Inquilab Logo Happiest Places to Work

میونسپل اسکولوں میں ٹیچرزکی کمی،والدین بچوں کاداخلہ نجی اسکولوں میں کرانےپرمجبور

Updated: August 07, 2026, 1:34 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

اساتذہ ایس آئی آراور مردم شماری کی ڈیوٹی پرمامور ہیں جس سے بی ایم سی کے اسکولوں میں بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔

BLOs Working On SIR in Mankhurd. (Photo: Inqilabad)
مانخورد میں بی ایل او ایس آئی آر کا کام کرتے ہوئے۔ (تصویر: انقلاب)

شہری انتظامیہ کے اسکولوں کے بیشتر اساتذہ کے ایس آئی آر، مردم شماری اور دیگر غیر تعلیمی کاموں پر مامور  ہونے سے بچوں کی پڑھائی   متاثر ہورہی ہے جس کی وجہ سے متعدد والدین اپنے بچوں کو بی ایم سی اسکولوں سے نکال کر نجی اسکولوں میں داخلہ کرا رہے ہیں جس سے بی ایم سی  کے اسکولوںکے طلبہ کی تعداد میں کمی آ رہی ہے ۔

اطلاع کے مطابق بی ایم سی کے مقابلے نجی اسکولوں کے تدریسی عملےکو غیر تعلیمی کاموں کی ذمہ داری کم   دی گئی ہے ۔ علاوہ ازیں پرائیویٹ اسکولوں کے انتظامیہ بہر صورت اپنے بچوںکی پڑھائی جاری رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں ۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کا داخلہ نجی اسکولوں میں کرانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’۱۵؍اگست کوہر اس جگہ ترنگایاترا نکالی جائےجہاں دھاراوی واسیوں کوبھیجا جائے گا‘‘

ان دنوں بی ایم سی اسکولوں کے بیشتر اساتذہ ایس آئی آر اور مردم شماری کی ڈیوٹی پر مامور ہیں  جس کی وجہ سے اسکولوں میں تدریسی عملے کی کمی ہونے سے بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔ اس لئے تعلیمی اعتبار سے بیدار والدین اور سرپرست اپنے بچوں کو بی ایم سی اسکولوں سے نکال کر ان کا داخلہ نجی اسکولوں میں کرا رہے ہیں تاکہ ان کے بچوں کی پڑھائی جاری ر ہے۔

مغربی مضافات کے ایک اسکول کی سنیئر معلمہ نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ بی ایم سی اسکولوں میں اساتذہ کی کمی سے بچوں کی پڑھائی کانقصان ہو رہا ہے ۔ اسی وجہ سے گزشتہ ۱۵؍ سے ۲۰؍ دن میں ہمارے اسکول میں بی ایم سی اسکول کے ۴؍بچوں کاداخلہ ہواہے ۔ ان کے والدین کا کہناہے کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز سے ہمارے بچوں کی کلاس میں ٹیچر نہ ہونے سے ان کی پڑھائی نہیں ہوپا رہی ہے ۔ہیڈماسٹر سے شکایت کرنے کے باوجود حل نہیں نکل سکا، مجبوراً ہم اپنے بچوں کا داخلہ نجی اسکول میں کرا رہے ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: سینئر صحافی ترون تیج پال کو ۱۰؍ سال کی سزا

گھاٹ کوپر کے ایک بی ایم سی اسکول کے   معلم نے بتایا کہ ’’ جن بی ایم سی اسکولوں کے بیشتر اساتذہ کو مذکورہ ڈیوٹی دی گئی ہے ،وہاں یہ مسئلہ ضرور ہے لیکن سبھی اسکولوں میں ایسا نہیں ہے ۔ متعدد اسکولوں میں ٹیچروں کی کمی کے باوجود بچوں کو پڑھانے کیلئے ایک ہی  جماعت کے۲ ؍ ڈویژن کو ضم کر کے ایک ٹیچر ان دونوں ڈویژن کے بچوں کو پڑھا رہا ہے ۔ ممکن ہے جن اسکولوں کے سبھی ٹیچروں کو ایس آئی آر کی ڈیوٹی دی گئی ہے، وہاں کے بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہو ۔ اس لئے   والدین اپنے بچوں کو بی ایم سی  اسکول سے نکال کر نجی اسکول میں داخل کر رہے ہو ں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK