• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ووٹروں کے ساتھ کی گئی ناانصافی کا ازالہ اشد ضروری!

Updated: October 04, 2026, 12:30 PM IST | Aakar Patel | Mumbai

الیکشن کمیشن نے سنگین غلطیاں کی ہیں یہ جگ ظاہر ہے۔ حکومت اسے بچانا چاہتی ہے یہ بھی جگ ظاہر ہے۔ ایسے میں لازم ہے ووٹ کی حفاظت اور حکام کی جوابدہی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ایسے وقت میں جبکہ ۲؍ اکتوبر کی وجہ سے گاندھی جی کی یادیں ابھی بالکل تازہ ہیں اور پرامن اجتماع کا حق ایک بار پھر خبروں کا موضوع بنا ہوا ہے، آئیے کچھ ایسی باتوں پر غور کریں جو اس تناظر میں اہم ہو سکتی ہیں۔ جسوقت مَیں یہ سطور لکھ رہا ہوں، مودی حکومت مظاہرین کو روک رہی ہے کیونکہ وہ چیف الیکشن کمشنر کو بچانا چاہتی ہے جس کی بدعنوانی اور غلط طرزِ عمل جگ ظاہر ہے، حقائق سب کے سامنے ہیں، لیکن حکومت کا رویہ کچھ ایسا ہے جیسے وہ کہنا چاہتی ہو کہ ’جو کرنا ہے کر لو‘۔ کیا یہ طرزِ عمل دیرپا ثابت ہو سکتا ہے؟ اس پر تو ہم بات کرینگے ہی، اس سے پہلے چند باتیں جو اُتنی ہی اہم ہیں : 
ہندوستان میں گاندھی جی کا پہلا احتجاج ۱۹۱۷ء میں ہوا، جب وہ ۴۷؍ سال کے تھے۔ انہیں معلوم ہوا کہ چمپارن کے کسان تنکھتیا (Tinkathia) نامی نظام کے تحت اپنی زمین کے صرف پندرہ فیصد حصے پر نیل کی کاشت کرسکتے ہیں، خواہ وہ ایسا کرنا چاہتے ہوں یا نہیں۔ گاندھی جی نے حقائق کا جائزہ لینے کیلئے چمپارن جانے کا فیصلہ کیا؛ وہاں برطانوی مجسٹریٹ نے انہیں علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا، لیکن گاندھی نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کے بارے میں وہ اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں :
’’افسران، کلکٹر، مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ اور میرے درمیان ایک طرح کا دوستانہ تعلق قائم ہو گیا۔ میں اُن نوٹسوں پر جو میرے نام جاری کئے گئے تھے، قانونی مزاحمت کر سکتا تھا، لیکن اس کے بجائے میں نے سارے نوٹس قبول کرلئےاور افسران کے ساتھ میرا رویہ درست رہا۔ اس طرح انہیں اندازہ ہوگیا کہ میں انہیں ذاتی طور پر ناراض نہیں کرنا چاہتا، بلکہ ان کے احکامات کے خلاف سول مزاحمت (Civil Resistance) کی راہ اپنانا چاہتا ہوں۔ اس طرح انہیں اطمینان ہو گیا، اور مجھے تنگ کرنے کے بجائے انہوں نے ہجوم کو منظم کرنے کے سلسلے میں میرے اور میرے ساتھیوں کے تعاون کو خوشی سے قبول کر لیا۔ لیکن یہ ان کیلئے اس حقیقت کا واضح ثبوت تھا کہ ان کا رعب اور اختیار کمزور پڑ چکا ہے۔ لوگوں کے دلوں سے سزا کا خوف عارضی طور پر ختم ہو چکا تھا اور وہ اس محبت کی طاقت کے سامنے سرِ تسلیم خم کر رہے تھے جس کا مظاہرہ ان کے نئے دوست کر رہے تھے۔ ‘‘ برطانوی حکام نے جلد ہی بھانپ لیا کہ اس صورتِ حال میں کامیابی ممکن نہیں۔ گاندھی لکھتے ہیں :
’’اس سے پہلے کہ میں سزا سننے کیلئے عدالت میں پیش ہوتا، مجسٹریٹ نے ایک تحریری پیغام بھیجا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے میرے خلاف مقدمہ واپس لینے کا حکم دے دیا ہے؛ اور کلکٹر نے مجھے لکھا کہ میں مجوزہ تحقیقات کرنے کیلئے آزاد ہوں اور حکام کی جانب سے ہر قسم کی مدد مجھے دی جائیگی۔ ہم میں سے کوئی بھی اس فوری اور خوشگوار نتیجے کیلئے تیار نہیں تھا۔ کسانوں کے ہجوم اپنے بیانات قلمبند کروانے کیلئے آنے لگے، اور ان کے پیچھے ساتھیوں کا ایسا جمِ غفیر امڈ آیا جس سے احاطہ اور باغ کھچا کھچ بھر گئے۔ ‘‘ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس موقع پر برطانوی حکومت نے ہمدردانہ رویہ اختیار کیا۔ گاندھی لکھتے ہیں : ’’بیان ریکارڈ کروانے کیلئے آنے والے کاشتکاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے باغات کے مالکان (پلانٹرز) کے غیظ و غضب میں اضافہ کر دیا، اور انہوں نے میری تحقیقات کو روکنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ لیکن لیفٹیننٹ گورنر سر ایڈورڈ گیٹ نے مجھے ملاقات کیلئے بلایا، تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے پر آمادگی ظاہر کی اور مجھے اس کمیٹی کا رکن بننے کی دعوت دی۔ کمیٹی نے کسانوں کے حق میں فیصلہ دیا اور سفارش کی کہ پلانٹرز ان سے جبراً وصول کی گئی رقوم کا کچھ حصہ واپس کریں جنہیں کمیٹی نے غیر قانونی قرار دیا تھا، اور مذکورہ بالا نظام کو قانون کے ذریعے ختم کر دیا جائے۔ ‘‘ اس طرح تنکھتیا نظام، جو تقریباً ایک صدی سے رائج تھا، ختم کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی پلانٹرز کا راج بھی خاتمہ ہو گیا۔ حکومت کو ایسا ہی کرنا چاہئے: پرامن اجتماع اور احتجاج کے حق کو تسلیم اور ناانصافی کا ازالہ کرنا چاہیے۔ 
آئیے موجودہ صورتحال کی طرف واپس چلتے ہیں۔ مودی حکومت کو احتساب کے اصول کو تسلیم کرنے پر تب مجبور ہونا پڑا جب اس نے امتحانی ادارہ ’’این ٹی اے‘‘ کے خلاف طلبہ کی برہمی اور امتحانی نظام کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے دھرمیندر پردھان کو برطرف کیا۔ یہ اقدام اس بات کے واضح ہونے کے بعد اٹھایا گیا کہ حکومت کا رویہ بشمول وزیر اعظم کی انسٹاگرام ویڈیوز، احتجاج کرنے والوں کیلئے قابلِ قبول نہیں تھا۔ اب حکومت چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی کی مخالفت کر رہی ہے۔ وہ بی جے پی کیلئے انتہائی اہم ہیں، جیسا کہ ہم نے نہ صرف ایس آئی آر کے معاملے میں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کے خلاف ان کے رویے میں بھی دیکھا۔ ادھر کچھ دنوں کے دوران، ایس آئی آر کے معاملے میں تیزی سے پیچھے ہٹنا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت گھبراہٹ کا شکار ہے اور معمولی رعایتیں دے کر عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہتی ہے۔ کہیں کسی عمل میں معمولی تبدیلی کر دی، تو کہیں کوئی نیا فارم بھروانے کا اعلان کر دیا۔ کیا اس سے غصہ ٹھنڈا ہوگا؟ 
افسوس کہ اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا کیونکہ شہریوں نے دیکھ لیا ہے کہ انتخابی فہرستوں کا یہ سارا اسکینڈل کس قدر سنگین نوعیت کا ہے۔ حکومت کیلئے مسئلہ یہ ہے کہ جب عوام کا ایک بڑا حصہ سڑکوں پر نکل آتا ہے تواُسے گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں۔ ایسا کسانوں کے معاملے میں ہوا، این آر سی کے مسئلے پر ہوا، اور دھرمیندر پردھان کے معاملے میں ہوا۔ ایسا پھر ہوگا، کیونکہ اس کا کوئی حقیقی متبادل موجود نہیں ہے۔ گیانیش کمار کی مدتِ ملازمت میں جنوری ۲۰۲۹ء تک ڈھائی سال باقی ہیں، اور یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ حکومت انہیں تب تک اپنے ساتھ رکھ پائے گی خواہ وہ مودی کیلئے کتنے ہی اہم ہوں۔ 
مظاہرین متحرک رہیں تو حکومت صحیح قدم اُٹھانے اور احتساب یا جوابدہی کے اصول کو دوبارہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ یہ بات کہنے میں عجیب لگ سکتی ہے مگر ہے بالکل بجا کہ مودی حکومت کو چمپارن میں گاندھی کے معاملے پر برطانوی راج کے رویے سے سبق سیکھنا چاہئے۔ پرامن اجتماع کے حق کو تسلیم کرنا ضروری ہے؛ کروڑوں ووٹروں کے ساتھ کی گئی ناانصافی کا ازالہ کرنا ضروری ہے؛ ناانصافی کاارتکاب کرنے والوں کو سزا دلوانا بھی ضـروری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK