• Mon, 19 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتاوے: صدقاتِ واجبہ کا مصرف مسلمان، صدقات ِ غیرواجبہ کا غیرمسلم

Updated: January 19, 2026, 5:20 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) صدقات کا مصرف، (۲) کیا ایک ہی بسم اللہ کافی ہے؟، (۳) طلاق کا ایک سوال

One should adhere to the principles laid down by Islam for helping those in need. Photo: INN
اسلام نے ضرورتمندوں کی مدد کرنے کے جو اصول بتائے ہیں ان کی پاسداری کرنا چاہئے۔ تصویر: آئی این این
صدقات کا مصرف
کسی غیر مسلم عورت کو زکوٰۃ کا پیسہ دے سکتے ہیں یا نہیں جبکہ اس کا خاوند گزر چکا ہے، اس کا کمانے والا کوئی نہیں ہے اور  اس پہ قرضہ بھی  کافی ہے۔   جابر علی، ممبئی 
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: صدقۂ  فطراور زکوٰۃ ومنت وغیرہ یہ صدقات واجبہ کہلاتے ہیں، ان کا مصرف مسلمان فقراءومساکین ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ زکوٰۃ مسلمان امراء سے لے کر غرباء پر صرف کی جائےگی اسی لئے احناف  کےمطابق زکوٰۃ صرف مسلم فقراء ومساکین کو دی جانی چاہئے۔ لیکن غیر مسلم حاجتمندوں کا تعاون بھی منع نہیں البتہ ان کے لئے  صدقاتِ غیرواجبہ کی  مد رکھی گئی ہے، ان کی ضروریات اس سے پوری کی جائیں گی لہٰذا بیوہ واقعی ضرورت مند ہے (اور ہے، جیسا کہ سوال میں کہا گیا ہے) تو صدقاتِ واجبہ کے علاوہ سے اس کا تعاون کیا جانا چاہئے۔  واللہ اعلم وعلمہ اتم
کیا ایک ہی بسم اللہ کافی ہے ؟
ایک دکان پر ایک ہی وقت میں ۱۰۰؍مرغیاں ذبح کی  جا رہی ہیں، اور صرف ایک ہی مرغی پر بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا جاتا ہے، باقی مرغیاں بغیر بسم اللہ پڑھے ذبح کی جاتی ہیں۔تو کیا اتنی ساری مرغیوں کو ذبح کرنے کے لئے ایک مرتبہ بسم اللہ پڑھنا کافی ہوگا؟ نعمان علی، جلگاؤں 
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: ذبیحہ کے حلال ہونے کے لئے شرعاً کچھ شرائط کی پابندی ضروری ہے ورنہ ذبیحہ حلال نہ ہوگا۔ سب سے پہلے تو ذبح کرنے والا مسلمان ہو،عاقل بالغ یا ایسا قریب البلوغ لڑکا ہو جو امور ذبح سے واقف اور ذبح پر قادر ہو، ذبح میں جن رگوں کا کٹ جانا ضروری ہے وہ تمام یا ان میں سے اکثر کٹ جائیں، ذبح کرنے والا (شخص) جانور کو اللہ کے نام کے ساتھ (بسم اللہ پڑھ کر) ذبح کرے۔ یہ بھی اشد ضروری ہے کہ ذبح کرنے والا ہر جانور کو اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کرے ،لہٰذا صرف ایک پر بسم اللہ پڑھ کر باقی کو یونہی ذبح کردینا صحیح نہیں۔  وہ ایک بھی ان میں مخلوط ہوگیا تو پورا کا پورا گوشت مشکوک بلکہ حرام قرار پائیگا اس لئے  جولوگ بھی ایسا کررہے ہیں انہیں اپنا طریقہ ٔ  کار بدل کر ہر مرغی کو بسم اللہ کے ساتھ ذبح کرنا چاہئے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
طلاق کا ایک سوال 
ایک شخص نے تقریباً تین ماہ قبل اپنی بیوی سے کہا:’’اگر تم دو دن کے اندر گھر واپس نہیں آئیں تو تمہیں دو طلاق ہو جائیں گی۔‘‘بیوی مقررہ مدت (دو دن) کے اندر گھر واپس نہیں آئی، اس کے بعد میاں بیوی کے درمیان کم از کم تین ماہ تک نہ بات چیت رہی اور نہ ازدواجی تعلق قائم ہوا۔ اب دریافت طلب امور یہ ہیں:کیا شرط پوری ہونے کی وجہ سے صرف دو طلاق واقع ہوئیں یا خود بخود تین طلاق واقع ہو گئیں؟ اگر شوہر اب بیوی کو اپنے نکاح میں رکھنا چاہتا ہے لیکن بیوی اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی، تو شرعاً کیا حکم ہے؟ ایسی صورت میں مہر کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا شوہر پر پورا مہر ادا کرنا لازم ہوگا، خصوصاً جبکہ دو طلاق شرط کے ساتھ دی گئی تھیں؟ قرآن و حدیث سے رہنمائی فرمائیں۔ دین فطرت کے کالم نگار سے درخواست ہے کہ جواب جلد مرحمت فرمائیں۔ بدیع الدین، بنگلور
 باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: اگر دونوں ایک ساتھ رہتے رہے ہیں یا تنہا ئی میں مل چکے ہوں تو شوہر کے ذمے کامل مہر کی ادائیگی ضروری ہوگی، ہاں نکاح کے بعد تنہائی  یعنی خلوت صحیحہ سے پہلے یہ وقوعہ پیش آیا توجو مہر مقرر ہواتھا اس کا نصف دینا ہوگا۔ اگر ازدواجی تعلقات اور خلوت کے بعد کی صورت ہے تو دودن میں واپس نہ آنے کی صورت میں دو طلاق واقع ہیں اور رجوع سے پہلے عدت گررجانے کی صورت میں شرعاً عورت مرد سے جدا ہوجائےگی البتہ  اگر دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے مگر آئندہ ایک طلاق بھی دی تو رشتہ مکمل منقطع ہو جائےگا۔ عورت دوبارہ ساتھ رہنے کے لئے راضی نہ ہو تو اسے مجبور نہیں کیا جاسکتا، دوسرا نکاح دونوں کی رضا مندی ہی سے ہوسکتا ہے۔ خلوت سے پہلے یہ وقوعہ پیش آیا تو عورت پہلی ہی طلاق سے باین ہوجائیگی، اس صورت میں اس پر عدت بھی نہ ہوگی۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK