان کے مال کی کیفیت کی اگر اسکیننگ ممکن ہو تو حرص و ہوس، حب دنیا اور حب مال اور بخل و تنگدلی کے کالے دھبے جگہ جگہ نظر آئیں گے۔ انفاق کے نتیجے میں یہ دھبے مٹ جاتے ہیں اور انسان کا مال خوب صورت نظر آتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ زکوٰة سے نہ صرف مال خوب صورت ہوتا ہے بلکہ رویے بھی خوب صورت ہو جاتے ہیں اور زندگی بھی حسین ہو جاتی ہیں ۔ اور ایسا شخص خاندان اور معاشرے کا نور نظر بن جاتا ہے۔
 حج کی کیفیت کا کیا کہنا کہ جب حاجی حج کرکے اپنے گھر لوٹتا ہے تو ایسا معصوم ہو جاتا ہے جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا بچہ۔ بچہ خوب صورت اور دل آویز ہوتا ہے۔ حج کی عبادت بھی حاجی کے اندر زندگی کی کایا پلٹ کر کے اسے از سر نو نرم دل، نرم خو اور انسانیت نواز بنا دیتی ہے۔ اس طرح سے حاجی کی زندگی میں غیرمعمولی حسن اور جمال پیدا ہو جاتا ہے۔
قرآن کا کمیونی کیشن حسین: کمیونی کیشن کے ضمن میں قرآن کی تعلیم حسین ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ مومن جب گفتگو کرتا ہے تو سیدھی بات کہتا ہے، اچھی بات کرتا ہے۔ اس کی بات سیدھے دلوں تک پہنچنے والی ہوتی ہے۔ اس کی گفتگو نرم ہوتی ہے۔ اس کی باتوں میں لوگوں کیلئےآسانیاں ہوتی ہیں ۔ وہ مشکلات میں ڈالنے والا نہیں ہوتا۔
سماجی تعلیمات کا حسن: اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ ادب سکھاتا ہے کہ کسی کے گھر ملاقات کے لئے جائیں تو تاک جھانک نہ کریں۔ دستک دیں یا سلام کریں اور جواب نہ ملنے پر بغیر کبیدہ خاطر ہوئے لوٹ جائیں ۔ اس سلسلے کی حدیث سے آپ حضـرات واقف ہیں۔ یہ عمل دلوں کی صفائی کے لیے احسن ہے۔ جس گھر پر دستک دی جائے اگر وہاں اندر آنے کے لئے کہا جائے تو اتنا انتظار کرلیں یہاں تک کہ گھر کا فرد اپنے آپ کو جمال سے آراستہ کر لے اور گھر کا ماحول بھی پاک صاف کر لے تاکہ آپ کی آنکھوں کو چبھن نہ ہو اور صاحب خانہ کو بار خاطر نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK