• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

”تمام انتخابات غیر قانونی“: کھرگے کا بیلٹ پیپر کے ذریعے نئے انتخابات کا مطالبہ، الیکشن کمیشن پر حملہ

Updated: October 03, 2026, 8:11 PM IST | Bengaluru

کھرگے نے کلبرگی، کرناٹک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”مودی ایک غیر قانونی وزیرِ اعظم ہیں، شاہ ایک غیر قانونی وزیر ہیں اور جہاں کہیں بھی جتنے وزرائے اعلیٰ منتخب ہوئے ہیں وہ سب غیر قانونی ہیں۔ ان تمام کو تحلیل کیا جانا چاہئے، دوبارہ انتخابات کرائے جانے چاہئیں اور انتخابات بیلٹ پیپرز کے ذریعے ہونے چاہئیں۔“ انہوں نے بیلٹ پیپرز کے ذریعے نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔

Mallikarjun Kharge. Photo: X
ملکارجن کھرگے۔ تصویر: ایکس

کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے سنیچر کے دن لوک سبھا اور تمام ریاستی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ”ملک میں ہونے والے تمام انتخابات غیر قانونی تھے۔“ انہوں نے بیلٹ پیپرز کے ذریعے نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ کھرگے نے کلبرگی، کرناٹک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”مودی ایک غیر قانونی وزیرِ اعظم ہیں، شاہ ایک غیر قانونی وزیر ہیں اور جہاں کہیں بھی جتنے وزرائے اعلیٰ منتخب ہوئے ہیں وہ سب غیر قانونی ہیں۔ ان تمام کو تحلیل کیا جانا چاہئے، دوبارہ انتخابات کرائے جانے چاہئیں اور انتخابات بیلٹ پیپرز کے ذریعے ہونے چاہئیں۔“

کھرگے نے انتخابی فہرستوں کے خصوصی جامع جائزے (ایس آئی آر) پر الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا اور اس میں بے ضابطگیوں اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (EVMs) کے غلط استعمال کا الزام لگایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک ہی پولنگ بوتھ سے ۵۰۰ ووٹرز کے نام خارج کر دیئے گئے ہو تو انتخابات کس طرح ”آزادانہ اور منصفانہ“ ہوسکتے ہیں؟ انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنوں پر ووٹرز کے ناموں کے اخراج کیلئے دیہاتوں اور وارڈز کا دورہ کرنے کا الزام لگایا۔

یہ بھی پڑھئے: ’وندے ماترم‘ کے تمام ۶؍ بند لازمی قرار دینے کے خلاف بدھ مت کارکن سپریم کورٹ پہنچ گئے

کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے متعلق ۲۰۲۳ء کے قانون پر بھی تنقید کی، خاص طور پر اس شق پر جو کمشنرز کو ان کے سرکاری فرائض کے دوران کئے گئے اقدامات پر دیوانی یا فوجداری کارروائیوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ کھرگے نے الزام لگایا کہ یہ قانون سپریم کورٹ کے مارچ ۲۰۲۳ء کے فیصلے کے بعد عدالتی نگرانی کو پسِ پشت ڈالنے کیلئے بنایا گیا تھا، اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تقرریوں کی سفارش ہندوستان کے چیف جسٹس، وزیرِ اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف پر مشتمل کمیٹی کرے گی۔ اس ساخت کو بعد میں چیف جسٹس کی جگہ ایک مرکزی کابینہ کے وزیر کے ساتھ تبدیل کر دیا گیا تھا۔

ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات سے متعلق ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ دو الیکشن کمشنرز نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بار بار خطوط لکھے لیکن ان کے خدشات کو دور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ”وہ باہر کھل کر بات نہیں کر سکتے، لیکن انہوں نے اپنے خیالات کا واضح طور پر اظہار کیا۔“ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا مؤقف رہا ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق تمام فیصلے متفقہ طور پر کئے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: کرناٹک ایس آئی آر: مسلم ناموں کیخلاف فارم -۷؍ کے مزید انکشافات

کھرگے نے کہا کہ انڈیا (INDIA) اتحاد ایس آئی آر کے خلاف اپنی مہم کو تیز کرے گا، اس مہم کے تحت اپوزیشن کے اراکینِ پارلیمنٹ ۶ اکتوبر کو نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف مارچ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ”۶ اکتوبر کو ایک بہت بڑا احتجاج ہوگا... ہم ہر تین یا چار دن بعد احتجاج جاری رکھیں گے۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK