Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ڈسکاؤنٹ‘ اور ’سیل‘ کے نام پر فضول خرچی تو نہیں ہورہی ہے؟

Updated: October 03, 2025, 4:39 PM IST | Mukhtar Adeel | Mumbai

فضول خرچی خواہ وہ کھلے ہاتھوں پیسہ بہانے کی شکل میں ہو یا ڈسکاؤنٹ اور آفر کے فریب میں آ کر بلا ضرورت خرچ کی صورت میں، دراصل ایک فکری کمزوری ہے، جو فرد کی عقل کو مفلوج، دین کو مجروح، اور معاشرے کو محروم کر دیتی ہے۔

Before making a purchase, ask yourself whether this item is truly necessary or just a wishful thinking. Photo: INN
خریداری کرنے سے پہلے خود سے یہ سوال کریں کہ کیا یہ چیز واقعی ضروری ہے یا محض خواہش کا نتیجہ ہے؟ تصویر: آئی این این

چند ماہ پہلے کا ایک واقعہ ہے، بظاہر معمولی مگر حقیقت میں چونکا دینے والا۔ میں ڈی مارٹ گیا تھا، مقصد صابن خریدنا تھا اور بس۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی دکھانا تھا۔ اچانک آنکھ ایک چمکتی دمکتی جو‘سر مشین پر جا ٹھہری جس کے ساتھ ایک پرکشش بورڈ جگمگا رہا تھا: ”دھماکے دار ڈسکاؤنٹ – آدھی قیمت میں !“ بس، وہی لمحہ میرے ضبط کا امتحان تھا۔ دل نے عقل کو زیر کر لیا اور ہاتھ نے بلا جھجک وہ مشین اٹھا لی، حالانکہ نہ مجھے اس کی کوئی حاجت تھی اور نہ گھر کو۔ خریداری کے پل میں دل نے جشن منایا کہ آدھی قیمت میں بڑی چیز ہاتھ آ گئی، مگر وقت نے آہستہ آہستہ بھید کھولا۔ مشین اپنے ڈبے میں دبکی رہی، کبھی استعمال نہ ہوئی، اور پھر ایک دن بوجھ بن کر نکال دی گئی۔ اس لمحے شدت سے احساس ہوا کہ فضول خرچی ہمیشہ شور شرابے یا سامانِ تعیش میں نہیں چھپی ہوتی ہے، کبھی کبھی یہ’’سستی کے جال‘‘ میں لپٹی ہوئی بڑے سکون سے انسان کے قدم اکھاڑ دیتی ہے۔ 
انسانی زندگی وسائل اور نعمتوں کے گرد بُنی ہوئی ایک نازک بُنت ہے۔ یہ وسائل اللہ کی امانت ہیں اور ان کا صحیح مصرف انسان کے شعور کا امتحان۔ لیکن جب خواہشات کا سیلاب عقل کی مضبوط دیواروں کو توڑ دیتا ہے، تو یہ نعمتیں بکھر کر ضائع ہوجاتی ہیں۔ اسی لمحے ایک بیماری جنم لیتی ہے جسے فضول خرچی کہا جاتا ہے۔ 
فضول خرچی خواہ وہ کھلے ہاتھوں پیسہ بہانے کی شکل میں ہو یا ڈسکاؤنٹ اور آفر کے فریب میں آ کر بلا ضرورت خرچ کی صورت میں، دراصل ایک فکری کمزوری ہے، جو فرد کی عقل کو مفلوج، دین کو مجروح، اور معاشرے کو محروم کر دیتی ہے۔ عقل کی عدالت میں فضول خرچی سراسر جرم ہے۔ عقل یہ کہتی ہے کہ وسائل کا مصرف مقصد اور ضرورت کے تابع ہو۔ لیکن جب کوئی انسان ایسی چیز خرید لیتا ہے جس کی اسے حاجت نہیں، تو یہ عمل خواہش کی غلامی اور عقل کی شکست ہے۔ محدود وسائل کو لامحدود خواہشات پر قربان کرنا عقل کی روشنی میں اندھیرے کا انتخاب ہے۔ 
قرآن کریم کی گواہی ہے:
”بیشک فضول خرچ لوگ شیطانوں کے بھائی ہیں۔ “ (بنی اسرائیل:۲۷)
یہ آیت فضول خرچی کو محض مالی غلطی نہیں بلکہ روحانی گراوٹ قرار دیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’کھاؤ، پیو، پہنو اور صدقہ کرو لیکن فضول خرچی اور تکبر نہ کرو۔ ‘‘یہ تعلیم واضح کرتی ہے کہ اسلام کا محور اعتدال ہے، اور اسراف اس محور سے انحراف۔ فضول خرچی صرف فرد کی جیب نہیں کاٹتی بلکہ معاشرتی توازن بھی بگاڑ دیتی ہے۔ جب ایک طبقہ غیر ضروری اشیاء پر سرمایہ لٹاتا ہے تو دوسرا طبقہ بنیادی ضروریات سے محروم ہو جاتا ہے۔ دکھاوا، مقابلہ بازی اور مصنوعی برتری سماج کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ یوں فضول خرچی غربت کو گہرا، معاشی تفاوت کو وسیع، اور سماجی امن کو مجروح کر دیتی ہے۔ 
اکثر لوگ فضول خرچی کو مختلف دلائل سے جائز ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے: ”یہ میری کمائی ہے، میں جس پر چاہوں خرچ کروں۔ “ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کمائی اگرچہ آپ کی محنت کا پھل ہے، مگر وسائل دراصل اللہ کی امانت ہیں، اور امانت کا مصرف صرف ذاتی عیش نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔ 
 آپ کا غیر ضروری خرچ کسی محروم کے رزق کو روک سکتا ہے۔ بعض لوگ یہ دھوکا کھاتے ہیں کہ ”ڈسکاؤنٹ پر خریدنا تو بچت ہے۔ “ حالانکہ اگر چیز ضرورت کی نہ ہو تو ڈسکاؤنٹ بھی محض فریب ہے، کیونکہ آدھی قیمت پر بھی فضول شے خریدنا وسائل کا پورا نقصان ہے۔ وہی پیسہ اصل ضرورت یا فلاح میں لگ سکتا تھا۔ ایک اور مغالطہ یہ دیا جاتا ہے کہ”زیادہ خرچ سے معیشت چلتی ہے۔ “ لیکن معیشت تبھی صحتمند رہتی ہے جب خرچ مقصدی اور پیداواری ہو۔ خواہش کی تسکین پر خرچ معیشت کو وقتی چمک تو دیتا ہے مگر اس کی حقیقی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ 
جب لوگ بلا ضرورت خرچ کرتے ہیں تو وسائل اپنی اصل سمت کے بجائے غلط راہوں میں بہہ جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں غریب اپنی بنیادی ضروریات سے محروم رہ جاتا ہے، سماج میں معاشی تفاوت بڑھتا ہے، مقابلہ بازی اور دکھاوا جنم لیتا ہے اور قومی دولت بکھر کر ضائع ہو جاتی ہے۔ 
 اس کا نفسیاتی پہلو بھی کم سنگین نہیں۔ فضول خرچی نفس کو وقتی خوشی تو دیتی ہے لیکن اس کے بعد طویل مدتی پچھتاوا چھوڑ جاتی ہے۔ یہی عادت انسان کو قرض کے بوجھ، ذہنی تناؤ، گھریلو جھگڑوں اور عدمِ سکون کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ گویا فضول خرچی نہ صرف مال و دولت کے زیاں کا باعث ہے بلکہ انسانی فطرت کی داخلی سکونت کے بھی سراسر خلاف ہے۔ 
فضول خرچی سے بچنے کیلئے چند حکمتیں اپنانا نہایت ضروری ہے۔ خریداری سے پہلے خود سے یہ سوال کریں کہ کیا یہ چیز واقعی ضروری ہے یا محض خواہش کا نتیجہ ہے؟ خریداری ہمیشہ پہلے سے بنی ہوئی فہرست کے مطابق کریں تاکہ غیر ضروری اشیاء کی طرف دل مائل نہ ہو۔ خواہش اور ضرورت کے فرق کو سمجھنا اصل دانش ہے، اسی سے زندگی میں اعتدال آتا ہے۔ بچوں کو بھی قناعت اور میانہ روی کی تربیت دی جائے تاکہ یہ عادت ان کی شخصیت کا حصہ بن جائے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ فضول خرچ پر پیسہ ضائع کرنے کے بجائے اسے صدقہ و خیرات میں لگایا جائے، اس طرح نہ صرف مال میں برکت ہوگی بلکہ سماج میں خوشی اور سکون بھی تقسیم ہوگا۔ 
فضول خرچی ایک ایسا رویہ ہے جو عقل پر خواہش کی آمریت، دین پر دنیا کی ترجیح، اور سماج پر ذاتی عیش کی بالادستی قائم کرتا ہے۔ یہ فرد کو روحانی طور پر گرا دیتی ہے اور معاشرے کو معاشی طور پر توڑ دیتی ہے۔ اس کا علاج صرف ایک ہے: اعتدال اور قناعت۔ جب انسان اپنی خواہش کو عقل اور ایمان کے تابع کرے، مال کو مقصدی راستوں پر خرچ کرے اور فضول خرچی کے بجائے صدقہ و خیرات کو اختیار کرے، تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کو سکون دیتا ہے بلکہ سماج کو خوشحالی اور آخرت کو کامیابی سے بھر دیتا ہے۔ 

islam muslim Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK