Updated: October 03, 2026, 9:04 PM IST
| Mumbai
ممبئ میں ہوئے سی جے پی کے احتجاج کے بعد پولیس کی جانب سےسی جے پی لیڈروں کےخلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے اس احتجاجی مظاہرے کی کوئی باضابطہ اجازت نہیں دی گئی تھی ، باوجود اس غیر قانونی طورپر احتجاج کیلئے لوگ جمع ہوئے جس سے ٹریفک میں خلل پڑا اور شہری زندگی متاثرہوئی۔
سی جے پی کے احتجاج کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس
شیواجی پارک پولیس نے جمعہ کو شیواجی پارک میں غیر قانونی طور پر جمع ہونے، نعرے بازی کرنے، ٹریفک کی نقل و حرکت میں خلل ڈالنے اور بغیر اجازت لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کے الزام میں کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں اور لیڈروںکے خلاف سنیچر کے دن ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔جبکہ سی جے پی کے حامی الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر سے متعلق خدشات کے پیشِ نظر چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔پولیس کے مطابق، دادر ویسٹ میں واقع شیواجی پارک گراؤنڈ کے گیٹ نمبر ۶؍ اور مینا تائی ٹھاکرے میموریل کے سامنے تقریباً ۴۰۰؍ سے ۵۰۰؍ نامعلوم مظاہرین اکٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سی جے پی کے لیڈر اور سینیئر اراکین جیسے اجنکیہ شندے، پرنے اہیر، آشوتوش رانکا، ابھیجیت دپکے، سوروداس، آفرین نواز، سومیا کورڈے، انکت بھردواج، وجے ملنگی اور یوگیش انگلے شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ”تمام انتخابات غیر قانونی“: کھرگے کا بیلٹ پیپر کے ذریعے نئے انتخابات کا مطالبہ، الیکشن کمیشن پر حملہ
بعد ازاں پولیس نے بتایا کہ یہ احتجاج دوپہر ۲؍ بجے کے قریب شروع ہوا اور شام ۷؍ بجے تک جاری رہا۔ ایف آئی آر کے مطابق، مظاہرین نے عام سڑک پر جمع ہو کر ٹریفک میں رکاوٹ ڈالی اور نعرے بازی کی، جس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اس کے علاوہ مظاہرین پر بغیر اجازت لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کا بھی الزام ہے۔ یہ معاملہ بی این ایس کی متعلقہ دفعات (بشمول غیر قانونی اجتماع اور قانونی احکامات کی عدم تعمیل) اور مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ، شیواجی پارک کی رہائشی اور ایڈوکیٹ سدھی دیولیکر نے بھی ابھیجیت دپکے اور دیگر کے خلاف غیر قانونی اجتماع کی شکایت درج کرائی۔ سدھی دیولیکر نے بتایا کہ انہوں نے ابھیجیت دپکے، آشوتوش رانکا، سوروداس اور رتنا سنگھ کے خلاف یہ شکایت اس لئے درج کرائی کیونکہ انہوں نے تمام تر درکار اجازتیں نہ ملنے کے باوجود احتجاج جاری رکھا اور بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع کرنے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کی خبروں کے درمیان، سی جے پی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے کے مطالبے کو لے کر جمعہ کو جیل بھروتحریک کی شروعات کی تھی۔اس موقع پر سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو پولیس کی جانب سے دی گئی جیل بھیجنے کی انتباہ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا، ’’وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس، آپ نے ہمیں صرف تین دن کیلئے جیل میں ڈالنے کی بات کی تھی۔ اگر آپ تین ماہ کہتے، تو پورا ممبئی مکمل طور پر ٹھپ ہو جاتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’لاٹھی سے بھیڑ کوروکا جاسکتا ہے، سوال نہیں، گیانیش کمار جائیں گے‘‘
ذہن نشین رہے کہ پولیس کی بھاری تعیناتی اور شیواجی پارک میں احتجاج کی باضابطہ اجازت نہ ملنے کے باوجود، بڑی تعداد میں شہری اور سی جےپی کےحامی وہاں جمع ہوئے۔ مظاہرے کے دوران مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ اپنے خطاب کے دوران دپکے نے وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس پر شدید تنقید کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ممبئی پولیس کے رویے کی تعریف کی اور اس کا موازنہ دہلی پولیس کے طریقہ کار سے کیا۔ دپکے نے باضابطہ طور پر جیل بھروکا اعلان کیا اور کہا کہ ووٹنگ کے حقوق کے تحفظ کیلئے پرامن احتجاج ایک بنیادی آئینی حق ہے۔
مزید برآں اس احتجاج میں متعدد معروف شخصیات، دانشوروں اور بالی ووڈ فنکاروں نے بھی شرکت کی، جن میں اداکارہ شبانہ اعظمی، موسیقار وشال ددلانی اور اداکار نصیر الدین شاہ شامل ہیں جنہوں نے ووٹنگ کے حقوق اور جمہوری اداروں کے تحفظ پر بات کی۔ اس کے علاوہ، اداکار پرکاش راج نے بھی ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں پر جمہوری اقدار کی حفاظت کرنے پر زور دیا۔