Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نے غزہ میں ہولوکاسٹ کیاہے،لوکا شینکوکی تنقید

Updated: June 19, 2026, 12:07 PM IST | Agency | Minsk

غزہ میں نسل کشی کے معاملے پر بیلاروس کے صدر کی اسرائیل پر تنقید ،یاہو انتظامیہ نے بیلاروسی سفیر کو طلب کیا ۔

Alexander Lukashenko.Photo: INN
الیگزینڈر لوکاشینکو -تصویر:آئی این این
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے غزہ میں جاری نسل کشی پر اسرائیل پر شدید تنقید کی ہے ۔ انہوں نے ’العربیہ انگلش‘ کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں ہولوکاسٹ کیا ہے۔ اس حق بیانی سے اسرائیل تلملاگیا ہے اور اس نے تل ابیب میں تعینات بیلاروس کے سفیر یوری یاروشیوک کو طلب کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’العربیہ انگلش‘ کے ساتھ اپنی گفتگو میں الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں ہولوکاسٹ کیا ہے، اس لئے اسرائیل کو زیادہ محتاط رہنا چاہیے، غزہ پر بمباری کی وجہ سے دنیا میں اس کی ساکھ پہلے ہی خراب ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو نسل کشی قرار دیا۔
 
 
بیلاروس کے صدر نے سوال اٹھایا کہ ہم اس ہولوکاسٹ کے بارے میں کیوں بات کرتے ہیں جس کا شکار اسرائیلی ہوئے جبکہ وہ خود اتنے سارے لوگوں کو قتل کر چکے ہیں؟ غزہ پٹی میں بنیادی طور پر خواتین اور بچے مارے گئے ہیں، اسے زمین کے اوپر سے مٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد وہ اس زمین پر ایک ریزورٹ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں ہزاروں لوگ مارے گئے ہیں، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اسرائیل کو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا شروع کر دینا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر جوہری ہتھیار بھی کسی کام کے نہیں ہوں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ اسرائیل کو فوجی کارروائیاں روکنے پر مجبور کر سکتا ہے، کیونکہ ان کے بقول اسرائیل مکمل طور پر واشنگٹن پر انحصار کرتا ہے۔
 
 
ترکی کے وزیرخارجہ کی روسی صدر سے ملاقات
ترکی کے وزیر خارجہ خاقان فیدان نے روس کے اپنے سرکاری دورے کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی ہے۔ ترک ذرائع کے مطابق پوتن نے فیدان کا استقبال روس کے شہر قازان میں کیا۔ کریملن کی جانب سے ملاقات کے آغاز میں کی گئی گفتگو کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں، جس میں پوتن کا کہنا تھا کہ ماسکو اور انقرہ کے درمیان تعلقات مسلسل ترقی کررہے ہیں۔ اس وقت روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور صدر کے معاون یوری اوشاکوف بھی موجود تھے۔  پوتن نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے اب محض رسمی نہیں رہے بلکہ یہ’’حقیقی معنوں میں دوستانہ ہیں ۔‘‘  انہوں نے کہا کہ تعلقات کی یہ مضبوطی زیادہ تر ترک صدر رجب طیب اردگان کے موقف کی بدولت ہے اور انہوں نے فیدان سے کہا کہ وہ ان تک پوتن کی نیک خواہشات پہنچائیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK