مولانا نے بتایا کہ وہ گزشتہ ۱۵ برسوں سے اتراکھنڈ میں مقیم ہیں اور وہ کوئی مدرسہ نہیں چلا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہجوم نے انہیں ”پاکستانی“ کہا اور دھمکیاں دیں۔
EPAPER
Updated: January 20, 2026, 11:32 PM IST | Dehradun
مولانا نے بتایا کہ وہ گزشتہ ۱۵ برسوں سے اتراکھنڈ میں مقیم ہیں اور وہ کوئی مدرسہ نہیں چلا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہجوم نے انہیں ”پاکستانی“ کہا اور دھمکیاں دیں۔
اتراکھنڈ کے شہر رشی کیش میں ایک مولانا نے ہندوتوا گروپس کے ذریعے ہراساں کئے جانے اور دھمکیاں ملنے کا الزام لگایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ہندو گروپس کےممبران نے دھمکیاں دیتے ہوئے ضلع پوڑی کے گاؤں کوناؤں میں مسلم بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے پر اعتراض کیا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ پولیس نے دونوں فریقین کی شکایات پر تفتیش شروع کردی ہے۔
Hello world
— Kavish Aziz (@azizkavish) January 19, 2026
In india A Maulana from Bihar receives threats for teaching the Quran! In Kunaun village of Pauri district, near Rishikesh in Uttarakhand, a
Maulana Danish Ali, was allegedly mistreated and threatened by members of a Hindu organization for teaching the Quran in a… pic.twitter.com/XOSMI7gmZY
اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے، جس میں مولانا اور ہندو تنظیموں سے وابستہ افراد کے درمیان بحث کو دیکھا جاسکتا ہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق، مولانا طویل عرصے سے ایک چھوٹی سی دکان میں بچوں کو قاعدہ اور قرآن پڑھا رہے تھے اور قریبی گھروں کے خاندان باقاعدگی سے اپنے بچوں کو وہاں بھیجتے تھے۔ ہندو تنظیموں کے اعتراض کے بعد مبینہ طور پر دکان بند کروا دی گئی اور مولانا سے کہا گیا کہ جب تک ان کی دستاویزات اور شناخت کی تصدیق نہیں ہو جاتی، وہ پڑھانا بند کر دیں۔
ہندو تنظیموں کے ممبران نے دعویٰ کیا کہ یہ سرگرمی غیر قانونی تھی اور اس سے سماج کو نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے مولانا کے آدھار کارڈ کی تفصیلات پر سوالات اٹھائے۔ ’وشو ہندو شکتی سنگٹھن‘ سے تعلق رکھنے والے راگھویندر بھٹناگر نے الزام لگایا کہ مولانا کی شناخت واضح نہیں ہے۔ بھٹناگر کے بقول، ”آدھار کارڈ پر نام، پتہ اور تاریخِ پیدائش مشکوک معلوم ہوتی ہے“ اور ان کی ”مقامی طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔“
یہ بھی پڑھئے: مسلم اکثریتی کشن گنج میں تعینات ہندو خاتون ٹیچر کا تجربہ: خوف سے محبت تک کا سفر
ہندوتوا تنظیم بجرنگ دل کے ممبر نریش انیال نے دعویٰ کیا کہ گاؤں میں ایک مدرسہ پہلے ہی عدالتی حکم پر بند کیا جا چکا تھا اور اب ایک دکان میں غیر رسمی طور پر قرآن کی تعلیم دوبارہ شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بہار سے تعلق رکھنے والے مولانا نے بتایا کہ وہ گزشتہ ۱۵ برسوں سے اتراکھنڈ میں مقیم ہیں اور وہ کوئی مدرسہ نہیں چلا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”میں صرف قریبی گھروں کے بچوں کو قرآن پڑھاتا ہوں۔“ انہوں نے الزام لگایا کہ ہجوم نے انہیں ”پاکستانی“ کہا اور دھمکیاں دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”مسلم بچوں کو قرآن پڑھانا کوئی جرم نہیں ہے۔“ واضح رہے کہ آئین ہند کی دفعات ۲۵ اور ۳۰ میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق غیر رسمی مذہبی تعلیم عام طور پر قانونی ہے جب تک کہ کوئی مخصوص خلاف ورزی نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: کیرالا اسکول کالوٹسوم ۲۶ء میں فلسطین سے یکجہتی کی فنکارانہ پیشکش نے دل جیت لئے
پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس افسران کی مداخلت سے قبل کشیدگی اس قدر بڑھ گئی تھی کہ نوبت نعرے بازی اور دھکم پیل تک پہنچ گئی تھی۔ لکشمن جھولا تھانہ انچارج بھون چند پجاری نے بتایا کہ دستاویزات اور حقائق کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ انہوں نے قانون ہاتھ میں لینے والوں کو خبردار کیا۔ تفتیش جاری ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ کوئی بھی کارروائی قانونی طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی۔